1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا کسی اہل حدیث نے کوئی علاقہ فتح کیا تحقیق درکار ہے

'اہل حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏جنوری 07، 2016۔

  1. ‏جنوری 07، 2016 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    محمود غزنوی حنفی

    وہ پہلے مسلمان حکمران تھے جنہوں نے ہندوستان پر 17 حملے کئے اور ہر حملے میں فتح حاصل کی ۔اس عظیم مجاہد کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے ہندوستان کے بت کدے لرز اٹھتے تھے ۔یہ بھی حنفی تھا

    شہاب الدین غوری حنفی

    شہاب الدین محمد غوری کی فوجی کارروائیاں موجودہ پاکستان کے علاقے سے شروع ہوئیں اور وہ مشہور عالم درہ خیبر کے بجائے درہ گومل سے پاکستان میں داخل ہوا۔ اس نے سب سے پہلے ملتان اور اوچ پر حملے کئے جو غزنویوں کے زوال کے بعد ایک بار پھر اسماعیلی فرقے کا گڑھ بن گئے تھےمحمد غوری نے 571ھ بمطابق 1175ء میں ملتان اور اوچ دونوں فتح کرلئے اس کے بعد 575ھ بمطابق 1179ء میں محمد غوری نے پشاور اور 576ھ بمطابق 1182ء میں دیبل کو فتح کرکے غوری سلطنت کی حدود کو بحیرہ عرب کے ساحل تک بڑھادیں۔ لاہور اس کے نواح کا علاقہ ابھی تک غزنوی خاندان کے قبضے میں تھا جن کی حکومت غزنی پر جہانسوز کے حملے کے بعد لاہور منتقل ہوگئی تھی۔ شہاب الدین محمد غوری نے 582ھ بمطابق 1186ء میں لاہور پر قبضہ کرکے غزنوی خاندان کی حکومت کو بالکل ختم کردی۔ یہ بھی حنفی تھا
    ظہیر الدین محمد بابر حنفی

    گوالیار ، حصار ، میوات ، بنگال اور بہار وغیرہ کو فتح کیا۔ اس کی حکومت کابل سے بنگال تک اور ہمالیہ سے گوالیار تک پھیل گئی یہ بھی حنفی تھا
    اورنگزیب عالمگیر حنفی

    1665ء میں آسام ، کوچ بہار اور چٹاگانگ فتح کیے اور پرتگیزی اور فرنگی بحری قزاقوں کا خاتمہ کیا۔ 1666ء میں سرحد کے شاعر خوشحال خان خٹک کی شورش اور متھرا اور علیگڑھ کے نواح میں جاٹوں کی غارت گری ختم کی۔ نیز ست نامیوں کی بغاوت فرو کی ۔ سکھوں کے دسویں اور آخری گرو گوبند سنگھ نے انند پور کے آس پاس غارت گری شروع کی اور مغل فوج سے شکست کھا کر فیروزپور کے قریب غیر آباد مقام پر جا بیٹھے۔ جہاں بعد میں مکتسیر آباد ہوا۔ عالمگیر نے انھیں اپنے پاس دکن بلایا یہ ابھی راستے میں تھے کہ خود عالمگیر فوت ہوگیا۔
    اورنگزیب قرآن پاک پڑھتے ہوئے

    عالمگیر نے 1666ء میں راجا جے سنگھ اور دلیر خان کو شیوا جی کے خلاف بھیجا۔ انھوں نے بہت سے قلعے فتح کر لے۔ شیواجی اور اس کا بیٹا آگرے میں نظربند ہوئے۔ شیواجی فرار ہو کر پھر مہاراشٹر پہنچ گیا۔ اور دوبارہ قتل و غارت گری شروع کی۔ 1680ء میں شیواجی مرگیا تو اس کا بیٹا سنبھا جی جانشین ہوا یہ بھی قتل و غارت گری میں مصروف ہوا۔ عالمگیر خود دکن پہنچا۔ سنبھا جی گرفتار ہو کر مارا گیا ۔ اس کا بیٹا ساہو دہلی میں نظربند ہوا۔ دکن کا مطالعہ کرکے عالمگیر اس نتیجے پرپہنچا کہ بیجاپور اور گولکنڈہ کی ریاستوں سے مرہٹوں کو مدد ملتی ہے اس نے 1686ء میں بیجاپور اور 1687ء میں گولگنڈا کی ریاستیں ختم کر دیں۔ اس کے بعد مرہٹوں کے تعاقب میں‌ ہندوستان کے انتہائی جنوبی حصے بھی فتح کر لیے۔ مغلیہ سلطنت پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔

    احمد شاہ ابدالی حنفی

    ا س نے 1748ء تا 1767ء ہندوستان پر کئی حملے کیے۔پہلا معرکہ پنجاب کے حاکم میر معین الملک عرف میر منو کے ساتھ ہو اجس نے بہادری اور دلیری کی داستان رقم کی مان پور میں ہندوستانیوں کا بہادر جرنیل ڈٹا رہا آخرکار ابدالی فوج کو شکست ہوئی یہ مغل سلطنت کی آخری فتح تھی اس کے بعد مغلوں نے پنجاب کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ احمدشاہ ابدالی کے ہندوستان پر حملوں میں سے سب سے مشہور حملہ 1761ء میں ہوا۔ اس حملے میں اس نے مرہٹوں کو پانی پت کی تیسری لڑائی میں شکست فاش دی۔ کابل ، قندھار ، اور پشاور پر قبضہ کرنے کے بعد احمد شاہ ابدالی نے پنجاب کا رخ کیا اور سر ہند تک کا سارا علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ 1756ء میں دہلی کو تاخت و تاراج کیا اور بہت سا مال غنیمت لے کر واپس چلا گیا۔ یہ بھی حنفی تھا

     
  2. ‏جنوری 07، 2016 #2
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    بایزید اول حنفی


    بایزید نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا جو اس اس وقت بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ 1394ءمیں بازنطینی حکمران جون پنجم پیلایولوگس کے مطالبے پر سلطنت عثمانیہ کو شکست دینے کے لئے پوپ بونیفیس نہم نے صلیبی جنگ کا اعلان کیا گیا ۔ شاہ ہنگری اور رومی حکمران سجسمنڈ کی زیر قیادت اس مسیحی اتحاد میں فرانس اور ولاچیا بھی شامل تھے ۔ دونوں افواج کا ٹکرائو 1396ء میں نکوپولس کے مقام پر ہوا جہاں بایزید نے عظیم الشان فتح حاصل کی اور اس شاندار فتح نے نہ صرف یورپ کے عیسائیوں کی کمر توڑدی بلکہ بایزید کی شہرت کو بھی بام عروج پر پہنچادیا۔ (دیکھیے: جنگ نکوپولس) اس فتح کی خوشی میں بایزید نے دارالحکومت بروصہ میں عظیم الشان جامع مسجد اولو جامع قائم کی۔ قسطنطنیہ کا محاصرہ 1401ء تک جاری رہا جس کے دوران ایک مرتبہ نوبت یہاں تک آن پہنچی کا بازنطینی حکمران شہر چھوڑ کر فرار ہوگیا
    یہ بھی حنفی تھا



    فاتح سلطان محمدحنفی

    اپنے والد سلطان مراد ثانی کی وفات پر سلطان محمد ثانی نے دوسری مرتبہ تخت سنبھالا اور دو سال بعد ہی محاصرہ قسطنطنیہ میں کامیابی حاصل کرکے بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا۔ اس فتح کے بعد سلطنت موریا کو فتح کیا اور بازنطینی حکومت کی یہ آخری نشانی بھی 1461ء میں ختم کردی
    محمد ثانی اناطولیہ میں قائم ترک ریاستوں اور شمال مشرقی اناطولیہ کی عیسائی سلطنت طربزون کا خاتمہ کرکے ایشیائے کوچک کو ایک سیاسی وحدت میں تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ اناطولیہ کو مکمل فتح کرنے کی صورت میں ہی وہ یورپ میں مزید فتوحات حاصل کرسکتا تھا۔
    اس نے 1480ء میں اٹلی پر حملہ کیا جس کا مقصد روم پرحملہ کرکے 751ء کے بعد پہلی مرتبہ رومی سلطنت کو دوبارہ یکجا کرنا تھا اور پہلے مرحلے میں اس نے 1480ء میں اوٹرانٹو فتح کرلیا۔ لیکن 1443ء اور 1468ء کے بعد 1480ء میں تیسری مرتبہ البانیا میں سکندر بیگ کی بغاوت نے افواج کے رابطے کو منقطع کردیا جس کی بدولت پوپ سکسٹس چہارم نے ایک زبردست فوج لے کر 1481ء میں اوٹرانٹو کو مسلمانوں سے چھین لیا۔ دوسری جانب محمد ثانی نے بلقان کی تمام چھوٹی ریاستوں کو فتح کرلیا اور مشرقی یورپ میں بلغراد تک پہنچ گیا جہاں 1456ء میں بلغراد کا محاصرہ کیا لیکن جون ہونیاڈے کے خلاف کامیاب نہ ہوسکا۔ 1462ء میں اس کا افلاق کے شہزاد ولیڈ سوئم ڈریکولا سے بھی تصادم ہوا۔ 1475ء میں عثمانیوں کو جنگ ویسلوئی میں مالدووا کے اسٹیفن اعظم کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ چند شکستوں کے باوجود محمد فاتح کے دور میں عثمانی سلطنت کا رقبہ کافی وسیع ہوا
    یہ بھی حنفی تھا

    سلطان سليمان اول حنفی

    سلیمان نے اپنے 46 سالہ دور حکومت میں خلافت عثمانیہ کو سیاسی برتری دلوانے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے جو کوشش کی وہ بلاشبہ لائق صد تحسین ہے ان کا یہ کارنامہ اس لحاظ سے بھی بے حد ممتاز ہے کہ اس دور میں مسیحی و مغربی طاقتیں بیدار اور متحد ہورہی تھیں اور بڑی بڑی شخصیات عثمانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں آگئی تھیں مثلا شہنشاہ چارلس پنجم جو یورپ کے نصف سے زائد حصے پر حکمران تھا جس میں موجودہ اسپین، بیلجیئم، ہالینڈ اور جرمنی شامل تھے، ادھر انگلستان میں ملکہ ایلزبتھ اول حکمران تھی اور ہنگری پر شاہ لوئی کا سکہ چل رہا تھا۔
    یہ یورپ کی بیداری کا زمانہ تھا۔ فرانس، انگلستان اور آسٹریا نے اپنے اختلافات ختم کر لئے تھے اور مسیحی طاقت متحد ہونے کی فکر میں تھیں۔ چنانچہ حکومت سنبھالنے کے بعد اپنے 26 سالہ دور حکومت میں سلیمان کسی نہ کسی جنگ یا مہم میں مصروف رہے اگرچہ درمیان میں مختصر وقفے بھی آئے لیکن جہاد کاجو جذبہ سلیمان کے سینے میں موجزن تھا اس نے انہیں آخر وقت تک میدان عمل میں مصروف رکھا حتی کہ جنگ کے دوران ہی انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ انہوں نے ذاتی طور پر 13 بڑی جنگوں میں شرکت کی جن میں سے تین ایشیا میں اور 10 یورپ میں لڑی گئی اور اس طرح سلطنت عثمانیہ کی حدود میں 13 مرتبہ توسیع کی۔ یہ بھی حنفی تھا
     
  3. ‏جنوری 07، 2016 #3
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    جلال الدین بن خوارزم شاہ حنفی

    سلطان جلال الدین کے پاس صرف سات سو آدمی رہ گئے انہیں سے لڑتا بھڑتا دریائے سندھ کے ساحل کی طرف سلطان جلال الدین متوجہ ہوا،چنگیز خاں بھی اپنا لشکر عظیم لئے ہوئے وہاں پہنچ گیا،جلال الدین نے دریائے سندھ کو اپنی پشت پر رکھ کر لشکر مغول کا مقابلہ کیا،مغلوں نے کمان کی شکل میں محاصرہ کرکے ہنگامہ کارزار گرم کیا،مگر جلال الدین نے اس بہادری اور جواں مردی سے مقابلہ کیا کہ چنگیز خاں اوراس کی لا تعداد فوج کے دانت کھٹے کردیئے ،سلطان جلال الدین جب حملہ آور ہوتا تھا مغلوں کی صفوں کو دور تک پیچھے ہٹادیتا تھا،مگر وہ پھر فراہم ہوکر بڑھتے اورپہلے سے زیادہ جوش کے ساتھ حملہ آور ہوتے تھے،اپنی جمعیت کی قلت اور دشمنوں کی کثرت کے سبب اس معرکہ آرائی میں سلطان جلال الدین کو کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی،مگر سلطان جلال الدین کی شجاعت وبہادری کاسکہ چنگیز خاں کے دل پر بیٹھ گیا،یہاں تک کہ ان سات سو بہادروں میں سے بھی جب صرف ایک سو کے قریب باقی رہ گئے تو سلطان جلال الدین نے اپنی زرہ اُتار کر پھینک دی اوراپنا تاج ہاتھ میں لے کر گھوڑا دریائے سندھ میں ڈال دیایہ بھی حنفی تھا
     
  4. ‏جنوری 07، 2016 #4
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    الپ ارسلان

    میں آرمینیا اور جارجیا کو سلطنت میں شامل کرلیا۔ وہ ایک بہت بیدار مغز اور بہادر حکمران تھا ۔ مشہور مدبر نظام الملک طوسی کو اپنے باپ چغری بیگ کی سفارش پر وزیر سلطنت مقرر کیا۔ اس کے عہد میں سلجوقی سلطنت کی حدود بہت وسیع ہوئیں۔ پہلے ہرات اور ماوراء النہر کو اپنی قلمرو میں شامل کیا۔ پھر فاطمی حکمران کو شکست دے کر مکہ اور مدینہ کو اپنی قلمر و میں شامل کیا۔ اس سے اسلامی دنیا میں سلجوقیوں کا اثر و اقتدار بڑھ گیا۔ بازنطنیوں نے حملہ کیا تو 26 اگست 1071ء کو ملازکرد کے مقام پر ان کو عبرتناک شکست دی۔ اور قیصر روم رومانوس چہارم کو گرفتار کر لیا۔ قیصر روم نے نہ صرف تاوان جنگ ادا کیا اور خراج دینے پر رضامند ہوا۔ بلکہ اپنی بیٹی سلطان کے بیٹے سے بیاہ دی اور آرمینیا اور جارجیا کے علاقے اس کو دے دیئے ۔ یہ بھی حنفی تھا
     
  5. ‏جنوری 07، 2016 #5
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    صلاح الدین ایوبی شافی

    سلطان صلاح الدین یوسف بن ایوب ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں ۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار باکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنہوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔یہ بھی حنفی تھا۔ ایک رائے کہ یہ شافی تھا با رحال مقلد تھا
     
  6. ‏جنوری 07، 2016 #6
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    Last edited: ‏جنوری 07، 2016
  7. ‏جنوری 08، 2016 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,686
    موصول شکریہ جات:
    8,308
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ کس بات کے دلائل ہیں ؟
     
  8. ‏جنوری 08، 2016 #8
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,324
    موصول شکریہ جات:
    710
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    یعنی وه شخصیات جنکے نام ذکر کئے گئے ہیں غیر اہلحدیث تهے اور دریافت یہ کیا جارہا ہیکہ کیا اہلحدیث نے کوئی علاقہ فتح کیا ہے؟
    والسلام
     
  9. ‏جنوری 08، 2016 #9
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,324
    موصول شکریہ جات:
    710
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جواب تو مشکل نہیں
    وہ ساری جنگیں جنمیں ایران شامل هے غیر مقلدین کی جنگیں تہیں اور خالصتا اللہ کیلئے ہی لڑی گئ تہیں ۔ لیکن سوال کرنیوالے کا مقصد واضح نہیں ہے کہ آخر وہ کیا ثابت کرنا چاہتا ہے ۔
     
  10. ‏جنوری 08، 2016 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,686
    موصول شکریہ جات:
    8,308
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    غزوہ بدر سے لے کر حضور کے دور کی لڑی گئی تمام جنگوں میں اہل حدیث ہی تھے ، کوئی حنفی نہ تھا ان میں ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں