1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا ہم اہلحدیث ہیں ؟

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از وقار سعید, ‏نومبر 28، 2013۔

  1. ‏نومبر 28، 2013 #1
    وقار سعید

    وقار سعید مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2013
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    لفظ اہلحدیث کے بارے میں ایک ضروری وضاحت کی درخواست ایک غیرمقلد کی گزارش اپنے معزز علمائےکرام سے ہم اہلحدیث کہلاتے ہیں اور ہمیں ان بات پر ناز بھی ہے - مگر اس بارے میں کچھ وضاحت کی ضرورت ہے۔
    ‏‎سوال نمبر 01 : اہلحدیث بمعنی طبقہ علمی کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح صرف ، نحو ، منطق ، حساب ، فقہ ، تفسیر قرآن میں علمی مہارت رکھنے والوں کو اہل صرف ، اہل نحو ، اہل منطق ، اہل حساب ، اہل تفسیر اور اہل قرآن کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں ان علوم کی اہلیت موجود ہے - لیکن جو لوگ ان علوم میں نااہل ہوں ان پر یہ الفاظ استعمال نہیں ہوسکتے - اسی طرح حضرات محدثین جو علمی طور پر علم حدیث کے ماہر ہیں وہ تو اہلیت کی بناء پر اہلحدیث کہلاسکتے ہیں - لیکن جو لوگ اس علم کی اہلیت نہیں رکھتے وہ محدث یا اہلحدیث نہیں کہلاسکتے - اور ظاہر ہے ہمارے فرقے کا ہر فرد تو اسانید و متون اصول حدیث ، اسماء الرجال وغیرہ میں بصیرت تامہ نہیں رکھتا تو جیسے کسی جاہل کو منطقی ، مفسر ، صرفی ، نحوی کہنا جائز نہیں ، اسی طرح ان پڑھوں کا اہلحدیث بمعنی محدث کہلانا غلط ہے؟
    سوال نمبر 02: اس طبقہ علمی کے لحاظ سے اہلحدیث [محدثین] کسی ایک فرقہ مذہبی سے متعلق نہیں ، جیسے اہل قرآن بمعنی مفسرین کسی ایک فرقہ سے متعلق نہیں زمحشری ، بیضاوی مفسر ہیں مگر معتزلی ہیی - قمی مفسر ہے مگر شیعہ ہے - اس طرح ابوبکر دارمی اہلحدیث اور محدث ہے مگر شیعہ ہے - [تذکرہ الحفاظ ص884] ابن جریج اہلحدیث اور محدث ہے مگر نوے عورتوں سے متعہ کرنے والا ہے - [تذکرہ الحفاظ ص149] ابو احمد الزبیری اہلحدیث ہے مگر جلا بھنا شیعہ ہے - [تذکرہ الحفاظ ج1 ص322] محمد بن فضیل بن غزوان المحدث اہلحدیث الحافظ تھے مگر جلے بھنے شیعہ تھے - [تذکرہ الحفاظ ج1 ص290] محدث حاکم ابو عبدالله اہلحدیث بھی محدث ہیں مگر تذکرہ الحفاظ میں رافضی خبیث لکھا ہے - اسماعیل بن علی السمان اہلحدیث کے امام تھے ، مگر متعزلی تھے - [تذکرہ الحفاظ ج3 ص300] بہت سے محدثین حنفی تھے جن کے حالات میں محدثین نے [الجواہر المضیتہ فی تراجم الحنفیہ اور الفوائد البہیہ فی تراجم الحنفیہ اور مفتاح سعادۃ الدارین] وغیرہ ، مستقل اور ضحیم کتابیں لکھی ہیں - بہت سے محدثین شافعی ، مالکی ، حنبلی تھے جن کے حالات میں طبقات شافعیہ ، طبقات مالکیہ ، طبقات جنابلہ کتابیں لکھی گئی ہیں - اس سے معلوم ہوا کہ اہلحدیث معتزلی بھی ہوتے ہیں - شیعہ بھی ، خارجی بھی ، قدری بھی ، حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی بھی ، کیونکہ یہ علمی طبقہ ہے نہ کہ کسی فرقہ مذہبی کا نام ان حنفی ، شافعی ، محدثین نے اپنے طبقات کی کتابیں لکھی ہیں - شیعہ معتزلہ نے بھی ایسی کتابیی جن میں ان کے محدثین کا ذکر ہے لکھی ہیں - اسی طرح انگریز کے دور سے پہلے کے کسی مسلمہ محدث نے طبقات غیرمقلدین کوئی کتاب لکھی ہو تو اس کا نام اور ملنے کا پتہ ضرور دیں؟
    سوال نمبر 03: اگر انگریز کے دور سے پہلے کسی مسلمہ غیرمقلد محدث نے اصول حدیث کی کوئی کتاب لکھی ہو جو نصاب میں متد اول ہو تو اسکا پتہ دیں؟
    سوال نمبر 04: انگریز کے دور سے پہلے کسی غیرمقلد نے جس کا محدث ہونا بھی مسلم ہو ، کوئی اسماء الرجال کی کتاب لکھی ہو تو اس کا نام اور پتہ ضرور دیں؟
    سوال نمبر 05: طبقہ علمی کے اعتبار سے محدثین نے اہلحدیث کو پانچ [5] ‏‎طبقوں میں تقسیم فرمایا ہے نمبر 01 مبتدی یعنی طالب علم حدیث کا نمبر 02 محدث [من تحمل روایة واعتنی دراية] یعنی حدیث کی روایت اور درایت کا ماہر نمبر 03 الحافظ جس کو ایک ہزار1000 ‎ ‏‎حدیث مبارکہ سندا و متنا یاد ہوں نمبر 04 الحجت [جس کو تین لاکھ] احادیث مبارکہ یاد ہوں نمبر 05 الحاکم جس کو تمام احادیث مبارکہ یاد ہوں [الحطہ ص 151] نواب صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں جو اہلحدیث ہیں ان میں کوئی حاکم ، حافظ ، حجت ، محدث تو کیا ہوتا کو مبتدی بھی نہیں - [یعنی طالبعلم]‏
    سوال نمبر 06: یہ فرمایئے انگریز کے دور سے پہلے ہم غیرمقلدین میں کتنے حاکم گزرے ہیں - کتنے حجت اور کتنے حافظ حوالہ معتبر کتاب سے ہو؟
    سوال نمبر 07: اہل حدیث بمعنی فرقہ مذہبی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جیسے مسلمان کا بچہ بھی مسلمان کہلاتا ہے - جوان بھی بوڑھا بھی ، مرد بھی عورت بھی ، جاہل بھی عالم بھی ، اس طرح کوئی فرقہ نام اہل منطق رکھ لے کہ ہر بچہ اور بوڑھا اہل منطق کہلائے - اس طرع کوئی فرقہ اہل قرآن نام رکھ لے کہ ہر بچہ بوڑھا مرد عورت، عالم و جاہل اھل قرآن کہلائے - اس طرح کسی فرقہ کا نام اہل حدیث کہ اس فرقہ کا بچہ بوڑھا ، مرد عورت، عالم و جاہل سب اہل حدیث کہلاتے ہوں - ایسا کوئی فرقہ آنحضرت صلی الله علیه وسلم کے دور مبارک سے انگریز کے اس ملک میں آنے سے پہلے نہیں پایا گیا
    سوال نمبر 08: حضرات علمائے کرام! خدا تعالی آپ کے علم میں برکت دے یہ فرمایئے کہ ‏‎کیا الله تعالی نے قران پاک میں یہ حکم دیا کہ تم اپنے فرقہ کا نام اہلحدیث رکھنا؟ تو یہ آیت تحریر فرمائیں [نوٹ] ہمارے ایک مولوی صاحب نے مجھے قرآن پاک میں دو تین جگہ لفظ حدیث دکھایا تھا - مگر وہاں وہ کسی فرقہ مذہبی کا نام نہ تھا - ایسے تو لفظ شیعہ بھی قرآن پاک میں کئی جگہ موجود ہے کیا اس سے بھی فرقہ ، مذہبی منکرین حدیث مراد ہے اور کیا یہ فرقہ حضرت ابراہیم علیه‎‏ السلام کے زمانے سے ہے ، اس طرح لفظ قرآن بھی کئی جگہ قرآن میں موجود ہے تو کیا اس سے فرقہ منکرین حدیث مراد ہے جو اپنے کو اہل قرآن کہلاتا ہے ، اس طرح لفظ [ربوہ] قرآن پاک میں دو جگہ آیا ہے کوئی اس سے قادیانیوں کا شہر مراد لے جو جھنگ کے ضلع میں بنا ہے اور یہ دعوی کرے کہ یہ شہر حضرت عیسی علیه‎‏ السلام کے زمانہ سے ہے ، اگر لوگ منکرین صحابہ ، منکرین حدیث اور منکرین ختم نبوت کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ اس قسم کے مضحکہ خیز استدلال کریں - اور ان کے استدلال کو ہم تفسیر بالرائے کی بدترین مثال قرار دیتے ہیں - تو پھر ہمیں ایسی تفسیر بالرائے کا کیا حق ہے؟ معزز علمائے کرام کیا ہماری اس تفسیر کا حال بعینہ ایسا نہیں کہ ایک شخص نعیم نامی نے دعوی نبوت کردیا اور اپنے دعوی کی دلیل میں یہ آیت پیش کیا کرتا تھا - [‏‎ثمہ لتسئلن یومئذ عن النعیم] اور کہتا تھا کہ اس میں نعیم میرا نام ہے ایک لطیفہ سن رکھا تھا کہ کسی گاؤں میں ایک میراثی نے سید ہونے کا دعوی کردیا - دوسرے سید صاحبان نے پنچایت میں دعوی کردیا کہ یہ سید نہیں - پنچ صاحب نے فرمایا کہ آپ کے سید ہونے کا میرے پاس کوئی ثبوت نہیں - مگر میراثی تو میرے سامنے سید بنا ہے اس کے سید ہونے میں کوئی شک نہیں ہوسکتا - اس طرح ہماری جماعت کے پنچوں نے 1888ء میں انگریز کو درخواست دی کہ ہمارا نام اہل حدیث ہو ‏‎[ماثرصدیقی ، سیرت ثنائی] تو اب ہمارے اہل حدیث ہونے میں کون بیوقوف شک کرسکتا ہے - ایک دن ہمارے ایک مولوی صاحب نے مجھے قرآن پاک میں سے ایک جگہ سے اہل کا لفظ دکھایا اور دوسری جگہ سی حدیث کا اور اس طرح فرقہ اہلحدہث کا ثبوت قرآن سے پیش کیا - میں نے پوچھا کیا قرآن میں لفظ [غلام] ہے؟ تو کہا ہاں میں نے پوچھا لفظ [احمد] قرآن میں ہے تو کہا ہاں پھر میں نے پوچھا کیا لفظ [نبی] قرآن میں ہے - تو کہا ہاں اب میں نے پوچھا کوئی قادیانی ایک جگہ سے [غلام] دوسری جگہ سے [احمد] تیسری جگہ سے [نبی] دکھاکر کہے کہ قرآن میں ہمارے [غلام احمد نبی] کا ذکر ہے تو اس قادیانی اور آپ کے استدلال میں کیا فرق ہوگا؟ آپ تو قادیانیوں سے بھی تحریف قرآن میں آگے نکل گئے‎ معزز علمائے کرام! میں اگرچہ اہلحدیث ہوں مگر یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے فرقہ کا ذکر قرآن پاک میں نہیں ہے- اور اپنے علماء سے دست بستہ عرض گزار ہوں کہ وہ اپنے فرقہ کی قدامت ثابت کرنے کے لیئے قرآن پاک کے ساتھ منکرین حدیث ، منکرین صحابہ اور منکرین ختم نبوت والا سلوک روا نہ رکھیں ، یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن پاک میں سرے سے لفظ اہلحدیث ہی موجود نہیں - چہ جائیکہ ہمارے فرقہ کا ذکر ہو؟
    سوال نمبر 09: جب ہمارے علماء اس قسم کے استدلال کرتے ہیں تو کیا یہ بات غلط ہے کہ اسلام دین فطرت ہے اور اسی دین فطرت کے بارے میں الله تعالی نے فرمایا ہے [واتبع ملة ابراھیم حنیفا] یہی دین حنیف ہے جس کی تکمیل کا اعلان آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے فرمایا - اور اسی کی تدوین اور ترتیب حضرت امام اعظم ابو حنیفه رحمة الله تعالی عليه نے فرمائی ، آپ چونکہ دین حنیف کے [پہلے] مرتب ہیں اس لیئے آپکی یہ کنیت بااعتبار غلبہء وصف کے ہے جیسے ابوہریرہ ، ابوالخیر ، ابوالبرکات اور آپکی فقہ دین حنیف کی مظہر اتم ہے
    سوال نمبر 10: حضرات علماء کرام سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے [علیکم بسنتی] فرمایا ہے [علیکم‎ ‎بالجماعة] فرمايا ، کیا‎ ‎اسی طرح آپ صلی الله‎ ‎علیه وسلم نے کبھی‎ ‎[علیکم بحدیثی] فرمایا ہے‎ ‎یا نہیں؟ اگر ایسی حدیث‎ ‎ہو تو پوری سند اور توثیق‎ ‎کے ساتھ پیش فرمائیں؟
    سوال نمبر 11: کیا آنحضرت صلی الله علیه وسلم اپنے آپ کو اہل قرآن یا اہلحدیث کہلاتے تھے؟ پوری سند سے حدیث بیان فرمائیں؟‎ ‎
    سوال نمبر 12: کیا آنحضرت صلی الله علیه وسلم اپنے مکتوبات شریفہ میں اپنے آپ کو اہلحدیث لکھواتے تھے؟ تو وہ حدیث باسند پیش کریں
    سوال نمبر 13: کیا آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے اپنے خلفاء اور صحابه رضی الله عنهم اجمعین کو تاکید فرمائی تھی کہ تم اہلحدیث کہلوانا؟ سند صحیح سے پیش کریں؟
    سوال نمبر 14: حضرات علمائے کرام! چند دن ہوئے سرائے سدھو ضلع ملتان سے محمد یعقوب خاں ، سعید اقبال صاحب کی کتاب [گستاخ اور بے ادب کون] ہاتھ لگی - مصنف سے تو مجھے زیادہ واقفیت نہیں لیکن اس پر نظرثانی مولانا ابوالحسن علی محمد صاحب سعیدی جامعہ سعیدیہ خانیوال مرتب فتاوی علماء اہلحدیث نے فرمائی ہے ، جس سے اس کتاب کا مؤید اور مستند ہونا معلوم ہوا - اسی کے ص 8 پر ایک حدیث شریف پڑھی حضرت انس رضی الله عنه سے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیه وسلم نے کہ قیامت کے روز جب اہلحدیث حاضر ہوں گے تو الله تعالی ان سے فرمائیں گے - تم اہلحدیث ہو جنت میں داخل ہوجاؤ [طبرانی] یہ حدیث پڑھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی - میں نے [طبرانی شریف] میں اس کی تلاش کی جو مجھے نہیں مل سکی - آپ حضرات اس کی مکمل سند مع توثیق رواۃ پیش فرمائیں - نیز یہ بھی فرمائیں کہ اس حدیث میں لفظ اہلحدیث سے طبقہ علمی مراد ہے یعنی محدث یا فرقہ مذہبی کا ذکر بھی ہے؟
    سوال نمبر 15: ایک دن ایک [منکر حدیث] نے مجھے مشکوۃ شریف سے یہ حدیث دکھائی [اے اہل قرآن وتر پڑھو] اور کہا کہ دیکھو ہمارے فرقہ کا ذکر حدیث پاک میں ہے - اور مجھ سے کہا تم بھی [اہلحدیث] کا لفظ حدیث نبوی صلی الله علیه وسلم میں‎ ‎دکھاؤ ، میں نے گھر آکر وہی رسالہ جسکا ذکر نمبر 14 میں ہوا ہے دیکھا تو اس کے ص8 پر حدیث مل گئی کہ آنحضرت‎ ‎صلی الله علیه وسلم نے فرمایا! میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی حتی کہ قیامت‎ ‎برپا ہوجائے گی ، وہ‎ ‎جماعت [اہلحدیث] ہے‎ ‎[مشکوۃ بحوالہ ترمذی]‎ ‎میں یہ حدیث پڑھ کر‎ ‎بہت خوش ہوا مشکوۃ‎ ‎اور ترمذی اٹھاکر اس‎ ‎[منکر حدیث] کے پاس لے‎ ‎گیا اپنے ایک مولوی‎ ‎صاحب کو بھی بلایا کہ یہ حدیث تلاش کردیں - تلاش بسیار کے بعد جب حدیث ملی تو اس میں سرے سے [اہلحدیث] کا لفظ ہی نہ تھا - ایک امتی کی رائے میں‎ ‎[اصحاب الحدیث] کا لفظ تھا لیکن ہمارے مولوی صاحب نے امتی کی رائے کو نبی پاک کی حدیث بنا ڈالا - کیا آنحضرت صلی الله علیه وسلم پر اس طرح جھوٹ بولنا جائز ہے؟ فرمایئے اس کتاب کے مرتب اور مؤید کی قرآن و حدیث میں کیا سزا ہے؟
    سوال نمبر 16: اس رسالہ کے ص 8 اور ص11 پر دو جگہ یہ حدیث لکھی ہے - حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے روز رسول الله صلی الله علیه وسلم کے سب سے زیادہ قریب اہلحدیث ہونگے کیونکہ امت محمدیہ میں یہی لوگ رسول الله صلی الله علیه وسلم پر سب سے زیادہ درود بھیجتے ہیں‎ ‎‏[ابن حبان] لیکن جب اصل کتاب دیکھی گئی تو اہلحدیث کا لفظ حدیث پاک میں نہیں بلکہ‎ ‎‏[ابن حبان] کی رائے میں تھی اور وہ بھی طبقہ علمی محدثین کے لیئے ، نہ کہ کسی فرقہ مذہبی کے لیئے؟
    سوال نمبر 17: نیز اسی رسالہ ص 8 پر حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه کا قول درج ہے "انا اول صاحب حدیث فی الدنیا" [تاریخ بغداد] اس کی سند مع توثیق رواۃ پیش فرمائیں اور یہ بھی فرمائیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنه صاحب حدیث بمعنی [محدث] تھے یا بمعنی ان پڑھ [غیرمقلد] ، اور یہ بھی فرمائیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنه کس سنہ میں اسلام لائے - اگر وہ پہلے [اہلحدیث] ہیں؟ ان سے پہلے اسلام لانے والے خلفائے راشدین ، عشرہ مبشرہ ، اہل بدر ، اہل احد ، مہاجرین ، انصار اہل بیعت رضوان تو‎ ‎کسی معنی میں بھی [اہلحدیث] نہ رہے؟
    سوال نمبر 18: نیز اسی رسالہ ص 8 پر حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنه کا قول درج ہے کہ اپنے شاگردوں کو فرمایا "فانکم خلوفنا واھل حدیث بعدنا" [بحوالہ اشرف اصحاب الحدیث ص 21] اس قول کی سند اور اس کے راویوں کی توثیق بیان فرمائیں - نیز یہ بھی فرمائیں کہ بشرط صحت اس قول میں [اہلحدیث] سے مراد محدث ہے یعنی طبقۂ علمی یا ان پڑھ غیرمقلد اور منکرین فقہ مراد ہیں؟ جواب باحوالہ باسند بیان فرمائیں؟
    سوال نمبر 19: ہمارے بعض علماء کرام اہلحدیث کا ترجمہ غیرمقلد کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ اہلحدیث اور غیرمقلد ایک ہی چیز ہے اس معنی کا ثبوت کسی معتبر و مسلم کتاب سے دیں؟
    سوال نمبر ‏20: اگر ہر غیر مقلد [اہلحدیث] ہے؟ تو قادیانی ، منکرین حدیث ، نیچری ، متعزلہ شیعہ وغیرہ فرقوں کا ہر فرد بھی اہلحدیث کہلاسکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ یہ لوگ بھی غیرمقلدین [یعنی ہماری طرح] ائمہ اربعہ میں سے کسی کی تقلید نہیں کرتے ، کیا وجہ ہے کہ ہم تقلید نہ کریں تو اہلحدیث؟ اور تقلید چھوڑ دیں تو اہلحدیث نہ کہلائیں؟
    سوال نمبر 21: حضرات علمائے کرام علامه حافظ ابن عبدالبر رحمة الله تعالی علیه نے اپنی کتاب [جامع بیان العلم و فضلہ] میں اور رامھرمزی نے [المحدث الفاضل] میں جو یہ اقوال درج کیئے ہیں - ان میں لفظ اہلحدیث کن معنوں میں ہے - امام شعبہ بن الحجاج فرماتے ہیں - میں جب کسی [اہلحدیث] آدمی کو دیکھتا تھا تو میرا دل باغ باغ ہوجاتا ہے - لیکن اب سب لوگوں سے زیادہ بغض مجھے اہلحدیث سے ہے اور محدث حرم شریف حضرت امام سفیان بن عینیه رحمة الله تعالی علیه کسی اہلحدیث کو دیکھتے تو فرماتے کہ تجھے دیکھ کر آنکھوں میں جلن پیدا ہوتی ہے ، حضرت عمر رضی الله تعالی عنه تجھے دیکھتے تو سزا دیتے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی الله تعالی عنه کے مبارک دور میں کوئی اہلحدیث نہ تھا - ورنہ اس کی خوب پٹائی فرماتے
    سوال نمبر 22: امام سفیان ثوری رحمة الله تعالی علیه فرماتے ہیں - اگر حدیث اچھی چیز ہوتی تو گھٹتی جاتی جیسا کہ ہر خیر کم ہوتی ہے اس کا کیا مطلب ہے اور کیا حکم ہے؟
    سوال نمبر 23: محدث عمرو بن الحارث رحمة الله تعالی علیه جو امام اللیث رحمة الله تعالی علیه کے استاد حدیث ہیں فرمایا کرتے تھے اگر میں نے حدیث پاک سے زیادہ اشرف علم نہیں دیکھا ‏‎مگر اہلحدیث سے زیادہ سخیف العقل کسی کو نہیں پایا - اسکا کیا مطلب ہے اور اگر کوئی آج یہ بات کہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ بدعتی ہے یا کافر؟
    سوال نمبر 24: ہمارے مناظر اعظم حضرت مولانا ثناء الله صاحب امرتسری فرماتے ہیں کہ اہلحدیث کے لیئے علم حدیث ضروری نہیں [فتاوی ثنائیہ ج 1] یہ اصطلاح کس آیت یا حدیث سے لی ہے اس کا حوالہ درکار ہے؟
    سوال نمبر 25: اگر مولانا ثناء الله صاحب کا یہ معنی درست ہے تو کیا مسلمان کہلانے کے لئے اسلام کا علم ضروری نہیں؟ اہل قرآن کہلانے کے لیے علم قران ضروری نہیں؟ اہل صرف و نحو کہلانے کے لیے صرف نحو کا علم ضروری نہیں؟ یہ درست ہے یا یہ مذاق صرف حدیث پاک کے ساتھ ہی روا رکھا گیا ہے؟
    سوال نمبر 26: ہمارے اس نو ایجاد لقب اہلحدیث سے مراد وہ شخص ہے جو تمام متعارض حدیثوں پر عمل کرے. تو یہ تو مشاہدہ کے خلاف بھی ہے - اور اس طرح عمل بھی ناممکن ہے اور اگر کوئی طریقہ سب پر عمل کرنے کا حدیث میں ہو تو بیان فرمائیں؟
    سوال نمبر 27: یا اس لقب سے وہ شخص مراد ہے جو راجح احادیث پر عمل کرے وہ اہلحدیث ہے تو تمام متعارض احادیث کے لیے ہر ہر حدیث کے بارہ میں کہ فلاں راجح ہے ، فلاں مرجوح تو یہ فیصلہ آپ نبی صلی الله علیه وسلم سے ثابت کرتے ہیں یا امتیوں سے جو غیر معصوم ہیں؟
    سوال نمبر 28: اگر آپ فرمائیں کہ ہم صحیح حدیثوں کو ترجیح دیتے ہیں اور ضعیف حدیثوں کو مرجوح کہتے ہیں تو فرمائیں کہ ہر ہر حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے کا فیصلہ خود نبی معصوم صلی الله علیه وسلم سے ثابت ہے یا غیر معصوم امتیوں کے اقوال پر اعتماد کیا جاتا ہے اور تقلید کے جاتی ہے؟
    سوال نمبر 29: آپ فرمائیں کہ ہر ہر حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے کا فیصلہ صراحۃ تو آنحضرت صلی الله علیه وسلم سے ثابت نہیں ، البتہ جو حدیث صحیح کی تعریف کے موافق ہو وہ صحیح ہے ورنہ ضعیف ، تو صحیح حدیث اور ضعیف کی جامع مانع تعریف آنحضرت صلی الله علیه وسلم کی صحیح حدیث سے بتائیں؟
    سوال نمبر 30: احادیث مقبولہ کی کتنی قسمیں ہیں ، اور احادیث مردودہ کی کتنی ، ان اقسام کی وضاحت کسی صحیح صریح حدیث سے بیان فرمائیں؟ یا یہ ساری قسمیں غیر معصوم امتیوں نے بنائی ہیں؟ تو ان اقسام میں ان امتیوں کی تقلید فرض ہے ، یا واجب یا مکروہ یا حرام؟
    سوال نمبر 31: کسی راوی پر جرح اور تعدیل کے جو قاعدے اصول حدیث کی کتابوں میں درج ہیں - کیا وہ سب نبی معصوم صلی الله علیه وسلم سے ثابت ہیں؟ تو ان کا ثبوت کسی صحیح حدیث سے پیش فرمائیں؟ اگر یہ قاعدے غیر معصوم امتیوں نے بتائے ہیں تو ان قاعدوں کی مدد سے احادیث کو صحیح یا ضعیف کہنے والا متبع حدیث تو نہ ہوا امتیوں کا مقلد ہوا؟
    سوال نمبر 32: کیا امتیوں کے ان بنائے ہوئے قاعدوں کو اگر کوئی نہ مانے تو اسے الله تعالی یا رسول الله صلی الله علیه وسلم کا منکر تو نہیں کہا جائے گا؟
    سوال نمبر 33: حدیث کے سب راویوںکا ثقہ ہونا نبی معصوم صلی الله علیه وسلم کے ارشادات سے ثابت ہے یا غیر معصوم امتیوں کے اقوال سے؟ ان اقوال کو تسلیم کرکے کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف کہنا ان امتیوں کی تقلید ہے یا نہیں؟ ‏‎
    سوال نمبر 34: حضرات علمائے کرام!! اسماء الرجال کی جن کتابوں پر آج کسی راوی کو ثقہ یا ضعیف کہنے کا دارومدار ہے مثلا: تقریب التہذیب ، تہذیب التہذیب ، میزان الاعتدال ، تذکرۃ الحفاظ ، خلاصہ تہذیب الکمال ، لسان المیزان وغیرہ ان کتابوں میں نہ تو صاحب کتاب سے لیکر جارح یا معدل تک کوئی سند ہے نہ جارح ، اور معدل سے لے کر راوی تک کوئی سند ہے تو ان کتابوں میں درج اقوال کو محض صاحب کتاب سے حسن ظن کی وجہ سے تسلیم کرلینا یہ اس غیر معصوم امتی کی تقلید ہے یا نہیں؟ ‏‎
    سوال نمبر 35: ان کتابوں میں %99 فیصد اقوال جرح و تعدیل بلادلیل ہیں یعنی ان کے ساتھ دلیل تفصیلی مذکور نہیں - یہ تسلیم القول بلادلیل تقلید ہے یا نہیں؟
    سوال نمبر 36: ان کتابوں کے راویوں کے بارہ میں بہت اختلاف ہے ایک محدث ایک راوی کو امیر المؤمنین فی الحدیث کہتا ہے - دوسرا محدث اس راوی کو دجالوں میں سے ایک دجال کہتا ہے - تو اس اختلاف کا فیصلہ غیر معصوم امتی ہی کریں گے یا کہ نبی معصوم صلی الله علیه وسلم سے؟
    سوال نمبر 37: ہمارے مولوی ثناء الله امرتسری نے 29جولائی 1927ء کو یہ چیلنج کیا تھا کہ تمام محدثین اور مفسرین غیرمقلد تھے - کیا یہ دعوی اور چیلنج انگریز کے دور سے پہلے کسی مسلم محدث کی کتاب میں بھی ہے؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مولوی ثناء الله صاحب نے یہ بات کسی شیعہ کی کتاب سے چوری کی ہے ، براہ نوازش کسی مسلم اہل سنت محدث سے یہ دعوی ثابت کریں؟ ‏‎
    سوال نمبر 38: مولوی ثناء الله صاحب امرتسری نے جب یہ چیلنج فرمایا تھا تو اس وقت 7اگست 1927ء کے اخبار العدل میں اس چیلنج کو منظور کرکے مولانا ثناء الله نے پوچھا تھا کہ آپ مجتہدوں ، محدث اور مفسر کے شرائط جو دلیل شرعی سے ثابت ہوں تحریر فرمائیں؟ نیز ان کتب مسلمہ بین الفریقین کی فہرست بھی تحریر فرمائیں جن سے آپ ان محدثین و مفسرین کا غیرمقلد ہونا ان کے اقرار یا شرعی شہادتوں سے ثابت فرمائیں گے؟ لیکن سنا ہے کہ پھر ہمارے مولانا ثناء الله صاحب وفات تک اس مسئلہ پر خاموش ہی رہے اور اسی طرح اس دنیا سے تشریف لے گئے حضرات علمائے کرام!! یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مولانا پہلے چیلنج دیں پھر جب وہ چیلنج منظور کرلیا جائے تو صم ، بکم بن جائیں
    سوال نمبر 39: حضرات علمائے کرام! عام طور پر ہمارے علماء فرمایا کرتے ہیں کہ حدیث اور سنت ایک ہی چیز ہے ، کیا کسی صحیح صریح حدیث پاک میں یہ آیا ہے کہ حدیث اور سنت ایک ہی چیز ہے - اگر ایسی حدیث ہو تو مع سند و توثیق رواۃ بیان فرمائیں؟ ‏‎
    سوال نمبر 40: امام خطیب بغدادی رحمة الله تعالی علیه نے حدیث نقل فرمائی ہے "عن ابی هريرة عن النبی صلی الله عليه وسلم انه قال سيئاتيكم منی احاديث مختلفة فما جاءكم موافقا لكتاب الله و سنتی فهو منی وما جاءكم مخالفا لكتاب الله و سنتی فليس منی" [الكنايه صفحہ نمبر430] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح کتاب الله اور حدیث دو چیزیں ہیں بعض حدیثیں کتاب الله شریف کے موافق ہیں اور بعض مخالف ، اس طرح سنت اور حدیث دو چیزیں ہیں - بعض حدیثیں سنت کے موافق ہیں اور بعض سنت کے مخالف ہیں جب سنت اور حدیث میں اختلاف ہو تو سنت کے مخالف حدیث چھوڑ دی جائے گی؟ ‏‎
    سوال نمبر 41: صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے فرمایا "آخری زمانہ میں کچھ دجال اور جھوٹے لوگ ہوں گے جو تمھیں احادیث سنایا کریں گے جو حدیثیں تمھارے باپ دادا نے نہیں سنی ہوں گی - ان سے بچنا ورنہ وہ تمھیں گمراہ کریں گے اور فتنہ میں ڈال دیں گے - کیا اس پیشگوئی میں ہمارے ہی فرقہ [اہلحدیث] کا تو ذکر نہیں ہے؟ ‏‎
    سوال نمبر 42: کیا لغت کی کسی کتاب میں حدیث کا معنی بات بھی آتا ہے یا نہیں "اذا سر حدیثا فبائ حدیث بعدہ یومنون میں معنی بات ہے" کیا اس معنی کے لحاظ سے اہلحدیث کا معنی باتونی درست ہے یا نہیں؟ ہم اگر اپنے علماء سے سوالات پوچھیں اور عرض کریں کہ جواب حدیث صحیح سے دیں تو وہ نبی صلی الله علیه وسلم کی حدیث کے بجائے بلا حوالہ حدیث اپنی باتیں لکھ دیتے ہیں - جس سے ان کا باتونی ہونا واضح ہے؟
    سوال نمبر 43: کیا حدیث کے معنی نئے کے بھی آتے ہیں یا نہیں - حدیث ضد قدیم اور حدیث السن کے معنی نو عمر ہیں ، تو اہلحدیث کے معنی نئے فرقہ والے ہوئے - چناچہ ہماری معتبر کتابوں نمبر [01]‏‎ مآثر صدیقی نمبر [02] ‏‎تفسیر ثنائی میں ذکر ہے کہ 1888ء سے انگریزی کاغذات میں ہمارا نام اہلحدیث رکھا گیا اور یہ دونوں معتبر شہادتیں "واستشھدوا و شھیدین منکم" کے موافق واجب القبول ہیں؟
    سوال نمبر 44: ہمارے علماء کرام!
    نمبر [01]‏‎ مولانا عبدالجبار صاحب غزنوی نے
    نمبر [02] ‏‎مولانا عبدالتواب ملتانی [فتاوی علمائے حدیث] میں
    نمبر [03]‏‎ نواب صدیق حسن خان [الحطہ] میں
    نمبر [04]‏‎ مولانا ابو یحیی شاہ جہانپوری نے [الارشاد الی سبیل الرشاد] میں
    نمبر [05]‏‎ مولانا فیض عالم صدیقی نے [اختلاف امت کا المیہ] میں
    نمبر [06]‏‎ مولانا عبدالرشید حنیف نے [داد حق] میں
    نمبر [07]‏‎ مولانا علی محمد سعیدی نے [فتاوی علمائے حدیث] میں
    نمبر [08]‏‎ مولانا ثناء الله امرتسری نے [نقوش ابو الوفاء] میں ان آٹھ 8 علماء نے تسلیم کیا ہے کہ ہمارا فرقہ نیا ہے - اور یہ سب بزرگ مقبول الشہادت ہیں - یہ بھی اس معنی کی تائید ہیں؟
    سوال نمبر 45: ہماری تاریخ اہلحدیت نامی کتاب انگریزی حکومت کے دور میں مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی نے تحریر فرمائی - جس میں شیخ رضی الدین لاہوری رحمه الله سے لے کر شاہ محمد اسحاق رحمه الله تک حنفی محدیثین کا ذکر ہے - یہ لوگ انگریزی دور سے پہلے علم حدیث کے مینار تھے - غیر مقلدین میں سب سے پہلے میاں نذیر حسین دہلوی کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے رد تقلید میں سب سے پہلے کتاب معیارالحق لکھی اور نئے فرقے کی بنیاد رکھی ‏‎
    سوال نمبر 46: میاں صاحب کے خسر میاں عبدالخالق صاحب بھی لکھتے ہیں - سو بانی مبانی اس فرقہ نواحداث کا عبدالحق بنارسی ہے [تنبیہہ الضالین] ‏‎‎
    سوال نمبر ‏47: ‏‎‏‎ہمارے مستند مؤرخ حضرت مولانا ابو یحیی امام خاں نو شہروی نے ہندوستان میں اہلحدیث کی علمی خدمات نامی کتاب تالیف فرمائی - مولانا محمد حنیف یزدانی نے اس کو مکتبہ نذیریہ چیچہ وطنی سے شائع فرمایا ہے - اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا سب سے پہلا ترجمہ قرآن نواب وحید الزماں صاحب نے تحریر فرمایا [ص33] ‏‎گویا دور برطانیہ سے پہلے ہمارا کوئی ترجمہ قرآن نہ تھا؟
    سوال نمبر 48: ہماری پہلی تفسیر القرآن بکلام الرحمن ہے جو مولانا ابو الوفاء ثناء الله صاحب امرتسری نے لکھی [34] یہ وہی تفسیر ہے جس کی وجہ سے ہمارے 80 علماء نے مولانا ثناء الله امرتسری کو گمراہ اور اسکی تفسیر کو مرزائی فتنہ سے بڑا فتنہ قرار دیا [فیصلہ مکہ ص3] یہ وہی تفسیر ہے جس کے خلاف اربعین لکھی گئی ، اور یہ وہی تفسیر ہے جسے سلطان ابن مسعود نے گمراہ کن قرار دیا [فیصلہ حجازیہ]
    سوال نمبر 49: ہم اپنے علماء کرام سے عرض گذار ہیں کہ اسی کتاب میں درج ہے کہ ہندوستان میں اسلام 93ھ میں آیا لیکن 93ھ سے 1293ھ تک کے گیارہ سو سال کے زمانہ کا کوئی ، ترجمہ قرآن ، نہ ترجمہ حدیث ، اور نہ نماز کی کتاب ، کچھ بھی نہیں ورنہ اس فہرست میں ضرور ان کا ذکر آتا - حیرانی ہے اس اسلامی دور میں تو 1100 سوسال کی وسیع مدت میں ہم نماز کی کتاب نہ لکھ سکے؟ مگر 1293ھ کے بعد انگریزی دور میں صرف پون صدی 75 سال میں ہماری جماعت 1016 ایک ہزار سولہ کتابیں شائع کردے [ص99] آخر ایک نومولود فرقے کو یہ قارون کا خزانہ کہاں سے مل گیا تھا - جس سے اتنی کتابیں لکھوائی اور چھپوائی گئیں؟
    سوال نمبر 50: امید ہے ہمارے علمائے کرام یہ گتھی بھی سلجھائیں گے کہ انگریز نے مسلمانوں [احناف] سے حکومت چھینی - ان پر بے پناہ مظالم کئے - لیکن ہمارے فرقہ جن کا انگریز کے دور سے پہلے 1 اخبار یا 1 رسالہ بھی نہ تھا - انگریز کے دور میں ان کے 28 رسالے ، اخبار شائع ہوتے تھے - جن میں 2 روزنامے ، 8 ہفتہ وار ، اور ایک پندرہ 15 ‎روزہ ، اور 17 ماہنامے تھے
    سوال نمبر 51: حضرات علمائے کرام یہ عقدہ بھی حل فرمائیں کہ انگریز کے دور سے پہلے یہاں اسلام پر گیارہ صدیاں گذرجائیں - مگر ہماری نماز کی کتاب تک نہ ہو لیکن انگریز کی حکومت آتے ہی ہمیں پورے نو [9]‏‎ پریس مل جائیں ، جیسا کہ کتاب مذکور کے [ص107] پر ان کے ناموں اور مقاموں کی مکمل فہرست موجود ہے، حیرانی ہے کہ اس نومولود فرقے کو اتنا سرمایا کہاں سے مل گیا تھا؟
    سوال نمبر 52: ‏‎حضرات علمائے کرام نے یہ کتاب ہماری جماعت کی علمی خدمات کے بیان کے لیے لکھی ہے - انگریز کے دور سے پہلے پوری گیارہ صدیاں اسلام پر گذرچکی تھیں ، مگر ہمارے کسی مدرسے کا نام و نشان تک نہ تھا ، مگر جب انگریز کا دور آیا تو ملک بھر میں ہمارے مدارس کا جال پھیل گیا ، چناچہ پورے 222 مدارس کی فہرست اس کتاب میں درج کی گئی ہے آخر ایک نومولود فرقہ کو ملک کے طول و عرض میں اتنے مدارس کے چلانے کے لیے لاکھوں روپے کا سرمایہ کہاں سے ملتا تھا؟ یہ بھی فرمائیں کہ ان مدارس کے طلباء کی تعداد کیا تھی؟ ‏‎
    سوال نمبر 53: حضرات علمائے کرام! پاک و ہند کی پوری اسلامی تاریخ میں یہ ذکر نہیں ملتا کہ کہیں ہمارا جلسہ ہوا ہو؟ لیکن انگریز کا دور اس ملک میں آیا اور ہمارے جلسے شروع ہوئے جن میں 1330ھ سے لیکر 1356ھ یعنی 26 سالوں میں ہماری پوری آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس منعقد ہوئیں ، جن کی فہرست کتاب مذکور [‏‎ص79] پر درج ہے حضرات علمائے کرام! جب سے پاکستان بنا ہے سعودی حکومت کی طرف سے کروڑوں روپے مل رہے ہیں - مگر 26 سالوں میں ایک آل پاکستان اہلحدیث کانفرنس لاہور میں ہوئی ہے - وہ بھی ایسی ناکام ہوئی کہ اب حوصلہ ہی ٹوٹ گیا ہے - مگر ان 20 ملک گیر کانفرینسوں کے لیے سرمایا کس ذرائع سے حاصل کیا گیا تھا اور انگریز کے جانے کے بعد یہ سلسلہ کیوں رک گیا؟ حضرات علمائے کرام! ملک میں ایک آدھ ہماری کانفرنس ہو تو باوجود اسکے کہ کروڑوں روپیہ غیر ملکی ہمیں ملتا ہے - کوئی کتاب مفت تقسیم نہیں ہوتی بلکہ سعودیہ سے مفت آئی ہوئی کتابیں قیمتآ فروخت ہوتی ہیں ، مگر دور برطانیہ کی ان بیس 20کانفرنسوں میں چھیاسٹھ ہزار پانچ سو 66500 کتابیں مفت تقسیم کی گئیں ، جن کی فہرست کتاب مذکور کے [‎ص 189 ، 190] پر ہے ، یہ عقدہ ضرور حل فرمائیں کہ اتنی کتابوں کے مفت تقسیم کرنے کے لیے سرمایہ کہاں سے آتا تھا - جب کہ ہماری جماعت کے افراد کی تعداد بھی چند ہزار نہ تھی؟
    سوال نمبر 54‎: اس مذکورہ کتاب میں ہماری مساجد کی فہرست نہیں دی گئی - کیونکہ انگریز کے دور میں اپنی علیحدہ مساجد بنانے کی طرف ہماری جماعت کی توجہ ہرگز نہیں تھی - کیونکہ حنفیوں کی مساجد میں جاکر لڑائی کرکے مساجد میں فساد کرکے مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنا اصل مقصد تھا کہ یہ لوگ اتفاق کرکے حکومت برطانیہ کے خلاف جہاد نہ کرسکیں - چناچہ میاں نذیر حسین دہلوی کی سوانح عمری [الحیات بعد الممات ‎ص611 تا 614] کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے - کہ اس زمانے میں بکثرت دیوانی اور فوج داری مقدمات لڑے گئے اور پریوی کونسل لندن تک ہماری جماعت کامیاب رہی اس کامیابی کی تو بہت خوشی ہے مگر ان بکثرت مقدمات کی کامیابی کے لیئے نومولود فرقے کے پاس اتنا سرمایا کہاں سے آیا تھا کہ یہ نومولود فرقہ پریوی کونسل لندن تک کامیاب رہتا ہے؟ یہ سب حوالہ جات کتاب [اہلحدیث کی علمی خدمات] میں مذکور ہے ‏‎
    سوال نمبر 55: حضرات ہمارے علمائے کرام نے ہمیں بتا رکھا ہے کہ حضرت پیران پیر سید عبد القادر جیلانی رحمة الله تعالی علیه ہمارے ہم مذہب تھے - ان کی کتاب [غنیۃ الطالبین] نہایت معتبر کتاب ہے - اس میں یہ حدیث ہے کہ شیطان کے ایک بچے کا نام "حدیث" ہے جو نمازیوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرتا ہے - مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کا مشن بھی یہی ہے کہ نمازیوں کے دلوں میں وسوسے ڈال ڈال کر پریشان کرتے ہیں اور کسی شخص کو سکون قلب سے نماز نہیں پڑھنے دیتے - کیا ایسے لوگ جو لوگوں کو نماز پر لگانے کے بجائے نمازیوں کو پریشان کریں وہ اسی کی طرف منسوب ہوکر تو اہلحدیث نہیں کہلاتے ، کیونکہ اسی [شیطان کے بچے] کا مشن پورا کرتے ہیں؟
    سوال نمبر 56: حضرات علمائے کرام! قرآن و حدیث میں ذکر ہے کہ جب ملأ اعلی کی میٹنگ ہوتی تھی تو شیاطین قریب جاتے ، اور درمیان سے کوئی ایک آدھ بات اچک کر اس میں دس 10 جھوٹ ملاتے اور لوگوں میں پھیلادیتے ، بالکل اسی طرح ہمارے بعض لوگ بھی حدیثوں میں سے ایک آدھ حدیث اچک لیتے ہیں - باقی حدیثوں کا نام تک نہیں لیتے اور اس طرح فقہ ثقہ میں سے ایک آدھ بات اچک کر اس میں دس 10 ،بیس 20 جھوٹ ملا کر فقہ ثقہ کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں - اور اس طرح نماز کے بارہ میں درمیان سے کسی مسئلہ کے بارہ میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں - مگر انہیں کہا جائے ، کہ بات جب ختم ہوسکتی ہے کہ ایک طرف سے ترتیب کے ساتھ شروع کی جائے؟ اس پر نہیں آتے اور شور مچاکر بھاگتے ہیں ‏‎
    سوال نمبر 57: چناچہ! ایک دن ایک شخص نے ہمارے مولوی صاحب سے پوچھا کہ حدیث شریف کیا ہے؟ کیا مخلوق کو خدا کے دین میں اپنی طرف سے مسائل داخل کرنے کا حق ہے؟ مولوی صاحب نے فرمایا کہ حدیث قرآن پاک سے ہی ماخوذ اور قران پاک کی تفصیلا ور تشریح ہے، تو وہاں موجود پانچ سو 500 آدمیوں نے اعلان کیا کہ ہم "مشکوۃ شریف" کے صرف دس 10 صفحات بالترتیب پڑھتے ہیں - آپ ہر حدیث کا ماخذ قرآن کی آیت پڑھتے جائیں ہم سب اہلحدیث ہوجائینگے - ہمارے بیس 20 کے قریب علماء تھے کسی کو ہمت نہ ہوئی بلکہ بعض نے تو صاف طور پر فرمادیا کہ حدیث قرآن کے خلاف ہے ، کاش ہمارے علماء اتنی کم ہمتی نہ دکھاتے تو وہ [پانچ سو500] لوگ ‏‎اہلحدیث ہوجاتے؟ سوال نمبر 58: ایک دن ہمارے علماء نے کہا کہ فقہ سب کی سب حدیث کے خلاف ہے - چناچہ اہل فقہ نے کہا کہ آؤ ترتیب سے بات کرو؟ ہم صرف "فتاوی عالمگیری" کے پہلے دس صفحات پڑھتے ہیں - ہم ترتیب وار ایک ایک مسئلہ پڑھیں گے آپ ترتیب وار ہر ہر مسئلہ کے خلاف ایک ایک حدیث صحیح صریح غیر معارض پیش کرتے جائیں - لیکن ہمارے علماء دم دباکر بھاگ گئے - ہزاروں آدمیوں نے کہا کہ آپ بالترتیب فقہ کے کسی ایک باب مثلا "کتاب الطہارت ، کتاب المیراث ، کتاب الحدود کو بالطریق بالاحادیث کے مخالف ثابت کردیں اور ان مسائل کے مقابلہ میں ہر ہر مسئلہ کا صحیح حکم حدیث صحیح صریح غیر معارض سے دکھادیں؟ ہم فقہ کو چھوڑدیں گے - مگر ہمارے علماء نے نہایت بزدلی کا ثبوت دیا اور شور مچاکر بھاگتے ہیں؟
    سوال نمبر 60: ایک دن ہمارے علاقہ کے ایک گاؤں میں جھگڑا ہوا کہ حنفیوں کی نماز غلط ہے - حنفیوں نے کہا آپ بالترتیب نماز کا ہر ہر مسئلہ حدیث صحیح صریح غیر معارض سے دکھادیں؟ ہم وہی نماز پڑھیں گے لیکن وہ اس کے لیے بالکل تیار نہیں ہوئے تو لوگوں نے کہا ہماری نماز کا کہتے ہو ہوتی نہیں - ہم پوچھتے ہیں تم مکمل نماز بتادو پھر کہتے ہو ہمیں آتی نہیں پھر لوگوں کے دلوں میں وسوسے کیوں ڈالتے ہو؟
    سوال نمبر 61: ‏‎اگر حدیث راجح پر عمل کرنے والا اہلحدیث ہے تو حنفی یا دیگر مقلدین اہلحدیث کیوں نہیں؟ جو ان احادیث پر عمل کرتے ہیں جن کو خیر القرون کے مجتہد نے راجح قرار دیا؟ اور ہم ان احادیث پر عامل ہیں جن کو پندرہویں صدی کے کسی جاہل مرکب غیرمقلد نے جو مصداق "ضلو فاضلو" کا ہے راجح قرار دیا ، حالانکہ تابعین کی ترجیح قرآن ، حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے ‏‎
    سوال نمبر 62: حضرات علمائے کرام! حضرات صحابه کرام رضی الله عنهم اجمعین ، تابعین اور تبع تابعین رحمه الله تعالی علیه جس طرح متصل احادیث روایت کرتے اور ان پر عمل بھی کرتے تھے ، اسی طرح صحابه رضی الله عنهم اجمعین اور تابعین مرسل احادیث روایت کرتے اور خیر القرون کے تینوں زمانوں میں ، مرسلات ، بلکہ بلاغات پر بھی بلانکیر عمل جاری تھا - حنفی حضرات! حدیث متصل ، مرسل ، موقوف ، مدلس سب پر عمل کرتے ہیں - مگر ان کو اہلحدیث نہیں کہا جاتا؟ اور ہم نے حدیث کی کئی اقسام مثلا مراسیل ، موقوفات ، مدالیس، خیر القرون ، ان سب اقسام کی احادیث ماننے سے انکار کردیا ہے - عجب بات ہے کہ احناف ان سب قسموں کو مانیں تو بھی اہلحدیث نہ ہوں؟ ہم اکثر اقسام کا انکار کریں پھر بھی اہلحدیث رہیں؟
    سوال نمبر 63: حدیث کے لفظ کا اطلاق حدیث مرفوع ، موقوف ، مقطوع ، مرسل ، مدلس سب پر ہوتا ہے ، مگر ہم سب اقسام کو ماننے کے بجائے صرف ایک قسم کو مانتے ہیں ، اور حنفی سب اقسام کو مانتے ہیں تو حنفی کامل "اہلحدیث" ہوئے اور ہم 1/5 اہلحدیث ہوئے؟
    سوال نمبر 64: ہم میں سے بعض لوگ اثری کہلاتے ہیں - اثر لغت میں کسی چیز کے بقیہ کو کہتے ہیں اور اثر کا اطلاق محدثین کی اصطلاح میں حدیث مرفوع ، موقوف ، مقطوع سب پر ہوتا ہے - امام طحاوی رحمة الله تعالی علیه نے شرح معانی الآثار میں ، امام طبری رحمة الله تعالی علیه نے تہذیب الآثار میں اور امام سیوطی رحمة الله تعالی علیه نے الدر المنثور فی التفسیر بالماثور میں تینوں اقسام کی احادیث درج کی ہیں - اسی طرح باجماع امت ادعیہ ماثورہ کا لفظ ان دعاؤں پر استعمال ہوتا ہے جو احادیث سے ثابت ہوں ، مگر ہمارے اثری سوائے پہلی قسم کے کوئی حدیث نہیں مانتے تو یہ اثری کہلانا خلاف اجماع ہے - پھر کیا آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے اثری کہلانے کا حکم دیا ،یا خود اپنے کو اثری لکھوایا ، یا کسی صحابی کے اثری کہلانے پر خاموش رہے؟ اگر ایسی حدیث ہو تو باسند تحریر فرمائیں اور اس کی صحت بھی تفصیلآ ثابت فرمائیں؟
    سوال نمبر 65: ‏‎ہمارے بعض علماء یہ حدیث سناکر ہمارا دل خوش کردیتے ہیں کہ آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے فرمایا "اللهم ارحم خلفائی قلنا من خلفاءك ، قال الذين يروون احاديثی يعلمونها الناس - ہمارا دل بھی بہت خوش رہا مگر تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ حدیث تو موضوع اور باطل ہے - چناچہ حافظ زیلعی رحمة الله تعالی علیه فرماتے ہیں کہ یہ احمدبن عیسی العلوی کی موضوعات میں سے ہے [نصب الرایہ ج1 ص 348] اور حافظ ذہبی رحمة الله تعالی علیه فرماتے ہیں "ھذا باطل" [میزان الاعتدال ج 1 ص 127] ‏‎اس کو کوئی صحیح سند ہو تو مع توثیق رواۃ پیش فرمائیں؟
    سوال نمبر 66: ‎اگر یہ حدیث صحیح بھی ہوتی تو یہ دعا تو محدثین کے لیے ہے جو علمی طبقہ ہے نہ کہ اس سے مراد کوئی فرقہ مذہبی ہے؟
    سوال نمبر 67: کیا احادیث کے وہ راوی جو رافضی ، خارجی ، ناصبی ، مرجیہ ، قدریہ ، معتزلہ ہیں وہ بھی اس حدیت کی دعا میں شامل ہیں یا نہیں ، اور حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی راوی اور محدثین بھی اس دعا کے مستحق ہیں یا نہیں؟
    سوال نمبر 68: حضرات علمائے کرام ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ رفع یدین میں شوافع اور رافضی ہمارے ساتھ ہیں - لیکن ترک تقلید میں شیعہ ، منکرین حدیث ، نیچری ، قادیانی وغیرہ سب ہمارے ساتھ ہیں - کیا یہ بات قابل فخر نہیں ہوسکتی؟
    سوال نمبر 69: ہمارے بعض حضرات اپنے آپ کو سلفی بھی لکھتے ہیں - کیا آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے سلفی کہلانے کا حکم دیا یا خود سلفی کہلاتے تھے - یا آپ کے سامنے صحابه کرام رضی الله تعالی علیهم اجمعین سلفی کہلاتے ہوں اور آپ صلی الله علیه وسلم خاموش رہے ہوں - تو ایسی حدیث شریف پیش فرمائیں؟
    سوال نمبر 70: سلف صرف آنحضرت صلی الله علیه وسلم کا نام ہے یا صحابه ، تابعین ، تبع تابعین بھی سلف میں شامل ہیں - تو پھر یہ سلفی کہلانے والے صحابه ، تابعین ، تبع تابعیں کے ارشادات کو کیوں نہیں مانتے؟
    سوال نمبر 71: ہمارے بعض عوام محمدی کہلواتے ہیں کیا آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے محمدی کہلانے کا حکم دیا یا آپ صلی الله علیه وسلم کے سامنے صحابه محمدی کہلواتے تھے اور آپ صلی الله علیه وسلم اس پر خاموش رہے ہوں ، تو ایسی کوئی حدیث پاک بیان فرمائیں؟
    سوال نمبر 72: کیا حضرت پیران پیر نے غنیۃ الطالبین میں فرقہ محمدیہ کو گمراہ اور دوزخی فرقوں میں شمار کیا ہے یا نہیں؟
    سوال نمبر 73: جس طرح لوگ محمدی کہلاتے ہیں اس طرح قادیانی احمدی کہلاتے ہیں - بعض لوگ ان ناموں سے مغالطہ کھا جاتے ہیں کہ شاید ان ناموں میں "محمد" اور "احمد" سے مراد آنحضرت صلی الله علیه وسلم ہیں ، حالانکہ جس طرح احمدی نسبت آنحضرت صلی الله علیه وسلم کی بجائے مرزا کی طرف ہے - کیونکہ وہ مرزا کی کتابوں کو ہی کتاب و سنت کی صحیح ترجمان مانتے ہیں - اسی طرح محمدی سے مراد محمد جونا گڑھی کے ماننے والے ہیں - کیونکہ انکا دین و ایمان محمد جونا گڑھی کی ہی کتابیں شمع محمدی ، تفسیر محمدی ، وضو محمدی ، نماز محمدی ، نکاح محمدی ، حج محمدی ، طریقہ محمدی وغیرہ ، محمد جونا گڑھی کی کتابوں پر ہی ایمان ہے اس لیے محمدی ہیں؟
    سوال نمبر 74: حضرات علمائے کرام! حنفیوں کو تیرہ سو 1300 سال ہوچکے ہیں وہ حنفی ہی کہلاتے ہیں - مگر ہمیں 1888ء سے ابھی صرف ایک صدی ہی مکمل ہوئی مگر کئی نام بدل چکے ہیں ، موحد ، محمدی ، غیر مقلد ، سلفی ، اثری ، غرباء اہلحدیث ، امامیہ تنظیم ، جماعت المسلمین ، اہل حدیث ، شبان اہلحدیث کیا یہ سب نام احادیث سے ثابت ہیں - تو برائے نوازش وہ صحیح احادیث پیش فرمائیں؟
    سوال نمبر 75:
    الف: حضرات علمائے کرام! ہمارے فرقہ کو بنے ہوئے ابھی ایک صدی ہی گزری ہے مگر یہ آپس میں سخت اختلاف کا شکار ہوگیا - مثلا مولانا ثناء الله صاحب امرتسری ہمارے فرقہ کے روح رواں تھے - مگر ہماری جماعت کے علماء ان کو دجال ، معتزلی ، بے دین ، واجب القتل ، دو دو آنے پر فتوے دینے والا ، محدثین کی خدمات پر پانی پھیرنے والا ، چھٹا ہوا نیچری اور چھپا ہو مرزائی کہتے ہیں - بحوالاجات [فیصلہ مکہ ، اربعین ، فیصلہ الحجازیہ ، کتاب التوحید سنۃ] وغیرہ
    ب: مولانا محمد جونا گڑھی ، مولانا عبدالستار ، امیر جماعت غرباء اہلحدیث کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ اس کا کفر مکے کے کافروں سے بھی بڑھا ہوا ہے [اخبار ‏‎محمدی ص 13، 15 نومبر 1939ء] ج: مولانا عطاء الله حنیف کے شاگرد پروفیسر محمد مبارک پوری - جماعت غرباء اہلحدیث کو مسلیمہ کذاب جیسے واجب القتل سمجھتے ہیں [علمائے احناف اور تحریک مجاہدین ص48] کیا ایک دوسرے کو کافر کہنے والے سب کے سب طائفہ منصورہ مصداق ہیں؟ اور حق واحد ہے یا متعدد؟ سوال نمبر 76: حضرات علمائے کرام! ایک عجیب بات ہے کہ منکرین حدیث نے بہت سا لٹریچر شائع کر رکھا ہے اور اسی لٹریچر کے ذریعے وہ اپنے مسلک کی تبلیغ کرتے ہیں - لیکن جب ہم اس لٹریچر پر اعتراض کرتے ہیں تو وہ یہ کہہ کر جان چھڑاتے ہیں کہ ہم اہل قران ہیں - اگر ہم پر اعتراض کرنا ہے تو قرآن پر اعتراض کرو ، اب کون؟ مسلمان قرآن پر اعتراض کرے؟ [بالکل نہیں] ہاں ان لوگوں نے اپنے سارے لٹریچر کو خلاف قرآن تسلیم کرکے اپنی ساری کتابوں کو جھوٹا مان لیا بالکل یہی حال اہلحدیثوں [غیر مقلدوں] کا ہے - ہم اپنے علماء کی کتابیں اور لٹریچر رات دن تقسیم کرتے ہیں - اور اس کو دین کی تبلیغ سمجھتے ہیں - مگر جب ہمارے مخالفین ہم پر اعتراض کرتے ہیں تو ہم فورا ان سب کتابوں کا انکار کردیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا مذہب صحیح حدیث ہے اگر اعتراض کرنا ہے تو صحیح حدیث پر کرو گویا ہم نے اعلانیہ تسلیم کرلیا کہ ہماری ساری کتابیں مخالف حدیث ہیں اور ہمارا لٹریچر بے دینی کی تبلیغ ہے - اس طرح ہمارا اپنی کتابوں کا انکار کردینا اپنے مسلک کو باطل تسلیم کرلینا ہے
    سوال نمبر 77: حضرات علمائے کرام! ہمارے نواب صدیق حسن خاں صاحب نے "محدث" کی شرائط کے بیان میں یہ واقعہ نقل فرمایا ہے کہ ایک شخص نے حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه کے سامنے ارادہ ظاہر کیا کہ میں اہلحدیث [محدث] بننا چاہتا ہوں - حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه نے فرمایا اس فن میں قدم نہ رکھنا - جب تک یہ شرائط نہ ہوں - سب سے پہلے یہ چار چیزیں حاصل کرنا
    نمبر [01] آنحضرت صلی الله علیه وسلم کے حالات مبارکہ اور آپ کی شریعت کا علم
    نمبر[02] ‏‎‏‎حضرات صحابه کرام رضوان الله تعالی علیهم اجمعین اور ان کی مقداروں کا علم
    نمبر [03] تابعین اور ان کے احوال کا علم
    نمبر [04] علماء دین اور ان کے تاریخی حالات ،
    پھر یاد رکھو ان سب کے نام ، ان کی کنیت ، ان کے ٹھکانے اور انکا زمانہء حیات معلوم کرنا - ان کو ایسا ہی ضروری سمجھنا جیسے خطبہ میں خدا کی ثناء اور دعا میں وسیلہ - قرآن پاک کی سورت کے ساتھ بسم الله اور نمازوں کے ساتھ تکبیر تحریمہ پھر یہ پہچان کرنا کہ مسند حدیثیں کتنی ہیں ، مرسل کس قدر ہیں ، اور موقوفات کتنی ہیں ، اور اپنی عمر کے چاروں زمانوں بچپن ، لڑکپن ، جوانی اور بڑھاپے کو حدیث پر خرچ کرنا اور ہر حال میں حدیث کا دور کرنا - فراغت ہو یا مشغولیت امیری ہو یا غریبی پھر پہاڑوں سمندروں شہروں اور جنگلوں میں پھر کر یہ علم حاصل کرنا ، جب کاغذ نہ ملے تو پتھروں پتوں اور چمڑوں پر حدیث لکھنا - اپنے سے چھوٹے ، اپنے ہم عمر ، اپنے سے بڑے اور اپنے باپ کے خط سے احادیث لینا - ان سب امور میں خدا تعالی کی رضا مقصود رکھنا ، اور ان حدیثوں پر عمل کرنا جو کتاب الله کے موافق ہوں اور ان احادیث کو طلباء اور محبین میں پھیلانا اور کتاب میں تالیف کرنا اور تم اس کام کو پورا نہیں کرسکتے - جب تک کتابت ، لغت ، صرف اور نحو میں مہارت حاصل نہ کرو ، یہ سب محنت بیکار ہے اگر خدا کی توفیق سےقدرت ، صحت ، حرص و حفظ عطا نہ ہو اور جب یہ سب کچھ حاصل ہوجائے تو اس محدث کی نظر میں اپنے اہل و عیال مال دولت اور وطن کی وقعت نہیں رہتی -
    اور پھر الله تعالی اس کا چار چیزوں سے امتحان لیتے ہیں
    نمبر [01] شماتت اعداء سے
    نمبر [02] سچے دوستوں کی ملامت سے
    نمبر [03] ‏‎جہلاء کے طعن سے
    نمبر [04] علماء کے حسد سے یعنی چاروں طرف سے دوست، دشمن، جاہل، عالم سب اس پر نکتہ چینی کرتے ہیں
    اگر وہ آدمی ان پر صبر کرے تو الله تعالی چار چیزوں سے دنیا میں اس کا اکرام فرماتے ہیں
    نمبر [01] ‏‎قناعت کی عزت
    نمبر [02] ‏‎ہیبت نفس
    نمبر [03] لذت علم
    نمبر [04] اور شہرت عام بقائے دوام سے
    اور چار چیزوں سے آخرت میں اکرام فرمائیں گے
    نمبر [01] ا‎پنے بھائیوں کی سفارش کرو
    نمبر [02] میرے عرش کے سایہ میں آرام کرو
    نمبر [03] رسول پاک صلی الله علیه وسلم کے حوض سے پیاس بجھاؤ
    نمبر [04] اور اعلی علیین میں انبیاء کرام علیهم صلوۃ والسلام کے ساتھ جنت میں رہو
    حضرت امام بخاری رحمة اللہ تعالی علیه نے فرمایا بیٹا محدث کی شرائط میں نے اختصار سے بیان کردی ہیں جو میں نے اپنے مشائخ حدیث سے تفصیلآ سنی تھیں اب اگر تو اتنی ہمت رکھتا ہے تو اس میں قدم رکھ یعنی اہلحدیث [محدث] بننے کی کوشش کر - وہ شخص کہتے ہیں میں ادب سے سر جھکا کر غور و فکر کرنے لگا - جب حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه نے میرا یہ حال دیکھا تو فرمایا اگر تو اس قدر مشقتیں برداشت نہیں کرسکتا تو "فقہ" کو لازم پکڑلے یہ علم تجھے گھر بیٹھے حاصل ہوجائے گا [کیونکہ حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه کے زمانہ میں ہر ہر گھر میں فقہ ہی رائج تھی] اور تجھے اس کے لیے سمندروں اور شہروں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا [اور بلا مشقت حاصل ہونے سے فقہ کو بے قدر نہ سمجھنا] وہ فقہ حدیث کا ہی ثمرہ اور پھل ہے [اور فقیہ کو بہ نظر حقارت بھی نہ دیکھنا کیونکہ] آخر میں فقیہ کا ثواب محدث سے ذرہ بھر بھی کم نہیں - اور نہ اسکی عزت اور شان محدث سے کم ہے - وہ بزرگ فرماتے ہیں حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه سے یہ سن کر میں نے اہلحدیث محدث بننے کا ارادہ چھوڑ دیا اور فقہ میں محنت کی اور خدا تعالی کی توفیق سے میں اپنے زمانہ کا سربر آوردہ فقیہ بن گیا [الحطہ صفحہ ‏148 ‎تا ‏150] ‎تک
    سوال نمبر 78: حضرات علمائے کرام! کیا آج ہمارے فرقے کا ہر فرد ان شرائط پر پورا اترتا ہے ، ہرگز نہیں تو حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه کے فرمان پر بھی ہمیں فقہ پر عمل کرنا چاہیے ورنہ ہم نہ محدثین کے ساتھ رہے نہ فقہا کے ساتھ "ھولاء ولا الی ھولاء" کا منظر رہے گا - نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ، نہ ادھر کے رہے ، نہ ادھر کے رہے، حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه کے فرمان کے موافق تو جب ہم ان شرائط سے کورے ہیں تو ہم پر فقہا کی تقلید لازم ہے - مگر ہمارے فرقہ کا حال یہ ہے کہ جاہل بھی اردو ترجمہ حدیث کا دیکھ کر فقہا پر نکتہ چینی کرتے ہیں - میں نے کبھی اپنے بڑے سے بڑے شیخ الحدیث کو نہیں دیکھا کہ ڈاکٹری کی کتاب کا اردو ترجمہ دیکھ کر خود اپنا علاج کرتا ہو ، چہ جائیکہ کوئی اتنا حوصلہ کرے کہ اردو ترجمہ دیکھ کر بڑے بڑے ماہر ڈاکٹروں کی غلطیاں پکڑے - ساری عمران ڈاکٹروں کے نسخوں کو بلامطالبہ دلیل قبول کرکے ان کی تقلید میں گزارتا ہے- اجتہاد کا نام لیتے جان جاتی ہے ، ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ ہمارا بڑے سے بڑا عالم تعزیرات پاکستان کا اردو ترجمہ کا مطالعہ کرکے خود مقدمہ کی پیروی کرتا ہو – چہ جائیکہ اردو کتاب دیکھ کر چیف جسٹس صاحبان کے فیصلہ کو غلط قرار دے - اس طرح صرف، نحو، بلاغت، معانی، بدیع اور منطق کے قواعد کو محض تقلیدا قبول کرتے ہیں - خلیل اور اخفش کی جوتیاں اٹھاتے زندگی گذرجاتی ہے مگر اجتہاد کا نام نہیں لیتے - مگر حضرات فقہاء پر ملامت کرنے میں ہمارا ہر ہر جاہل تیار ہے - حدیث کی کتاب کا اردو ترجمہ لیا اور سب فقہاء پر تبرا بازی شروع کردی
    سوال نمبر 79: حضرات علمائے کرام! یہ بھی فرمائیں کہ حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه کی یہ بیان کردہ شرائط قرآن و حدیث سے ثابت ہیں تو وہ آیت یا حدیث بیان فرمائیں یا امتیوں کی بناوٹ ہے تو کیا حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه اور ان سب کے مشائخ حدیث کیا بدعتی تھے؟
    سوال نمبر 80: حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه امام احمد رحمة الله تعالی علیه سے پوچھا گیا کہ مفتی کی کیا شرائط ہیں - آپ نے فرمایا کتاب الله شریف کا پورا عالم ہو کم از کم چار لاکھ احادیث صحیحہ کا عالم ہو صحابه کرام و تابعین عظام کے فتاوی میں بصیرت تامہ رکھتا ہو تو اس کو فتوی دینے کا حق ہے ورنہ نہیں [اعلام الموقعین جلد 2 ص 252] بحوالہ قواعد فی علوم الفقہ ص5 حضرات ! ظاہر ہے کہ جب وہ فتوی دینے کا اہل نہیں تو وہ دوسروں سے پوچھ کر ان کی تقلید کرے گا ، لیکن ہمارے فرقہ کا تو یہ حال ہے کہ چار لاکھ تو کیا چار حدیثوں کی سندوں کی بھی تفصیلی تحقیق نہیں جانتے اور نہ صرف یہ کہ تقلید سے باغی ہیں بلکہ آئمہ مجتہدین اور صحابه کرام سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم ہونے کا دعوی رکھتے ہیں - بلکہ چاہتے ہیں کہ آئمہ مجتہدین اور صحابہ کرام رضی الله عنهم ان کی تقلید کرتے ، یہ ایسی ہی خواہش ہے کہ مریض یہ خواہش کرے کہ ڈاکٹر میری تقلید کرے اور ملزم یہ خواہش کرے کہ چیف جسٹس قانون فہمی میں میری تقلید کرے ایں خیال است و محال است و جنوں
    سوال نمبر 81: حضرت امام ابو حفص رحمة الله تعالی علیه فرماتے ہیں کہ جب میں جامعہ منصور میں مسند افتاء پر بیٹھا تو محدث ابو اسحاق رحمة الله تعالی علیه نے مجھے کہا کہ کیا چار لاکھ احادیث یاد کرنے والا قول یاد ہے؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا جب تجھے چار لاکھ احادیث حفظ ہی نہیں تو تو فتوی کیوں دیتا ہے - میں نے کہا میں اپنے قول پر فتوی ہی نہیں دیتا - میں تو اس مجتہد کے قول پر فتوی دیتا ہوں جو چار لاکھ احادیث سے بھی زیادہ حدیثوں کا حافظ تھا [اعلام الموقعین ج2 ص 252] اس سے معلوم ہوا جس کو چار لاکھ احادیث حفظ نہ ہوں وہ خود اجتہاد نہ کرے بلکہ مجتہد کے فتوی کی تقلید کرے یہی محدثین کا طریق ہے
    سوال نمبر 82: حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه کے استاد الاستاد اور حضرت امام احمد رحمة الله تعالی علیه کے استاد حضرت امام شافعی رحمة الله تعالی علیه فرماتے ہیں - کسی آدمی کو ہرگز حلال نہیں کہ وہ خدا کے دین میں فتوی دے ، ہاں مگر وہ شخص کہ قرآن پاک کا عارف ہو ، اس کے ناسخ ، منسوخ محکم اور متشابہ اس کی تاویل اور تنزیل اور مکی اور مدنی آیات سے پورا واقف ہو - اور یہ ساری باتیں احادیث رسول صلی الله علیه وسلم کے بارہ میں بھی جانتا ہو ، اور علم لغت اور شعر میں بھی بصیرت تامہ رکھتا ہو - اور علماء کے اختلاف اور وجوہ کوخوب جانتا ہو ، ایسے شخص کو فتوی دینا جائز ہے ، اور جو ایسا نہ ہو اس کے لیے ہرگز حلال نہیں کہ وہ فتوی دے [اعلام الموقعین ج1 ص62]‏ ‏‎الفقیہ و المتفقہ للخطیب
    سوال نمبر 83: حضرت امام بخاری رحمة الله تعالی علیه کے پر دادا استاد حضرت امام مالک رحمة الله تعالی علیه فرماتے ہیں کہ میں اس وقت تک فتوی دینے نہیں بیٹھا جب تک ستر [70] شیوخ نے مجھے نہ کہا کہ تو فتوی دینے کا اہل ہے بحوالہ [اعلام الموقعین ج1 ص 16] سوال نمبر 84 امام عبد الله بن مبارک اور امام یحیی بن اکثم سے پوچھا گیا کہ فتوی کی اہلیت کیا ہے؟ فرمایا جب آدمی حدیث و فقہ [رائے] دونوں میں بصیرت رکھتا ہو [اعلام الموقعین] ان محدثیں کے اقوال سے معلوم ہوا کہ ہر شخص فتوی کا اہل نہیں ، چہ جائیکہ ہر شخص مجتہدین کا جج بن بیٹھے اور مجتہدین کی غلطیاں چھانٹے اور ظاہر ہے جو اہل اجتہاد نہ ہو تقلید کرے - لیکن ہمارے بعض جاہل بے وقوف بھی مجتہدین بنے ہوئے ہیں سوال نمبر 85: حضرت امام شعبی رحمة الله تعالی علیه جنہوں نے پانچ سو [500] [اعلام الموقعین] صحابه کرام رضوان الله تعالی علیهم اجمعین کی زیارت کی تھی، فرماتے تھے جو شخص چاہتا ہے کہ قضاء میں مضبوط فیصلہ لے تو اسے چاہیئے کہ حضرت عمر رضی الله عنه کے اقوال لے [اعلام الموقعین ج1 ص7] دیکھیئے
    سوال نمبر 86: حضرت امام شعبی رحمة الله تعالی علیه حضرت عمر رضی الله عنه کی تقلید شخصی کی دعوت دے رہے ہیں - وہ بھی قاضیوں کو جو یقینا عالم تھے، لیکن ہماری جماعت کے جاہل بھی تقلید شخصی کو شرک کہتے ہیں
    سوال نمبر 87: حضرت مجاہد رحمة الله تعالی علیه جلیل القدر تابعی ہیں وہ بھی فرمایا کرتے تھے "اذا اختلف الناس فی شئی فانظر واما صنع عمر فخذو ابه" [اعلام الموقعین ج1 ص7] دیکھئیے حضرت مجاہد رحمة الله تعالی علیه بھی حضرت عمر رضی الله عنه کی تقلید شخصی کا حکم فرمایا کرتے تھے
    سوال نمبر 88: آنحضرت صلی الله علیه وسلم کے صحابه کرام کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی - صرف حجۃ الوداع میں شامل ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ چوالیس تھی - اور ظاہر ہے کہ تمام صحابه کرام رصوان الله تعالی علیهم اجمعین اس حج میں شریک نہیں ہوئے تھے - یہ سب اہل زبان بھی تھے - مگر ان میں سے فتوی دینے والے صحابه کرام رضوان الله تعالی علیهم اجمعین کی تعداد تقریبا ایک سو تیس 130 تھی ان میں بھی اصل مفتی صرف سات [7] تھے [اعلام الموقعین ج1 ص5] ظاہر ہے کہ باقی تقریبا ڈیڑھ لاکھ صحابه کرام رضوان الله تعالی علیهم اجمعین ان کی تقلید کرتے تھے - اور عہد صحابه کرام رضوان الله تعالی علیهم اجمعین میں سے کسی نے ان کا انکار نہیں کیا
    سوال نمبر 89: حضرت امام محمد بن جریر رحمة الله تعالی علیه فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی الله علیه وسلم کے صحابه کرام رضوان الله تعالی علیهم اجمعین میں سے صرف حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنه کے ایسے معروف اصحاب تھے - جو ان کے فتاوی اور مذہب کو مدون کرتے تھے - اور کسی صحابی رضی الله عنه کے فتاوی ان کے شاگردوں نے مرتب نہیں کئے - اور حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنه اپنے مذہب کو خلیفہ راشد حضرت عمر رضی الله عنه کے مذہب سے ملاتے ، اگر اختلاف ہوتا تو اپنا قول چھوڑ کر حضرت عمر رضی الله عنه کے قول کی تقلید کرلیتے [اعلام الموقعین ج1 ص7] امام اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نخعی حضرت عمر اور حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنهم کے اقوال کی ہی تقلید کرتے ان دونوں سے باہر نہیں نکلتے تھے [اعلام الموقعین ج 1 ص7] حضرت علی رضی الله عنه جب کوفہ تشریف لائے تو ان کا مذہب بھی مدون کیا گیا - "مذہب حنفی" کا ماخذ یہی مرتب اور مدون فتاوی تھے
    سوال نمبر 90: ہمارے بعض جہال بھی یہ کہا کرتے ہیں کہ ہم تمام مذاہب کو کتاب و سنت پر پیش کرتے ہیں - اور جو مسئلہ جس مذہب کا کتاب و سنت کے موافق ہو اسے قبول کرلیتے ہیں - اگرچہ یہ دعوی ہمارے ہر جاہل کا ہے - لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے علماء بھی اس دعوی پر پورا نہیں اترسکتے - حنفی علماء نے مدتوں سے یہ اعلان شائع کر رکھا ہے کہ کوئی غیرمقلد عالم آئے؟ ہم مختلف ابواب کے ایک سو [100] مسائل رکھیں گے ان میں پہلے ہر مسئلہ کے بارہ میں چاروں مذاہب کے احکام پھر ہر مذہب کے مفصل دلائل اور وجوہ بیان کرکے پھر کتاب و سنت سے صراحۃ ترجیح ثابت کرے مگر کوئی غیرمقلد اس پر آمادہ نہیں ہوا ، کیا اس قسم کے جھوٹے دعوے کرنا شرعا جائز ہے؟
    سوال نمبر 91: ہمارے بعض علماء اقوال آئمہ اربعہ کے پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے تقلید سے منع فرمایا - مگر جس طرح کی سند کا مطالبہ احناف سے کیا کرتے ہیں ان اقوال کی وہ سند بیان نہیں کرتے - براہ نوازش ان اقوال کی سند مع توثیق رواۃ پیش فرمائیں؟
    سوال نمبر 92: وہ اقوال اگر بسند صحیح بھی ثابت ہوتے تو ان اقوال کے ساتھ آئمہ اربعہ نے کوئی دلیل بیان نہیں فرمائی تو ان اقوال کو بلامطالبہ دلیل قبول کرلینا تقلید ہے - کیا اس تقلید سے ترک تقلید پر استدلال درست ہے؟ سوال نمبر 93: ہمارے علماء آئمہ اربعہ کے ان اقوال کو چھپاتے ہیں جن میں آئمہ اربعہ نے مفتی اور مجتہد کی شرائط بیان کی ہیں اور جن میں وہ شرائط نہ ہوں ان کو فتاوی دینے سے منع کیا ہے - ان دونوں قسم کے اقوال سے پتہ چلا کہ آئمہ اربعہ کے نزدیک مجتہدین اپنی نظر و استدلال سے کتاب و سنت پر عمل کریں اور غیر مجتہدین تقلید کریں - اب جن اقوال کے مخاطب مجتہدین ہیں ان کو عوام پر چسپاں کرنا تلبیس حق بالباطل بھی ہے "یحرفون الکلم عن مواضعه" پر بھی عمل ہے اور کتمان حق بھی ہے؟
    سوال نمبر 94: ہمارے علماء جب قرآن و حدیث سے اپنی قدامت ثابت نہیں کرسکتے تو عجیب مضحکہ خیز استدلال کرتے ہیں.استدلال اکثر منکرین حدیث سے چوری کرتے ہیں مثلآ منکرین حدیث کہتے ہیں کہ صحابه کرام ،تابعین، تبع تابعین کے دور یعنی خیرالقرون میں نہ صحاح ستہ تھی نہ مشکوۃ نہ بلوغ المرام ، نہ فتاوی ستاریہ نہ فتاوی نذیریہ ، صرف اور صرف قرآن تھا - اس لیے وہ سب اہل قرآن تھے - یعنی منکرین حدیث ، اور ہمارے علماء کہتے ہیں اس وقت نہ ہدایہ تھی نہ قدوری اس لیے سب اہلحدیث تھے - فرمایئے دونوں میں سے کس فریق کی دلیل وزنی ہے؟
    سوال نمبر 95: یہ بات کہ فلاں فرقہ کس دور کی پیداوار ہے - کوئی شرعی مسئلہ تو نہیں ایک تاریخی مسئلہ ہے اور تاریخی طور پر ہمارے علماء اس کو تسلیم بھی کرچکے ہیں - مگر بعض جاہل کہتے ہیں کہ ہمارے علماء قابل شہادت نہیں ہیں ، کیا وجہ ہے کہ امت محمدیہ کا خاص امتیاز ہی "شهداء علی الناس [البقره] اور شھداء الله علی الارض [مشكوة] ہے - مگر جو غیرمقلد بن جاتا ہے وہ مردود الشہادت قرار پاتا ہے کہ ان کی شہادت کو ہم قبول نہیں کرتے - تو وضاحت سے سمجھا دیجئے جن نکاحوں میں غیرمقلد گواہ ہیں وہ نکاح ہوگئے یا نہیں ، ووٹ بھی شہادت ہے اگر غیرمقلد مردود الشہادت ہوجاتا ہے تو اس کا ووٹ بھی کینسل ہوگا - پھر کیا کسی عدالت میں غیرمقلد کی شہادت قبول ہوگی یا نہیں؟ الیکشن کے امیدوار اور جج بننے کیلئے بھی مقبول الشہادۃ ہونا ضروری ہے - تو کیا غیرمقلدین کو ان سب مناصب سے شرعا محروم سمجھا جائے گا؟
    سوال نمبر 96: حضرات علمائے کرام! اہل قرآن کا دعوی ہے قرآن ہمارا ہے ، ہمارا دعوی ہے کہ صحاح ستہ ہماری کتابیں ہیں مگر اس دعوی پر دونوں فرقوں کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ، جب ہم اپنے علماء سے پوچھتے ہیں کہ یہ ہماری کتابیں کیسے ہیں تو ہمیں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ اصحاب صحاح ستہ آئمہ مجتہدین کی تقلید کو کفر و شرک کہتے تھے اور کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے ، اس لیے یہ ہماری کتابیں ہیں لیکن دلیل تو نہیں ایک دوسرا دعوی ہے جب ہم عرض کرتے ہیں کہ دلیل شرعی کے موافق ان کے اقرار یا معتبر تاریخی شہادتوں سے ان کا غیرمقلد ہونا ثابت کریں تو پھر موت کی سی خاموشی طاری ہوجاتی ہے آخر ہم لوگ آئمہ مجتہدین کو چھوڑ کر آپ کے علم پر لٹو ہوئے ہیں - مگر آپ ہمیں اتنا پریشان کیوں فرمارہے ہیں کہ کسی مسئلہ کا جواب حدیث صحیح صریح سے نہیں ہے؟
    سوال نمبر 97: حضرات علمائے کرام! اگر یہ دعوی صحیح ہے کہ جو شخص تقلید نہ کرے اس کی کتاب ہماری کتاب ہے، تو مرزا قادیانی، سر سید نیچری، پادری فنڈر، سوامی دیانند، پنڈت شردمانند، ماسٹر رام چندر وغیرہ بھی آئمہ اربعہ میں سے کسی امام کے مقلد نہ تھے ، کیا ان کی کتابیں بھی ہماری معتبر کتابیں ہوں گی؟ آپ لوگوں نے ہمیں کتابوں کے بارے میں بہت پریشان کر رکھا ہے؟
    سوال نمبر 98: حضرات علمائے کرام! اصحاب صحاح ستہ کا غیرمقلد ہونا نہ ان کے اقرار سے ثابت نہ شرعی شہادت سے لیکن ان پر خواہ مخواہ غاضبانہ قبضہ کیا جارہا ہے - میاں نذیر حسین صاحب ، نواب صدیق حسن خاں صاحب، مولانا وحید الزمان صاحب، مولانا عنایت الله اثری وزیر آبادی صاحب، حکیم فیض عالم صدیقی، مولانا عبدالاحد صاحب خانپوری، جناب بشیر احمد صاحب، سیکرٹری جمیعت اہل حدیث ہند، پروفیسر محمد مبارک صاحب جن كا غیرمقلد ہونا ان کے اقرار اور تاریخی شہادتوں سے ثابت ہے - ان کتابوں کا انکار کرنا ، ان کی کتابوں کو قرآن و حدیث کے خلاف کہہ کر ٹالا جاتا ہے - آخر یہ کیا ماجرا نمبر [02] سچے دوستوں کی ملامت سےحضرت مجاہد رحمة الله تعالی علیه بھی حضرت عمر رضی الله عنه کی تقلید شخصی کا حکم فرمایا کرتے تھےہے؟ ہمیں تو یہ بتایا جاتا ہے کہ حنفیوں کی کتابیں قرآن و حدیث کے خلاف ہیں، مگر حنفی اس غلط پروپیگنڈے سے ذرہ بھر متأثر نہیں ہوئے - لیکن ہمیں رات دن یہ سبق پڑھایا جاتا ہے کہ جب کوئی حنفی کسی اہلحدیث عالم کی کوئی کتاب پیش کرے تو فورآ کہہ دو ہم قرآن و حدیث کے خلاف کسی کی کتاب نہیں مانتے - یہ ہمارا صریح اقرار نہیں ہے کہ ہمارے ہر مولوی کی کتاب قرآن و حدیث کے مخالف ہے یہ بات ہماری سمجھ میں آج تک نہیں آئی کہ پہلے اپنے علماء کی کتابوں کی خوب تشہیر کی جاتی ہے ان کو قرآن و حدیث کا ترجمان کہا جاتا ہے ، لیکن جب کوئی حنفی اسے پیش کرے تو ان ساری کتابوں کو قرآن و حدیث کے خلاف کہہ دیا جاتا ہے - حضرات شروع سے ہی ہر کتاب پر یہ لیبل کیوں نہیں لگایا جاتا ہے ، کہ یہ قرآن و حدیث کے خلاف ہےکوئی اہلحدیث اس پر اعتبار نہ کرے - ہم ہزاروں روپے کی کتابیں خرید لیتے ہیں ، بعد میں پتہ چلتا ہے کہ یہ سب ناقابل اعتبار کتابیں ہے سوال نمبر 99 حضرات ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی امتی کو صدیق اکبر، فاروق اعظم، مناظر اعظم، امام اعظم، قائد اعظم کہنا کفر و شرک ہے - لیکن ہمارے علماء نے ملکہ وکٹوریہ کے جشن جوبلی پر جو پیش فرمایا اس کی پہلی سطر تھی "بحضور فیض گنجور کوئین وکٹوریہ دی گریٹ قیصرہ ہند بارک الله فی سلطنتہا"
    سوال نمبر 99: حضرات علمائے کرام! اور کہا کہ ہمیں آزادی صرف برطانیہ کی حکومت میں ہی حاصل ہے اور اس حکومت کے لیے ہمارے دلوں سے مبارک باد کی صدائیں نعرہ زن ہیں - حضرات علمائے کرام آنحضرت صلی الله علیه وسلم یہ اعلان فرمائیں ھلک قیصر فلا قیصر بعدہ"کا مگر ہم قیصرہ کے لیے مبارکباد کے نعرے اور اس کی حکومت کے لیے برکت کی دعائیں کریں ناطقہ سرگریباں ہے کہ اسے کیا کہیے پھر بھی ہم اہلحدیث رند کے رند رہے ، ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی
    سوال نمبر 100: حضرات علمائے کرام! مرزا قادیانی نے قادیاں میں بیٹھ کر حکومت برطانیہ کو خدا کی رحمت کہا ، لیکن ہمارے میاں نذیر حسین صاحب نے حرمین شریفین میں کھڑے ہو کر حکومت برطانیہ کو اپنی جماعت کے لیے رحمت کہا کتاب [الحیات بعد الممات] فرمائیے کون زیادہ ثواب کا مستحق ہے؟
    سوال نمبر 101: حضرات علمائے کرام! خدا تعالی نے ہمارا نام مسلمان رکھا جب بھی مردم شماری ہوتی ہے ، حنفی صرف اپنے آپ کو مسلمان لکھواتے ہیں - مگر شیعہ اپنے آپ کو شیعہ مسلمان ، مرزائی احمدی مسلمان اور غیرمقلد اہلحدیث مسلمان لکھواتے ہیں - آخر مسلمان کے نام کو ناکافی کیوں سمجھا جاتا ہے؟
    سوال نمبر 102: حضرات علمائے کرام! آخر میں گزارش ہے کہ ہمارے ان سوالات کا جواب قرآن و حدیث اور ایسی معتبر کتابوں سے باحوالہ دیا جائے جن کو ہماری ساری جماعت معتبر مانتی ہو ، عام طور پر ہمارے علماء بلاحوالہ جواب دیتے ہیں یا کسی غیر معتبر کتاب کا حوالہ لکھتے ہیں - اور جواب بھی تسلی بخش نہیں ہوتا - اس لیے ہمارے سینکڑوں آدمی صحیح اور تسلی بخش جواب نہ ملنے کی وجہ سے مرزائی , منکرین حدیث یا نیچری بن جاتے ہیں ، ہم آپ کو خداوند قدوس کی عظمت و جلال کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ ہمارے سوالات کا نہایت تسلی بخش جواب دے کر ہمارے ڈگمگاتے ہوئے ایمان کو سہارہ دیں ایسے پھسپھسے جوابات نہ ہوں کہ ہماری جماعت کا ہر فرد اس کتاب کو پڑھ کر کہے یہ ہماری معتبر کتاب نہیں - ہم اس کتاب کو نہیں مانتے اس لیے جواب کے لیے کوئی ایسی شخصیت قلم اٹھائے جو جماعت کی مسلمہ شخصیت ہو ، اور حوالے ایسی کتابوں کے ہوں جو جماعت کی مسلمہ ہوں، ایسا نہ ہو کہ ہمیں بھی یہ مسلک [فرقہ] چھوڑ کر کسی اور طرف جانا پڑے -
    الله تعالی آپ کے علم و عمل میں برکت دیں یہ سوالات ایک غیرمقلد کے اپنے معزز علماء کرام سے ایک مبارک لفظ "اہلحدیث" کے بارے میں وضاحت کی درخواست ہے
     
  2. ‏نومبر 28، 2013 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 28، 2013 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 28، 2013 #4
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    بھائی آپنے جن سے سوال لئے ہیں انھوں نے اتنے پھیلا دیے ہیں کہ ان میں آپس میں بھی اتفاق نہیں یعنی ایک سوال سے جو ثابت کرنا چاہ رہے ہیں دوسرے سے اسی کا رد ہو رہا ہے
    ویسے یہ سوال ایسے ہی ہیں جیسے موسی علیہ السلام کے سامنے جادوگروں نے بہت زیادہ رسیاں ڈال دی تھیں فلما القوا سحروا اعین الناس واسترھبوھم وجاءوا بسحر عظیم پس اتنے زیادہ جادو نے انکو ڈرا دیا تھا مگر اللہ انکے ساتھ تھا اللہ نے فرمایا
    ان الق عصاک فاذا ھی تلقف ما یافکون- یعنی جب عصا ڈالا تو سب شعبدہ بازیاں دھری کی دھری رہ گئیں
    اب عنقریب ان شاء اللہ ہم جواب دیں گے تو وہ ان ساری شعبدہ بازیوں کو کھا جائے گا
    اس وقت فوقع الحق و بطل ما کانوا یعملون فغلبوا ھنالک وانقلبو صاغرین حق واضح ہو جائے گا اور باطل رسوا ہو گا انشاءاللہ

    میری فرصت کا ایک دو دن انتظار کرنا ہے آپ چونکہ اہل حدیث ہیں اسلئے گزارش ہے کہ میرے مراسلے کا جواب ان(دیوبند) سے لے کر یہاں شیئر کرنا ہے تاکہ مزید اشکالات کلیئر ہوں اور آپ جیسے بھائیوں کا فائدہ ہو- اللہ حافظ
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 28، 2013 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اہل حدیث کون ہیں اوران کے امتیازات وصفات کیا ہیں ؟

    اہل حدیث کون ہیں ؟

    الحمد للہ :

    اہل حدیث کی اصطلاح ابتداہی سے اس گروہ کی پہچان رہی جو سنت نبویہ کی تعظیم اوراس کی نشراشاعت کا کام کرتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہ کے عقیدہ جیسا اعتقاد رکھتا اورکتاب وسنت کوسمجھنے کے لیے فہم صحابہ رضي اللہ تعالی عنہم پرعمل کرتے جو کہ خیرالقرون سے تعلق رکھتے ہیں ، اس سے وہ لوگ مراد نہیں جن کا عقیدہ سلف کے عقیدہ کے خلاف اوروہ صرف عقل اوررائ اوراپنے ذوق اورخوابوں پراعمال کی بنیادرکھتے اوررجوع کرتے ہيں۔

    اوریہی وہ گروہ اورفرقہ ہے جوفرقہ ناجيہ اورطائفہ منصورہ جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان :

    بہت سارے آئمہ کرام نے اس حدیث میں مذکور گروہ سے بھی اہل حدیث ہی مقصودو مراد لیا ہے ۔
    اہل حدیث کے اوصاف میں آئمہ کرام نے بہت کچھ بیان کیا ہے جس میں کچھ کا بیان کیا جاتا ہے :

    1 - امام حاکم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
    امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کی بہت اچھی تفسیر اورشرح کی ہے جس میں یہ بیان کیا گيا کہ طائفہ منصورہ جوقیامت تک قائم رہے گا اوراسے کوئ بھی ذلیل نہیں کرسکے گا ، وہ اہل حدیث ہی ہيں ۔
    تواس تاویل کا ان لوگوں سے زیادہ کون حق دار ہے جو صالیحین کے طریقے پرچلیں اورسلف کے آثارکی اتباع کریں اوربدعتیوں اورسنت کے مخالفوں کوسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دبا کررکھیں اورانہیں ختم کردیں ۔ دیکھیں کتاب : معرفۃ علوم الحديث للحاکم نیسابوری ص ( 2 - 3 ) ۔

    2 - خطیب بغدادی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
    اللہ تعالی نے انہیں ( اہل حدیث ) کوارکان شریعت بنایا اور ان کے ذریعہ سے ہرشنیع بدعت کی سرکوبی فرمائ‏ تویہ لوگ اللہ تعالی کی مخلوق میں اللہ تعالی کے امین ہیں اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی امت کے درمیان واسطہ و رابطہ اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کی حفاظت میں کوئ‏ دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے ۔

    ان کی روشنی واضح اور ان کے فضائل پھیلے ہوۓ اوران کے اوصاف روز روشن کی طرح عیاں ہيں ، ان کا مسلک ومذھب واضح و ظاہر اور ان کے دلائل قاطع ہیں اہل حدیث کے علاوہ ہر ایک گروہ اپنی خواہشات کی پیچھے چلتا اور اپنی راۓ ہی بہترقرار دیتا ہے جس پراس کا انحصار ہوتا ہے ۔
    لیکن اہل حدیث یہ کام نہیں کرتے اس لیے کہ کتاب اللہ ان کا اسلحہ اورسنت نبویہ ان کی دلیل و حجت ہے اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا گروہ ہیں اوران کی طرف ہی ان کی نسبت ہے ۔

    وہ اھواء وخواہشا ت پرانحصار نہیں کرتے اورنہ ہی آراء کی طرف ان کا التفات ہے جوبھی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات بیان کی ان سے وہ قبول کی جاتی ہیں ، وہ حدیث کے امین اور اس پرعدل کرنے والے ہیں ۔

    اہل حدیث دین کے محافظ اوراسے کے دربان ہيں ، علم کے خزانے اورحامل ہیں ،جب کسی حدیث میں اختلاف پیدا ہوجاۓ تواہل حدیث کی طرف ہی رجوع ہوتا ہے اورجو وہ اس پرحکم لگا دیں وہ قبول ہوتااورقابل سماعت ہوتا ہے ۔

    ان میں فقیہ عالم بھی اوراپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت کے امام بھی ، اورزھد میں یدطولی رکھنے والے بھی ، اورخصوصی فضیلت رکھنے والے بھی ، اورمتقن قاری بھی بہت اچھے خطیب بھی ، اوروہ جمہورعظیم بھی ہیں ان کا راستہ صراط مستقیم ہے ، اورہربدعتی ان کے اعتقاد سے مخالفت کرتا ہے اوران کے مذھب کے بغیر کامیابی اورسراٹھانا ممکن نہیں ۔

    جس نے ان کے خلاف سازش کی اللہ تعالی نے اسے نیست نابود کردیا ، جس نے ان سے دشمنی کی اللہ تعالی نے اسے ذلیل ورسوا کردیا ، جوانہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہيں دے سکتا ، جوانہیں چھوڑ کرعلیحدہ ہوا کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا ۔

    اپنی دین کی احتیاط اورحفاظت کرنے والا ان کی راہنمائ کا فقیر ومحتاج ہے ، اوران کی طرف بری نظر سے دیکھنے والے کی آنکھیں تھک کرختم ہوجائيں گی ، اوراللہ تعالی ان کی مدد و نصرت کرنے پرقادر ہے ۔
    دیکھیں کتاب : شرف اصحاب الحدیث ص ( 15 ) ۔

    3 – شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
    تواس سے یہ ظاہرہوا کہ فرقہ ناجیہ کے حقدارصرف اورصرف اہل حدیث و سنت ہی ہیں ، جن کے متبعین صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں اورکسی اورکے لیے تعصب نہیں کرتے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال واحوال کوبھی اہل حدیث ہی سب سے زيادہ جانتے اوراس کا علم رکھتے ہيں ، اوراحادیث صحیحہ اورضعیفہ کے درمیان بھی سب سے زيادو وہی تیمیز کرتے ہيں ، ان کے آئمہ میں فقہاء بھی ہیں تواحادیث کے معانی کی معرفت رکھنے والے بھی اوران احادیث کی تصدیق ،اورعمل کے ساتھ اتباع و پیروی کرنے والے بھی ، وہ محبت ان سے کرتے ہیں جواحادیث سے محبت کرتا ہے اورجواحادیث سے دشمنی کرے وہ اس کے دشمن ہيں ۔

    وہ کسی قول کو نہ تومنسوب ہی کرتے اورنہ ہی اس وقت تک اسے اصول دین بناتے ہیں جب تک کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو ، بلکہ وہ اپنے اعتقاد اور اعتماد کا اصل اسے ہی قرار دیتے ہیں جوکتاب وسنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم لاۓ ۔

    اور جن مسا‏ئل میں لوگوں نے اختلاف کیا مثلا اسماءو صفات ، قدر ، وعید ، امربالمعروف والنھی عن المنکر ،وغیرہ کواللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹاتے ہیں ، اورمجمل الفاظ جن میں لوگوں کا اختلاف ہے کی تفسیر کرتے ہیں ، جس کا معنی قران وسنت کےموافق ہو اسے ثابت کرتے اورجوکتاب وسنت کے مخالف ہواسے باطل قرار دیتے ہیں ، اورنہ ہی وہ ظن خواہشات کی پیروی کرتے ہيں ، اس لیے کہ ظن کی اتباع جھالت اوراللہ کی ھدایت کے بغیر خواہشات کی پیروی ظلم ہے ۔ مجموع الفتاوی ( 3/347 ) ۔

    اورجس بات کا ذکر ضروری ہے وہ یہ کہ ہر وہ شخص اہل حدیث ہے جونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پرعمل پیرا ہوتا اورحدیث کوہرقسم کے لوگوں پرمقدم رکھتا ہے چاہے وہ کتنا ہی بڑا عالم و حافظ اورفقیہ یا عام مسلمان ہی کیوں نہ ہووہ حدیث کومقدم رکھتا ہوتو اسے اہل حدیث کہا جاۓ گا ۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
    ہم اہل حدیث سے صرف حدیث لکھنے اور سننے اور روایت کرنے والا ہی مراد نہیں لیتے ، بلکہ ہر وہ شخص جس نے حدیث کی حفاظت کی اوراس پرعمل کیا اوراس کی ظاہری وباطنی معرفت حاصل کی ، اور اسی طرح اس کی ظاہری اورباطنی طور پر اتباع وپیروی کی تو وہ اہل حديث کہلا نے کا زيادہ حقدار ہے ۔اوراسی طرح قرآن بھی عمل کرنے والا ہی ہے ۔
    اوران کی سب سے کم خصلت یہ ہے کہ وہ قرآن مجید اورحدیث نبویہ سے محبت کرتے اوراس کی اور اس کے معانی کی تلاش میں رہتے اوراس کے موجبات پرعمل کرتے ہیں ۔ مجموع الفتاوی ( 4/ 95 ) ۔

    اوراس مسئلہ میں آئمہ کرام کی بحث و کلام توبہت زيادہ ہے ، آپ مزید تفصیل کے لیے اوپربیان کیے گۓ مراجع سے استفادہ کرسکتے ہیں ، اوراسی طرح مجموع الفتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی چوتھی جلد بھی فائد مند ہے ،

    واللہ اعلم .
    الشیخ محمد صالح المنجد
     
  6. ‏نومبر 28، 2013 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    آپ کے تمام سوالوں کا جواب اس شعر میں ہے - جو جماعت اس شعر پر پوری اترتی ہے وہ اھل حدیث ہیں -

    1482765_583369241718493_1000117359_n.jpg
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 28، 2013 #7
    نوائے دل

    نوائے دل رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 21، 2013
    پیغامات:
    105
    موصول شکریہ جات:
    35
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    جتنا وقت آپ نے اس فضول اور مبہم سی بات پہ ضائع کیا ہے کاش آپ یہ وقت کسی تعمیری کام میں صرف کرتے۔
    رہی بات دیوبندیا اہلحدیث ۔دونوں کا آغاز انگریز دور میں برصغیرسے ہوا ہے۔دونوں ضدی اور ایک دوسرے کی بات کو خدا واسطے کا بیر سمجھتے ہیں ۔
    دونوں عملی طور پر صفر ہیں۔اگر کسی بھائی کو غصہ یا برا لگے تو وہ وضو کر کے کاپی پنسل ہاتھ میں پکڑے اور کسی بھی بازار میں چلا جائے وہاں بیس دکاندار اہلحدیث اور بیس دکاندار مقلد دیوبندی چن لیں انکے کاروبار کے انداز ایک دوسرے کے ساتھ معاملات اور ان کے چوبیس گھنٹے کے معمولات لکھتا جائے اور پھر شماریات کا فارمولا لگا کر خود ہی فیصلہ کر لے کہ کس مسلک کے لوگ بنی ﷺ کی سنت کے مطابق کاروبار چلا رہے ہیں۔اگر اہلحدیث مسلک کے لوگ اچھے ہیں تو اہلحدیث مسلک اچھا ہے اگر دیوبندی مسلک کے لوگوں کا چلن ایمانداری ،وفا شعاری، اصول تجارت ٹھیک ہیں تو وہ مسلک ٹھیک ہے اگر اس حمام میں سب ننگے نظر آئیں تو آئندہ اس طرح کی باتیں کر کے لوگوں کا قیمتی وقت ضائع نہ کیا کریں۔اور جن آقائوں کی خوشنودی کے لئے آپ لوگ مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں بڑا ہو گا وہ آپ کو بڑا کریں گے چندہ نہیں دیں گے مگر اس طرح آپ بھوکے نہیں مر جائیں گے ۔اللہ بہت بڑا ہے اور رزاق ہے اس بات کو دل میں رکھیں۔
    اگر کسی کو برا لگے تو معذرت مگر آپ بازار میں یہ جائزہ ضرور لیں اور ایمانداری اور دیانت داری سے اس کے نتائج اس ویب پہ لوڈ کریں۔

    آئیندہ کسی مسلمان کو برا کہنے سے پہلے یہ بات ذہن میں ضرور رکھ لیا کریں ۔بہت آپ لوگوں نے مساجد اور مدارس کا غلط استعمال کر لیا بس اب خدا کے لئے رک جائیں وگرنہ یہ نہ ہو کہ آپ کو اٹھا کر کوئی مسجد سے باہر پھینک دے
     
  8. ‏نومبر 28، 2013 #8
    نوائے دل

    نوائے دل رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 21، 2013
    پیغامات:
    105
    موصول شکریہ جات:
    35
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    غورکیجئے گا!

    تو اہلحدیثوں کی طرف سے ۲۱۰سوالات ہیں اور بریلوی حضرات کی طرف سے ۲۵ سوالات ہیں ۔ان سوالوں سے کیا ملتا ہے اور کیا سیکھا جاتا ہے؟
    اما بعد فقیر حقیر عبدالمصطفیٰ نصیر الدین قادری برکاتی کہتا ہے کہ لفظ بدعت جو کتابوں میں لکھا ہوتا ہے ایسا واضح ہے کہ جس نے فقہائے کرام کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہوگا وہ ضرور اس لفظ کے صحیح مفہوم سے واقف ہوگا لیکن اس پرفتن زمانہ میں دو لفظ (۱) بدعت (۲) شرک ایسے ہر کسی کی زبان پر جاری ہیں کہ اس کی مثال پہلے نہیں دیکھی۔ ان وہابیوں، دیوبندیوں کو اس کا صحیح مطلب معلوم نہیں یا پھر یہ جان بوجھ کر بدعت اور شرک کا غلط معنی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو مطلب ان دو لفظوں (بدعت اور شرک) کا اس زمانے میں وہابیوں، دیوبندیوں نے لیا ہے وہ بالکل اس مطلب کے خلاف ہے جو فقہائے کرام وغیرہم نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ آپ دیکھیں کہ اسلام کو تیرہ سو چون (1354) سال کا عرصہ ہوا ہے، تمام صحابہ کرام رضوان اﷲ علہم اجمعین اور ان کے بعد غوث قطب ابدال ہمیشہ یہ حضرات یہی فرماتے رہے کہ اﷲ عزوجل کے ذکر کے بعد حضور اکرمﷺ کے ذکر کا مرتبہ ہے اور رسول اﷲ کی تعظیم اور آپ کی محبت تمام امت پر واجب اور مدارِ ایمان ہے لیکن تیرہ سو چون (1354) سال کے بعد دیوبندی وہابی فرقوں نے بدعت اور شرک کا بہت عجیب اور نرالا مطلب نکالا ہے۔ یہ مطلب نہ ان کانوں نے کبھی سنا تھا اور نہ ان آنکھوں نے دیکھا تھا۔ آپ دیکھیں کہ حضور اکرمﷺ کے ذکر کا مرتبہ اﷲ کے ذکر کے بعد ہے لیکن دیوبندی وہابی اسے بدعت کہتے ہیں۔ وہ بھی محض دو وجہ سے، ایک وجہ تو یہ ہے کہ جب کسی سنی بھائی نے اپنے ہاں میلاد کروایا (جس کو دوسرے معنوں میں ذکر رسولﷺ بھی کہتے ہیں) اور میلاد میں روشنی کی اس روشنی کی وجہ سے دیوبندیوں، وہابیوں نے اس پر فضول خرچی ہونے کا حکم صادر کردیا اور اگر ربیع الاول کے مہینے میں کیا تو اس کو تخصیص یعنی اس مہینے میں خاص کرنے کی وجہ سے بدعت کہا۔ یہ دو وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ذکر رسول ک حرام قرار دیا گیا۔ رہا مسئلہ قیام میلاد کا جو کہ اصل میں تعظیم رسول ہے، اس کو شرک قرار دے دیا لیکن اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب مکرمﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ایک ہستی قبلہ عالم اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اﷲ عنہ کو مامور فرمایا۔ متاخرین میں ایسی ہستی دیکھنے میں نہیں آئی۔ آپ چونکہ عاشق خدا و عزوجل مصطفیﷺ تھے، دیوبندیوں، وہابیوں کی گستاخانہ تحریروں کو دیکھ کر چپ نہ رہ سکے۔ اس لئے آپ ہر باطل مذہب کا رد کیا لیکن دیوبندیوں کا وہابیوں کا رد ایسا لاجواب کیا کہ اعلیٰ حضرت کی زندگی میں کسی کو اس کا جواب لکھنے کی جرات نہ ہوئی۔ آپ کے وصال کے بعد دیوبندیوں، وہابیوں نے سوچا کہ اب کوئی جواب دینے والا نہیں اور اہل سنت و جماعت پر اعتراضات شروع کردیئے۔ جب حد سے زیادہ اعتراضات ہوگئے تو اس فقیر نے اس بات کا ارادہ کیا کہ جو شخص یا فرقہ حضور پرنور فخر موجودات سلطان دوسرا سرور کائناتﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کرے گا جب تک میری زندگی باقی ہے اس کے رد میں انشاء اﷲ میرا قلم چلتا رہے گا اور ہر وہ مسئلہ جس میں ہمارے اور دیوبندیوں، وہابیوں کے درمیان اختلاف ہے، اس کو نہایت وضاحت سے لکھ کر مسلمانوں کے سامنے پیش کروں گا جس کو دنیا دیکھے گی کہ کون حق پر ہے۔ انشاء اﷲ الغرض چند سوالات ہر اس شخص کو سامنے یہ فقیر پیش کرتا ہوں جوکہ دیوبندی وہابی خیالات رکھتا ہو۔ امید ہے تسلی بخش جواب دیا جائے گا۔
    سوال ۱: بدعت کس کوکہتے ہیں؟
    سوال۲: کیا بدعت کی ایک ہی قسم ہے یا فقہا کے نزدیک اس کی چند قسمیں ہیں؟
    سوال ۳: کیا بدعت سیۂ کا کرنا ہی حرام ہے یا ہر بدعت کا یہی حکم ہے؟
    سوال ۴: کیا ہر وہ کام جس پر بدعت کا اطلاق ہوگا وہ حرام ہوگا یا نہیں؟
    سوال ۵: حدیث مبارکہ میں من سن سنۃ حسنۃ الخ (مشکوٰۃ شریف) کا کیا مطلب ہے؟
    سوال ۶: حدیث مبارکہ کل محدث بدعتہ وکل بدعتہ ضلالۃ اور سوال نمبر ۵ کی ذکر کردہ حدیث میں کیا فرق ہے؟ اس احداث (نئے کام) سے کون سا احداث مراد ہے؟
    ہر احداث (نیا کام) مراد ہے یا کوئی خاص احداث (نیا کام)؟
    سوال ۷: کیا ہر وہ کام جو حضور اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں نہ ہو آپ کے زمانہ اقدس کے بعد نکالا جائے وہ کل محدث کے تحت میں داخل ہوگا یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟
    سوال ۸: کیا حضور اکرمﷺ کے زمانہ مبارکہ میں ختم حدیث شریف کے بعد طلباء کو پگڑیاں پہنائی جاتی تھیں جیسے کہ آپ مدارس میں طلباء کو ختم حدیث شریف کے بعدپگڑیاں بندھوائیں جاتی ہیں یا نہیں؟
    سوال ۹: کیا زمانہ مبارکہ حضور اکرمﷺ میں ختم حدیث کے بعد جبہ مبارک بھی دیا جاتا تھا؟ جیسا کہ آپ کے مدارس میں رواج ہے؟
    سوال ۱۰: کیا زمانہ اقدس میں حدیث شریف کے ختم ہونے پر سالانہ امتحان لیا جاتا تھا؟ جیسا کہ آپ کے مدارس میں نہایت اہتمام سے لیا جاتا ہے؟
    سوال ۱۱: اپنے مدرسہ میں ۷ دن پڑھا کہ آٹھویں دن جمعہ کی چھٹی دینا کیا یہ طریقہ زمانہ اقدس حضور اکرمﷺ میں بھی تھا؟
    سوال ۱۲: ختم حدیث شریف کے بعد آپ کے مدارس میں جو اسناد تقسیم کی جاتی ہیں، کیا یہ طریقہ حضور اکرمﷺ کے زمانہ مبارک میں تھا یا نہیں؟
    سوال ۱۳: ہر سال شعبان کے مہینہ میں جلسہ کرنا اور علماء کو جمع کرنا، یہ طریقہ جلسے وغیرہ کا خاص سرکار مدینہ درود شریف کے زمانہ مبارک میں تھا یا نہیں؟
    سوال ۱۴: نکاح کے لئے خاص دن مقرر کرنا، تاریخ مقرر کرنا، اور خطوط بھیج کر لوگوں کو بلانا، کیا یہ طریقہ زمانہ نبوی درود شریف میں تھا یا نہیں؟ اور ایسی سنت جس میں بدعت شامل ہوجائے، اس کا کیا حکم ہے؟
    سوال ۱۵: علماء کے آنے پر بڑے بڑے اخبارات اور اشتہارات شائع کرنا اور ان میں ’’حد سے زیادہ بڑھا کر‘‘ علماء کے القاب لکھنا کیا یہ باتیں ان پابندیوں اور اہتمام سے زمانہ نبوی میں تھیں یا نہیں؟ اگر تھیں تو ثبوت دیجئے کیونکہ آپ صاحبان کا دعویٰ ہے کہ ہم وہی کام کرتے ہیں جو زمانہ مبارک میں ہوا ہو اور ہم بغیر سنت کے قدم نہیں اٹھاتے۔ اگر یہ باتیں زمانہ اقدس میں نہ تھیں اور بعد میں نکالی گئی ہیں تو فرمایئے کہ یہ طریقے آپ کے استدلال کل محدث بدعت کے تحت میں داخل ہوئے یا نہیں؟ اس دعوے سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ کے یہ جتنے کام جو اوپر بیان ہوچکے ہیں کل محدث بدعۃ کے تحت میں داخل ہیں۔ اس کے باوجود ان کو کرنا جن کی اصل کسی زمانہ میں بھی موجود نہیں تھی، بدعت ضلالۃ ہے یا نہیں اور اگر ان کاموں کا حدیث شریف میں الستثغا ہوتو وہ فرمادیجئے اور اگر بعض داخل اور بعض خارج ہیں تو پھر اہل سنت و جماعت کے ہر کام پر آپ کااس حدیث شریف کو پیش کردینا درست ہے یا نہیں؟
    سوال ۱۶: آپ (دیوبندی وہابی) کہتے ہیں کہ جو کام زمانہ نبوی میں جیسے تھا، ویسے ہی کرنا چاہے اس کو نئے اور مخصوص طریقے سے کرنا ناجائز ہے چنانچہ میلاد شریف اس کے باوجود کہ اس کی اصل زمانہ اقدس میں موجود تھی مگر مخصوص نہ تھی آپ نے اس کے باوجود کہ اﷲ کے ذکر کے بعد ذکر رسول کا درج ہہے بہت کم امور کی وجہ سے اس کو ناجائز کردیا جن امور کی وجہ سے اسے ناجائز کیا وہ یہ ہیں (۱) وقت مخصوص کرنا (۲) فرش وغیرہ بچھانا (۳) ہار اور پھول لاکر مجلس میں رکھنا (۴) محفل میلاد میں روشنی کرنا (۵) لڑکوں کا نعتیں پڑھنا (۶) یہ وہ کام ہیں جن کی وجہ سے محفل میلاد کو حرام کہا گیا حتی کہ یہاں تک بے ادبی کی کہ اس کو کنھیا (ہندو) کے جنم دن منانے کی طرح کہا حالانکہ (دیوبندی، وہابی) اس سے زیادہ کاموں کو مخصوص کرکے انجام دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ دیکھیں کہ علم زمانہ نبویﷺ سید پڑھنے یا پڑھانے کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں تھا لیکن دیوبندیوں نے اس علم کو اتنی قیدیوں میں مقید کیا کہ چار دیواریاں پکی بنوانا جس میں لاکھوں روپیہ خرچ ہوتا ہے جو بالکل سراسر فضول خرچی ہے اس کے اندر چند کمرے بنوانا اس میں قالین وغیرہ بچھانا پھر چند مولویوں کو چندہ جمع کرکے اس میں پڑھانے کے لئے مقرر کرنا پھر اس کو کسی زمانہ کے مخصوص کرنا صبح مثلا ۱۰ بجے سے لے کر ۲ بجے سے شام تک پڑھانا۔ غرض یہ ساری باتیں آپ نے اس علم کے ساتھ مخصوص کی ہیں۔ یہ زمانہ حضور اقدس میں انہیں پابندیوں اور اہتمام کے ساتھ تھیں یا نہیں؟ لہذا یہ پابندیاں اور اہتمام آپ کے نزدیک بدعت ہوئیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ پابندیان آپ کے قاعدے کے مطابق سخت بدعت ہوئیں اور بدعت کرنا آپ کے نزدیک حرام ہے یا نہیں؟ تو فرمایئے کہ آپ کے مدارس بدعت ہوئے یا نہیں؟ اگر یہ پابندیاں اور اہتمام آپ کے مدارس میں جائز ہیں تو میلاد شریف ان امور کی وجہ سے کیوں ناجائز اور حرام ہے؟ ان دونوں میں فرق اور وجہ ترجیح تفصیل سے بیان کریں۔
    سوال ۱۷: جب کوئی آپ پر اعتراض کرتا ہے تو اس کے جواب میں آپ کا آخری جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم ان باتوں کو عادتاً کرتے ہیں اور تم میلاد شریف عبادتاً کرتے ہو لہذا ہمارے کام جائز اور تمہارے ناجائز ہیں لہذا آپ کے اس جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب محض مسلمانوں کو دکھانے کے لئے گڑھا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ بات ثابت نہ ہو کہ دیوبندی وہابی لاجواب ہوگئے ہیں۔ تمہارے اس جواب میں چند اعتراضات لازم آتے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ اس جواب سے معلوم ہوتا ہ ے کہ آپ کے نزدیک جو کام عادتاً کیا جائے اگرچہ وہ شریعت میں منع ہو تب بھی اس کا کرنا جائز ہے لہذا اگر کوئی شخص زنار (یعنی وہ دھاگا جو ہندو گلے اور بغل کے درمیان ڈالے رہتے ہیں) پہنے اور آپ سے فتویٰ طلب کرے کہ میں ان چیزوں کو عادتاً کرتا ہوں میرے لئے جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ اس کو جائز کہیں گے؟ اگرآپ کے نزدیک یہ کام بصورت فتویٰ جائز ہوسکتے ہیں، تب تو پھر ایک اور نئی شریعت بنانی پڑے گی اور پہلے علماء کے تمام فتاویٰ جات آپ کو دریا میں پھینکنے پڑیں گے چنانچہ آپ نے ایک نئی شریعت اور نیا دین تعظیم رسول اکرمﷺ کے خلاف کھینچ تان کر نکال ہی لیا کیونکہ جن کی تعظیم تمام انبیاء اور رسل اور ملائکہ حتی کہ تمام کائنات نے کی تھی۔ ان کی تعظیم تو آپ کے نزدیک فضول کام ہے اور جو کام شریعت میں منع ہو پھر اس کو عادتاً کرنا کیسے جائز ہے؟ اس واسطے کہ جیسے پکڑ عبادت میں ہے، ویسے ہی عادت میں بھی ہے دوسری بات یہ کہ حدیث کل محدث بدعۃ (ہر نیا کام بدعت ہے) کا مطلب عام ہے اس میں تمام نئے کام (خواہ وہ عادتاً ہوں یا عبادتاً) شامل ہیں۔ حدیث پاک جوکہ واضح ہو اس میں اپنی رائے سے پابندی لگانا باطل ہے۔ تیسری بات یہ کہ اگر آپ کہیں کہ اس کے برعکس عبادت اور عادت میں یہ فرق ہے کہ عبادت میں ثواب ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس عادت میں ثواب نہیں ہوتا تو مجھے بتایئے کہ اگر کوئی آدمی اپنے بچوں کے کانوں میں کوئی زیور پہنا دے اور کہے کہ میں عادتاً اس کو پہناتا ہوں تو کیا اس کا یہ کام آپ کے نزدیک جائز ہوگا؟ چوتھی بات یہ کہ اگر آپ کی مراد عادت اور عبادت سے یہ ہے کہ ان کاموں کو ہم رسماً کرتے ہیں تو جواب دیجئے کہ آپ کے بیان سے کیا رسموں کا کرنایا ان کی پیروی کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ حالانکہ آپ کی کتابوں میں رسموں کاکرنا اوران کی پیروی کرنا بالکل ناجائز اور حرام ہے پھر یہاں کیوں ان رسموں کا کرنا یا ان کی پیروی جائز ہوئی؟ اگر آپ اس کا جواب یوں دیں کہ ہمارے یہاں رسوم جاہلیت کا کرنا اور ان کی پیروی کرنا منع ہے، بزرگوں کی رسم کی پیروی کرنا ہمارے یہاں منع نہیں، ان کاموں میں ہم رسم بزرگان کی پیروی کرتے ہیں، حالانکہ کسی کام میں پابندی اور اہتمام بدعت ہے۔ اس کے باوجود رسم صالحین پابندیوں اور اہتمام کے باوجود درست ہے۔ تو بتایئے کہ میلاد شریف (جوکہ اصل میں ذکر رسولﷺ ہے اس سے زائد کون سا کارخیر ہے اور کون سی رسم صالحین ہوسکتی ہے جس پر تمام حرمین شریفین کے علماء اور تمام امت متفق ہے) کو کیوں حرام کردیا؟ آپکے نزدیک تلک ہندو کی برسی میں شامل ہونا(جوکہ اﷲ و رسول اور دین اسلام کا بدترین دشمن تھا) اور ہندوئوں کے لیڈروں کی دہلی کی جامع مسجد کے ممبروں پر چڑھ کر تعریفیں کرنا جائز ہے اور میلاد رسول آپ کے نزدیک ایک فضول کام ہے (نعوذ باﷲ) یہ فقیر کہتا ہے کہ جومولوی صاحبان دین فروش ہیں ایسے علماء کا مسلمانوں کو خطاب سننا اور ان کی پیروی کرنی حرام ہے، ایسے ہی ہر اس عالم کا ذکر ہے جو کسی کافر سے ملے۔
    سوال ۱۸: آپ (دیوبندی و وہابی) کہتے ہیں کہ یہ کام عادتاً اور عبادتاً ناجائز ہیں۔ کسی خاص مہینے یا تاریخوں میں کوئی کام کرنا بدعت ہے چنانچہ میلادشریف کو آپ نے صرف ربیع الاول کے مہینے میں کرنے کی وجہ سے ناجائز قرار دیا اور جس شخص نے اس میں اپنی ذاتی کمائی کے ثند روپے خرچ کئے، اس پر آپ نے فضول خرچی کا حکم دے دیا لہذا یہ دوسری وجہ ہے اس کے حرام ہونے کی، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دیوبندی اس سے زیادہ پابندی اور اہتمام سے فضول خرچی کرتے ہیں مگر وہ تمام کام یا تو مستحب تصور کرتے ہیں یا فعل مسنون جن کو پابندی سے کرتے کئی سال گزر گئے۔ یہ فقیر ان کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ شعبان کے مہینے میں جلسہ کرنا اور طلباء کے لئے چندہ مانگا جاتا ہے اس چندے سے بڑے بڑے اشتہارات چھپوانا جس میں ہزاروں روپیہ فضول خرچ ہوتا ہے۔ ان پیسوں سے جلسہ میں کرایہ کی کرسیاں لاکر ڈالنا، بڑے بڑے شامیانے لگوانا لوگوں کو دکھانے کے لئے، اعلیٰ فرض بچھانا، بجلی کی روشنی کرانا اب آپ ہی بتایئے کہ یہ پابندیاں اور اہتمام ہیں یا نہیں؟ اور یہ سب فضول خرچی ہیں یا نہیں؟ اور یہ بدعات ہیں یا نہیں؟ اب ملاحظہ کریں کہ وہ چندہ جو طلباء کا حق ہے اس سے علماء کو سفر کے لئے پیسے دینا اور علماء کا س خرچ کو لیناجائز ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ مانگا کسی اور کام کے لئے جائے اور خرچ کہیں کیا جائے، کیا یہ خدا کی مخلوق کے سامنے جھوٹ بول کر لینا ہے یا نہیں؟ بتایئے کہ دیوبندیوں، وہابیوں کے جلسوں میں ایسے ناجائز کام جمع ہیں مگر ہمیشہ ان کو نہایت اہتمام سے کیا جاتا ہے۔ ان کے جلسوں میں سب پابندیاں اور اہتمام مستحب ہیں لیکن میلاد شریف میں ایک پابندی بھی آپ کے نزدیک اس قدر حرام ہے کہ اس کی مثال کم ہی ملتی ہے اپنے جلسوں اور محافل میلاد میں وجہ فرق بتایئے۔
    سوال ۱۹: حدیث شریف پڑھا ذکر رسول ہے یا نہیں؟ اگر آپ کے نزدیک یہ بھی ذکر رسول ہے تو بتایئے کہ اس کے لئے اہتمام کرنا فرش بچھانا، جگہ صاف کرانا، خاص کمرے مخصوص کرنا (جن کو دارالحدیث کہتے ہیں) حرام ہے یا نہیں؟ اگر یہ اہتمامات اس اس ذکر رسول میں کرنا حرام نہیں تو فرمایئے کہ میلاد شریف آپ کے نزدیک اہتمام سے کرنا کیوں حرام ہوا، وجہ فرق بتایئے۔
    سوال ۲۰: حدیث شریف پڑھانا ذکر رسولﷺ ہے یا نہیں۔ اس کو آپ صاحبان عبادتاً کرتے ہیں یا عادتاً؟ اگر آپ نے اس کو عادتاً کیا اور اس سے آپ کو ثواب مطلوب نہیں تھا۔ تب بھی بتایئے اور اگر آپ نے اس فعل کو ثواب کی نیت سے کیا تو معلوم ہوا کہ آپ بھی ذکر رسولﷺ بغرض ثواب کرتے ہیں۔ تب تو یہ عبادت بھی شامل ہوا، پوچھنا یہ ہے کہ اگر کسی نے میلاد شریف بغرض ثواب کیا تووہ کیوں عبادت میں شامل ہوکر حرام ہوگیا اور حدیث شریف بھی ذکر رسولﷺ ہے۔ یہ بطور عبادت کیوں جائز کرلیا گیا ہے؟
    سوال ۲۱: آپ (دیوبندی، وہابی) صاحبان سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مدارس میں خرچ کیوں کرتے ہو۔ یہ فضول خرچی نہیں ہے؟ تو آپ اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ دین کا کام ہے۔ اس لئے نیک کام کرنے میں خرچ کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ذکر رسولﷺ آپ کے نزدیک دنیا کا کام ہے اور فضول کام ہے؟ کہ جس میں ایک پیسہ بھی خرچ کرنا فضول خرچی ہے، اس کام کو کیا الفاظ دیئے جائیں۔
    سوال ۲۲: سوئم کہلواتے اور چالیسویں کے کھانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
    کیا آپ جیسے علماء کوجو ’’صاجی بدعت‘‘ اس کا کھانا جائز ہے؟ اور غرباء کو اس کا کھانا حرما ہے؟ یہ سوال یوں پیدا ہوا کہ اس فقیر نے بچشم خود سوئم اور چالیسویں کا کھانا (ان کو) کھاتے دیکھا ہے جس کا کھانا اغنیاء کو بالکل حرام ہے، تفصیلی جواب دیں۔
    سوال ۲۳: کیا تعویذ گنڈوں کے بہانے سے لوگوں سے روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
    سوال ۲۴: جب انبیاء علیہم السلام کو باری تعالیٰ مخلوقات پر بھیجتا ہے تو اس وقت حق تعالیٰ کی طرف سے انبیاء علیہم السلام کو کوئی صلاحیت اور قابلیت ایسی عطا فرمائی جاتی ہے جس سے وہ علوم اور حقائق بغیر فرشتوں کے دریافت کرسکتے ہیں یا نہیں؟ یا انبیاء علیہم السلام فرشتوں کے رحم پر چھوڑے جاتے ہیں کہ اگر فرشتے ان کے کان میں کچھ کہہ دیں تب تو ان کو خبر ہوجاتی ہے اور بغیر فرشتوں کے بالکل بے خبر اور ہر علم سے مبرا ہوتے ہیں جیسا کہ آپ کے عقائد سے بالکل واضح ہے۔
    سوال ۲۵: خاص کر شعبان کے مہینے میں جلسہ معہ اہتمام اور پگڑیاں وغیرہ بندھوانا یہ تمام افعلا آپ صاحبان کے فعل مباح ہیں یا مستحب یا واجب؟ اگر مستحب یا واجب ہیں تو دلیل دیجئے اور اگر فعل مباح ہیں تو ان افعال کوہر سال الترام سے کرنا سنت یا واجب ہونے کا شبہ ڈالتا ہے یا نہیں؟ لہذا ان کا چھوڑنا لازم ہے یا نہیں۔ امید ہے کہ ۲۵ سوالوں کا جواب تفصیل سے تحریر فرمائیں گے۔
     
  9. ‏نومبر 28، 2013 #9
    نوائے دل

    نوائے دل رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 21، 2013
    پیغامات:
    105
    موصول شکریہ جات:
    35
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    غورکیجئے گا!

    تو اہلحدیثوں کی طرف سے ۲۱۰سوالات ہیں اور بریلوی حضرات کی طرف سے ۲۵ سوالات ہیں ۔ان سوالوں سے کیا ملتا ہے اور کیا سیکھا جاتا ہے؟
    اما بعد فقیر حقیر عبدالمصطفیٰ نصیر الدین قادری برکاتی کہتا ہے کہ لفظ بدعت جو کتابوں میں لکھا ہوتا ہے ایسا واضح ہے کہ جس نے فقہائے کرام کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہوگا وہ ضرور اس لفظ کے صحیح مفہوم سے واقف ہوگا لیکن اس پرفتن زمانہ میں دو لفظ (۱) بدعت (۲) شرک ایسے ہر کسی کی زبان پر جاری ہیں کہ اس کی مثال پہلے نہیں دیکھی۔ ان وہابیوں، دیوبندیوں کو اس کا صحیح مطلب معلوم نہیں یا پھر یہ جان بوجھ کر بدعت اور شرک کا غلط معنی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو مطلب ان دو لفظوں (بدعت اور شرک) کا اس زمانے میں وہابیوں، دیوبندیوں نے لیا ہے وہ بالکل اس مطلب کے خلاف ہے جو فقہائے کرام وغیرہم نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ آپ دیکھیں کہ اسلام کو تیرہ سو چون (1354) سال کا عرصہ ہوا ہے، تمام صحابہ کرام رضوان اﷲ علہم اجمعین اور ان کے بعد غوث قطب ابدال ہمیشہ یہ حضرات یہی فرماتے رہے کہ اﷲ عزوجل کے ذکر کے بعد حضور اکرمﷺ کے ذکر کا مرتبہ ہے اور رسول اﷲ کی تعظیم اور آپ کی محبت تمام امت پر واجب اور مدارِ ایمان ہے لیکن تیرہ سو چون (1354) سال کے بعد دیوبندی وہابی فرقوں نے بدعت اور شرک کا بہت عجیب اور نرالا مطلب نکالا ہے۔ یہ مطلب نہ ان کانوں نے کبھی سنا تھا اور نہ ان آنکھوں نے دیکھا تھا۔ آپ دیکھیں کہ حضور اکرمﷺ کے ذکر کا مرتبہ اﷲ کے ذکر کے بعد ہے لیکن دیوبندی وہابی اسے بدعت کہتے ہیں۔ وہ بھی محض دو وجہ سے، ایک وجہ تو یہ ہے کہ جب کسی سنی بھائی نے اپنے ہاں میلاد کروایا (جس کو دوسرے معنوں میں ذکر رسولﷺ بھی کہتے ہیں) اور میلاد میں روشنی کی اس روشنی کی وجہ سے دیوبندیوں، وہابیوں نے اس پر فضول خرچی ہونے کا حکم صادر کردیا اور اگر ربیع الاول کے مہینے میں کیا تو اس کو تخصیص یعنی اس مہینے میں خاص کرنے کی وجہ سے بدعت کہا۔ یہ دو وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ذکر رسول ک حرام قرار دیا گیا۔ رہا مسئلہ قیام میلاد کا جو کہ اصل میں تعظیم رسول ہے، اس کو شرک قرار دے دیا لیکن اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب مکرمﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ایک ہستی قبلہ عالم اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اﷲ عنہ کو مامور فرمایا۔ متاخرین میں ایسی ہستی دیکھنے میں نہیں آئی۔ آپ چونکہ عاشق خدا و عزوجل مصطفیﷺ تھے، دیوبندیوں، وہابیوں کی گستاخانہ تحریروں کو دیکھ کر چپ نہ رہ سکے۔ اس لئے آپ ہر باطل مذہب کا رد کیا لیکن دیوبندیوں کا وہابیوں کا رد ایسا لاجواب کیا کہ اعلیٰ حضرت کی زندگی میں کسی کو اس کا جواب لکھنے کی جرات نہ ہوئی۔ آپ کے وصال کے بعد دیوبندیوں، وہابیوں نے سوچا کہ اب کوئی جواب دینے والا نہیں اور اہل سنت و جماعت پر اعتراضات شروع کردیئے۔ جب حد سے زیادہ اعتراضات ہوگئے تو اس فقیر نے اس بات کا ارادہ کیا کہ جو شخص یا فرقہ حضور پرنور فخر موجودات سلطان دوسرا سرور کائناتﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کرے گا جب تک میری زندگی باقی ہے اس کے رد میں انشاء اﷲ میرا قلم چلتا رہے گا اور ہر وہ مسئلہ جس میں ہمارے اور دیوبندیوں، وہابیوں کے درمیان اختلاف ہے، اس کو نہایت وضاحت سے لکھ کر مسلمانوں کے سامنے پیش کروں گا جس کو دنیا دیکھے گی کہ کون حق پر ہے۔ انشاء اﷲ الغرض چند سوالات ہر اس شخص کو سامنے یہ فقیر پیش کرتا ہوں جوکہ دیوبندی وہابی خیالات رکھتا ہو۔ امید ہے تسلی بخش جواب دیا جائے گا۔
    سوال ۱: بدعت کس کوکہتے ہیں؟
    سوال۲: کیا بدعت کی ایک ہی قسم ہے یا فقہا کے نزدیک اس کی چند قسمیں ہیں؟
    سوال ۳: کیا بدعت سیۂ کا کرنا ہی حرام ہے یا ہر بدعت کا یہی حکم ہے؟
    سوال ۴: کیا ہر وہ کام جس پر بدعت کا اطلاق ہوگا وہ حرام ہوگا یا نہیں؟
    سوال ۵: حدیث مبارکہ میں من سن سنۃ حسنۃ الخ (مشکوٰۃ شریف) کا کیا مطلب ہے؟
    سوال ۶: حدیث مبارکہ کل محدث بدعتہ وکل بدعتہ ضلالۃ اور سوال نمبر ۵ کی ذکر کردہ حدیث میں کیا فرق ہے؟ اس احداث (نئے کام) سے کون سا احداث مراد ہے؟
    ہر احداث (نیا کام) مراد ہے یا کوئی خاص احداث (نیا کام)؟
    سوال ۷: کیا ہر وہ کام جو حضور اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں نہ ہو آپ کے زمانہ اقدس کے بعد نکالا جائے وہ کل محدث کے تحت میں داخل ہوگا یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟
    سوال ۸: کیا حضور اکرمﷺ کے زمانہ مبارکہ میں ختم حدیث شریف کے بعد طلباء کو پگڑیاں پہنائی جاتی تھیں جیسے کہ آپ مدارس میں طلباء کو ختم حدیث شریف کے بعدپگڑیاں بندھوائیں جاتی ہیں یا نہیں؟
    سوال ۹: کیا زمانہ مبارکہ حضور اکرمﷺ میں ختم حدیث کے بعد جبہ مبارک بھی دیا جاتا تھا؟ جیسا کہ آپ کے مدارس میں رواج ہے؟
    سوال ۱۰: کیا زمانہ اقدس میں حدیث شریف کے ختم ہونے پر سالانہ امتحان لیا جاتا تھا؟ جیسا کہ آپ کے مدارس میں نہایت اہتمام سے لیا جاتا ہے؟
    سوال ۱۱: اپنے مدرسہ میں ۷ دن پڑھا کہ آٹھویں دن جمعہ کی چھٹی دینا کیا یہ طریقہ زمانہ اقدس حضور اکرمﷺ میں بھی تھا؟
    سوال ۱۲: ختم حدیث شریف کے بعد آپ کے مدارس میں جو اسناد تقسیم کی جاتی ہیں، کیا یہ طریقہ حضور اکرمﷺ کے زمانہ مبارک میں تھا یا نہیں؟
    سوال ۱۳: ہر سال شعبان کے مہینہ میں جلسہ کرنا اور علماء کو جمع کرنا، یہ طریقہ جلسے وغیرہ کا خاص سرکار مدینہ درود شریف کے زمانہ مبارک میں تھا یا نہیں؟
    سوال ۱۴: نکاح کے لئے خاص دن مقرر کرنا، تاریخ مقرر کرنا، اور خطوط بھیج کر لوگوں کو بلانا، کیا یہ طریقہ زمانہ نبوی درود شریف میں تھا یا نہیں؟ اور ایسی سنت جس میں بدعت شامل ہوجائے، اس کا کیا حکم ہے؟
    سوال ۱۵: علماء کے آنے پر بڑے بڑے اخبارات اور اشتہارات شائع کرنا اور ان میں ’’حد سے زیادہ بڑھا کر‘‘ علماء کے القاب لکھنا کیا یہ باتیں ان پابندیوں اور اہتمام سے زمانہ نبوی میں تھیں یا نہیں؟ اگر تھیں تو ثبوت دیجئے کیونکہ آپ صاحبان کا دعویٰ ہے کہ ہم وہی کام کرتے ہیں جو زمانہ مبارک میں ہوا ہو اور ہم بغیر سنت کے قدم نہیں اٹھاتے۔ اگر یہ باتیں زمانہ اقدس میں نہ تھیں اور بعد میں نکالی گئی ہیں تو فرمایئے کہ یہ طریقے آپ کے استدلال کل محدث بدعت کے تحت میں داخل ہوئے یا نہیں؟ اس دعوے سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ کے یہ جتنے کام جو اوپر بیان ہوچکے ہیں کل محدث بدعۃ کے تحت میں داخل ہیں۔ اس کے باوجود ان کو کرنا جن کی اصل کسی زمانہ میں بھی موجود نہیں تھی، بدعت ضلالۃ ہے یا نہیں اور اگر ان کاموں کا حدیث شریف میں الستثغا ہوتو وہ فرمادیجئے اور اگر بعض داخل اور بعض خارج ہیں تو پھر اہل سنت و جماعت کے ہر کام پر آپ کااس حدیث شریف کو پیش کردینا درست ہے یا نہیں؟
    سوال ۱۶: آپ (دیوبندی وہابی) کہتے ہیں کہ جو کام زمانہ نبوی میں جیسے تھا، ویسے ہی کرنا چاہے اس کو نئے اور مخصوص طریقے سے کرنا ناجائز ہے چنانچہ میلاد شریف اس کے باوجود کہ اس کی اصل زمانہ اقدس میں موجود تھی مگر مخصوص نہ تھی آپ نے اس کے باوجود کہ اﷲ کے ذکر کے بعد ذکر رسول کا درج ہہے بہت کم امور کی وجہ سے اس کو ناجائز کردیا جن امور کی وجہ سے اسے ناجائز کیا وہ یہ ہیں (۱) وقت مخصوص کرنا (۲) فرش وغیرہ بچھانا (۳) ہار اور پھول لاکر مجلس میں رکھنا (۴) محفل میلاد میں روشنی کرنا (۵) لڑکوں کا نعتیں پڑھنا (۶) یہ وہ کام ہیں جن کی وجہ سے محفل میلاد کو حرام کہا گیا حتی کہ یہاں تک بے ادبی کی کہ اس کو کنھیا (ہندو) کے جنم دن منانے کی طرح کہا حالانکہ (دیوبندی، وہابی) اس سے زیادہ کاموں کو مخصوص کرکے انجام دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ دیکھیں کہ علم زمانہ نبویﷺ سید پڑھنے یا پڑھانے کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں تھا لیکن دیوبندیوں نے اس علم کو اتنی قیدیوں میں مقید کیا کہ چار دیواریاں پکی بنوانا جس میں لاکھوں روپیہ خرچ ہوتا ہے جو بالکل سراسر فضول خرچی ہے اس کے اندر چند کمرے بنوانا اس میں قالین وغیرہ بچھانا پھر چند مولویوں کو چندہ جمع کرکے اس میں پڑھانے کے لئے مقرر کرنا پھر اس کو کسی زمانہ کے مخصوص کرنا صبح مثلا ۱۰ بجے سے لے کر ۲ بجے سے شام تک پڑھانا۔ غرض یہ ساری باتیں آپ نے اس علم کے ساتھ مخصوص کی ہیں۔ یہ زمانہ حضور اقدس میں انہیں پابندیوں اور اہتمام کے ساتھ تھیں یا نہیں؟ لہذا یہ پابندیاں اور اہتمام آپ کے نزدیک بدعت ہوئیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ پابندیان آپ کے قاعدے کے مطابق سخت بدعت ہوئیں اور بدعت کرنا آپ کے نزدیک حرام ہے یا نہیں؟ تو فرمایئے کہ آپ کے مدارس بدعت ہوئے یا نہیں؟ اگر یہ پابندیاں اور اہتمام آپ کے مدارس میں جائز ہیں تو میلاد شریف ان امور کی وجہ سے کیوں ناجائز اور حرام ہے؟ ان دونوں میں فرق اور وجہ ترجیح تفصیل سے بیان کریں۔
    سوال ۱۷: جب کوئی آپ پر اعتراض کرتا ہے تو اس کے جواب میں آپ کا آخری جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم ان باتوں کو عادتاً کرتے ہیں اور تم میلاد شریف عبادتاً کرتے ہو لہذا ہمارے کام جائز اور تمہارے ناجائز ہیں لہذا آپ کے اس جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب محض مسلمانوں کو دکھانے کے لئے گڑھا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ بات ثابت نہ ہو کہ دیوبندی وہابی لاجواب ہوگئے ہیں۔ تمہارے اس جواب میں چند اعتراضات لازم آتے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ اس جواب سے معلوم ہوتا ہ ے کہ آپ کے نزدیک جو کام عادتاً کیا جائے اگرچہ وہ شریعت میں منع ہو تب بھی اس کا کرنا جائز ہے لہذا اگر کوئی شخص زنار (یعنی وہ دھاگا جو ہندو گلے اور بغل کے درمیان ڈالے رہتے ہیں) پہنے اور آپ سے فتویٰ طلب کرے کہ میں ان چیزوں کو عادتاً کرتا ہوں میرے لئے جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ اس کو جائز کہیں گے؟ اگرآپ کے نزدیک یہ کام بصورت فتویٰ جائز ہوسکتے ہیں، تب تو پھر ایک اور نئی شریعت بنانی پڑے گی اور پہلے علماء کے تمام فتاویٰ جات آپ کو دریا میں پھینکنے پڑیں گے چنانچہ آپ نے ایک نئی شریعت اور نیا دین تعظیم رسول اکرمﷺ کے خلاف کھینچ تان کر نکال ہی لیا کیونکہ جن کی تعظیم تمام انبیاء اور رسل اور ملائکہ حتی کہ تمام کائنات نے کی تھی۔ ان کی تعظیم تو آپ کے نزدیک فضول کام ہے اور جو کام شریعت میں منع ہو پھر اس کو عادتاً کرنا کیسے جائز ہے؟ اس واسطے کہ جیسے پکڑ عبادت میں ہے، ویسے ہی عادت میں بھی ہے دوسری بات یہ کہ حدیث کل محدث بدعۃ (ہر نیا کام بدعت ہے) کا مطلب عام ہے اس میں تمام نئے کام (خواہ وہ عادتاً ہوں یا عبادتاً) شامل ہیں۔ حدیث پاک جوکہ واضح ہو اس میں اپنی رائے سے پابندی لگانا باطل ہے۔ تیسری بات یہ کہ اگر آپ کہیں کہ اس کے برعکس عبادت اور عادت میں یہ فرق ہے کہ عبادت میں ثواب ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس عادت میں ثواب نہیں ہوتا تو مجھے بتایئے کہ اگر کوئی آدمی اپنے بچوں کے کانوں میں کوئی زیور پہنا دے اور کہے کہ میں عادتاً اس کو پہناتا ہوں تو کیا اس کا یہ کام آپ کے نزدیک جائز ہوگا؟ چوتھی بات یہ کہ اگر آپ کی مراد عادت اور عبادت سے یہ ہے کہ ان کاموں کو ہم رسماً کرتے ہیں تو جواب دیجئے کہ آپ کے بیان سے کیا رسموں کا کرنایا ان کی پیروی کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ حالانکہ آپ کی کتابوں میں رسموں کاکرنا اوران کی پیروی کرنا بالکل ناجائز اور حرام ہے پھر یہاں کیوں ان رسموں کا کرنا یا ان کی پیروی جائز ہوئی؟ اگر آپ اس کا جواب یوں دیں کہ ہمارے یہاں رسوم جاہلیت کا کرنا اور ان کی پیروی کرنا منع ہے، بزرگوں کی رسم کی پیروی کرنا ہمارے یہاں منع نہیں، ان کاموں میں ہم رسم بزرگان کی پیروی کرتے ہیں، حالانکہ کسی کام میں پابندی اور اہتمام بدعت ہے۔ اس کے باوجود رسم صالحین پابندیوں اور اہتمام کے باوجود درست ہے۔ تو بتایئے کہ میلاد شریف (جوکہ اصل میں ذکر رسولﷺ ہے اس سے زائد کون سا کارخیر ہے اور کون سی رسم صالحین ہوسکتی ہے جس پر تمام حرمین شریفین کے علماء اور تمام امت متفق ہے) کو کیوں حرام کردیا؟ آپکے نزدیک تلک ہندو کی برسی میں شامل ہونا(جوکہ اﷲ و رسول اور دین اسلام کا بدترین دشمن تھا) اور ہندوئوں کے لیڈروں کی دہلی کی جامع مسجد کے ممبروں پر چڑھ کر تعریفیں کرنا جائز ہے اور میلاد رسول آپ کے نزدیک ایک فضول کام ہے (نعوذ باﷲ) یہ فقیر کہتا ہے کہ جومولوی صاحبان دین فروش ہیں ایسے علماء کا مسلمانوں کو خطاب سننا اور ان کی پیروی کرنی حرام ہے، ایسے ہی ہر اس عالم کا ذکر ہے جو کسی کافر سے ملے۔
    سوال ۱۸: آپ (دیوبندی و وہابی) کہتے ہیں کہ یہ کام عادتاً اور عبادتاً ناجائز ہیں۔ کسی خاص مہینے یا تاریخوں میں کوئی کام کرنا بدعت ہے چنانچہ میلادشریف کو آپ نے صرف ربیع الاول کے مہینے میں کرنے کی وجہ سے ناجائز قرار دیا اور جس شخص نے اس میں اپنی ذاتی کمائی کے ثند روپے خرچ کئے، اس پر آپ نے فضول خرچی کا حکم دے دیا لہذا یہ دوسری وجہ ہے اس کے حرام ہونے کی، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دیوبندی اس سے زیادہ پابندی اور اہتمام سے فضول خرچی کرتے ہیں مگر وہ تمام کام یا تو مستحب تصور کرتے ہیں یا فعل مسنون جن کو پابندی سے کرتے کئی سال گزر گئے۔ یہ فقیر ان کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ شعبان کے مہینے میں جلسہ کرنا اور طلباء کے لئے چندہ مانگا جاتا ہے اس چندے سے بڑے بڑے اشتہارات چھپوانا جس میں ہزاروں روپیہ فضول خرچ ہوتا ہے۔ ان پیسوں سے جلسہ میں کرایہ کی کرسیاں لاکر ڈالنا، بڑے بڑے شامیانے لگوانا لوگوں کو دکھانے کے لئے، اعلیٰ فرض بچھانا، بجلی کی روشنی کرانا اب آپ ہی بتایئے کہ یہ پابندیاں اور اہتمام ہیں یا نہیں؟ اور یہ سب فضول خرچی ہیں یا نہیں؟ اور یہ بدعات ہیں یا نہیں؟ اب ملاحظہ کریں کہ وہ چندہ جو طلباء کا حق ہے اس سے علماء کو سفر کے لئے پیسے دینا اور علماء کا س خرچ کو لیناجائز ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ مانگا کسی اور کام کے لئے جائے اور خرچ کہیں کیا جائے، کیا یہ خدا کی مخلوق کے سامنے جھوٹ بول کر لینا ہے یا نہیں؟ بتایئے کہ دیوبندیوں، وہابیوں کے جلسوں میں ایسے ناجائز کام جمع ہیں مگر ہمیشہ ان کو نہایت اہتمام سے کیا جاتا ہے۔ ان کے جلسوں میں سب پابندیاں اور اہتمام مستحب ہیں لیکن میلاد شریف میں ایک پابندی بھی آپ کے نزدیک اس قدر حرام ہے کہ اس کی مثال کم ہی ملتی ہے اپنے جلسوں اور محافل میلاد میں وجہ فرق بتایئے۔
    سوال ۱۹: حدیث شریف پڑھا ذکر رسول ہے یا نہیں؟ اگر آپ کے نزدیک یہ بھی ذکر رسول ہے تو بتایئے کہ اس کے لئے اہتمام کرنا فرش بچھانا، جگہ صاف کرانا، خاص کمرے مخصوص کرنا (جن کو دارالحدیث کہتے ہیں) حرام ہے یا نہیں؟ اگر یہ اہتمامات اس اس ذکر رسول میں کرنا حرام نہیں تو فرمایئے کہ میلاد شریف آپ کے نزدیک اہتمام سے کرنا کیوں حرام ہوا، وجہ فرق بتایئے۔
    سوال ۲۰: حدیث شریف پڑھانا ذکر رسولﷺ ہے یا نہیں۔ اس کو آپ صاحبان عبادتاً کرتے ہیں یا عادتاً؟ اگر آپ نے اس کو عادتاً کیا اور اس سے آپ کو ثواب مطلوب نہیں تھا۔ تب بھی بتایئے اور اگر آپ نے اس فعل کو ثواب کی نیت سے کیا تو معلوم ہوا کہ آپ بھی ذکر رسولﷺ بغرض ثواب کرتے ہیں۔ تب تو یہ عبادت بھی شامل ہوا، پوچھنا یہ ہے کہ اگر کسی نے میلاد شریف بغرض ثواب کیا تووہ کیوں عبادت میں شامل ہوکر حرام ہوگیا اور حدیث شریف بھی ذکر رسولﷺ ہے۔ یہ بطور عبادت کیوں جائز کرلیا گیا ہے؟
    سوال ۲۱: آپ (دیوبندی، وہابی) صاحبان سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مدارس میں خرچ کیوں کرتے ہو۔ یہ فضول خرچی نہیں ہے؟ تو آپ اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ دین کا کام ہے۔ اس لئے نیک کام کرنے میں خرچ کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ذکر رسولﷺ آپ کے نزدیک دنیا کا کام ہے اور فضول کام ہے؟ کہ جس میں ایک پیسہ بھی خرچ کرنا فضول خرچی ہے، اس کام کو کیا الفاظ دیئے جائیں۔
    سوال ۲۲: سوئم کہلواتے اور چالیسویں کے کھانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
    کیا آپ جیسے علماء کوجو ’’صاجی بدعت‘‘ اس کا کھانا جائز ہے؟ اور غرباء کو اس کا کھانا حرما ہے؟ یہ سوال یوں پیدا ہوا کہ اس فقیر نے بچشم خود سوئم اور چالیسویں کا کھانا (ان کو) کھاتے دیکھا ہے جس کا کھانا اغنیاء کو بالکل حرام ہے، تفصیلی جواب دیں۔
    سوال ۲۳: کیا تعویذ گنڈوں کے بہانے سے لوگوں سے روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
    سوال ۲۴: جب انبیاء علیہم السلام کو باری تعالیٰ مخلوقات پر بھیجتا ہے تو اس وقت حق تعالیٰ کی طرف سے انبیاء علیہم السلام کو کوئی صلاحیت اور قابلیت ایسی عطا فرمائی جاتی ہے جس سے وہ علوم اور حقائق بغیر فرشتوں کے دریافت کرسکتے ہیں یا نہیں؟ یا انبیاء علیہم السلام فرشتوں کے رحم پر چھوڑے جاتے ہیں کہ اگر فرشتے ان کے کان میں کچھ کہہ دیں تب تو ان کو خبر ہوجاتی ہے اور بغیر فرشتوں کے بالکل بے خبر اور ہر علم سے مبرا ہوتے ہیں جیسا کہ آپ کے عقائد سے بالکل واضح ہے۔
    سوال ۲۵: خاص کر شعبان کے مہینے میں جلسہ معہ اہتمام اور پگڑیاں وغیرہ بندھوانا یہ تمام افعلا آپ صاحبان کے فعل مباح ہیں یا مستحب یا واجب؟ اگر مستحب یا واجب ہیں تو دلیل دیجئے اور اگر فعل مباح ہیں تو ان افعال کوہر سال الترام سے کرنا سنت یا واجب ہونے کا شبہ ڈالتا ہے یا نہیں؟ لہذا ان کا چھوڑنا لازم ہے یا نہیں۔ امید ہے کہ ۲۵ سوالوں کا جواب تفصیل سے تحریر فرمائیں گے۔
     
  10. ‏نومبر 28، 2013 #10
    نوائے دل

    نوائے دل رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 21، 2013
    پیغامات:
    105
    موصول شکریہ جات:
    35
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    غورکیجئے گا!

    تو اہلحدیثوں کی طرف سے ۲۱۰سوالات ہیں اور بریلوی حضرات کی طرف سے ۲۵ سوالات ہیں ۔ان سوالوں سے کیا ملتا ہے اور کیا سیکھا جاتا ہے؟
    اما بعد فقیر حقیر عبدالمصطفیٰ نصیر الدین قادری برکاتی کہتا ہے کہ لفظ بدعت جو کتابوں میں لکھا ہوتا ہے ایسا واضح ہے کہ جس نے فقہائے کرام کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہوگا وہ ضرور اس لفظ کے صحیح مفہوم سے واقف ہوگا لیکن اس پرفتن زمانہ میں دو لفظ (۱) بدعت (۲) شرک ایسے ہر کسی کی زبان پر جاری ہیں کہ اس کی مثال پہلے نہیں دیکھی۔ ان وہابیوں، دیوبندیوں کو اس کا صحیح مطلب معلوم نہیں یا پھر یہ جان بوجھ کر بدعت اور شرک کا غلط معنی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو مطلب ان دو لفظوں (بدعت اور شرک) کا اس زمانے میں وہابیوں، دیوبندیوں نے لیا ہے وہ بالکل اس مطلب کے خلاف ہے جو فقہائے کرام وغیرہم نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ آپ دیکھیں کہ اسلام کو تیرہ سو چون (1354) سال کا عرصہ ہوا ہے، تمام صحابہ کرام رضوان اﷲ علہم اجمعین اور ان کے بعد غوث قطب ابدال ہمیشہ یہ حضرات یہی فرماتے رہے کہ اﷲ عزوجل کے ذکر کے بعد حضور اکرمﷺ کے ذکر کا مرتبہ ہے اور رسول اﷲ کی تعظیم اور آپ کی محبت تمام امت پر واجب اور مدارِ ایمان ہے لیکن تیرہ سو چون (1354) سال کے بعد دیوبندی وہابی فرقوں نے بدعت اور شرک کا بہت عجیب اور نرالا مطلب نکالا ہے۔ یہ مطلب نہ ان کانوں نے کبھی سنا تھا اور نہ ان آنکھوں نے دیکھا تھا۔ آپ دیکھیں کہ حضور اکرمﷺ کے ذکر کا مرتبہ اﷲ کے ذکر کے بعد ہے لیکن دیوبندی وہابی اسے بدعت کہتے ہیں۔ وہ بھی محض دو وجہ سے، ایک وجہ تو یہ ہے کہ جب کسی سنی بھائی نے اپنے ہاں میلاد کروایا (جس کو دوسرے معنوں میں ذکر رسولﷺ بھی کہتے ہیں) اور میلاد میں روشنی کی اس روشنی کی وجہ سے دیوبندیوں، وہابیوں نے اس پر فضول خرچی ہونے کا حکم صادر کردیا اور اگر ربیع الاول کے مہینے میں کیا تو اس کو تخصیص یعنی اس مہینے میں خاص کرنے کی وجہ سے بدعت کہا۔ یہ دو وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ذکر رسول ک حرام قرار دیا گیا۔ رہا مسئلہ قیام میلاد کا جو کہ اصل میں تعظیم رسول ہے، اس کو شرک قرار دے دیا لیکن اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب مکرمﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ایک ہستی قبلہ عالم اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اﷲ عنہ کو مامور فرمایا۔ متاخرین میں ایسی ہستی دیکھنے میں نہیں آئی۔ آپ چونکہ عاشق خدا و عزوجل مصطفیﷺ تھے، دیوبندیوں، وہابیوں کی گستاخانہ تحریروں کو دیکھ کر چپ نہ رہ سکے۔ اس لئے آپ ہر باطل مذہب کا رد کیا لیکن دیوبندیوں کا وہابیوں کا رد ایسا لاجواب کیا کہ اعلیٰ حضرت کی زندگی میں کسی کو اس کا جواب لکھنے کی جرات نہ ہوئی۔ آپ کے وصال کے بعد دیوبندیوں، وہابیوں نے سوچا کہ اب کوئی جواب دینے والا نہیں اور اہل سنت و جماعت پر اعتراضات شروع کردیئے۔ جب حد سے زیادہ اعتراضات ہوگئے تو اس فقیر نے اس بات کا ارادہ کیا کہ جو شخص یا فرقہ حضور پرنور فخر موجودات سلطان دوسرا سرور کائناتﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کرے گا جب تک میری زندگی باقی ہے اس کے رد میں انشاء اﷲ میرا قلم چلتا رہے گا اور ہر وہ مسئلہ جس میں ہمارے اور دیوبندیوں، وہابیوں کے درمیان اختلاف ہے، اس کو نہایت وضاحت سے لکھ کر مسلمانوں کے سامنے پیش کروں گا جس کو دنیا دیکھے گی کہ کون حق پر ہے۔ انشاء اﷲ الغرض چند سوالات ہر اس شخص کو سامنے یہ فقیر پیش کرتا ہوں جوکہ دیوبندی وہابی خیالات رکھتا ہو۔ امید ہے تسلی بخش جواب دیا جائے گا۔
    سوال ۱: بدعت کس کوکہتے ہیں؟
    سوال۲: کیا بدعت کی ایک ہی قسم ہے یا فقہا کے نزدیک اس کی چند قسمیں ہیں؟
    سوال ۳: کیا بدعت سیۂ کا کرنا ہی حرام ہے یا ہر بدعت کا یہی حکم ہے؟
    سوال ۴: کیا ہر وہ کام جس پر بدعت کا اطلاق ہوگا وہ حرام ہوگا یا نہیں؟
    سوال ۵: حدیث مبارکہ میں من سن سنۃ حسنۃ الخ (مشکوٰۃ شریف) کا کیا مطلب ہے؟
    سوال ۶: حدیث مبارکہ کل محدث بدعتہ وکل بدعتہ ضلالۃ اور سوال نمبر ۵ کی ذکر کردہ حدیث میں کیا فرق ہے؟ اس احداث (نئے کام) سے کون سا احداث مراد ہے؟
    ہر احداث (نیا کام) مراد ہے یا کوئی خاص احداث (نیا کام)؟
    سوال ۷: کیا ہر وہ کام جو حضور اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں نہ ہو آپ کے زمانہ اقدس کے بعد نکالا جائے وہ کل محدث کے تحت میں داخل ہوگا یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟
    سوال ۸: کیا حضور اکرمﷺ کے زمانہ مبارکہ میں ختم حدیث شریف کے بعد طلباء کو پگڑیاں پہنائی جاتی تھیں جیسے کہ آپ مدارس میں طلباء کو ختم حدیث شریف کے بعدپگڑیاں بندھوائیں جاتی ہیں یا نہیں؟
    سوال ۹: کیا زمانہ مبارکہ حضور اکرمﷺ میں ختم حدیث کے بعد جبہ مبارک بھی دیا جاتا تھا؟ جیسا کہ آپ کے مدارس میں رواج ہے؟
    سوال ۱۰: کیا زمانہ اقدس میں حدیث شریف کے ختم ہونے پر سالانہ امتحان لیا جاتا تھا؟ جیسا کہ آپ کے مدارس میں نہایت اہتمام سے لیا جاتا ہے؟
    سوال ۱۱: اپنے مدرسہ میں ۷ دن پڑھا کہ آٹھویں دن جمعہ کی چھٹی دینا کیا یہ طریقہ زمانہ اقدس حضور اکرمﷺ میں بھی تھا؟
    سوال ۱۲: ختم حدیث شریف کے بعد آپ کے مدارس میں جو اسناد تقسیم کی جاتی ہیں، کیا یہ طریقہ حضور اکرمﷺ کے زمانہ مبارک میں تھا یا نہیں؟
    سوال ۱۳: ہر سال شعبان کے مہینہ میں جلسہ کرنا اور علماء کو جمع کرنا، یہ طریقہ جلسے وغیرہ کا خاص سرکار مدینہ درود شریف کے زمانہ مبارک میں تھا یا نہیں؟
    سوال ۱۴: نکاح کے لئے خاص دن مقرر کرنا، تاریخ مقرر کرنا، اور خطوط بھیج کر لوگوں کو بلانا، کیا یہ طریقہ زمانہ نبوی درود شریف میں تھا یا نہیں؟ اور ایسی سنت جس میں بدعت شامل ہوجائے، اس کا کیا حکم ہے؟
    سوال ۱۵: علماء کے آنے پر بڑے بڑے اخبارات اور اشتہارات شائع کرنا اور ان میں ’’حد سے زیادہ بڑھا کر‘‘ علماء کے القاب لکھنا کیا یہ باتیں ان پابندیوں اور اہتمام سے زمانہ نبوی میں تھیں یا نہیں؟ اگر تھیں تو ثبوت دیجئے کیونکہ آپ صاحبان کا دعویٰ ہے کہ ہم وہی کام کرتے ہیں جو زمانہ مبارک میں ہوا ہو اور ہم بغیر سنت کے قدم نہیں اٹھاتے۔ اگر یہ باتیں زمانہ اقدس میں نہ تھیں اور بعد میں نکالی گئی ہیں تو فرمایئے کہ یہ طریقے آپ کے استدلال کل محدث بدعت کے تحت میں داخل ہوئے یا نہیں؟ اس دعوے سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ کے یہ جتنے کام جو اوپر بیان ہوچکے ہیں کل محدث بدعۃ کے تحت میں داخل ہیں۔ اس کے باوجود ان کو کرنا جن کی اصل کسی زمانہ میں بھی موجود نہیں تھی، بدعت ضلالۃ ہے یا نہیں اور اگر ان کاموں کا حدیث شریف میں الستثغا ہوتو وہ فرمادیجئے اور اگر بعض داخل اور بعض خارج ہیں تو پھر اہل سنت و جماعت کے ہر کام پر آپ کااس حدیث شریف کو پیش کردینا درست ہے یا نہیں؟
    سوال ۱۶: آپ (دیوبندی وہابی) کہتے ہیں کہ جو کام زمانہ نبوی میں جیسے تھا، ویسے ہی کرنا چاہے اس کو نئے اور مخصوص طریقے سے کرنا ناجائز ہے چنانچہ میلاد شریف اس کے باوجود کہ اس کی اصل زمانہ اقدس میں موجود تھی مگر مخصوص نہ تھی آپ نے اس کے باوجود کہ اﷲ کے ذکر کے بعد ذکر رسول کا درج ہہے بہت کم امور کی وجہ سے اس کو ناجائز کردیا جن امور کی وجہ سے اسے ناجائز کیا وہ یہ ہیں (۱) وقت مخصوص کرنا (۲) فرش وغیرہ بچھانا (۳) ہار اور پھول لاکر مجلس میں رکھنا (۴) محفل میلاد میں روشنی کرنا (۵) لڑکوں کا نعتیں پڑھنا (۶) یہ وہ کام ہیں جن کی وجہ سے محفل میلاد کو حرام کہا گیا حتی کہ یہاں تک بے ادبی کی کہ اس کو کنھیا (ہندو) کے جنم دن منانے کی طرح کہا حالانکہ (دیوبندی، وہابی) اس سے زیادہ کاموں کو مخصوص کرکے انجام دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ دیکھیں کہ علم زمانہ نبویﷺ سید پڑھنے یا پڑھانے کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں تھا لیکن دیوبندیوں نے اس علم کو اتنی قیدیوں میں مقید کیا کہ چار دیواریاں پکی بنوانا جس میں لاکھوں روپیہ خرچ ہوتا ہے جو بالکل سراسر فضول خرچی ہے اس کے اندر چند کمرے بنوانا اس میں قالین وغیرہ بچھانا پھر چند مولویوں کو چندہ جمع کرکے اس میں پڑھانے کے لئے مقرر کرنا پھر اس کو کسی زمانہ کے مخصوص کرنا صبح مثلا ۱۰ بجے سے لے کر ۲ بجے سے شام تک پڑھانا۔ غرض یہ ساری باتیں آپ نے اس علم کے ساتھ مخصوص کی ہیں۔ یہ زمانہ حضور اقدس میں انہیں پابندیوں اور اہتمام کے ساتھ تھیں یا نہیں؟ لہذا یہ پابندیاں اور اہتمام آپ کے نزدیک بدعت ہوئیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ پابندیان آپ کے قاعدے کے مطابق سخت بدعت ہوئیں اور بدعت کرنا آپ کے نزدیک حرام ہے یا نہیں؟ تو فرمایئے کہ آپ کے مدارس بدعت ہوئے یا نہیں؟ اگر یہ پابندیاں اور اہتمام آپ کے مدارس میں جائز ہیں تو میلاد شریف ان امور کی وجہ سے کیوں ناجائز اور حرام ہے؟ ان دونوں میں فرق اور وجہ ترجیح تفصیل سے بیان کریں۔
    سوال ۱۷: جب کوئی آپ پر اعتراض کرتا ہے تو اس کے جواب میں آپ کا آخری جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم ان باتوں کو عادتاً کرتے ہیں اور تم میلاد شریف عبادتاً کرتے ہو لہذا ہمارے کام جائز اور تمہارے ناجائز ہیں لہذا آپ کے اس جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب محض مسلمانوں کو دکھانے کے لئے گڑھا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ بات ثابت نہ ہو کہ دیوبندی وہابی لاجواب ہوگئے ہیں۔ تمہارے اس جواب میں چند اعتراضات لازم آتے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ اس جواب سے معلوم ہوتا ہ ے کہ آپ کے نزدیک جو کام عادتاً کیا جائے اگرچہ وہ شریعت میں منع ہو تب بھی اس کا کرنا جائز ہے لہذا اگر کوئی شخص زنار (یعنی وہ دھاگا جو ہندو گلے اور بغل کے درمیان ڈالے رہتے ہیں) پہنے اور آپ سے فتویٰ طلب کرے کہ میں ان چیزوں کو عادتاً کرتا ہوں میرے لئے جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ اس کو جائز کہیں گے؟ اگرآپ کے نزدیک یہ کام بصورت فتویٰ جائز ہوسکتے ہیں، تب تو پھر ایک اور نئی شریعت بنانی پڑے گی اور پہلے علماء کے تمام فتاویٰ جات آپ کو دریا میں پھینکنے پڑیں گے چنانچہ آپ نے ایک نئی شریعت اور نیا دین تعظیم رسول اکرمﷺ کے خلاف کھینچ تان کر نکال ہی لیا کیونکہ جن کی تعظیم تمام انبیاء اور رسل اور ملائکہ حتی کہ تمام کائنات نے کی تھی۔ ان کی تعظیم تو آپ کے نزدیک فضول کام ہے اور جو کام شریعت میں منع ہو پھر اس کو عادتاً کرنا کیسے جائز ہے؟ اس واسطے کہ جیسے پکڑ عبادت میں ہے، ویسے ہی عادت میں بھی ہے دوسری بات یہ کہ حدیث کل محدث بدعۃ (ہر نیا کام بدعت ہے) کا مطلب عام ہے اس میں تمام نئے کام (خواہ وہ عادتاً ہوں یا عبادتاً) شامل ہیں۔ حدیث پاک جوکہ واضح ہو اس میں اپنی رائے سے پابندی لگانا باطل ہے۔ تیسری بات یہ کہ اگر آپ کہیں کہ اس کے برعکس عبادت اور عادت میں یہ فرق ہے کہ عبادت میں ثواب ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس عادت میں ثواب نہیں ہوتا تو مجھے بتایئے کہ اگر کوئی آدمی اپنے بچوں کے کانوں میں کوئی زیور پہنا دے اور کہے کہ میں عادتاً اس کو پہناتا ہوں تو کیا اس کا یہ کام آپ کے نزدیک جائز ہوگا؟ چوتھی بات یہ کہ اگر آپ کی مراد عادت اور عبادت سے یہ ہے کہ ان کاموں کو ہم رسماً کرتے ہیں تو جواب دیجئے کہ آپ کے بیان سے کیا رسموں کا کرنایا ان کی پیروی کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ حالانکہ آپ کی کتابوں میں رسموں کاکرنا اوران کی پیروی کرنا بالکل ناجائز اور حرام ہے پھر یہاں کیوں ان رسموں کا کرنا یا ان کی پیروی جائز ہوئی؟ اگر آپ اس کا جواب یوں دیں کہ ہمارے یہاں رسوم جاہلیت کا کرنا اور ان کی پیروی کرنا منع ہے، بزرگوں کی رسم کی پیروی کرنا ہمارے یہاں منع نہیں، ان کاموں میں ہم رسم بزرگان کی پیروی کرتے ہیں، حالانکہ کسی کام میں پابندی اور اہتمام بدعت ہے۔ اس کے باوجود رسم صالحین پابندیوں اور اہتمام کے باوجود درست ہے۔ تو بتایئے کہ میلاد شریف (جوکہ اصل میں ذکر رسولﷺ ہے اس سے زائد کون سا کارخیر ہے اور کون سی رسم صالحین ہوسکتی ہے جس پر تمام حرمین شریفین کے علماء اور تمام امت متفق ہے) کو کیوں حرام کردیا؟ آپکے نزدیک تلک ہندو کی برسی میں شامل ہونا(جوکہ اﷲ و رسول اور دین اسلام کا بدترین دشمن تھا) اور ہندوئوں کے لیڈروں کی دہلی کی جامع مسجد کے ممبروں پر چڑھ کر تعریفیں کرنا جائز ہے اور میلاد رسول آپ کے نزدیک ایک فضول کام ہے (نعوذ باﷲ) یہ فقیر کہتا ہے کہ جومولوی صاحبان دین فروش ہیں ایسے علماء کا مسلمانوں کو خطاب سننا اور ان کی پیروی کرنی حرام ہے، ایسے ہی ہر اس عالم کا ذکر ہے جو کسی کافر سے ملے۔
    سوال ۱۸: آپ (دیوبندی و وہابی) کہتے ہیں کہ یہ کام عادتاً اور عبادتاً ناجائز ہیں۔ کسی خاص مہینے یا تاریخوں میں کوئی کام کرنا بدعت ہے چنانچہ میلادشریف کو آپ نے صرف ربیع الاول کے مہینے میں کرنے کی وجہ سے ناجائز قرار دیا اور جس شخص نے اس میں اپنی ذاتی کمائی کے ثند روپے خرچ کئے، اس پر آپ نے فضول خرچی کا حکم دے دیا لہذا یہ دوسری وجہ ہے اس کے حرام ہونے کی، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دیوبندی اس سے زیادہ پابندی اور اہتمام سے فضول خرچی کرتے ہیں مگر وہ تمام کام یا تو مستحب تصور کرتے ہیں یا فعل مسنون جن کو پابندی سے کرتے کئی سال گزر گئے۔ یہ فقیر ان کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ شعبان کے مہینے میں جلسہ کرنا اور طلباء کے لئے چندہ مانگا جاتا ہے اس چندے سے بڑے بڑے اشتہارات چھپوانا جس میں ہزاروں روپیہ فضول خرچ ہوتا ہے۔ ان پیسوں سے جلسہ میں کرایہ کی کرسیاں لاکر ڈالنا، بڑے بڑے شامیانے لگوانا لوگوں کو دکھانے کے لئے، اعلیٰ فرض بچھانا، بجلی کی روشنی کرانا اب آپ ہی بتایئے کہ یہ پابندیاں اور اہتمام ہیں یا نہیں؟ اور یہ سب فضول خرچی ہیں یا نہیں؟ اور یہ بدعات ہیں یا نہیں؟ اب ملاحظہ کریں کہ وہ چندہ جو طلباء کا حق ہے اس سے علماء کو سفر کے لئے پیسے دینا اور علماء کا س خرچ کو لیناجائز ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ مانگا کسی اور کام کے لئے جائے اور خرچ کہیں کیا جائے، کیا یہ خدا کی مخلوق کے سامنے جھوٹ بول کر لینا ہے یا نہیں؟ بتایئے کہ دیوبندیوں، وہابیوں کے جلسوں میں ایسے ناجائز کام جمع ہیں مگر ہمیشہ ان کو نہایت اہتمام سے کیا جاتا ہے۔ ان کے جلسوں میں سب پابندیاں اور اہتمام مستحب ہیں لیکن میلاد شریف میں ایک پابندی بھی آپ کے نزدیک اس قدر حرام ہے کہ اس کی مثال کم ہی ملتی ہے اپنے جلسوں اور محافل میلاد میں وجہ فرق بتایئے۔
    سوال ۱۹: حدیث شریف پڑھا ذکر رسول ہے یا نہیں؟ اگر آپ کے نزدیک یہ بھی ذکر رسول ہے تو بتایئے کہ اس کے لئے اہتمام کرنا فرش بچھانا، جگہ صاف کرانا، خاص کمرے مخصوص کرنا (جن کو دارالحدیث کہتے ہیں) حرام ہے یا نہیں؟ اگر یہ اہتمامات اس اس ذکر رسول میں کرنا حرام نہیں تو فرمایئے کہ میلاد شریف آپ کے نزدیک اہتمام سے کرنا کیوں حرام ہوا، وجہ فرق بتایئے۔
    سوال ۲۰: حدیث شریف پڑھانا ذکر رسولﷺ ہے یا نہیں۔ اس کو آپ صاحبان عبادتاً کرتے ہیں یا عادتاً؟ اگر آپ نے اس کو عادتاً کیا اور اس سے آپ کو ثواب مطلوب نہیں تھا۔ تب بھی بتایئے اور اگر آپ نے اس فعل کو ثواب کی نیت سے کیا تو معلوم ہوا کہ آپ بھی ذکر رسولﷺ بغرض ثواب کرتے ہیں۔ تب تو یہ عبادت بھی شامل ہوا، پوچھنا یہ ہے کہ اگر کسی نے میلاد شریف بغرض ثواب کیا تووہ کیوں عبادت میں شامل ہوکر حرام ہوگیا اور حدیث شریف بھی ذکر رسولﷺ ہے۔ یہ بطور عبادت کیوں جائز کرلیا گیا ہے؟
    سوال ۲۱: آپ (دیوبندی، وہابی) صاحبان سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مدارس میں خرچ کیوں کرتے ہو۔ یہ فضول خرچی نہیں ہے؟ تو آپ اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ دین کا کام ہے۔ اس لئے نیک کام کرنے میں خرچ کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ذکر رسولﷺ آپ کے نزدیک دنیا کا کام ہے اور فضول کام ہے؟ کہ جس میں ایک پیسہ بھی خرچ کرنا فضول خرچی ہے، اس کام کو کیا الفاظ دیئے جائیں۔
    سوال ۲۲: سوئم کہلواتے اور چالیسویں کے کھانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
    کیا آپ جیسے علماء کوجو ’’صاجی بدعت‘‘ اس کا کھانا جائز ہے؟ اور غرباء کو اس کا کھانا حرما ہے؟ یہ سوال یوں پیدا ہوا کہ اس فقیر نے بچشم خود سوئم اور چالیسویں کا کھانا (ان کو) کھاتے دیکھا ہے جس کا کھانا اغنیاء کو بالکل حرام ہے، تفصیلی جواب دیں۔
    سوال ۲۳: کیا تعویذ گنڈوں کے بہانے سے لوگوں سے روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
    سوال ۲۴: جب انبیاء علیہم السلام کو باری تعالیٰ مخلوقات پر بھیجتا ہے تو اس وقت حق تعالیٰ کی طرف سے انبیاء علیہم السلام کو کوئی صلاحیت اور قابلیت ایسی عطا فرمائی جاتی ہے جس سے وہ علوم اور حقائق بغیر فرشتوں کے دریافت کرسکتے ہیں یا نہیں؟ یا انبیاء علیہم السلام فرشتوں کے رحم پر چھوڑے جاتے ہیں کہ اگر فرشتے ان کے کان میں کچھ کہہ دیں تب تو ان کو خبر ہوجاتی ہے اور بغیر فرشتوں کے بالکل بے خبر اور ہر علم سے مبرا ہوتے ہیں جیسا کہ آپ کے عقائد سے بالکل واضح ہے۔
    سوال ۲۵: خاص کر شعبان کے مہینے میں جلسہ معہ اہتمام اور پگڑیاں وغیرہ بندھوانا یہ تمام افعلا آپ صاحبان کے فعل مباح ہیں یا مستحب یا واجب؟ اگر مستحب یا واجب ہیں تو دلیل دیجئے اور اگر فعل مباح ہیں تو ان افعال کوہر سال الترام سے کرنا سنت یا واجب ہونے کا شبہ ڈالتا ہے یا نہیں؟ لہذا ان کا چھوڑنا لازم ہے یا نہیں۔ امید ہے کہ ۲۵ سوالوں کا جواب تفصیل سے تحریر فرمائیں گے۔

    [h1]لنک[/h1]
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں