1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گم شدہ چیزوں کے متعلق مسجد میں اعلان کی شرعی کیا حیثیت ہے....؟

'مساجد' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏مئی 01، 2011۔

  1. ‏مئی 01، 2011 #1
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    سوال :گم شدہ چیزوں کے متعلق مسجد میں اعلان کی شرعی کیا حیثیت ہے....؟

    جواب:گم شدہ چیزوں کا مسجدمیں اعلان کرنا شرعاً درست نہیں ہے ۔حدیث میں ہے کہ اگر کوئی مسجد میں اپنی گم شدہ چیز تلاش کرتا ہے یا اس کا اعلان کرتا ہے تو اس کا جواب بایں الفاظ دیا جائے کہ:
    ’’ اللہ وہ چیز تمہیں واپس نہ کرے ، کیوں کہ مساجد کی تعمیر اس کا م کے لیے نہیں ہوتی ۔‘‘ (صحیح مسلم:1260)
    ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو لوگوں سے اپنے گم شدہ سرخ اونٹ کے متعلق دریافت کررہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
    ’’اللہ کرے تو اپنے اونٹ کو نہ پائے ، کیوں کہ مساجد جن مقاصد کے لیے تعمیر کی گئی ہیں انہیں کے لیے ہیں۔‘‘(صحیح مسلم:1262)
    یعنی مساجد تو اللہ کا ذکر ، نمازوں کی ادائیگی اور تلاوت قرآن پاک کے لیے بنائی جاتی ہیں۔
    (فتاویٰ اصحاب الحدیث ج1/ص 88)
     
  2. ‏ستمبر 07، 2011 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏ستمبر 08، 2011 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جزاک اللہ ساجد بھائی جان۔جہالت اور لاعلمی سمجھیے یا دین سے دوری آج کل یہ عمل مساجد میں کثرت سے ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔اللہ تعالی ہمیں صحیح طور پر شریعت پر چلنے کی توفیق دے۔
     
  4. ‏ستمبر 08، 2011 #4
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    جزاک اللہ خیرا
     
  5. ‏مئی 29، 2019 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِد لم تبن لهَذَا ". (رَوَاهُ مُسلم ،مشکوٰۃ المصابیح )
    ترجمہ :
    سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کہ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
    جوشخص کسی آدمی کو مسجد میں کسی گم شدہ چیز کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے سنے تو وہ کہے : اللہ (اس گمشدہ چیز کو) تمھیں نہ لوٹائے کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں ۔
    (صحیح مسلم،کتاب المساجد،حدیث نمبر_568)
    (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_473)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں