1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گود میں کتنے بچوں نے بات کی ہے؟؟؟

'فہم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏اگست 12، 2016۔

  1. ‏اگست 12، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,231
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ.

    گود میں کتنے بچوں نے بات کی تھی اسکے سلسلے میں صحیحین میں حدیث ہے: لَم يتكلَّمْ في المهد إلا ثلاثة......الی آخر الحدیث

    اس حدیث میں تین کا ذکر ہے. جبکہ مسند احمد کی روایت میں چار کا ذکر ہے. لیکن وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے. حدیث کی تحقیق اسی فورم پر دیکھی ہے. اس تھریڈ میں تحقیق موجود ہے

    مزید یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ اصحاب اخدود کے واقعے میں جس بچے نے بات کی تھی کیا وہ دودھ پیتا بچہ تھا؟؟؟؟ اس سلسلے میں امام نووی رحمہ اللہ کا قول دیکھا. وہ کہتے ہیں:
    ذلك الصبي لم يكن في المهد ، بل كان أكبر من صاحب المهد وإن كان صغيرا
    براہ کرم اس اشکال کو رفع کریں.
    جزاکم اللہ خیرا.
     
  2. ‏اگست 17، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,231
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    یاد دہانی........
     
  3. ‏اگست 18، 2016 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,231
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

  4. ‏اگست 19، 2016 #4
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,500
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    محترم جناب @خضر حیات صاحب حفظہ اللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 19، 2016 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,123
    موصول شکریہ جات:
    8,176
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    تعداد کے سلسلے میں مختلف روایات ہیں ، مجموعی تعداد 6 سے زیاد بنتی ہے :
    1۔ عیسی علیہ السلام
    2۔ ابن جریج والا بچہ
    3۔ ماں کو ٹوکنے والا بچہ
    4۔ ماشطہ کا بچہ
    5۔ اصحاب اخدود والا بچہ
    (بقول حافظ ابن حجر صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے کہ یہ دودھ پیتا بچہ تھا )
    6۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی گواہی دینے والا بچہ
    تفصیل کے لیے دیکھیں : فتح الباری لابن حجر (ج6 ص 480 )
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    في رواية بن قتيبة أن الصبي الذي طرحته أمه في الأخدود كان بن سبعة أشهر وصرح بالمهد في حديث أبي هريرة وفيه تعقب على النووي في قوله إن صاحب الأخدود لم يكن في المهد فتح الباري لابن حجر (6/ 480)
    گویا امام نووی رحمہ اللہ کی بات مرجوح ہے ۔ واللہ اعلم ۔
    رہی یہ بات کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعداد تین میں محصور کی ہے ، تو اس سلسلے میں ابن حجر نے علامہ قرطبی سے یہ توجیہ نقل کی ہے ، کہ جس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ، اس وقت آپ کو اس قدر ہی علم تھا ۔ و اللہ اعلم بالصواب ۔
     
  6. ‏اگست 19، 2016 #6
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,231
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    جزاک اللہ خیرا محترم شیخ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں