1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گنبد خضراء کا سایہ

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏مارچ 30، 2015۔

  1. ‏مارچ 30، 2015 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,268
    موصول شکریہ جات:
    356
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    11086499_828601343859953_349691907_o.jpg
    گنبد خضراء کا سایہ

    جس طرح عقل کے اندھوں نے نبی ﷺ کے سایہ کا انکار کیا اسی طرح ان جاہلوں نے گنبد خضراء کے سایہ بھی انکار کیا ، اور آج کل اسے کافی نشر کیا جارہا ہے ۔ جابجا اس طرح کی پوسٹ ملتی ہے ، اس سلسلے میں بعض سادہ لوح بھی مشکوک ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے مجھے اس سلسلہ میں ایک چھوٹی پوسٹ بنانی پڑ گئی ۔

    یہ شوشہ صرف اور صرف بریلویوں کا ہے ، اوریہ اس وجہ سے ہے کہ ان کی عمارت نمائش ، جھوٹ، ملع سازی، غلو اور شرک و بدعات پہ کھڑی ہے ۔

    یہ اگر نمائش نہ کرے تو حقیقت سے پردہ اٹھ جائے ۔

    یہ اگر جھوٹ نہ بولے تو ان کے اپنے بھی ساتھ چھوڑ جائیں ۔

    یہ اگر ملع سازی نہ کرے تو عوام پر ان کا بطلان واضح ہوجائے ۔

    یہ اگرغلو نہ کرے تو نبی کے نام پہ ان کا دنیاوی کاروبار ماند پڑ جائے ۔

    یہ اگرشرک نہ کرے تو مزارات کی فیکٹری بند ہوجائے ۔

    یہ اگربدعات کا ارتکاب نہ کرے تو بریلوی سماج میں ان کا چینل بند ہوجائے ۔

    وغیرہ وغیرہ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

    اتنا بڑا سفید جھوٹ " گنبدخضراء کا سایہ نہیں " ہے اگر اسے تالاب میں ڈال دیا جائے تو زہر گھل جائے ۔

    ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ نبی ﷺ کا بھی سایہ ہے اور گنبدخضراء کا بھی سایہ ہے ، اگر کوئی اس اٹل حقیقت کا بھی انکار کرے تو ایسا ہی ہے جیساکہ کہے سورج میں روشنی نہیں ۔ اور ایسا کہنے والے کاآپ جو بھی نام دیں ۔

    ٭ میں نے ایک امیج لگایا ہے اس میں صاف صاف گنبدخضراء کا سایہ نظر آرہا ہے ۔

    ٭ہر ایک دبیز و ٹھوس چیز کا سایہ ہوتا ہے ، اس کا انکار قدرت کے اٹل قانون کا انکار ہے ،کوئی کہے خانہ کعبہ کا سایہ نہیں وہ احمق ہے ۔

    ٭آپ کا کوئی جاننے والا جو مدینہ میں ہو ا سے دن میں مسجد نبوی بلاکر فون کرکے پوچھیں کہ گنبد کا سایہ ہے یا نہیں ۔

    ٭اگر اس سے بھی یقین نہ ہو تو خود زیارت مدینہ پہ آئیں اور اپنی آنکھیں چار کریں۔

    نہ ماننے والا ، اللہ کو بھی نہیں مانتا ایسے کو دہریہ کہتے ہیں اور ایک اٹل حقیقت کے منکر کو ہم منکر نہیں عقل کا اندھا کہتے ہیں ۔


    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمارے دین وایمان کی حفاظت فرما۔ آمین
     
  2. ‏مارچ 30، 2015 #2
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,268
    موصول شکریہ جات:
    356
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    اس پوسٹ پہ ایک بریلوی نے مجھ سےنبی ﷺ کے سایہ کے متعلق لمبی بحث کی ، جب اس کو اپنی دلیل کمزور معلوم ہوئی تو ظل کی تاویل شروع کی اور مجھ سے سوال کیا کہ ظل سے خاص نبی ﷺ کا جسمانی سایہ مراد ہے اس حصر کی کیا دلیل ہے کیونکہ ظل تو کئی معانی میں آیا ہے ۔

    میں نےکہا انسان کے لئے جب ظل کا استعمال ہوتا ہے تو اس سے اس کا جسمانی سایہ ہی مراد ہوتا ہے ، یہی عرف عام ہے ، اگر کوئی اس معنی سے ہٹ کر دوسرا معنی مراد لے تو اس کے لئے کوئی قرینہ صارفہ چاہئے ۔ بطور مثال اگر میں کہوں : " ظل عبدالرحمن" تو اس کا معنی صرف اور صرف یہی ہوگا " عبدالرحمن کا جسمانی سایہ " اگر اس معنی کو چھوڑکر دوسرا معنی مراد لیا جائے تو صحیح نہیں ۔ اور بغیر قرینہ کے دوسرا معنی مرادبھی نہیں لے سکتے ۔

    احادیث میں جسمانی سایہ کے حصر کی بھی دلیل ہے ۔

    مسلم شریف میں ہے۔وَقْتُ الظُّہْرِ اذا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجلِ کَطُوْله
    ’’ظہر کا وقت سورج ڈھلے سے شروع ہو کر آدمی کے قدر کے برابر سایہ ہو جانے تک ہے۔‘‘

    یہاں اس حدیث میں ظل سے صرف اور صرف انسانی سایہ مراد ہے اگر کوئی دوسرا معنی مراد لے تو عبث ہے ۔

    ایک دوسری روایت :

    صلی بی العصر حین صار ظل کل شئی مثلہ(ترمذی۔ ابو داؤد)

    ’’نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے عصر اس وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو چکا تھا۔‘‘

    یہ حدیث مزید واضح کردیتی ہے کہ اس ظل سے مراد صرف اور صرف ہرچیزکا جسمانی سایہ ہے ۔ اگر کوئی اس سے ہٹ کوئی دوسرا معنی مراد لیتا ہے تو پھر نماز کے اوقات اور اس کا سارا کا سار ا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔
     
  3. ‏اپریل 02، 2015 #3
    علی معاویہ بھائی بھائی

    علی معاویہ بھائی بھائی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 05، 2014
    پیغامات:
    196
    موصول شکریہ جات:
    40
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    بندہ ناچیز نے پچھلے ماہ عمرہ کی سعادت حاصل کی اور 8 دن مدینہ منورہ میں قیام رہا گنبد خضرہ کا سایہ خود بھی کئی بار دیکھا اور اپنے ساتھ گئے ہوئے دوستوں کو بھی دیکھایا بلکہ مسجد نبوی میں میرا ایک دوست "خادم " ہے اور ہر سوموار کو وہ باقی خدام کے ساتھ گنبد خضرہ والے حصہ چھت کی صٖفائی پر مامور ہے اس نے وہاں کی ویڈیو مجھے دیکھائی اس میں بھی سایہ صاف نظر آرہا ہے۔ یہ تو میرا ذاتی مشاہدہ ہے اب اس کے بعد بھی کوئی کہتا ہے کہ گنبد کا سایہ نہیں تو وہ کسی اچھے سے ڈاکٹر سے اپنی بدعتی آنکھوں کا علاج کروائے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں