1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا کفر اور شرک کا مرتکب کافر اور مشرک نہیں ہوتا؟

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہد نذیر, ‏مارچ 13، 2013۔

  1. ‏اپریل 22، 2013 #31
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    جزاک اللہ
     
  2. ‏اپریل 23، 2013 #32
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    کا ش آپ کی یہ بات سمیر اور باربروسا اور حکیم اللہ امیر تحریک قتل مسلمانا ن کو بھی سمجھ آ جاتی ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 24، 2013 #33
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    امیرتحریک قتل مسلمانان دنیا آپ کے چہیتے پرویز مشرف تھے اور اب کیانی اور زرداری ہیں۔حکیم اللہ مھسود حفظہ اللہ تو مسلمانوں کے محافظ ہیں۔
     
  4. ‏اپریل 24، 2013 #34
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    اسلام و علیکم
    کفر کے فتوے سے متعلق میری راے -

    کفر کے لغوی معنی ہیں کسی ایسی چیز کو چھپانا جو خود با خود ظاہر ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو -دین اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی حقانیت کو خود با خود ظاہر کر دے -اس لئے ہی اس دین کو 'دین حق' کہا گیا ہے- الله کا فرمان ہے -

    وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا سوره بنی اسرئیل ٨١
    اور کہہ دو کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا -

    لہذا ہر بالغ مسلمان مرد اور اور عورت پر دین حق کا علم حاصل کرنا اور اپنے زندگی پر اس کو لاگو کرنا واجب ہے -اگر اس کا باوجود کہ وہ اس چیز کو جان لے کہ الله اور اس کے رسول صل الله علیہ وسلم نے کن چیزوں سے منا کیا ہے اور کن چیزوں کا حکم دیا ہے اور پھر بھی وہ ان سے پہلو تہی کرے تو کافر کے زمرے میں آ جائے گا - لیکن کسی کو کافر قرار دینے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ قرآن و سنّت کی صحیح نص کے مطابق تحقیق کر کے پھر کفر کا فتویٰ لگایا جائے-نہ کہ بغیر سوچے سمجھے کسی کو کافر قرار دے دیا جائے -قرآن میں الله کا فرمان ہے -

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ سوره الحجرات ٦
    اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہاے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں کسی قوم پر بے خبری سے نہ جا پڑو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو-

    یہ بھی معلوم ہونا چاہے کہ کسی کو کافر قرار دینے کے لئے کسی عالم یا مجتہد کا فتویٰ ضروری نہیں-ہر صا حب ایمان شخص یہ جانتا ہے کہ کفر کیا ہے- اوپر دی گئی آیت میں "اے ایمان والوں " که کر مخاطب کیا گے ہے نا کہ "اے علما ء مجتہدین " که کر- مثال کے طو ر پر اگر کوئی کسی کا سامنے نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے یا الله کی شان میں نازیبا الفاظ کہتا ہے یا غیر الله کو حاجت روا یا عالم و غیب مانتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ قرانی نص کے صریح خلاف ہے تو کیا اس کو کافر قرار دینے کے لئے کسی مفتی یا عالم کے پاس جانے کی ضررورت ہے ؟؟ جب کے ہمارے علما ء اور مجتہدین تو ایک دوسرے پر ہی کفر کے فتوے لگانے میں مصروف ہیں -

    ہاں البتہ کفر کا فتویٰ لگانے والا یہ تحقیق ضرور کرے کہ کیا کلمہ باطل کہنے والا کیا یہ جانتا ہے کہ وہ کیا کہ رہا ہے کیا اس پر جبر تو نہیں کیا گیا کیا -یا وہ اس کلمہ باطل کے متعلق اس کا فہم اٹل ہے یا وہ شک کی کفیت میں ہے -یا اس اس نے اس کلمہ باطل جو اس کے منہ سے نکلا یا اس پر قرانی دلائل اور سنّت سے رجوع کیا یا نہیں -

    ( نوٹ : اگر کوئی بھائی میرے اس فہم سے متفق نہیں تو وہ اس پر اپنے دلائل پیش کر سکتا ہے تا کہ میری بھی اصلاح ہو )
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 01، 2013 #35
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    السلام علیکم میں نے نئی شمولیت اختیار کی ہے اور اس موضوع کو پڑھا ہے میرے مطابق اس میں تین طرح کے لووں کے مراسلے ہیں ایک افراط کا شکار دوسرے تفریط کا شکار اور تیسرے معتدل
    مثلا اوپر بھائی نے لکھا کہ کافر قرار دینے کے لیے کسی عالم کی ضرورت نہیں جو کہ اس صورت میں تو تھیک ہو سکتا ہے جہاں کوئی مانع تکفیر نہ ہو مثلا ہندو کی تکفیر- لیکن جہاں مانع تکفیر امور خفیہ میں سے ہوں جیسے جمہوریت میں حصہ لینے والوں کا حکم یا کچھ نواقض پر تکفیر نہ کرنے والوں کا حکم تو یہ معاملہ اہل علم کے بغیر جائز نہیں
    اسی طرح دوسری طرف محترم کفایت اللہ بھائی کی بات ہے کہ عام اہل علم کو بھی تکفیر کی بات نہیں کرنی چاہیے تو اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہاں شیطان لوگوں میں غلطی سے گڈمڈ کرواتا ہے کہ تکفیر پر بات کرنا اور تکفیر کا فتوی دینا ایک ہی بات ہے
    حالانکہ ایسی مانع والی تکفیر پر فتوی دینا تو واقعی عام اہل علم کی بھی جرات نہیں مگر جب ان میں سے کچھ اعلی علم والے فتوی دے دیں تو اس کو بنیاد بنا کر اس پر عمل کرنا اور پھر ان دلائل پر بحث کرنا فتوی دینا نہیں ہے باقی بعد میں انشاءاللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • مفید مفید x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 26، 2014 #36
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    محترم شاہد صاحب وضاحت تو آپنے بڑے اچھے انداز میں کی ہے اوراچھی اچھی کتابیں بھی داخل کردی ہین ۔لیکن آپنے شروع میں لکھا ہے ۔بمطابق حدیث تکفیر کی دو قسمیں ہیں ایک جایز تکفیر دوسری ناجایز تکفیر۔ براہ کرم وہ حدیث بھی بتاییں اور جایز و ناجایز تکفیر کی مثال بھی دیں ۔اسلاف میں سے کسی نے اسطرح کفر کی تقسیم نہیں کی ہے ۔ مجبوری کا مسالہ الگ ہے
     
  7. ‏جولائی 26، 2014 #37
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    حدیث میں نے آغاز مضمون ہی میں تحریر کردی تھی ملاحظہ فرمائیں:
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے بھی کسی بھائی کو کہا کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہوگیا۔(صحیح بخاری، کتاب الادب)

    مطلب یہ کہ جب کوئی شخص کسی کی تکفیر کرتا ہے تو یا تو وہ تکفیر درست اور واقع کے مطابق ہوتی ہے یا خلاف واقع اور غلط ہوتی ہے۔ اگر واقع کے مطابق ہے تو جسے کافر کہا گیا وہی کافر ہوتا ہے اور اگر تکفیر خلاف واقع ہے تو کسی شخص کو کافر کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہے بمطابق مذکورہ بالا حدیث۔

    اسی بنیاد پر ہم نے تکفیر کی دو اقسام بیان کی ہیں یعنی جب ایک مسلمان کفریہ اور شرکیہ اعمال و عقائد کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے کافر کہا جاتا ہے اور یہ جائز تکفیر ہے اسکے برعکس جب ایک مسلمان کو ذاتی بغض پر کافر قرار دیا جاتا ہے جب کہ کفر اور شرک اس مسلمان میں نہیں پایا جاتا تو یہ ناجائز تکفیر کہلاتی ہے۔

    اسلاف میں سے کسی نے تکفیر کی دو اقسام بیان نہیں کیں اگرچہ انکے کلام کا مقصد یہی ہے اور ہم نے بھی محض سمجھانے کے لئے اور بطور وضاحت تکفیر کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ اگرچہ ہمیں اس تقسیم پر کوئی اصرار نہیں ہے جب کہ حدیث کے مطابق معاملہ یہی ہے کہ تکفیر کرنے والا یا تو خود کافر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ اگر اسکی تکفیر جائز و درست ہے تو وہ کافر نہیں ہوتا اور اگر تکفیر ناجائز اور غلط ہے تو وہ حدیث کی رو سے کافر ہوجاتا ہے۔ تو اگر اس حدیث کی رو سے ہم نے کہہ دیا کہ تکفیر دو طرح کی ہوتی ہے کہ ایک جائز اور دوسری ناجائز، تو اس میں حرج کیا ہے؟؟؟

    امید ہے کہ میں اپنی بات آپ کو سمجھا پایا ہوں گا۔ ان شاءاللہ
     
    Last edited: ‏جولائی 26، 2014
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 11، 2014 #38
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    بہت وقت لگا کر شروع سے آخر تک اس دھاگے کا مطالعہ کیا ہے۔ شاہد نذیر بھائی کو چونکہ اعتراض ہے کہ بہت سے احباب نے ان کے مضمون کا مکمل مطالعہ کئے بغیر ہی اعتراضات وارد کر دئے ہیں ، تو ان شاءاللہ اس اعتراض سے میں بری ہوں۔

    پورا مضمون ہی ایک بہت بنیادی غلط فہمی پر مبنی ہے۔

    • جو شخص غیراللہ سے مافوق الاسباب استعانت طلب کرے، وہ کافر ہے۔
    • تمام بریلوی کافر ہیں ، کیونکہ وہ غیراللہ سے مافوق الاسباب استعانت طلب کرتے ہیں۔

    شاہد بھائی کے مضمون اور بعض جگہ ان کے جملوں سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اول الذکر کو بھی معین تکفیر ہی سمجھتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلا جملہ غیرمعین تکفیر ہے۔ اور دوسرا جملہ معین تکفیر ہے۔
    پورا مضمون جن حوالہ جات سے بھرا پڑا ہے، وہ سب غیرمعین تکفیر کے بارے میں ہیں۔ ایک بھی حوالہ ایسا نہیں دیا گیا کہ کسی اہلحدیث عالم نے کہا ہو کہ تمام دیوبندی اور تمام بریلوی کافر ہیں، جب کہ شاہد بھائی کے اس مضمون لکھنے کی اصل بنیاد ہی یہ ہے کہ علماء تکفیر معین نہیں کرتے۔
    مضمون میں بہت جگہوں پر حافظ صلاح الدین یوسف اور مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ کے حوالہ جات دئے گئے ہیں، گزارش ہے کہ یہ دونوں علماء پاکستانی ہیں اور الحمدللہ حیات ہیں۔ ان سے بات کر کے پوچھ لیا جائے کہ ان کے نزدیک تمام دیوبندی و بریلوی کافر ہیں یا نہیں۔ اگر یہ انہیں بحیثیت مجموعی کافر قرار دے دیں، تو شاہد صاحب کا ان کے حوالہ جات دینا جائز و درست۔ ورنہ یہ ان کی شدید غلط فہمی ہی قرار دی جا سکتی ہے۔
    اس ضمن میں محترم @طالب نور اور محترم @حافظ طاہراسلام عسکری صاحبان کی پوسٹس لائق مطالعہ ہیں اور ان میں اس بنیادی غلط فہمی کا بخوبی تدارک کر دیا گیا ہے۔
     
  9. ‏اگست 12، 2014 #39
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    پورے مضمون کا مطالعہ کرنے کا شکریہ بھائی۔
    آپ نے پورا مضمون پڑھنے کے بعد بھی وہی اعتراضات کئے ہیں جو پورا مضمون نہ پڑھنے والوں نے کئے تھے۔اس پر تو میں بس یہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے کسی خاص نقطہ نظر کو ذہن میں رکھ کر مضمون کا مطالعہ کیا ہے ورنہ آپ جان لیتے کہ آپ نے جو اعتراض کئے ہیں میں پہلے ہی انکے جوابات دے چکا ہوں۔

    یہ بعینہ وہی اعتراض یا غلط فہمی ہے جس کا اظہار آپ سے پہلے حافظ طاہر اسلام عسکری صاحب کرچکے ہیں لہذا میں آپ کو پھر وہی جواب دیتا ہوں جو انکو دیا تھا۔ یعنی کہ میں نے یہ مضمون تکفیر معین اور مطلق تکفیر کے اطلاق یا انکے مابین فرق پر نہیں لکھا بلکہ ایک ایسے اصول کے رد پر لکھا ہے جس کا ماضی میں کوئی سراغ نہیں ملتا۔ مضمون کا مقصد میں نے آغاز مضمون ہی میں بیان کردیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

    ’’علماء کے اسی تساہل ، فضول کی احتیاط اور ناجائز مصلحت کی بنا پر مسئلہ تکفیر سے متعلق معاشرے میں پیدا ہونے والے اور تیزی سے پھیلنے والے مندرجہ ذیل دو اصولوں کے درست یا نادرست ہونے کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں پیش کرکے لوگ کفار اور مشرکین کی تکفیر سے دامن بچا لیتے ہیں۔

    پہلا اصول: کفر اور شرک کا مرتکب مسلمان کافر اور مشرک نہیں ہوتا۔
    دوسرا اصول: کسی شخص کا فعل اور عقیدہ تو شرکیہ اور کفریہ ہوسکتا ہے لیکن اسکے اس فعل یا عقیدہ کی بنا پر اسے کافر اور مشرک نہیں کہا جاسکتا۔

    متذکرہ بالا اصولوں کا کوئی سراغ یا نشان ماضی میں نہیں ملتا اور نہ ہی یہ نظریہ اور قاعدہ سلف صالحین و محدثین سے ثابت ہے بلکہ یہ متاخرین کی اختراع ہے۔‘‘
    میرے بھائی پورا مضمون جن حوالہ جات سے بھرا ہوا ہے ان کا اصل مقصد تکفیر معین نہیں ہے بلکہ ان سے اس خاص اصول کا رد مقصود ہے جسے آغاز مضمون میں بیان کردیا گیا ہے۔ میں نے جس موقف کے حق میں حوالہ جات نقل کئے ہیں اس موقف اور حوالہ جات میں مکمل مطابقت پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ میں نے کئی حوالوں کے بعد بطور تشریح لکھا ہے۔
    ’’دیکھیں!کسی بھی مفسر نے یہ نہیں کہاکہ مشرکین کی بات ماننے یا انکی اطاعت کرنے پر مسلمان کا عمل و عقیدہ تو شرکیہ ہوگا لیکن خود اسے مشرک و کافر نہیں کہا جائے گا۔چناچہ قرآن کی اس آیت کی رو سے مبتدعین کے ہردو اصول (کہ کفر اور شرک کا مرتکب کافر اور مشرک نہیں ہوتا اور اسکا فعل تو مشرکانہ ہے لیکن وہ خود مشرک نہیں) باطل ہیں۔‘‘

    ایک اور جگہ گوندلوی رحمہ اللہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد بطور وضاحت لکھا ہے: اس عبارت سے بھی معلوم ہوا کہ ضروریات دین کا انکار کرنے والامسلمان کافر ہے ۔نہ کہ محض اسکا عمل کفر اور وہ خود کافر نہیں۔

    ایک اور مقام پر اصل مقصد کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے: ’’پس معلوم ہوا کہ ایسی صورتیں موجود ہیں جن کا شکار ہونے پرایک مسلمان ،مشرک و کافر ہوجاتا ہے۔ لہٰذا یہ اصول باطل ٹھہرا کہ انسان کے عمل کو تو شرک کہاجائے گا لیکن خود اسکو مشرک نہیں کہا جائے گا۔ جب شرک کرنے والے کو مشرک نہیں کہا جائے گا تو کیا شرک نہ کرنے والے موحد کو مشرک کہا جائے گا؟! آخر مشرک کی اصطلاح کس کے لئے ہے؟ کیا صرف غیر مسلم کے لئے؟‘‘

    غرض یہ کہ جگہ جگہ میں نے مضمون کے اصل مقصد کی وضاحت کی ہے۔ اسکے باوجود پڑھنے والوں اور نہ پڑھنے والوں کو ایک جیسی غلط فہمی کا لاحق ہونا حیران کن ہے۔

    تنبیہ: یہ بات بھی میں نے طاہر اسلام عسکری بھائی کو جواب دیتے ہوئے کہی تھی اب دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ مضمون میں بعض جگہوں پر مختصرا جو تکفیر معین کی بحث آگئی ہے وہ اصل مقصد نہیں ہے۔اصل مقصد دو بدعی اصولوں کا رد ہے۔ جس کے لئے تمام حوالے دلیل کا کام دے رہے ہیں۔
    اول تو میں پھر وہی بات عرض کرونگا کہ تکفیر معین میرے مضمون کا اصل موضوع نہیں ہے لہٰذا اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ مذکورہ بالا علماء کا تمام بریلویوں اور دیوبندیوں سے متعلق نظریہ کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں کہتا ہوں کہ حافظ صلاح الدین یوسف اور مبشراحمد ربانی کا موقف انکی تحریر سے واضح اور اظہر من الشمس ہے۔ انکی تحریرات اتنی مختصر نہیں ہیں کہ کوئی غلط فہمی میں مبتلا ہوجائے بلکہ جن کتابوں سے ان علماء کے موقف بیان کئے گئے ہیں وہ پوری کی پوری کتابیں ہی اسی خاص موضوع پر ہیں۔ جیسا کہ ان کتابوں کے عنوان ہی سے ظاہر ہے جیسے کلمہ گو مشرک اور شرک کیا ہے اور مشرک کون؟

    اگر آپ کو ضرورت محسوس ہوتی ہے تو آپ ان علماء سے پوچھ لیں ورنہ ہمارے نزدیک تو واضح ہے کہ مبشر احمد ربانی اور حافظ صلاح الدین یوسف صاحبان کے نزدیک بریلوی مشرک ہیں اور انہیں مشرک ہی کہا جائے گا۔ ویسے ان علماء میں ایک نام اور شامل فرمالیں اور وہ نام ہے طالب الرحمن شاہ حفظہ اللہ کا، طالب الرحمن شاہ صاحب نے ’’عقائد علماء دیوبند‘‘ نامی مناظرہ میں تمام اکابرین دیوبند کے نام لے کر انہیں کافر قرار دیا ہے۔
     
  10. ‏اگست 12، 2014 #40
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
    چلئے اب جب کہ آپ نے اپنا مقصد واضح کر دیا ہے اور مضمون کا نہایت مناسب خلاصہ بھی بیان کر دیا ہے تو آپ کی بات سمجھنا اور اپنی سمجھانا زیادہ سہل ہوگا ان شاءاللہ۔
    سب سے پہلے تو یہ فرما دیجئے کہ درج بالا اصول بطور اصول کس اہلحدیث یا سلفی عالم نے اپنی کتاب میں درج کئے ہیں۔یا کون سے متاخرین ہیں جنہوں نے یہ اصول بنائے ہیں یا پیش کئے ہیں۔ کیونکہ میں نے سرسری طور پر مضمون کو دوبارہ بھی دیکھا تو مجھے آپ کے فریق مخالف کا مؤقف ان کی زبانی کہیں نظر نہیں آیا۔

    میری رائے میں یہ نظریہ تو کسی بھی اہلحدیث عالم کا نہیں کہ "شرک اور کفر کا مرتکب مسلمان کافر اور مشرک نہیں ہوتا "۔یا "ہر وہ شخص جس کا کوئی فعل یا عقیدہ کفریہ شرکیہ ہو، اسے کافر اور مشرک کہا ہی نہیں جا سکتا"۔ ہاں ، علماء یہ ضرور کہتے ہیں کہ کفر کے مرتکب مسلمان یا کفریہ عقیدہ رکھنے والے مسلمان ، کو کافر قرار دینے کے لئے کچھ شرائط ہیں، جن کا پورا ہونا ضروری ہے اور کچھ موانع ہیں جن کا زائل ہونا ضروری ہے۔ اور اس بات پر اہلحدیث، دیوبندی و بریلوی کسی بھی عالم کا اختلاف نہیں۔ واللہ اعلم۔

    اب پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ آپ نے جو دو اصول پیش کئے ہیں، ان پر بحث کرنا بجائے خود تکفیر مطلق و تکفیر معین ہی کی بحث کرنا ہے۔ کیونکہ مثلا آپ کے نزدیک یہ اصول غلط ہیں تو گویا درست اصول یوں ہیں کہ:

    پہلا اصول: کفر اور شرک کا مرتکب مسلمان کافر اور مشرک ہوتا ہے۔
    دوسرا اصول: کسی شخص کا فعل اور عقیدہ شرکیہ اور کفریہ ہو تو اسکے اس فعل یا عقیدہ کی بنا پر اسے کافر اور مشرک کہا جا سکتا ہے۔

    یہ دونوں اصول جب تک بطور اصول ، عمومی طور پر بیان کئے جائیں تو یہ غیر معین تکفیر ہے۔ یعنی حقیقی زندگی میں ان کی مثالیں یوں ہوں گی:
    • غیراللہ سے استعانت طلب کرنے والا کافر ہے۔
    • غیر اللہ کو حلال و حرام کا مالک و مختار اور مشکل کشا و حاجت روا سمجھنے والا کافر ہے۔
    • وحدۃ الوجود کے کفریہ عقیدہ کے حاملین کافر ہیں۔

    اور درج بالا تینوں مثالوں میں کسی عالم کا کوئی اختلاف نہیں کہ ایسا بالکل کہا جا سکتا ہے۔ بلکہ علماء و عوام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کی تبلیغ کریں۔ اور اس میں دیوبندی، بریلوی و اہلحدیث کسی عالم کا کوئی اختلاف نہیں۔ آپ کے پورے مضمون میں شامل تمام حوالہ جات ، الاماشاءاللہ، اسی کے ثبوت پر مبنی ہیں۔ جو محل اختلاف ہی نہیں۔

    اور جب آپ کے بیان کردہ انہی اصولوں کو کسی خاص شخص یا گروہ پر منطبق کر دیا جائے تو یہ معین تکفیر ہے۔ یعنی حقیقی زندی میں ان کی مثالیں یوں ہوں گی:
    • تمام بریلوی کافر ہیں کیونکہ وہ غیر اللہ سے استعانت طلب کرنے والے کفریہ عقیدہ کے حامل ہیں۔
    • تمام بریلوی کافر ہیں کیونکہ وہ غیر اللہ کو حلال و حرام کا مالک و مختار اور مشکل کشا و حاجت روا سمجھتے ہیں جو کفریہ عقیدہ ہے۔
    • تمام بریلوی و دیوبندی کافر ہیں کیونکہ وہ وحدۃ الوجود کے کفریہ شرکیہ عقیدہ کے قائل ہیں۔ یا مہنور قادری اور اشماریہ کافر ہے کیونکہ وہ وحدۃ الوجود کا قائل ہے۔

    درج بالا تینوں مثالیں تکفیر معین کی ہیں۔ اور یہی وہ خطرناک گھاٹی ہے ، وہ نازک معاملہ ہے جس میں علمائے کرام حد درجہ محتاط ہیں۔ اور تکفیر کی شرائط کے پورا ہونے اور موانع کے زائل ہونے تک اس خاص شخص یا گروہ کو کافر قرار نہیں دیتے۔اور یہی وہ معاملہ ہے جو عوام الناس کی ڈومین سے باہر کی چیز ہے۔ اسی تکفیر کی بابت شیخ کفایت اللہ نے فرمایا ہے کہ عوام تو دور کی بات، عام اہل علم کو بھی اس سے دور رہنا چاہئے۔ اور یہی وہ اختلافی معاملہ ہے، جسکے حوالہ جات سے آپ کا مضمون خاموش ہے۔ جبکہ آپ درج بالا تکفیر کے قائل ہیں، علماء میں سے کوئی بھی آپ کے ساتھ نہیں۔

    آپ کی جس بنیادی غلط فہمی کی جانب طالب نور، حافظ طاہر اسلام عسکری صاحب نے اور گزشتہ پوسٹ میں میں نے اشارہ کیا تھا۔ وہ یہی ہے کہ آپ ثبوت و دلائل اول الذکر قسم کی غیر معین تکفیر کے ذکر کرتے ہیں، اور اس سے نتیجہ وہ نکالتے ہیں جو ثانی الذکر قسم کی معین تکفیر کہلاتی ہے۔ حالانکہ دونوں میں بعد المشرقین ہے۔ اول الذکر تکفیر یا اصول، ثانی الذکر تکفیر یا ان اصولوں کی تطبیق کو ہرگز مستلزم نہیں۔

    اگر تو واقعی کوئی ایسے علماء موجود ہیں، جو ہر حال میں اور ہر کفریہ شرکیہ فعل میں ملوث ہونے والے کی تکفیر کو کبھی بھی جائز و درست ہی نہیں سمجھتے، تو میں ان سے واقف نہیں ہوں۔ اور نہ اس مؤقف کو درست سمجھتا ہوں۔

    لیکن اگر ایسی بات نہیں ہے اور آپ ان سلفی علماء کی تردید کرنا چاہتے ہیں جو کفریہ شرکیہ فعل میں ملوث یا شرکیہ عقائد کے حامل افراد کو کافر قرار دینے میں شرائط و موانع کے قائل ہیں، تو اسے واضح کر دیں۔ کیونکہ آپ نے جو دو اصول پیش کئے ہیں، میرے مطالعہ کی حد تک وہ دونوں ایک ہی ہیں اور درست طور پر انہیں یوں لکھا جا سکتا ہے :

    کفر اور شرک کے مرتکب مسلمان یا کفریہ شرکیہ عقیدہ رکھنے والے کسی مسلمان شخص یا گروہ کی معین تکفیر اس وقت تک نہیں کی جا سکتی، جب تک تکفیر کی شرائط پوری اور موانع زائل نہ ہو جائیں۔لیکن عمومی طور پر ہر کفریہ شرکیہ عقیدے کے حامل کو کافر و مشرک کہا جا سکتا ہے ، یعنی غیر معین تکفیر کی جا سکتی ہے۔

    جو علماء تکفیر معین میں شرائط کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک بھی یہ کہنا درست ہے کہ:
    مشرکین کی بات ماننے والا یا ان کی اطاعت کرنے والا مشرک نہیں ہوگا۔ لیکن یاد رہے کہ یہ غیر معین تکفیر ہے۔ اگر آپ کسی شخص کو دیکھیں کہ وہ مشرکین کی اطاعت کرنے والا ہے تو خاص اس شخص کو کافر قرار نہیں دے سکتے جب تک کہ علماء کی ایک جماعت اس پر اتمام حجت نہ کر دے اور شرائط و موانع کی ، خاص اس شخص کے حق میں جانچ پڑتال نہ کر لی جائے۔

    گوندلوی صاحب کی یہ عبارت کہ :
    ضروریات دین کا انکار کرنے والا مسلمان کافر ہے۔ اس سے بھلا کس کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ کسی ایسے شخص پر مطلع ہو جائیں جو ضروریات دین کا انکار کرتا ہے، تو خاص اس شخص یا گروہ کو کافر قرار دینے کے لئے تکفیر کی شرائط کا پورا ہونا، اس میں حائل موانع کا زائل ہونا ضروری ہے۔
    آپ درج بالا دونوں باتوں سے متفق ہیں یا نہیں؟
    اگر آپ متفق ہیں تو ہمارے بیچ اختلاف کی کوئی وجہ نہیں۔
    اگر آپ کو اس سے انکار ہے تو یہی اختلاف کی بنیادی وجہ ہے اسی پر ہی بات ہونی چاہئے۔
     
    Last edited: ‏اگست 12، 2014
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں