1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گائے کے گوشت ، اور دودھ ،کے بارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک حديث كی صحت درکار ہے

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏ستمبر 02، 2015۔

  1. ‏ستمبر 02، 2015 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ایک بھائی نے فورم پر (حدیث کی تحقیق کے زمرہ میں )سوال بھیجا ہے ،سوال حسب ذیل ہے ؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس حديث كی صحت درکار ہے
    عن مليكة بنت عمرو الجعفية أن النبي صلى الله عليه وسلم قال :
    ( ألبانها شفاء – يعني البقر - ، وسمنها دواء ، ولحمها داء )


    رواه علي بن الجعد في " مسنده " (ص/393)، وأبو داود في " المراسيل " (ص/316)، والطبراني في " المعجم الكبير " (25/42)، ومن طريقه أبو نعيم في " معجم الصحابة " (رقم/7850)، ورواه البيهقي في " السنن الكبرى " (9/345) وفي " شعب الإيمان " (5/103)
    http://islamqa.info/ar/134801
    اردو میں جواب چاہیے۔ جزاکم اللہ خیرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب :
    اس حدیث کا ترجمہ درج ذیل ہے ؛
    ملیکہ بنت عمرو سے مروی ہے ،کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : گائے کے دودھ میں شفاء ہے ،اور اس کا گھی دواء ہے،
    اور اسکے گوشت میں بیماری ہے ‘‘
    اس حدیث کو امام طبرانی نے ’’ المعجم الکبیر ‘‘ میں ۔اور امام بیہقیؒ نے " السنن الكبرى " (9/345)اور شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔
    اور جہاں سے سائل نے یہ حدیث نقل کی ( islamqa.info ) وہاں ساتھ ہی لکھا ہے :
    وهذا إسناد ضعيف ،اس کی سند ضعیف ہے
    ومليكة بنت عمرو الزيدية السعدية مختلف في صحبتها ،اور اس کی راوی ملیکہ بنت عمرو ۔کے صحابیہ ہونے میں اختلاف ہے،(یعنی وہ صحابیہ ہیں ۔۔یا ۔۔تابعیہ )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن یہ روایت مزید دو صحابہ سے دوسری اسناد سے مروی ہے ۔۔اگلی نشست میں انہیں پیش کرتے ہیں
    ان شاء اللہ
     
    Last edited: ‏ستمبر 02، 2015
    • پسند پسند x 5
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 02، 2015 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    ۔
     
  3. ‏ستمبر 02، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    صحیح الجامع الصغیر میں علامہ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے ان الفاظ کو دو روایتوں سے ۔۔صحیح ۔۔کہا ہے ؛

    7509 - عليكم بألبان البقر فإنها دواء وأسمانها فإنها شفاء! وإياكم ولحومها فإن لحومها داء
    (ابن السني أبو نعيم ك) عن ابن مسعود.
    [حكم الألباني]
    (صحيح) انظر حديث رقم: 4060 في صحيح الجامع

    سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
    ’’ تم گائے کا دودھ پیا کرو ۔کیونکہ اس میں (کئی بیماریوں کی )دواء ہے ۔اور اس کا گھی استعمال کرو ،اس میں شفاء ہے ،البتہ اس کے گوشت میں بیماری (کے عناصر ) پائے جاتے ہیں ‘‘
    علامہ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے اسے ’’ صحیح ‘‘ کہا ہے

    --------------------------
    7510 - عليكم بألبان البقر فإنها شفاء وسمنها دواء ولحمها داء
    (ابن السني أبو نعيم) عن صهيب.

    [حكم الألباني]
    (صحيح) انظر حديث رقم: 4061 في صحيح الجامع

    اس کا ترجمہ وہی ہے اور اسے علامہ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے اسے ’’ صحیح ‘‘ کہا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس حدیث کو پڑھنے بعد یہ سوال کہ ’’ گائے اسلام میں حلال ہے ۔۔اور نبی کریم ﷺ سے اس کی قربانی کرنا ثابت ہے ،
    تو اگر اس کا گوشت مضر ہے تو قربانی کیوں کی اور اسکی حلت کیوں ؟
    اس سوال کا جواب علامہ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے یہ دیا :
    ’’ السائل : ألبان البقر دواء، ولحومها داء، فكيف التوفيق بينه وبين كون البقر يجوز أن يكون هديا، لأن الشريعة لا يمكن أن تكون يهدى بضار.
    جواب
    الشيخ : نعم؛ لقد صح عن النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع أنه ضحى لنسائه بالبقر، وصح أيضا أمره - صلى الله عليه وآله وسلم - أمره بسمنان البقر ونهيه عن لحومها، فإن سمنانها دواء ولحومها داء، لقد وفق العلماء بين هذا الحديث وبين حديث تضحيته - صلى الله عليه وآله وسلم - بالبقر عن نسائه أن المقصود حينما نهى عن لحوم البقر إنما هو الإكثار منها، أما إذا أكل منها احيانا فلا ضير في ذلك ولا ضرر،‘‘

    جواب کا خلاصہ یہ کہ ’’ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے گائے قربانی کی ،اور اس کے گوشت کو نقصان دہ قرار دینے سے مراد
    کثرت سے اس کا استعمال ہے ۔یعنی اگر کثرت سے گائے کا گوشت کھایا جائے ،تو نقصان کا اندیشہ ہے ۔ہاں اگر احیاناً یعنی کبھی ،کبھی کھانا مضر نہیں ‘‘
    (شريط مفرغ)
    سلسلة الهدى والنور
    لسماحة الشيخ المحدث ناصر الدين الألبانى رحمه الله
     
  4. ‏ستمبر 02، 2015 #4
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاک اللہ خیر بھائ جان
     
  5. ‏ستمبر 02، 2015 #5
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میں آج کے کچھ مراسلہ پڑھ کر ذرا غصہ میں بھی ہوں ، کچھ مزاح کی بات لکھ کر ذرا مزاج درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
    یعنی کی کڑاھی گوشت بکرے ، بھیڑ یا دنبہ کا بنایا جائے، اور نہاری کے لئے گائے کا گوشت استعمال کیا جائے!
    ویسے مزا اسی بھی اسی کا ہے!
    ہمارے ایک دوست ہیں، وہ بہت زبرست بات کہتے ہیں کہ گوشت خور ہونا مسلمان ہونے کی علامت ہے!
    ان کی یہ بات بہت معنی خیز ہے! کہ اگر ہم نے اپنا یہ امتیاز قائم نہ رکھا، خاص کر انڈیا جیسے ممالک میں تو یہ نقصان دہ ہے، وہاں مواقع تلاش کرنے چاہئے کہ گائے کا کوشت بھی میسر آ جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ آئیندہ کی نسلیں گائے کے گوشت اور دوسرے جانوروں کے گوشت کھانے کی عادی ہی نہ رہے اور ہندؤں کی طرح سبزی خور ہی بن جائیں!
     
    Last edited: ‏ستمبر 02، 2015
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 03، 2015 #6
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    السلام علیکم
    بھائی گائے کے گوشت میں لور فلیوک نامی کیڑہ ہوتا ہے جو کہ گائے کے لور میں رہتا ہے دوسرہ پلینیریا بھی ہوسکتا ہے ان کا اثر گائے کے گوشت میں موجود رہتا ہے اگر اسے اچھی طرح پکایا نہ جائے تو یہ گوشت مہلک ہوسکتا ہے ۔۔۔ شاید حدیث میں اسی طرف اشارہ ہے ۔۔ واللہ اعلم
     
    • معلوماتی معلوماتی x 4
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 22، 2015 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    @اسماعیل قاضی صاحب ، جس سوال کو آپ نے رپورٹ کیا ہے ، اس کا تفصیلی جواب یہاں آج سے ایک ماہ قبل دیا جاچکا ہے ۔
    @amateen777@gmail صاحب آپ بھی نوٹ فرمالیں ۔
     
  8. ‏اکتوبر 24، 2015 #8
    amateen777@gmail۔com

    amateen777@gmail۔com مبتدی
    جگہ:
    ناندیڑ، مهاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏اپریل 10، 2015
    پیغامات:
    46
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں