1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گستاخ رسول خارجی اوراحادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از بہرام, ‏اگست 29، 2012۔

  1. ‏اگست 29، 2012 #1
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    صحیح بخاری
    کتاب المغازی
    باب: حجۃ الوداع سے پہلے علی بن ابی طالب اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا

    حدیث نمبر: 4351

    حدثنا قتيبة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا عبد الواحد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عمارة بن القعقاع بن شبرمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا عبد الرحمن بن أبي نعم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال سمعت أبا سعيد الخدري،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يقول بعث علي بن أبي طالب ـ رضى الله عنه ـ إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليمن بذهيبة في أديم مقروظ لم تحصل من ترابها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال فقسمها بين أربعة نفر بين عيينة بن بدر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأقرع بن حابس وزيد الخيل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والرابع إما علقمة وإما عامر بن الطفيل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال رجل من أصحابه كنا نحن أحق بهذا من هؤلاء‏.‏ قال فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ ألا تأمنوني وأنا أمين من في السماء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يأتيني خبر السماء صباحا ومساء ‏"‏‏.‏ قال فقام رجل غائر العينين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ مشرف الوجنتين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ناشز الجبهة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ كث اللحية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ محلوق الرأس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ مشمر الإزار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال يا رسول الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اتق الله‏.‏ قال ‏"‏ ويلك أولست أحق أهل الأرض أن يتقي الله ‏"‏‏.‏ قال ثم ولى الرجل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال خالد بن الوليد يا رسول الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ألا أضرب عنقه قال ‏"‏ لا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لعله أن يكون يصلي ‏"‏‏.‏ فقال خالد وكم من مصل يقول بلسانه ما ليس في قلبه‏.‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إني لم أومر أن أنقب قلوب الناس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولا أشق بطونهم ‏"‏ قال ثم نظر إليه وهو مقف فقال ‏"‏ إنه يخرج من ضئضئ هذا قوم يتلون كتاب الله رطبا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا يجاوز حناجرهم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ‏"‏‏.‏ وأظنه قال ‏"‏ لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل ثمود ‏"‏‏.‏

    ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے عمار ہ بن قعقاع بن شبر مہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نعیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ یمن سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دئے ہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے۔ ان سے (کان کی) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ رضی اللہ عنہم تھے یا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے اس پر کہا کہ ان لوگوں سے زیا دہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومعلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور اس کی جو آسمان پر ہے وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا، تہبند اٹھائے ہوئے تھا، کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! اللہ سے ڈرئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس تجھ پر کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں۔ راوی نے بیان کیا پھر وہ شخص چلا گیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو اس پر خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا حکم نہیں ہوا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔ راوی نے کہا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے اور میر ا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا، اگر میں ان کے دورمیں ہوا تو ثمود کی قوم کی طرح ان کو با لکل قتل کر ڈالوں گا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صحیح بخاری
    کتاب استتابہ المرتدین
    باب: خارجیوں اور بے دینوں سے ان پر دلیل قائم کر کے لڑنا
    وقول الله تعالى ‏ {‏ وما كان الله ليضل قوما بعد إذ هداهم حتى يبين لهم ما يتقون‏}‏‏.‏ وكان ابن عمر يراهم شرار خلق الله وقال إنهم انطلقوا إلى آيات نزلت في الكفار فجعلوها على المؤمنين‏.‏

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتاکہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد (یعنی ایمان کی توفیق دینے کے بعد) ان سے مواخذہ کرے جب تک ان سے بیان نہ کرے کہ فلاں فلاں کاموں سے بچے رہو اور حضرت عبداللہ بن عمر (اس کو طبری نے وصل کیا) خارجی لوگوں کو بدترین خلق اللہ سمجھتے تھے، کہتے تھے انہوں نے کیا کیا جو آیتیں کافروں کے باب میں اتری تھیں ان کو مسلمانوں پر چسپاں کر دیا۔
    حدیث نمبر: 6930
    حدثنا عمر بن حفص بن غياث،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا أبي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا الأعمش،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا خيثمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا سويد بن غفلة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال علي ـ رضى الله عنه ـ إذا حدثتكم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا فوالله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لأن أخر من السماء أحب إلى من أن أكذب عليه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإذا حدثتكم فيما بيني وبينكم فإن الحرب خدعة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ سيخرج قوم في آخر الزمان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حداث الأسنان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ سفهاء الأحلام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يقولون من خير قول البرية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا يجاوز إيمانهم حناجرهم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأينما لقيتموهم فاقتلوهم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإن في قتلهم أجرا لمن قتلهم يوم القيامة ‏"‏‏.‏

    ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم ہمارے سے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ہم سے خیثمہ بن عبدالرحمٰن نے، کہا ہم سے سوید بن غفلہ نے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا جب میں تم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو قسم خدا کی اگر میں آسمان سے نیچے گرپڑوں یہ مجھ کو اس سے اچھا لگتا ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھوں ہاں جب مجھ میں تم میں آپس میں گفتگو ہو تو اس میں بنا کر بات کہنے میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے) لڑائی تدبیر اور مکر کا نام ہے۔ دیکھو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے اخیر زمانہ قریب ہے جب ایسے لوگ مسلمانوں میں نکلیں گے جو نوعمر بیوقوف ہوں گے (ان کی عقل میں فتور ہو گا) ظاہر میں تو ساری خلق کے کلاموں میں جو بہتر ہے (یعنی حدیث شریف) وہ پڑھیں گے مگر درحقیقت ایمان کا نور ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور سے پار نکل جاتا ہے۔ (اس میں کچھ لگا نہیں رہتا) تم ان لوگوں کو جہاں پانا بے تامل قتل کرنا، ان کو جہاں پاؤ قتل کرنے میں قیامت کے دن ثواب ملے گا۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔​
     
  2. ‏اگست 30، 2012 #2
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    صحیح بخاری
    کتاب استتابہ المرتدین
    باب: دل ملانے کے لیے کسی مصلحت سے کہ لوگوں میں نفرت نہ پیدا ہوخارجیوں کو نہ قتل کرنا
    حدیث نمبر: 6933

    حدثنا عبد الله بن محمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا معمر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي سلمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي سعيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال بينا النبي صلى الله عليه وسلم يقسم جاء عبد الله بن ذي الخويصرة التميمي فقال اعدل يا رسول الله‏.‏ فقال ‏"‏ ويلك من يعدل إذا لم أعدل ‏"‏‏.‏ قال عمر بن الخطاب دعني أضرب عنقه‏.‏ قال ‏"‏ دعه فإن له أصحابا يحقر أحدكم صلاته مع صلاته،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وصيامه مع صيامه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ينظر في قذذه فلا يوجد فيه شىء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ينظر في نصله فلا يوجد فيه شىء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم ينظر في رصافه فلا يوجد فيه شىء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم ينظر في نضيه فلا يوجد فيه شىء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قد سبق الفرث والدم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ آيتهم رجل إحدى يديه ـ أو قال ثدييه ـ مثل ثدى المرأة ـ أو قال مثل البضعة ـ تدردر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يخرجون على حين فرقة من الناس ‏"‏‏.‏ قال أبو سعيد أشهد سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم وأشهد أن عليا قتلهم وأنا معه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ جيء بالرجل على النعت الذي نعته النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏ قال فنزلت فيه ‏ {‏ ومنهم من يلمزك في الصدقات‏}‏‏.‏

    ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرما رہے تھے کہ عبداللہ بن ذی الخویصرہ تمیمی آیا اور کہا یا رسول اللہ! انصاف کیجئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاافسوس اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو اورکون کرے گا۔ اس پر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس کے کچھ ایسے ساتھی ہوں گے کہ ان کی نماز اور روزے کے سامنے تم اپنی نماز اور روزے کو حقیر سمجھوگے لیکن وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر جانور میں سے باہر نکل جاتا ہے۔ تیر کے پر کو دیکھا جائے لیکن اس پر کوئی نشان نہیں پھر اس پیکان کو دیکھا جائے اور وہاں بھی کوئی نشان نہیں پھر اس کے باڑ کو دیکھا جائے اور یہاں بھی کوئی نشان نہیں پھر اس کی لکڑی کو دیکھا جائے اور وہاں بھی کوئی نشان نہیں کیونکہ وہ (جانور کے جسم سے تیر چلایاگیا تھا) لید گوبر اور خون سب سے آگے (بے داغ) نکل گیا (اسی طرح وہ لوگ اسلام سے صاف نکل جائیں گے) ان کی نشانی ایک مرد ہو گا جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح یا یوں فرمایا کہ گوشت کے تھل تھل کرتے لوتھڑے کی طرح ہو گا۔ یہ لوگ مسلمانوں میں پھوٹ کے زمانہ میں پیدا ہوں گے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہروان میں ان سے جنگ کی تھی اور میں اس جنگ میں ان کے ساتھ تھا اور ان کے پاس ان لوگوں کے ایک شخص کو قیدی بنا کر لایا گیا تو اس میں وہی تمام چیزیں تھیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھیں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی کہ ”ان میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کے صدقات کی تقسیم میں عیب پکڑتے ہیں“۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔​
     
  3. ‏اگست 30، 2012 #3
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    صحیح بخاری
    کتاب التوحید والرد علی الجہیمۃ
    باب: سورۃ المعارج میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ”فرشتے اور روح القدس اس کی طرف چڑھتے ہیں“۔
    حدیث نمبر: 7432

    حدثنا قبيصة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا سفيان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن أبي نعم ـ أو أبي نعم شك قبيصة ـ عن أبي سعيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال بعث إلى النبي صلى الله عليه وسلم بذهيبة فقسمها بين أربعة‏.‏ وحدثني إسحاق بن نصر حدثنا عبد الرزاق أخبرنا سفيان عن أبيه عن ابن أبي نعم عن أبي سعيد الخدري قال بعث علي وهو باليمن إلى النبي صلى الله عليه وسلم بذهيبة في تربتها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقسمها بين الأقرع بن حابس الحنظلي ثم أحد بني مجاشع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبين عيينة بن بدر الفزاري،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبين علقمة بن علاثة العامري ثم أحد بني كلاب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبين زيد الخيل الطائي ثم أحد بني نبهان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فتغضبت قريش والأنصار فقالوا يعطيه صناديد أهل نجد ويدعنا قال ‏"‏ إنما أتألفهم ‏"‏‏.‏ فأقبل رجل غائر العينين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ناتئ الجبين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ كث اللحية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ مشرف الوجنتين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ محلوق الرأس فقال يا محمد اتق الله‏.‏ فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فمن يطيع الله إذا عصيته فيأمني على أهل الأرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولا تأمنوني ‏"‏‏.‏ فسأل رجل من القوم ـ قتله أراه خالد بن الوليد ـ فمنعه النبي صلى الله عليه وسلم فلما ولى قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إن من ضئضئ هذا قوما يقرءون القرآن لا يجاوز حناجرهم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يمرقون من الإسلام مروق السهم من الرمية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يقتلون أهل الإسلام ويدعون أهل الأوثان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل عاد ‏"‏‏.‏


    ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی نعم یا ابو نعم نے۔۔۔ قبیصہ کو شک تھا۔۔۔ اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سونا بھیجا گیا تو آپ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔ اور مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ انہیں سفیان نے خبر دی ‘انہیں ان کے والد نے ‘ انہیں ابن ابی نعم نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچھ سونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اقرع بن حابس حنظی ‘ عیینہ بن بدری فزاری ‘ علقمہ بن علاثہ العامری اور زید الخیل الطائی میں تقسیم کر دیا۔ اس پر قریش اور انصار کو غصہ آ گیا اور انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نجد کے رئیسوں کو تو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک مصلحت کے لئے ان کا دل بہلا تا ہوں۔ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں ‘ پیشانی ابھری ہوئی تھی ‘ داڑھی گھنی تھی ‘ دونوں کلے پھولے ہوئے تھے اور سر گٹھا ہوا تھا اس مردود نے کہا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے ڈر۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں بھی اس کی نافرمانی کروں گا تو پھر کون اس کی اطاعت کرے گا؟ اس نے مجھے زمین پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے۔ پھر حاضرین میں سے ایک صحابی حضرت خالد رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کی اجازت چاہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ پھر جب وہ جانے لگا تو آپ نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کے صرف لفظ پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ‘ وہ اسلام سے اس طرح نکال کر پھینک دئیے جائیں گے جس طرح تیر شکار ی جانور میں سے پار نکل جاتا ہے ‘ وہ اہل اسلام کو (کافر کہہ کر قتل کریں اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے اگر میں نے ان کا دور پایا تو انہیں قوم عاد کی طرح نیست و نابود کر دوں گا۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں