1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا ہماری معاشرت اسلامی ہے؟

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏نومبر 07، 2014۔

  1. ‏نومبر 07، 2014 #1
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اسوۃ حسنۃ کی اقتداء ہماری پوری زندگی پر محیط ہے پہلی سانس سے آخری سانس تک
    اگر یہ سچ ہے تو پھر زیر نظر سطور میں جو کیفیات بیان کی جا رہی ہیں ان کاتعلق بھی ہمارے معاشرے سے ہی ہے جسے ہم اسلامی بنانے کے لیے انڈیا سے الگ ہوئے تھے
    ایک فکر انگیز تحریر جو ایک ساتھی کی کاوش ہے
     
  2. ‏نومبر 07، 2014 #2
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اس حقیقت کو تو ہر کوئی جانتا ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک ناقابل معافی جرم شرک ہے- اللہ پاک کا ارشاد ہے:
    " اللہ تعالی یہ جرم ہرگز معاف نہیں کرے گا کہ اسکے ساتھ کسی کو شریک بنايا جائے اور اس کے علاوہ جسے چاہے بخش دے گا۔ ( النساء:48)
    اور عصر حاضر میں ہندو اس جرم عظیم کا نمائندہ اور وکیل ہے۔ اس وقت بھی صرف ہندستان میں تین کروڑ بتوں کی پوجا ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو شرک کے خاتمہ اور توحیدی نظام کے قیام کے لیے پیدا کیا گیا تھا لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان ہندو مشرک کی پوری پوری نقالی کررہا ہے۔
    اگر ہندو گنگا، جمنا اور متھرا کے سفر کرتا ہے تو مسلمان اجمیر، داتا اور سہون جاتا ہے۔ بسنت اور ویلنٹائن ڈے پوری سرکاری سرپرستی میں منائے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ، غمی خوشی، عبادات، رسم و رواج، شکل و صورت، لباس، تہذیب و ثقافت میں اس حد تک امت مسلمہ گمراہی میں جاچکی کہ مسلمان اور ہندو میں تمیز کرنا ممکن نہیں رہا۔
    جب کوئی شخص اسلام لاتا ہے تو اس میں کئ تبدیلیاں پیدا ہوچکی ہوتی ہیں، ان میں سے ایک اہم تبدیلی یہ ہوتی ہے کہ اس کی دوستی اور دشمنی کا معیار بدل جاتا ہے۔ جو کل تک اس کے دوست تھے وہ دشمن بن جاتے ہیں اور جو دشمن تھے وہ دوست بن جاتے ہیں اور ان نئے بننے والے دوستوں کی خاطر وہ اپنے پرانے دوستوں سے لڑائی تک کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ بلیہ اس لڑائی میں اپنی جان اور مال قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 07، 2014 #3
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ارشاد باری تعالی ہے: " یقینا تمہارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے برملا کہ دیا کہ ہم بری ہیں تم سے اور اس سے جس کی تم اللہ کے علاوہ عبادت کرتے ہو۔ (ہمارا تمہارا کوئی تعلق نہیں) ہم تمہارا انکار کرتے ہیں اور ہمارے تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض کھلم کھلا ضاہو ہوچکا ہے، یہاں تک کہ تم اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ۔" (المائدہ: 51)
    اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ مسلمان اور کافر کے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی ہو اور اس دشمنی کا کھلم کھلا اعلان کیا جائے اور یہ دشمنی اس وقب ختم ہوسکتی ہے جب وہ ایک اللہ پر ایمان لے آئیں۔
    ایمان اس چیز کا نام ہے کہ اللہ تعالی اوراس کے رسول سے اور ان کے دوستوں سے محبت ہو اور اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دشمنی ہے۔
    ارشاد باری ہے: "تم میں سے جو ان کے ساتھ دوستی رکھے گا پھر وہ ہم میں سے نہیں بلکہ انہی میں سے ہے"۔ (المائدہ: 51)
    وہ مسلمانوں کی صف میں نہیں بلکہ کفار کی صفوں میں ہے۔
    کتنا سخت فتوی ہے کہ کفار سے دوستی رکھنے والا انہی میں سے ہے- مسلمانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اور رسول اللہ نے فرمايا ہے:" من تشبّہ بقوم فھو منھم" جو شخص کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہے(ابوداؤد کتاب الباس، باب فی لبس و الشعرا: 4031)
    اس سبب یہ ہے کہ انسان کے دوست 3 قسم کے ہوتے ہیں اور دشمن بھی 3 قسم کے۔
    تین قسم کے دوست:
    1/ میرا دوست وہ ہے جو مجھ سے محبت کرتا ہے، مجھے سے دوستی رکھتا ہے۔
    2/ میرا دوست وہ ہے جو میرے دوست سے دوستی رکھتا ہے۔
    3/ میرا دوست وہ ہے جو میرے دشمن سے دشمنی رکھتا ہے۔
    تین قسم کے دشمن:
    1/ میرا دشمن وہ ہے جو مجھ سے دشمنی رکھتا ہے۔
    2/ میرا دشمن وہ ہے جو میرے دوست سے دشمنی رکھتا ہے۔
    3/ میرا دشمن وہ ہے جو میرے دشمن سے دوستی رکھتا ہے۔
    جو میرے کسی دشمن سے دوستی رکھتا ہے وہ میرا دوست نہیں ہوسکتا۔ میرا دشمن بھی میرا دشمن ہے۔ میرے دوستوں کا دشمن بھی میرا دشمن ہے۔ اور میرے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا بھی میرا دشمن ہے۔
    اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا ہے: " اے وہ لوگو! جو ایمان لوئے ہو، میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنا لینا- کبھی ان پر اعتماد نہ کرنا۔" (الممتحنہ: 01)
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 07، 2014 #4
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جب ایمان صحیح طریقے سے دل میں آجاتا ہے تو پھر یہ حالت ہوجاتی ہے کہ اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے ساتھ شدید محبت پیدا ہوجاتی ہے اور ان کے دشونوں سے شدید نفرت و عداوت پیدا ہوجاتی ہے- ایک دو واقعات بطور مثال ذکر کیے جاتے ہیں
    ۱) ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ پہلے کافر تھے۔ بنو حنیفہ کے سردار تھے۔ مسلیمہ کذاب کے کہنے پر رسول اللہ کو دھوکے سے قتل کرنے نکلے۔ مگر مسلمانوں نے انہیں گرفتار کرلیا اور مسجد کے ستون کے ساتھ لاکر باندھ دیا۔ رسول اللہ ان کے پاس تشریف لائے فرمایا: ثمامہ کہو کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا:" اچھا ہے ، اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک خون والے کو قتل کریں گے (جس کا بدلہ لینے والے موجود ہیں) اور اگر مال چاہتے ہو تو فرمائیے جتنا آپ چاہتے ہین آپ کو دیدیا جائے گا۔" آپ اسے وہیں چھوڑ کر چلے گئے، پھر اگلے دن ان کے پاس آئے اور اس سے یہی بات فرمائی اور اس نے یہی جواب دیا – پھر تیسرے دن وہاں سے گذرے اور حال دریافت کیا اور اس نے وہی جواب دیا- آپ نے فرمایا "ثمامہ کو چھوڑ دو" ثمامہ اس (اسیری کے ) دوراں قرآن پاک سنتا رہا- نبی پاک اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نماز اور دوسرے حالات دیکھتا رہا- جونہی اسے چھوڑا گیا، مسجد کے قریب کھجوروں کے ایک باغ میں گیا، غسل کیا، مسجد میں آیا اور بند آواز سے پڑھا:" اشھد ان لا الھ الہ اللہ، وان محمّدا رسول اللہ
    ۖ"( صحیح بخاری، کتاب المغازی: باب وفد بنی حنیفہ و حدیث ثمامہ بن اثال: 4372)
    اب دیکھیے! اسلام لنے کے ساتھ ہی کیا تبدیلی واقع ہوئی؟
    کہنے لگے " یا رسول اللہ
    ۖ! اللہ کی قسم! اس روئے زمین پر آپ کے چہرے سے زیادہ بغض مجھے کسی چہرے سے زیادہ نہیں تھا، اب آپ کا چہرا مجھے سب چہروں سے زیادہ مجبوب ہوگیا ہے- اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی دین مجھے آپ کے دین سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا اور اب آپ ۖ کا دین مجھے سب دینوں سے زیادہ پیارا اور محبوب ہے- اللہ کی قسم! کوئی شھر آپ کے شھر سے زیادہ برا دکھائی نہیں دیتا تھا او راب آپ ۖ کا شھر مجھے سب شھروں سے زیادہ محبوب دکھائی دیتا ہے۔"
    2/ ہندہ بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ جس نے رسول اللہ کے چچا حمزہ رصی اللہ عنہ کا مثلہ کیا تھا اور جگر چبایا تھا، جب ایمان لائی تو کہتی ہیں: یا رسول اللہ
    ۖ تمام روے زمین پر آپ کے خیمے والوں سے زیادہ کسی خیمہ میں رہنے والوں کے متعلق میری یہ خواھش نہیں تھی کہ وہ ذلیل ہوں اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ روے زمین پر آپ کے خیمہ سے بڑھ کر کسی خیمہ کے متعلق میری خواھش نہیں کہ انہیں عزت حاصل ہو۔
    (صحیح بخاری کتاب مناقب الانصار: باب ذکر ھند بنت عتبہ بن ربیع رضی اللہ عنہ: 3825)
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 07، 2014 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    تو یہ ایک قدرتی چیز ہے کہ ایمانی محبت تمام محبتوں پر غالب ہوتی ہے اور اللہ پاک کا ہم سے تقاضا بھی یہی ہے کہ ہماری طرف آؤ تو پورے آ‎ؤ- یہ نہیں کہ کچھ دوستی ہم سے اور کچھ دشمنوں سے ۔ یہ بات اللہ پاک کو بلکل گوارا نہیں-
    اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ:
    " اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو!۔۔۔۔۔۔ اسلام میں پورے پور ےداخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو۔ یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔" (البقرہ: 208)
    یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ ہم میں سے بیشتر کے پہلے آباء و اجداد مسلمان نہ تھے تھے۔ پھر اللہ تعالی نے انہیں اسلام کی نعمت عطا فرمائی ۔ اب چاہیے تو تھا کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوتے اور انہیں کفر کی رسموں سے سخت بغض ہوتا- ہوسکتا ہے ابتداءمیں مسلمان ہونے والوں کا ایسا ہی حال ہو، وہ پورے پورے اسلام میں داخل ہوئے ہوں اور انہوں نے غیر اسلامی رسوم یکسر چھوڑ دی ہوں۔ مگر افسوس کفر کے ساتھ جو اسلام کی جو عداوت ہونی چاہیے، مسلمان اسے قائم نہ رکھ سکے- جبکہ اس کے برعکس ہندؤوں نے اسلام کے ساتھ اپنی نفرت برقرار رکھی- انہوں نے مسلمانوں کو ناپاک قرار دیا، کہ یہ پلید ہیں، ان کا جھوٹا کھانا پینا ناجائز ہے اور اگر ان کا سایہ پڑ جائے تو ہندو بھرشٹ (پلید) ہوجاتا ہے-
    کفر کا اسلام کے ساتھ شدید بغض دیکھ کر مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ وہ کفر سے دلی بغض رکھتے اور کسی صورت ان کا اثر قبول نہ کرتے مگر ہوا کیا؟ ۔۔۔۔۔۔
    اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالیں- امت مسلمہ کی زندگی کا جائزہ لیں- کچھ کی نشاندہی کی جائے گی۔ آپ اس ارادے سے مسلوانوں کے اعمال کو دیکھیں کہ ان میں عیروں کی کون کون سے چیزیں داخل ہوگئی ہیں تو آپ کو بے شمار چيزيں نظر آنا شروع ہوجائيں گی اور آپ پکار اٹھیں گے کہ اوہو! ہم تم ہندؤوں کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں-
     
  6. ‏نومبر 07، 2014 #6
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    حقیقت یہ ہے کہ ہماری وہ روش نہیں جو اصحاب رسول اللہ کی تھی۔ عبادات سے لے کر معاملات تک، رہن سہن سے بول چال تک، غرض ہر چيز میں وہ طریقہ اختیار کرلیا ہے جو خاص طور پر کفار کا طریقہ ہے- حالانکہ دشمنی کا تقاضا یہ تھا کہ ان کی مخالفت کی جاتی- رسول اللہ نے فرمايا:
    " خالفو الیھود و النصاری" (مسند احمد 5/ 263،265)
    " یھودیوں اور عیسائیوں کی محالفت کرو"
    نبی پاک نے بہت سی چيزيں بتائيں کہ فلاں چيز میں مخافت کرو، فلاں میں مخالفت کرو-
    یہودیوں کو دیکھا کہ اپنے سر کی مانگ نہیں نکالتے، یہ دیکھ کر رسول اللہ نے سر کے درمیان مانگ نکالنی شروع کردی- یہودی موسی علیہ السلام اور بنی اسرائيل کی فرغون سے نجات کے شکرانے کے صور پر 10 محرم کا روزہ رکھتے تھے- رسول اللہ نے فرمايا"
    " اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو (9) محرم کا رووہ رکھوں گا- تاکہ اصل عبادت اور شکرہ بھی ادا ہوجائے اور دن بدلنے کے ساتھ یہود کی مخالفت بھی ہوجائے۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام: باب یوم یصام فی عاشورہ: 1134)
    کوئی ایسا کام جو کفار کا خاص طریقہ ہو، اگر قران و حدیث میں اس کی واضح طور پر ممانعت نہ بھی آئی ہو تب بھی مسلمانوں کو کس سے بچنا چاہیے- کیونکہ جو کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے ، رسول اللہ
    [FONT=Times New Roman, serif]نے[/FONT] فرمایا وہ انہی میں سے ہے۔ لیکن اب صورتحال ہے یہ کہ مسلمانوں نے کفار کے وہ طریقے بھی اپنا لیے ہیں جن سے صاف طور پر اللہ پاک نے اور رسول اللہ نے منع فرمایا ہے- خاص طور پر ہندو قوم کے بےشمار عقائد اور رسم و رواج مسلمانوں میں رائح ہوگئے ہیں۔
    ہندؤوں کے رسم و رواج کی واقفیت کے لیے چند کتابیں کا مطالعہ اہم ہے ۔
    ٭ " تحفتہ الہند" از مولانہ عبیداللہ
    اس کتاب کے مصنف عبیداللہ پہلے ہندو تھے۔ اس وقت ان کا نام " اننت رام" تھا- توفیق باری تعالی سے مسلمان ہوگئے تو انہوں نے ہندؤوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے یہ کتاب لکھی اور اس میں اسلام کی تعلیمات اور ہندو مذھب کے عقائد و رسم ورواج کا مقابلہ کرکے اسلام کی حقانیت ثابت کی- اس کتاب میں ہندؤوں کی مستند کتابوں سے ان کے رسم و رواج اور عقائد و عبادات ذکر کیے ہیں اور خود مصنف بھی چونکہ پہلے ہندو تھے، اس لیے ان کا بیان بھی ہندو مذھب کے رسم و رواج کے بیان میں معتبر حیثیت رکھتا ہے-
    ٭ کتاب الہند" از البیرونی
    البیرونی نے ہندستان میں آکر یہاں کے عالموں اور پنڈتوں سے باقا‏ئدہ ان کے علوم پڑھے، ان کی شاگردی کی، پھر اس کتاب میں ان کے علوم اور ان کے عقائد اور رسم و رواج تفصیل سے بیان کیے-
    ٭ ہندستانی تہذیب کا مسلمانوں پر اثر" از ڈاکٹر محمد عمر
    اس میں ڈاکٹر صاحب نے ہندو تہذیب کی ان چیزوں کی تفصیل لکھی ہے جو مسلمانوں میں داخل ہوچکی ہیں۔ ان کے علاوہ بھی کئی کتابوں میں ہندؤوں کی رسوم بیان کی گئی ہیں۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 07، 2014 #7
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اب ہندؤوں کی چند چيزيں ذکر کی جاتی ہیں
    سب سے پہلی چيز تو عبادت ہے اور عبادت میں پہلی چيز توحیدہے۔ ہندؤوں کے ہزاروں خدا ہیں بلکہ ان کے نزدیک ہر چيز خدا ہے- مسلمانوں میں یہ عقیدہ وحدۃالوجود کی صورت میں ظاہر ہوا۔
    دوسری چیز نماز ہے ہندووں کے مذہب میں دن رات میں ایک عبادت فرض ہے اس کا نام" سندھیا" ہے۔ اس کے تین وقت ہیں:
    صبح کا وقت، دن کے درمیان کا وقت، شام کا وقت
    اور اس عبادت میں وہ دل سے تو اپنے تین بڑے دیوتاؤں " برہما" " بشن" اور " مہادیو" کی تعظیم میں مصروف رہتے ہیں۔ اور آنکھیں اور ناک بند کرکے ان کی صورت کا تصور رکھتے ہیں۔ " بشن" کی تصویر کو اپنی ناف میں خیا رکھتے ہیں " برہما" کی صورت کو سینے میں اور " مہادیو"کی صورت کو اپنے دماغ میں خیال کرتے ہیں۔ صبح کے وقت "سندھیا" میں مشرق کو منہ کرتے ہیں۔ دوپہر کو کھڑے ہوکر دونوں ہاتھ بطور دعا اٹھاتے ہیں اور شام کی عبادت میں مغرب کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوتے ہیں۔
    اب غور فرما‏ئيے! اسلام کا ان چيزوں سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے بلکہ یہ سب بت پرستی کے کام ہيں۔ نہ ہی اسلام میں آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنے کی اجازت ہے اور نہ ہی سانس بند کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ مگر ہندؤوں کے اثر کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی یہ چيزيں آگئی ہیں۔ صوفی حضرات اسم ذات اور نفی اثبات کے ذکر کا طریقہ ہی یہ بتاتے ہیں کہ آنکھیں بند کرکے پڑھو اور سانس بند کرکے پڑھو، یہ طریقہ ہندؤوں سے آيا ہے، ہندؤوں کے دیوتاؤں کی جگہ مسلمانوں نے شیخ کا کا تصور رکھنا شروع کرديا کا عبادت کرو، اللہ کا ذکر کرو تو مرشد کا تصور رکھو۔ حالانکہ یہ صاف اللہ کی عبادت میں مخلوق کوشریک کرنا ہے۔
    لا الہ الا اللہ پڑھتے وقت اس کے مفہوم کی طرف توجہ کی بجاء یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ "لا" کی گھنڈی کا تصور ناف میں رکھیں اور لفظ " الہ" کا تصور دماغ میں رکھیں اور " الہ اللہ" کی ضرب دل میں لگائيں- حالانکہ اس طریقہ کا کتاب و سنت میں کوئی وجود ہی نہیں- کئی لوگ لفظ اللہ لکھ کر اس کا نقش دل پر یا دماغ پر جماتے ہیں۔ حالانکہ یہ اللہ تعالی کی ذات کا تصور نہیں ہے اور نہ ہی رسول اللہ
    ۖ نے یہ تعلیم دی- اللہ تعالی وہ ہستی ہیں جس کی کرسی آسمان و زمین سے وسیع ہے۔ اس کا تصور کاغذ پر لکھے ہوئے ایک لفظ کی صورت میں کرنا اسلام کی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اور پھر ہندؤوں نے جس طرح اپنے دیوتاؤں کے نقش کے تصور کے لیے ناف سینہ اور دماغ مقرر کیے ہیں اسی طرح صوفی حضرات نے ناف، سینے، اور دماغ مقرر کیے ہیں' اسی صوفی حصرات نے ناف، سینے اور دماغ میں 6 لطیفوں کی جگہ مقرر کر رکھی ہے اور ہر ایک لطیفے کو کسی نہ کسی پیغمبر کے زیر قدم رکھا ہوا ہے۔
    اسلام میں اللہ تعالی کا زیادہ سے زیادہ ذکر کرنے کی تاکید کی گئی ہے- مگر اس کے لیے رسول اللہ
    ۖ نے ہر موقع کی مناسبت سے ذکر کی تعلیم دی گئی ہے- نہایت جامع اور بامعنی کلمات سکھائے ہیں-
    مثال کے طور پر صبح کو اٹھے تو کہے:(الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا علیہ النشور)" صحیح بخاری، کتاب توحید، باب السئوال باسما اللہ تعالی:7394"
    بیت الخلاء جائے تو:((اللھم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث))" صحیح بخاری، کتاب الوضو، باب ما یقول عند الخلاء: 142"
    گھر سے نکلے تو:(بسم اللہ توکلت علی اللہ لا حول و لا قوۃ الا باللہ)" ابو داؤد، کتاب الادب، باب ما یقول اذا خرج من بیتہ: 5059"
    عام حالات میں کوئی بامعنی کلمہ: ((سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الااللہ واللہ اکبر))" ترمذی ، کتاب الدعوات، باب فی العفو و العافیہ: 3597"
    ہندؤوں اور دوسری غیر مسلم قوموں میں ایک ہی لفظ بار بار دھرایا جاتا ہے- کوئی رام رام کی گردان کرتا ہے تو کوئی اوم اوم کی-
    اسلام میں ان الفاظ کی تو گنجائش نہیں تھی- چنانچہ لفظ اللہ کا ورد استعمال کیا گیا کہ سانس بند کرکے، آنکھیں بند کرکے زیادہ سے زیادہ جتنی دفعہ کہ سکر بڑھاتے چلے جاؤ؛ کہتے چلے جاؤ-
    بےشک یہ اللہ تعالی کا نام ہے- مگر صرف اس لفظ یعنی محض اللہ، اللہ، اللہ، کے ورد کی تعلیم رسول اللہ
    ۖ نے نہیں دی اور نہ ہی خود آپ ۖ نے طریقہ اختیار فرمايا-
    ہندو بت پوجتے ہیں اور تم نے شیخ کا تصور پوجنا شروع کردیا، وہ سانس اور آنکھیں بند کرتے ہیں تم نے بھی وہی طریقہ اختیار کردیا- بتاؤ فرق کیا رہ گیا! وہ سورج کی طرف منہ کرتے ہیں اور اس کی تعظیم کرتے ہیں۔ بعض مسلمانوں نے بھی سورج نکلتے وقت اس پر نظر جمانے کے نام پر اس کی عبادت شروع کردی اور باور یہ کروايا کہ اس سے روحانی قوت حاصل ہوتی ہے، صرف نام بدل گئے ہین، کام نہیں بدلے، مگر صرف نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے۔
     
  8. ‏نومبر 07، 2014 #8
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    تسبیح اور مالا:
    رسول اللہ نے انگلیوں پر اللہ کا ذکر گننے کی تلقین فرمائی آپ نے فرمایا:( اعقدن بالانامل فاانھن مسئولات ومستنطقات)
    انگلیوں کی گرھوں پر گنو کیونکہ ان سے سوال کیا جائے گا اور یہ بلوائی جائيں گی-" ابو داؤد، کتاب الصلواۃ، باب التسبیح بالحصی: 1501"
    ہندو مالا جپتے ہیں، مسلمانوں نے تسبیح رکھ لی۔ یہ تسبیح آپ کو رسول اللہ سے نہیں ملے گی-
    ناصر الدین البانی رح نے ضعیف اور موضوع احادیث کے متعلق ایک کتاب " سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ" لکھی ہے- اس کی جلد 1 حدیث نمبر 83 میں مشھور روایت: (( نعم المذکر السّبحۃ)) یعنی: " تسبیح بہت اچھی یاد دلانے والی ہے" کو موضوع "من گھڑت" قرار دیا ہے اور تفصیل سے ثابت کیا ہے کہ تسبیح کے متعلق رسول اللہ سے کوئی روایت ثابت نہیں ہے- پھر البانی رح نے لکھا ہے کہ اب تک جو صحیح احادیث مجھے یاد ہیں ان کی روشنی میں 100 سے زیادہ گن کر پڑھنے والی کوئی حدیث مجھے نہیں ملی اور 100 تک آسانی کی ساتھ انگلیوں پر گن کر پڑھا جاسکتا ہے، اس سے زیادہ پڑھنا ہو تو بغیر گنتی کے پڑھو-
    ویسے مسلمان کو اتنا موقع ملتا ہی مشکل سے ہے کہ وہ گن کر ہزاروں کی تعداد میں وضیفہ کرے، کوئی دوست آگیا- السلام علیکم و رحمۃ اللہ تو اسے جواب دیا- کوئی مظلوم آگیا- اس کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے- یہ نہیں کہ ادھر مہمان ذلیل ہورہا ہے اور ادھر یہ حضرت صاحب ہزار دانے کی تسبیح پھیررہے ہین- سانس بند کرکے 12 ہزار دفعہ اللہ، اللہ، اللہ پورا کررہے ہیں- یہ طریقہ مسلمانوں کا نہیں، ہندو سادھوؤں کا ہے- ہندو کٹیاؤں میں گیا دھیان میں مشغول رہتے تھے۔ مسجد میں یہ طریقے چل نہیں سکتے تھے۔ مسلمانوں نے خانقاہیں بنالیں- سوا لاکھ کے وضیفے شروع کردیے، خواہ بندوں کی حقوق بلکل برباد ہی ہوجائيں، خواہ کفار مسلمانوں کے ممالک پر قابض ہوجائيں، انہیں اپنی گنتی پوری کرنے کی فکر ہے-
     
  9. ‏نومبر 07، 2014 #9
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ہر کام کی ابتداء: یہ رسول اللہ کا راستہ نہیں ہے- اس راستے پر چلو گے تو بزدلی اور بے ہمتی کی طرف جاؤ گے اور رسول اللہ کے راستے پر جاؤ گے تو عزت و رفعت کی طرف جاؤ گے۔ علم حاصل کرکے دعوت پھیلاؤ، جہاد کرو اور ہر وقت زبان ان اذکار سے تر رکھو جو اللہ کے رسول نے بتائے ہیں، ہزاروں لاکھوں کی گنتی کے چکروں میں نہ پڑو-
    رسول اللہ نے ہیں تعلیم دی ہے کہ ہر کام کی ابتداء اللہ کا نام لے کر شروع کرو، جو اہم کام اللہ کا نام لےکر شروع نہ کیا جائے وہ بے برکت ہے۔ کوئی کام " بسم اللہ" سے شروع کرو ہوتا ہے، کوئی کام " الحمد اللہ" سے کوئی " اللہ اکبر" سے الغرض ہر کام اس پیدا کرنے والے سے شروع ہوتا ہے۔
    ہندوؤں کے دین میں ہر کام سے پہلے " گنیش" کا نام لینا ضروری ہے۔ وہ ہر کام سے پہلے کہتے ہیں " سری گنیشیائے نمہ" یعنی " گنیش" کو میری نمستکار یعنی تسلیمات ہے، " گنیش" کون ہے؟
    " مہادیو" کا بیٹا جس کا سر ہاتھی کا سا ہے اور وہ ہندوؤں کا بہت بڑا دیوتا ہے-
    معلوم ہوا کہ ہندوؤں کے ہاں ہر کام کی ابتداء خالق کے بجائے مخلوق کے نام سے کی جاتی ہے۔
    اب مسلمانوں کا حال دیکھیے!
    ڈرائیور گاڑی پہ بیٹھتا ہے، اللہ کا نام نہیں لیتا، بسم اللہ نہیں پڑھتا، کیا کہتا ہے؟ " یا پیر استاد" اللہ تجھے ہدایت دے، پیر استاد بچارے کے ہاتھ میں کیا ہے؟ وہ تمہاری کیا مدد کرے گا۔ تم بسم اللہ پڑھ کر سوار ہو اور پھر یہ دعا پڑھو:
    { سبحان الذی سخرلنا ھاذا وما کنا لھ مقرنین، وانا الا ربنا لمنقلبون}
    پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے یہ ( سواری) مسخر کردی وگرنہ ہم اس کو مطیع نہ بناسکتے- اور بے شک ہم نے اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(الزخرف: 13،14)
    اگر کوئی شخص کشتی میں بیٹھتا ہے تو کہتا ہے" يا خواجہ خضر" اتنے نادان اور بے سمجھ ہیں کہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق کو پکارتے ہیں، کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی کو پکارتا ہے اور کہتا ہے " یا غوث پاک" کوئی کہتا ہے " یا رسول اللہ"- تو کہیں نعرہ حیدری ہے تو کہیں یا علی کے نعرے ہیں
    کیا اللہ کے رسول
    نےیہ سکھایا ہے کہ يا رسول اللہ کہو؟ غیر اللہ کو نہیں پکارنا ہے، جو ہمارے عزیو، ہمارے رشتیدار، ہمارے دوست و احباب یہ کام کرتے ہیں، انہیں سمجھاؤ، ان سے کہو اپنی عاقبت برباد نہ کرو- کیوں ہندوؤں کے راستے پر چل پڑے ہو؟ کیون خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے فریادیں کررہے ہو؟
     
    Last edited: ‏نومبر 07، 2014
  10. ‏نومبر 07، 2014 #10
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    قطب کی تعظیم
    مسلمانوں میں قطب کی تعظیم ہندؤں سے؟
    اکثر قطب کی اتنی تعظیم کرتے ہیں کہ اپنی چارپائی کی پائنتی قطب (شمال) کی طرف نہیں کرتے- حالانکہ قطب بچارا کیا ہے؟
    کیا وہ ہمارا خالق ہے، نہیں بلکہ یہ ایک ستارہ ہے جو اللہ کے وبردست حکم کے سامنے مجبور ہے- بعض لوگوں نے تو ایک حدیث بھی گھڑلی ہے کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے نبی پاک کا نور پیدا کیا اور وہ اتنے سالوں تک قطب تارے میں رہا۔ آپ نے بھی یہ حدیث سنی ہوگی- معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی ہندؤں کی مھربانی سے بنائی گئی ہے- رسول اللہ
    ۖ سے اس کے کوئی سند نہیں۔
    ہندؤں میں ستارہ پرستی بہت ہے۔ ستاروں کے ذریعے اپنی قسمت کا حال معلوم کرنا، زائچے بنوانا، ہر کام سے پہلے نجومیوں سے پوچنا کہ مبارک گھڑی کون سی ہے؟ تاکہ کام شروع کیا جائے اور منحوس گھڑی کون سی ہے تاکہ کام شروع نا کیا جائے- یہی چيز مسلمانوں میں بھی آچکی ہے، جسے دیکھو زائچے بنواتا پھرتا ہے-
    نجومیوں سے اپنی قسمت کا حال پوچھتا پھرتا ہے، باباؤں کےپاس دھکے کھاتا پھرتا ہے۔ سبحان اللہ! اگر ایسے ہی کرنی والے ہوتے تو خود کیوں نہ لیتے!!؟
    بس عقل کی کمی ہے- انسال جب اللہ تعالی کی درگاہ پر قائم نہیں رہتا تو وہاں سے اسے دھکیل دیا جاتا ہے- پھر ذلیل ہوکر پستی کی طرف لڑھکتا ہی چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں مشرک کی مثال بیان فرمائی ہے؛
    " جو کوئی اللہ کے ساتھ شریک ٹھراتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا- بس اسے پرنے اچک لیتے ہیں یا ہوا اسے کہیں دور جگہ میں گرادیتی ہے" (الحج:31)
    خود دیکھ لیں! جب توحیدکے آسمان سے گرے تو کیسے کیسے مردار خور گدھوں کے پنجوں میں جا پھنسے- جنتریاں اور فالنامے لے کر بیٹھتے ہوئے قسمت شناس سڑکوں کے کنارے طوطوں والے پروفیسر، سارے جہانوں کے گھوڑون کی لید پھانکنے والے تقدیریں بتارہے ہیں-
    انہیں سمجھانے کی بہت ضرورت ہے، کیوں اپنی عاقبت برباد کرتے ہو اور وہمی، خیالی چيزوں کے پیجھے پڑ کر دنیا بھی خراب کرتے ہو- کسی کو معلوم نہیں کہ کل کیا ہوگا۔
    یہ قرآن کا فیصلہ ہے: " اور کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گا-" یعنی کل اس کے ساتھ کیا ہونے والے ہے" (لقمان:34)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں