1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گردن کا مسح

'فقہ اہل الحدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از مظفر اکبر, ‏مارچ 21، 2017۔

  1. ‏مارچ 21، 2017 #1
    مظفر اکبر

    مظفر اکبر مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2017
    پیغامات:
    16
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    24

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےوضوء میں گردن کے مسح کے متعلق کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں یہی وجہ ہے کہ جن احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان ہے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی الل علیہ وسلم گردن کا مسح نہیں کرتے تھے.(مجموع الفتاوی 21/127) امام ابن قیم رحمہ اللہ .گردن کے مسح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی صحیح حدیث ثابت نہیں.(تمام المنۃ.ص/91) امام نووی رحمہ اللہ گردن کا مسح بدعت ہے(المجموع.1/489) جمہور ,مالک,شافعی,احمد,گردن کا مسح ثابت نہیں.(الفتاوی الکبری لابن تیمیۃ(1/418) صدیق حسن خان رحمہ اللہ,قریب تھا کہ اس بدعت ہونے پر اہل مزاہب کے درمیان اجماع ہوجاتا.(الروضۃ الندیۃ.1/137) اس ضمن میں پیش کی جانے والی چند ایک روایات اور ان کا سبب ضعف حسب ذیل ہے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل مرفوع روایت میں یہ لفظ ہیں(مسح رقبتہ)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گردن کا مسح کیا.(کشف الاستار للبزار.1/140) یہ روایت تین راویوں کے بنا پر ضعیف ہے 1محمد بن حجر,امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے محل نظر کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ کہا ہے کہ اسکے لیے مناکیر ہیں(میزان الاعتدال.3/511) 2ام عبد الجبار,ابن ترکمانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس کے حال اور نام کا کچھ علم نہیں.(الجوھر النقی,ذیل السنن الکبری للبیھقی (2/30) 3 سعید بن عبد الجبار,امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے غیر قوی کہا ہے.(میزان الاعتدال 2/147) طلحہ بن مصرف رضی اللہ عنہ عن ابیہ عن جدہ مروی ایک روایت میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گردن کے مسح کا ذکر ملتا ہے, (طبران کبیر.19/180) یہ روایت بھی تین راویوں کی بنا پر ضعیف ہے 1 ابو سلمۃ کندی عثمان بن مقسم البری:امام جوزجانی رحمہ اللہ نے اسے کزاب اور امام نسائی و دار قطنی رحمھما اللہ نے اسے متروک کہا ہے. (میزان الاعتدال 3/56) 2 لیث بن ابی سلیم:صدوق ہے لیکن اسے اختلاط ہوگیا تھا اور اس کی حدیث متمیز نہیں ہے لھذا اسے چھوڑ دیا گیا.(تقریب التھزیب 1/138) 3طلحہ بن مصرف:یہ مجھول ہے.(تقریب التھزیب.1/380) ایک روایت میں ہے(مسح الرقبۃ امان من الغل) گردن کا مسح خیانت سے امان (کا باعث)ہے. امام ابن صلاح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تو معروف نہیں البتہ بعض سلف کا قول ہے(نیل الاطار 1/254) اور امام نووی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے,(المجموع 2/489) طالب دعا,مظفر اکبر وانی سلفی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں