1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گھر کی آفت سے بچنے کے لئے جانور پالنا

'محدث فتویٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏ستمبر 10، 2017۔

  1. ‏ستمبر 10، 2017 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,251
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    سوال :بہت سے لو گ گھر میں اس لئے جانور پالتے ہیں کہ اگر گھر میں کوئی آفت آئے گی تو پہلے جانور پر آئے گی ، اس قسم کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے ؟
    جواب :سب سے پہلے ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے اوپرجو بھی مصیبت نازل ہوتی ہے وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی ہےجیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ (الشورى:30)
    ترجمہ: تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے ، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے ۔
    ایک دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے :
    مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ
    ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ (النساء:79)
    ترجمہ: تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور جو بُرائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے ۔
    اگر اللہ کی طرف سے ناز ل شدہ ان مصائب سے ہمیں بچنا ہے تو جانوروں کوپالنے سے مصیبت نہیں ٹلے گی بلکہ اچھے اعمال کرنا پڑے گا اور جن برائیوں کی وجہ سے ایسے دن دیکھنے پڑے ان سے توبہ کرنا پڑے گا۔اللہ تعالی گناہوں اور برائیوں سے توبہ کرنے پر معاف کرنے کا وعدہ کرتا ہےاس کافرمان ہے :
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ(التحريم: 8)
    ترجمہ: اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔
    دیگر مصائب ومشکلات اور برائیوں سے بچاؤ اور ان کو مٹانے اور بخشوانے کا ذریعہ نیکی اور اعمال صالحہ انجام دینا ہے ، فرمان الہی ہے :
    إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ
    ۚ (هود: 114)
    ترجمہ: بے شک نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں۔
    جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جانور پالنے سے مصیبت ٹلتی ہے یا گھر کی مصیبت پہلے جانور پر نازل ہوتی ہے اس لئے گھر میں جانور پالنا چاہئے ایسے آدمی کا یہ عقیدہ باطل وفاسد ہے۔ یاد رکھیں آسمان میں جس کے لئے جس بلامیں گرفتار ہونے کااللہ کی طرف سے فیصلہ ہوجاتا ہے وہ بلا اسی شخص پرنازل ہوتی ہے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں سوائے اللہ تعالی کے، لہذا مومن کوقرآن سے ثابت یہی عقیدہ رکھنا چاہئے ،اللہ کا فرمان ہے :
    وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ
    ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الانعام: 17)
    ترجمہ: اور اگر تجھ کو اللہ تعالٰی کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا سوا اللہ تعالٰی کے اور کوئی نہیں اور اگر تجھ کو اللہ تعالٰی کوئی نفع پہنچائے تو وہ ہرچیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے ۔
    اس بات کو اللہ تعالی نے دوسرے پیرائے میں اس انداز میں بیان کیا ہے ۔
    أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ (النمل:62)
    ترجمہ: کون ہے جو بے قرار کی دُعا سنتا ہے جبکہ وہ اسے پکارے اور کون اسکی تکلیف کو دور کرتا ہے اور کون ہے جو تمہیں‌زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئ اِلہ بھی ہے؟،تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو۔
    مومن کو یہ عقیدہ بھی رکھنا چاہئے کہ اللہ کے سوا خواہ نبی ہو یا ولی کوئی بھی نفع ونقصان کا ذرہ برابر بھی مالک نہیں ،اللہ کا فرمان ہے :
    قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا(الجن:21)
    ترجمہ: کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں ۔
    اس آیت میں نبی ﷺ کا بیان ہے کہ میں تمہارے لئے کچھ بھی نفع ونقصان کا مالک نہیں ہوں ، اور جو غیر نبی ہیں خواہ ولی ، پیر،مرشد، عالم ، عابدکوئی بھی ہوں وہ بھلا کیسے بلاٹال سکتے ہیں اور نفع پہنچا سکتے ہیں؟ ۔ یہ بات اس وقت کی ہے جب نبی ﷺ باحیات تھے یعنی زندہ نبی کسی کے لئے نفع ونقصان کا مالک نہیں تو جو مردہ ہیں وہ بھلا زندوں کوکیا فائدہ پہنچاسکتے ہیں؟ آپ خود اندازہ لگالیں۔
    واللہ اعلم
    کتبہ
    مقبول احمدسلفی
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 11، 2017 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    بارک اللہ فیکم
     
  3. ‏ستمبر 11، 2017 #3
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,251
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں