1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا کسی چیز کو اس کی قیمت خرید سے دوگناہ قیمت سے زیادہ قیمت پرفروخت کیا جا سکتا ہے

'خریدوفروخت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعمان خالد, ‏جنوری 23، 2017۔

  1. ‏جنوری 23، 2017 #1
    محمد نعمان خالد

    محمد نعمان خالد مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2017
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    19

    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ

    کیا ایک چیز کو اس کی اصلی قیمت سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کرنا شریعت اسلامیہ کی رو سے حلال ہو گا؟
    مثلاََ ایک گلاس کی قیمت خرید 50 روپے ہے تو گویا کیا اس گلاس کو 150 یااس سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کیا جاسکتا ہے ؟

    جزاک اللہ خیرا
     
  2. ‏جنوری 23، 2017 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    کسی بھی چیز میں عرف کے مطابق مناسب منافع لیا جاسکتا ہے ، شریعت میں اس کی کوئی حد مقرر نہیں ۔
    گو کوئی حد نہیں ، لیکن اللہ جانتا ہے ، کہ مناسب کیا ہے ، اور ظلم کیا ہے ، خرید و فروخت میں ان چیزوں کو مد نظر رکھنا چاہیے ۔
    ’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جب مدینہ میں قیمتوں میں اضافہ ہو اور لوگوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ " یا رسول اللہ! نرخ مقرر فرما دیجئے! تو آپ نے فرمایا:
    (ان الله هو المسعر القابض الباسط الرازق‘ واني لارجو ان القي الله وليس احد منكم يطالني بمظلمة في دم ولا مال) (سنن ابي داود‘ البيوع‘ باب في التسعير‘ ح: 3451 ووجامع الترمذي‘ ح: 1314 وسنن ابن ماجه‘ ح: 2200)

    "بے شک وہ اللہ ہی نرخ مقرر فرمانے والا ہے جو کم کر دینے والا، بڑھا دینے والا اور رزق عطا فرمانے والا ہے، اور مجھے امید ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کروں گا کہ کوئی مجھ سے خون یا مال کے ظلم کا مطالبہ نہیں کرے گا۔
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرخ مقرر کرنے سے انکار فرما دیا تھا کیونکہ یہ مہنگائی لوگوں کی طرف سے مصنوعی طور پر پیدا کردہ نہیں تھی۔
    اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ نرخ مقرر کرنے کی دو صورتیں ہیں (1) کہ اگر یہ ظلم کے ازالہ کے لیے ہو تو اس میییں کوئی حرج نہیں اور (2) اور اگر یہ خود ظلم ہو یعنی اگر مہنگائی کسی انسان کے ظلم کی وجہ سے نہ ہو تو پھر نرخ مقرر کرنا بجائے خود ظلم ہونے کی وجہ سے ناجائز ہو گا۔‘

    ریٹ مقرر کرنا
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں