1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گردے کے مریض کی ڈائلیسس Dialysis کے دوران نماز

'تاریخ عرب' میں موضوعات آغاز کردہ از danish ghaffar, ‏نومبر 04، 2018۔

  1. ‏نومبر 04، 2018 #1
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    السلام علیکم محترم شیوخ

    میری بہن گردے کے مرض میں مبتلہ ہے اور اس کی dialysis ہوتی ہے جس میں اسکا خون مشین میں جا کر صاف ہوکر واپس جسم میں داخل ہوتا ہے اگر اس دوران نماز کا وقت ہو جائے تو کیا وہ تیمم کر کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟؟؟؟ خون کا خروج کرنا اور پھر داخل کرنا کیا اس سے نماز میں کوئی مسلہ پیش ہوگا ؟؟؟

    جزاک اللّه خیراً کثیرا
    السلام علیکم
     
  2. ‏نومبر 05، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,189
    موصول شکریہ جات:
    2,367
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    مشہور سعودی مفتی شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازؒ نےاس سوال کے جواب میں فتویٰ دیا ہے کہ :
    كيف يصلي من وافق وقت غسيل الكلى له وقت الصلاة؟
    س: سماحة الشيخ عبدالعزيز بن عبدالله بن باز حفظه الله. السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، وبعد:
    فأنا شخص مصاب بمرض الكلى وأغسل في الأسبوع ثلاث مرات، وعندما أنام على سرير الغسيل وتشد في ليات الغسيل أمكث تحت الغسيل أربع ساعات، ويكون أذان المغرب في بعض المرات وأنا في الغسيل ولا أستطيع التحرك من مكاني ولا أستطيع الوضوء وأنا بالحالة هذه. فهل أعتبر معذورًا إذا أخرت الصلاة حتى يخرج وقتها، أو أصلي وأنا على حالتي وبدون وضوء مع أنني حسب حالة الكرسي قد كون متجهًا لغير القبلة؟ أفتوني مأجورين عما يجب علي.

    ترجمہ :سوال : فضیلۃ الشیخ عبدالعزيز بن عبدالله بن باز حفظه الله. السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، وبعد:
    "میں گردوں کے مرض میں مبتلا ہوں ،اور ہفتہ میں تین دفعہ "ڈائلیسس " کے عمل سے گزرتا ہوں ،
    اس عمل میں چار گھنٹے صرف ہوتے ہیں ،اور اس دوران میں اپنی جگہ سے ہل جل نہیں سکتا، اور نہ وضوء کرسکتا ہوں ، تو اس عذر کے سبب نماز مؤخر کرسکتا ہوں ؟ یعنی فرض نماز کو اس کے مقررہ وقت کے بعد ادا کرسکتا ہوں ،
    یا اس ڈائلیسس کے عمل کے دوران بغیر وضوء وہیں کرسی پرنماز پڑھ سکتا ہوں ، ؟
    شرعاً مجھ پر جوصورت واجب ہے اس کے متعلق فتوی دے کر اجر کے مستحق بنیں ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ج: وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته.
    بعده: المشروع في مثل هذه الحال جمع التقديم أو التأخير، فإن كان إجراء العملية في وقت الأولى شرع لكم الجمع جمع تقديم بين المغرب والعشاء، أما إن أجريت العملية قبل دخول وقت المغرب، أو في أوله ولم يمكن جمع التقديم فإن السنة تأخير المغرب مع العشاء جمع تأخير، لأنك مريض وهكذا حكم المريض، وهكذا المسافر إذا كان على ظهر سير فإنه يجمع جمع تقديم إذا كان يرتحل من مكانه في وقت الأولى، أما إن كان ارتحاله قبل دخول وقت الأولى فإنه يجمع جمع تأخير، وهذا هو الثابت عن النبي ﷺ، وهكذا حكم الظهر والعصر في حق المريض والمسافر.
    نسأل الله لك ولجميع المسلمين الشفاء والعافية من كل سوء.
    وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته :
    Dialysisایسی حالت میں شریعت نے دو نمازیں جمع کرکے پڑھنے کی صورت رکھی ہے ، جمع تقدم (یعنی ظہرکے وقت میں ظہر اور عصر جمع کرلی جائے )۔۔۔۔ یا جمع مؤخر (یعنی عصر کے وقت میں ظہر و عصر جمع کرلیں ،) اور اگر ڈائلسس کا عمل نماز مغرب سے پہلے شروع کیا جائے تو نمازمغرب کو عشاء کے ساتھ پڑھ لیا جائے ،کیونکہ مریض کیلئے شریعت نے یہ سہولت رکھی ہے ،اسی طرح مسافر اگر ظہر کے وقت سفر شروع کرے تو دو نمازوں کو جمع مقدم (یعنی نماز عصر کو بھی نماز ظہر کے ساتھ ادا کرلے ) اور اگر پہلی نماز کے وقت شروع ہونے سے پہلے سفر شروع کیا تو جمع مؤخر کرلے ( یعنی ظہر کو مؤخر کے عصر کے ساتھ پڑھ لے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح ثابت ہے ۔اور اسی طرح ظہر و عصر کا مریض اور مسافر کیلئے حکم ہے ۔

    ہم اللہ تعالی سے آپ اور دیگر تمام اہل اسلام کیلئے شفاء و عافیت کے طلبگار ہیں ،

    مفتي عام المملكة العربية السعودية
    عبدالعزيز بن عبدالله بن باز
    سؤال شخصي موجه من ص. ب. من الرياض بالمملكة العربية السعودية. (مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 12/253).
    لنک فتوی
    https://binbaz.org.sa/fatwas/5011/
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 05، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,189
    موصول شکریہ جات:
    2,367
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    شرعی احکام کی تحقیق اور فتوی کیلئے سعودی عرب کے جیدعلماء کی کمیٹی
    (اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء )
    کا فتوی ہے کہ:
    من ابتلي بغسيل الكلى هل يجمع الصلاة
    الفتوى رقم ( 18780 )
    س: ما حكم الذين يذهبون إلى المستشفى من أجل غسيل كلى؟ البعض يذهب قبل صلاة الظهر وتفوته صلاة الظهر وصلاة العصر ولم ينته إلا بعد صلاة العصر بساعة واحدة، يذهب قبل العصر وتفوته صلاة العصر وصلاة المغرب بعد ساعة، فما الحكم في ذلك؟
    ج : إذا كان الواقع هو ما ذكره السائل من بدء العملية قبل دخول وقت الظهر فإنه يؤخر الظهر ويصليها مع العصر جمع
    تأخير، كسائر المرضى الذين يجوز لهم الجمع، أما إن كان إجراء عملية الغسيل بعد دخول وقت الظهر ولا تنتهي إلا بعد خروج وقت صلاة العصر فإنه يشرع للمريض حينئذ أن يصلي العصر مع الظهر جمع تقديم، وهكذا المغرب مع العشاء إن أجريت العملية قبل دخول وقت المغرب أخرها مع العشاء وصلاهما جميعًا جمع تأخير، أما إن كانت العملية بعد دخول وقت المغرب وتنتهي في وقت العشاء فإنه لا حاجة لجمع العشاء مع المغرب لاتساع وقت العشاء، وإن جمع بينهما جمع تقديم فلا حرج، كسائر المرضى المحتاجين لذلك. شفاهم الله.
    وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء

    ( الجزء رقم : 6، الصفحة رقم: 370)

    مفتیان کرام :
    شیخ بكر أبو زيد شیخصالح الفوزان شیخعبد الله بن غديان شیخعبد العزيز آل الشيخعبد العزيز بن عبد الله بن باز
    ترجمہ ؛
    عنوان :
    وہ آدمی جسے گردے کی صفائی کے لئے بار بار ڈائيليسس کرانا پڑتا ہو کيا وہ جمع بين الصلاتين کرسکتا ہے؟
    فتوى نمبر:18780

    س: ان لوگوں کے لئے کيا حکم ہے جو گردے کی صفائی کے لئے بار بار اسپتال جاتے ہيں، بعض لوگ نمازِ ظہر سے پہلے جاتے ہيں تو ان کی ظہر اور عصر کی نماز فوت ہوتی ہے، کیونکہ یہ لوگ عصر کے ايک گھنٹہ بعد اس سے فارغ ہوتے ہیں، اور کبھی عصر سے پہلے جاتے ہيں تو عصر اور مغرب کی نماز فوت ہوتی ہے؛ کيوں کہ فراغت مغرب کے ايک گھنٹہ بعد ہوتی ہے، تو اسكا كيا حكم ہے ؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــ
    جواب: مذکورہ صورت ميں اگر صفائی کی کاروائی وقت ظہر کے دخول سے پہلے شروع ہوتی ہے، تو ايسی صورت ميں جمع تاخير کرتے ہوئے ظہر کو مؤخر کرکے عصر کے ساتھـ پڑھے، ديگر ان مريضوں کی طرح جن کے لئے جمع کرنا جائز ہے، اگر ڈائليسس کا عمل وقت ظہر کے دخول کے بعد شروع ہوتا ہے اور فراغت وقت عصر کے نکلنے کے بعد ہوتی ہے تو ايسی صورت ميں مريض کے لئے مشروع ہے کہ وہ جمع تقديم کرتے ہوئے عصر کو ظہر کے ساتھـ پڑھ لے، اسی طرح مغرب اورعشاء کا معاملہ ہے: اگر صفائی کا عمل وقت مغرب کے دخول سے پہلے شروع ہوتا ہے تو جمع تاخير کرتے ہوئے مغرب کو مؤخر کرکے عشاء کے ساتھـ پڑھے، اور اگر اس عمل کا آغاز وقت مغرب کے دخول کے بعد ہوتا ہے اور عشاء کے وقت ميں ختم ہوجاتا ہے، تو عشاء کو مغرب کے ساتھـ جمع کرنے کی کوئی ضرورت نہيں ہے کيوں کہ عشاء کا وقت میں بہت زیادہ گنجائش ہے۔ اور اگر دونوں کے مابين جمع تقديم کرے تو ديگر ضرورت مند مريضوں کی طرح ايسا کرنے ميں کوئی حرج نہيں ہے۔ اللہ تمام بيماروں کو شفايابی عطا فرمائے۔
    وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔
    علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

    بکرابوزید صالح الفوزان عبد اللہ بن غدیان عبد العزیزآل شيخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز
    ربط فتوی
     
  4. ‏نومبر 05، 2018 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,189
    موصول شکریہ جات:
    2,367
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    اور شیخ محمد بن صالح بن العثیمینؒ کا اس مسئلہ پر فتوی درج ذیل ہے :
    اور شیخ ابن العثیمینؒ کا اس مسئلہ پر فتوی درج ذیل ہے :
    السائل عبد الكريم الزهراني من المدينة المنورة يقول في هذا السؤال أفتونا يا فضيلة الشيخ فيما يعمل غسيل كلى هل خروج الدم أثناء غسيل الكُلى ينقض الوضوء وكيف يصوم ويصلى أثناء الغسيل الكلوي بالنسبة لكبار السن قد يتوافق غسيل الدم أثناء قيام الصلاة وجهونا في ذلك؟

    فأجاب رحمه الله تعالى: أما نقض الوضوء فإنه لا ينقض الوضوء وذلك لأن القول الراجح من أقوال العلماء أن الخارج من البدن لا ينقض الوضوء إلا ما خرج من السبيلين فما خرج من السبيلين فهو ناقض للوضوء سواء كان بولاً أم غائطاً أم رطوبة أم ريحاً كل ماخرج من السبيلين فانه ناقض للوضوء وأما ما خرج من غير السبيلين كالرعاف يخرج من الأنف والدم يخرج من الجرح وما أشبه ذلك فإنه لا ينقض الوضوء لا قليلهُ ولا كثيرهُ وعلى هذا فغسيل الكلى لا ينقض الوضوء

    جواب :
    ڈائلیسس کے دوران کے دوران نکلنے والے خون سے وضوء نہیں ٹوٹتا ، کیونکہ علماء کے راجح قول کے مطابق پیشاب کی جگہوں سے نکلنے والے خون کے علاوہ انسانی جسم سے نکلنے والے خون سے وضوء نہیں ٹوٹتا ، صرف سبیلین سے نکلنے والا خون یا کوئی اور مواد ہی ناقض وضوء ہے ، اس کے علاوہ انسانی جسم سے نکلنے والا خون نکسیر کی صورت میں ہو یا کسی زخم سے نکلے اس سے وضوء نہیں ٹوٹتا ، خواہ خون کی مقدار قلیل ہو یا کثیر ، اس بناء پر ڈائلیسس سے بھی وضوء نہیں ٹوٹتا،​
    أما بالنسبة للصلاة فإنه يمكن أن يجمع الرجل المصاب بين الظهر والعصر وبين المغرب والعشاء وينسق مع الطبيب المباشر في الوقت بحيث يكون الغسيل لا يستوعب أكثر من نصف النهار لئلا تفوته الظهر والعصر في وقتيهما فيقول له مثلا أخر الغسيل عن الزوال بمقدار ما صلى به الظهر والعصر أو قدمه حتى أتمكن من صلاتي الظهر والعصر قبل خروج وقت العصر المهم أنه يجوز له الجمع دون تأخير الصلاة عن وقتها وعلى هذا فلا بد من التنسيق مع الطبيب المباشر
    جہاں تک ڈائلیسس کے دوران نماز کا مسئلہ ہے تو اس صورت میں دو نمازیں جمع بھی کی جاسکتی ہیں ، ظہر و عصر یا مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھ لی جائیں ،اور ڈاکٹر سے ایسا وقت مقرر کرلیا جائے جس میں دو نمازیں مثلاً زوال کے بعدظہر اور عصر جمع کرنا ممکن ہوجائے ، تاکہ نماز اپنے وقت سے مؤخر نہ ہو ، یا اس طرح ڈاکٹر سے مل ایسا وقت لے کرکوئی اور صورت جس میں نماز فوت نہ ہو ،

    (فتاوى نور على الدرب للعثيمين )
    http://shamela.ws/browse.php/book-2300/page-3984#page-3984
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں