1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ھِدایۃ المُستفید اُردُو ترجمہ فتح المجید شرح کتابُ التوحید

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 29، 2013۔

  1. ‏مئی 05، 2013 #31
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    کہانت اور غیب دانی کے بارے میں احکامِ شریعت کی وضاحت

    کہانت اور غیب دانی کے بارے میں احکامِ شریعت کی وضاحت
    باب: ماجاء فی الکُھّان و نحوھم

    اس باب میں کہانت اور غیب دانی کے بارے میں احکام شریعت کے وضاحت کی گئی ہے
    روی مسلم فیْ صحیحہٖ عن بعض ازواج النبِیْ صلی اللہ علیہ وسلم عن النبیْ صلی اللہ علیہ وسلم قال مَنْ أَتٰی عَرَّافًا فَسَأَلَہٗ عَنْ شَیْ ٍٔ فَصَدَّقَہٗ بِمَا یَقُوْلْ لَمْ تُقْبَلْ لَہٗ صَلٰوۃُ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًا
    صحیح مسلم میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج مطہرات سے مروی ہے کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ،
    رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے اکثر شیاطین فرشتوں کی بعض باتیں سن لیا کرتے تھے ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد آسمان پر کڑی نگرانی کردی گئی لہٰذا اب وہ بہت ہی مشکل سے کوئی بات سن پاتے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ یہ شیاطین بعض علاقوں کی خبریں دوسرے علاقوں کے کاہنوں کو بتادیتے ہیں ۔ جس سے جاہل لوگ ان کاہنوں کی کرامت اور کشف کے قائل ہوجاتے ہیں اور اکثر لوگ اس دھوکے میں مبتلا ہیں کہ ان کو بتانے والے اولیاء اﷲ ہیں جو بعض اوقات غیب کی خبریں بتا تے ہیں ۔ حالانکہ یہ سب کچھ شیاطین کی طرف سے کیا جارہا ہے ۔ اس کی وضاحت قرآن کریم میں کی گئی ہے ۔
    زیر نظر حدیث میں کاہنوں کے پاس جانے کی ممانعت کی گئی ہے ۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
    ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں مندرجہ ذیل الفاظ سے حدیث مروی ہے مزید برآں حاکم کا کہنا ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری اور مسلم کی شروط پر پوری اترتی ہے ۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
    مصنف رحمہ اللہ نے نے تو راوی کے نام کی جگہ خالی چھوڑدی تھی لیکن اس روایت کو امام احمد ، امام بہیقی اور حاکم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔
    اس حدیث میں کاہن اور جادوگر کے کفر پر واضح دلیل ہے کیونکہ یہ علم غیب کا دعویٰ کرتے ہیں جو سراسر کفر ہے او ر ان کی تصدیق کرنے والا بھی کافر ٹھہرا ۔ اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا علم غیب کا دعوٰی کرنا یاکسی کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ علم غیب جانتا ہے ، کفر ہے ۔ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت اس پر شاہد ہے :
    سورۃ الانعام (آیت۵۹)میں ارشادِ ربانی ہے:
    پس جو شخص عراف یا کاہن کی تصدیق کرتا ہے وہ مندرجہ بالا آیات سے کفر کا مرتکب ہوتاہے ۔ اور جوآیات سے کفر کرے وہ کافرہوجاتا ہے ۔
    وعن عمران بن حصین مرفوعًا لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ أَوْ تُطُیِّرَلَہٗ أَتَکَھَّنَ أَوْ تُکُھِّنَ لَہٗ أَوْ سَحَرَأَوْسُحِرَلَہٗ وَمَنْ أَتٰی کَاھِنًا فَصَدَّقَہٗ بِمَایَقُوْلُ فَقَدْکَفَرَ بِمَآ اُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم
    سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    یعنی جو شخص خود بدفال لے یاکسی شخص کے لئے کوئی دوسرا فال لے اور وہ شخص جو خود کاہن ہو یاکسی کاہن کے کہنے پر چلے ، اسی طرح وہ شخص جو خود جادو کرے یا اس کے لئے کوئی دوسرا شخص جادو کرے ۔ پس جو شخص بھی ان امور میں مبتلا ہوا ، اس سے رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم بے زار ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو شرک ہیں ۔ جیسے کسی چیز سے بدفال لینا ۔ اور بعض کفر ہیں جیسے کہانت اور جادو ۔ اور جو شخص ان پر رضامندی ظاہر کرے اور ان کی باتوں پر عمل کرے وہ ان کا ساتھی ہے ۔ اس لئے اس نے باطل اور کفر کو قبول کرکے اس پر عمل کیا ہے ۔
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے بارے میں جو حروف ابجد وغیرہ لکھ کر حساب کرتے اور نجوم سیکھتے ہیں، فرماتے ہیں کہ جو شخص ایسا عمل کرے اس کا آخرت میں کوئی حصہ اور اجر نہیں ہے ۔
    افسوس کہ لوگوں میں جو موجودہ جاہلیت پائی جاتی ہے وہ سابقہ دور جاہلیت سے بھی بدترین ہے جسے قرآن وحدیث بھی دور نہیں کرسکتے کیونکہ انہوں نے قرآن وحدیث کو پس پشت ڈال رکھا ہے اور یہی قرآن وحدیث ان کے خلاف بطور حجت پیش ہوگا ۔ لہٰذامسلمانوں کو ان لوگوں کی خوشنما پگڑیوں ، لمبی لمبی داڑھیوں اور خوب صورت چہروں کے جال میں نہ آنا چاہیے کیونکہ اس کے پس پردہ جہالت اور کور پن کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا ۔ اس میں شک نہیں کہ جو شخص ولایت کا دعوٰی کرتا ہے اور بعض پوشیدہ امور کی اطلاع دینے کو بطور دلیل پیش کرتا ہے وہ اولیاء الشیطان میں سے ہے ۔ نہ کہ اولیاء الرحمان میں سے ! کیونکہ اﷲ تعالیٰ اپنے مومن اور متقی بندے کے ہاتھ سے کرامت ظاہر کرتا ہے جیسے دعا قبول ہوجانا ۔ یا کوئی اچھا عمل سرزد ہوجانا ۔ جس میں اس مومن و متقی کو نہ کوئی دخل ہوتا ہے ، نہ طاقت ہوتی ہے اور نہ وہ اپنے ارادے سے یہ کام کرتا ہے ۔ برعکس ان شیاطین کے جو مغیبات اور پوشیدہ امور کی خبر دینے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔
    ہر شخص کو صحابہ کرام اور تابعین عظام کی زندگیوں کا مطالعہ کرناچاہیے جو تمام اولیاء کے سردار اور پیشوا تھے۔ کیا ان میں سے کسی نے بھی اس قسم کا غلط دعوٰے کیا ؟ اور کیا کوئی خلاف شریعت بات زبان سے نکالی ؟ اﷲ جانتا ہے! کبھی نہیں۔ بلکہ ان کی حالت تو یہ ہوتی تھی کہ قرآن کریم کی تلاوت کے وقت ان کی آنکھوں سے آنسوبند نہ ہوتے تھے ۔ اور ان کو اس بات کی طاقت نہ کہ اپنے آپ پر ضبط کرسکیں ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو لیجئے کہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت اتنا روتے کہ ہچکی بندھ جاتی اور سلسلہ تلاوت رک جاتا ۔ سیدنا عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کا یہ عالم تھا کہ نماز میں قرأت شروع کرتے تو پچھلی صفوں میں رونے کی آواز سنائی دیتی ۔ اور اکثر ایسا ہوا کہ رات کے وقت ذکر و اذکار میں اتنا روئے کہ بیمار پڑگئے ۔ اور کئی روز تک صحابہ کرام بیمار پرسی کے لئے تشریف لاتے رہے ۔

    تمیم داری کا یہ حال تھا کہ رات سونے کے لئے بستر پر تشریف لاتے تو جہنم کی آگ کا نقشہ سامنے آجاتا اور ساری ساری رات کروٹ بدلتے رہتے ۔ آخرنماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ۔ اگر آپ اولیاء اﷲ کی صفات دیکھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں تو سورۃ الرعد، سورۃ المومنون، سورۃ الفرقان ، سورۃ الذاریات ، اور سورۃ الطور کی تلاوت کیجیے ۔ آ پ کو اولیا ء اﷲ کی صفات کاعلم ہوجائے گا ۔ یہ اولیا ء اﷲ نہیں ہیں جو جھوٹے دعوے کرتے پھرتے ہیں ۔ اوراﷲ کی ان صفات کے خود مدعی ہیں جو اس نے اپنی ذات کے لئے مخصوص کی ہوئی ہیں ۔ جیسے کبریائی ، عظمت اور علم غیب وغیرہ ۔ ان کا دعوٰے غیب دانی ہی کفر ہے ۔ یہ ولی اﷲ کیسے بن سکتے ہیں ؟ ان جھوٹوں اور افتراپردازشیطانوں کی وجہ سے عوام الناس کی مصیبتوں میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔ جو نسلاً بعد نسل اپنے مشرک اباؤ اجداد سے یہ علوم سیکھ رہے ہیں ۔ اور سادہ لوح عوام کے دلوں پر چھائے ہوئے ہیں ۔ ہم سب کو اﷲ تعالیٰ دین حنیف پر ثابت قدم رہنے اور ان باطل امور سے مجتنب رہنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین ۔
    قرآن کریم میں مومنوں کی صفات کا جابجا تذکر ہ موجود ہے ۔ ان میں سے چند صفات یہ ہیں : (۱) ۔ اللہ کے وعدوں کو پورا کرتے ہیں۔ (۲) اپنے عہد و پیمان کو نہیں توڑتے ۔ (۳) صلہ رحمی کرتے ہیں ۔ (۴) اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ (۵) بڑے حساب کے تصور سے کپکپاجاتے ہیں ۔ (۶) اﷲ کی رضا کے لئے صبر کرتے ہیں ۔ (۷) نماز قائم کرتے ہیں ۔ (۸) اپنا مال اﷲ کی راہ میں رات دن خرچ کرتے ہیں ۔ (۹) برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے ہیں ۔ (۱۰) اﷲ کے ذکر سے ان کے دل مطمئن رہتے ہیں ۔ (۱۱) اچھے اچھے اعمال کرتے ہیں۔ (۱۲) زمیں پر آہستہ آہستہ چلتے ہیں ۔ (۱۳) جب جہلا سے ملتے ہیں تو سلام کہہ کر نکل جاتے ہیں ۔ (۱۴) رات کو قیام کرتے ہیں ۔ (۱۵)عذاب دوزخ سے ہمیشہ پناہ مانگتے ہیں ۔ (۱۶) خرچ کرتے ہیں تو اسراف نہیں کرتے ۔ (۱۷) بخیلی سے بھی کام نہیں لیتے ۔ (۱۸) اﷲ کے ساتھ کسی کو نہیں پکارتے ۔ (۱۹) کسی کو ناحق قتل نہیں کرتے ۔ (۲۰) جھوٹ نہیں بولتے ۔ (۲۱) لغویات میں وقت ضائع نہیں کرتے ۔ (۲۲)سحری کا وقت توبہ واستغفار میں گزارتے ہیں ۔ (۲۳) کسی سائل کو محروم نہیں کرتے ۔ (۲۴) زنا نہیں کرتے ۔

    ایسی صفات کے حاملین ہی اصل میں اولیاء اﷲ ہیں جن کو کسی قسم کا غم نہ ہوگا ۔
    قرآن کریم میں مومنوں کی بیشمار صفات مرقوم ہیں ، بلکہ قرآن کریم کی اکثر آیات ایمان اور اہل ایمان کے بارے میں مذکور ہیں ۔ حقیقت میں یہی لوگ اولیاء اﷲ ہیں ۔ جہالت اور گمراہی نے عوام کے دلوں پر ایسی گرفت کرلی ہے کہ ان لوگوں نے ایسے عظیم اوصاف اور اس بلند مرتبہ کو ، جو صرف اﷲ تعالیٰ کے خاص بندوں کا حصہ ہی ہے ، ایسے افراد میں بھی سمجھ لیا ہے جنہیں پاکیزگی اور گندگی کی بھی تمیز نہیں بلکہ وہ اپنے کپڑوں میں ہی پیشاب کرلیتے ہیں۔ انتہائی گندے اور میلے کچیلے رہتے ہیں ، نہ نماز پڑھتے ہیں نہ کوئی اچھا کام کرتے ہیں ۔ ان سے ہر نعمت چھن چکی ہے ، ان کے اندر اگر کوئی چیز باقی ہے تو وہ صرف حیوانیت ہے ۔
    ورواہ الطبرانی فی الاوسط باسناد حسن من حدیث ابن عباس دون قولہٖ ’’وَمَنْ أَتٰی کَا ہِنًا‘‘ قال البغوی أَلْعَرَّافُ الَّذِ یَدَّعِیْ مَعْرِفَۃَ الْاُمُوْرِ بِمُقَدَّمَاتٍ یُّسْتَدَلَّ بَھَا عَلَی الْمَسْرُوْقِ وَمَکَانَ الضَّآ لَّۃِ وَ نَحْوِ ذٰلِکَ وقیل ھُوَ الْکَاھِنُ وَ الْکَاھِنُ ھُوَ الَّذِیْ یُخْبِرُ عَنِ الْمُغِیْبَاتِ فِی الْمُسْتَقْبِلِ وقیل اَلَّذِیْ یُخْبِرُ عَمَّا فِی الضَّمِیْرِ
    طبرانی نے اوسط میں سند حسن سے یہی حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔ البتہ اس میں ’’وَمَنْ أَتٰی کَاھِنًا‘‘ سے آگے تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔امام بغوی رحمہ اللہ نے عراف کی تشریح میں بیان کیا ہے کہ جو شخص چند باتیں ملا کر مسروقہ چیز اور جائے سرقہ کی نشان دہی کردے اس کو عراف یعنی نجومی کہتے ہیں۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ جو شخص آئندہ آنے والی خبریں بتائے اس کو کاہن کہا جاتا ہے۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ جو شخص کسی کے دل کی بات بتائے وہ کاہن ہوتا ہے ۔
    وقال ابوالعباس بن تیمیہ اَلْعَرَّافُ إِسْمُ لِّلْکَاھنِ وَالْمُنَجِّمِ وَ الرَّمَّالِ وَ نَحْوِھِمْ مِمَّنْ یَّتَکَلَّمُ فِیْ مَعْرِفَۃِ الْاُمُوْرِ بِھٰذِہِ الطُّرُقِ
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص کہانت ، تنجیم اور علم رمل وغیرہ کی مدد سے بعض امور کی اطلاع دے اس کو عراف کہتے ہیں ۔
    وقال ابن عباس فِیْ قَوْمٍ یَکْتُبُوْنَ أَبَاجَادٍ وَ یَنْظُرُوْنَ فِیْ النُّجُوُمِ مَآ أَریٰ مَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ لَہٗ عِنْدَ اﷲِ مِنْ خَلَاقٍ
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے بارے میں جو حروف ابجد وغیرہ لکھ کر حساب کرتے اور نجوم سیکھتے ہیں، فرماتے ہیں کہ جو شخص ایسا عمل کرے اس کا آخرت میں کوئی حصہ اور اجر نہیں ہے ۔

    فیہ مسائل
    ٭ قرآن کریم پر ایمان اور کاہن کی تصدیق ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے ہیں ۔ ٭اس بات کی وضاحت کہ کاہن کی تصدیق کرنا کفر ہے ۔ ٭جس شخص کے لئے کہانت کی گئی ہو، اس کاحکم ۔ ٭جس کی شخص کے لئے فال لی گئی ہو اس کی وضاحت ۔ ٭جس شخص کے لئے جادو کیا گیا ہو اس کا حکم۔ ٭جو شخص حروف ابجد وغیرہ لکھ حساب کرتا ہے اس کے بارے میں حکم ۔ ٭کاہن اور عراف میں جو فرق ہے اس کی وضاحت ۔
     
  2. ‏مئی 06، 2013 #32
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جادُو اور جنوں وغیرہ کو نکالنے کے علاج کے متعلق اُمور
    باب: ماجآء فی النشرۃ

    اس باب میں جادو وغیرہ اور جنوں کو نکالنے کے علاج کے متعلق امور کا ذکر کیا گیا ہے ۔
    عن جابر أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم سُئِلَ عَنِ النُّشْرَۃِ فَقَالَ ھِیَ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ ۔
    علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی شخص سے جادُو دُور کرنے کو نشرہ کہتے ہیں اور یہ کام وُہی شخص کر سکتا ہے جو جادُو جانتا ہو۔ القاموس میں ہے کہ یہ بضم النون ہے۔ اس سے شیطانی عمل سے ترتیب دیا گیا نشرہ مراد ہے جو اہل جاہلیت کیا کرتے تھے۔
    وَقَالَ سُئِلَ أَحْمَدُعَنْھَا فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ یَکْرَہُ ھٰذَا کُلَّہٗ وفی البخاری عن قتادۃ رضی اللہ عنہ قلت لابن المُسَیِّب رَجُلٌ بِہٖ طِبٌّ أَو یُؤَخَّذُ عَنْ إِمْرَأَتِہٖ أَیُحَلُّ عَنْہُ أَوْ یُنَشَّرُ قَالَ لَا بَأْ سَ بِہٖ إِنَّمَا یُرِیْدُوْنَ بِہِ الْإِ صْلَاحَ فَأَمَّامَا یَنْفَعُ فَلَمْ یُنْھٰی عَنْہُ
    امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نشرہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو امام صاحب نے فرمایا کہ سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس سارے عمل کو مکروہ قرار دیتے تھے ۔ اور صحیح بخاری میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید ابن مسیب (( سے پوچھا کہ اگر کسی شخص پر جادو یا کوئی ایسا ٹوٹکا ہو جس سے وہ اپنی عورت کے پاس نہیں آسکتا ۔ آیا اس کا حل کیا جائے یا نشرہ کریں؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے اصلاح مقصود ہے اور جو چیز فائدہ مند ہو اس کے استعمال کی ممانعت نہیں ۔
    یہ سعید ابن المسیّب رضی اللہ عنہ کی رائے ہے جس سے ایسا نشرہ مراد ہے جو جادُو کی اقسام پر مبنی نہ ہو۔
    وَرُوی عَنِ الْحَسَن أَنَّہٗ قَالَ لَا یَحُلُّ السِّحْرَ إِلَّا سَاحِرٌ قال ابن القیم أَلنُّشْرَۃُ حَلُّ السِّحْرِ عَنِ الْمَسْحُوْرِ وَھِیَ نَوْعَانِ احدھما حَل بِسِحْرٍ مِّثْلِہٖ وَ ھُوَ الَّذِیْ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ وَ عَلَیْہِ یُحْمَلُ قَوْلُ الْحَسَنِ فَیَتَقَرَّبُ النَّاشِرُ وَالْمُنْشِرُ إِلَی الشَّیْطٰنِ بِمَا یُحِبُّ فَیُبْطِلُ عَمَلَہٗ عَنِ الْمَسْحُوْرِ والثانی أَلنُّشْرَۃُ بِا لرُّقْیَۃِ وَ التَّعَوُّذَاتِ وَ الْٔأَدْوِیَۃِ وَ الدَّعْوَاتِ الْمُبَاحَۃِ فَھٰذَا جَآئِزٌ
    امام حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ جادو کو جادوگر ہی دور کر سکتا ہے ۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جادو کیے گئے شخص سے جادو کو دور کرنا نشرہ کہلاتا ہے ۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی یہ ہے کہ جادو کو جادو ہی سے دور کیا جائے ۔ یہ شیطانی عمل ہے جو ناجائز ہے ۔ اس کی صورت یہ ہے کہ جادو دور کرنے والا اور جس پر جادو کا وار کیا گیا ہے ۔ دونوں ایسا فعل کرتے ہیں جس سے شیطان کا قرب حاصل ہوچنانچہ شیطان اپنا اثر دور کردیتا ہے ۔
    امام حسن بصری رحمہ اللہ کے مذکورہ بالا قول کو اسی پر محمول کیا جائے گا ۔
    جادُو دُور کرنے کے جواز میں جن احادیث کو پیش کیا گیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
    ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ، لیث بن ابی سلیم سے روایت کرتے ہیں، لیث بن ابی سلیم کہتے ہیں کہ مجھے یہ نسخہ تیر بہدف ملا ہے کہ مندرجہ ذیل آیات پڑھ کر پانی والے برتن میں پھونک کر مریض کے سر پر ڈال دیا جائے۔ ان شاء اللہ فوراً صحت یاب ہو جائے گا۔ آیات یہ ہیں: سورئہ یونس آیت نمبر ۸۱ تا ۸۲۔ سورئہ اعراف آیت نمبر ۱۱۸ تا ۱۲۱۔ اور سورئہ طہ آیت نمبر ۶۹۔
    ابن بطال نے کہا کہ وہب بن منبہ کی کتاب میں ہے کہ ’’بیری کے سات سبز اور تازہ پتے لے کر ان کو دو پتھروں میں پیس کر پانی میں ڈال دو اور اس پانی پر آیۃ الکرسی، چاروں قل پڑھ کر دم کر دو۔ اور پھر بیمار کو تین گھونٹ پلا دو اور باقی پانی سے وہ غسل کر لے۔ یہ نسخہ بیمار کے لئے تیر بہدف ثابت ہو گا، جبکہ جادُو کے ذریعے مرد کو بیوی کی مجامعت سے روک دیا گیا ہو‘‘۔

    فیہ مسائل
    ٭ جادو کا علاج جادو سے کرنے کی ممانعت ۔ ٭ ممنوع علاج اور جس علاج کی رخصت دی گئی ہے اس میں فرق کی وضاحت جس سے شبہات دور ہوجاتے ہیں ۔
     
  3. ‏مئی 06، 2013 #33
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    باب: شگون اور فال کے بارے میں شریعت کے احکام و مسائل
    باب :مَا جآ ءَ فِی التَّطَیُّرِ

    اس باب میں شگون او رفال کے بارے میں شریعت کے احکام بیان کیے گئے ہیں اور اس کو کسی قطعی فیصلے پر پہنچنے کا ذریعہ قرار دینے سے روکا گیا ہے۔
    قال اﷲ تعالیٰ اَلَآاِنَّمَا طٰئِرُھُمْ عِنْدَ اﷲِ وَ ٰلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (الاعراف : ۱۳۱)
    پرندے یا جانور وغیرہ سے فال لینے کو تطیر کہتے ہیں زیر نظر باب میں اس کی ممانعت پر بحث کی گئی ہے۔ مشرکین عرب کی یہ عادت تھی کہ کسی کام کو شروع کرنے سے قبل پرندوں اور حیوانات کے اڑنے اور گزر جانے سے فال لیتے تھے لیکن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس سے منع فرمایا اور اسے باطل قرار دیا اور امت کو بتا یا کہ یہ حرکت نہ حصول نفع کے لئے مؤثر ثابت ہوسکتی ہے اور نہ دفع ضر کے لئے ۔
    تطیر چونکہ ایک شیطانی اور شرکیہ عمل ہے جو توحید کے سراسر خلاف ہے اس لئے مصنف رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں اس کی تردیدفرمائی ہے ۔
    قولہ الا انما طآئرھم عند اﷲ
    پوری آیت کریمہ یہ ہے : ترجمہ:
    قولہ ولکن اکثرھم لا یعلمون
    یعنی ان کی اکثریت احمق اور جاہل ہے ، وہ عقل اور غور وفکر سے کام نہیں لیتے ۔ اگر ذرا بھی عقل وخرد سے کام لیں تو ان پر یہ بات عیاں ہوجائے کہ ہمارے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام کی ہدایات میں تو سراسر خیر برکت ، سعادت دارین اور کامیابی ہی کامیابی ہے ۔ اور ان انعامات سے وہی شخص بہرہ مند ہوسکتا ہے جو سچے دل سے ایمان لائے اور ہمارے پیغمبر کی اطاعت کرے ۔
    بعض اوقات کسی مریض کے پاس کوئی صحت مند شخص چلاجائے تو مشیت ایزدی سے اس مخالطت کی بنا پر صحت مند شخص اس مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اسی بنا پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    اور ایک دوسرے موقع پر فرمایا کہ :
    جہاں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہو ، اس جگہ کے متعلق فرمایا کہ :
    اس قسم کے تمام امراض ، تقدیر الٰہی سے پہنچتے ہیں فی نفسہ کوئی مرض متعدی نہیں ہے۔ امام احمد اور امام ترمذی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا:
    مطلب یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی وضاحت فرمادی ہے کہ اس قسم کی مصائب ومشکلات صرف اﷲ تعالیٰ کی قضاء قدر سے ظہور پذیر ہوتی ہیں ۔ انسان کو چاہیئے کہ وہ صحت وعافیت کی زندگی بسر کرے اور ان اسباب وعلل سے دامن کشاں رہے جن سے کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو ، جیسا کہ اسے حکم ہے کہ خواہ مخواہ آگ اور پانی میں نہ کود جائے ۔ کیونکہ ان کی فطرت اور جبلت میں یہ اثر پایا جاتا ہے کہ وہ انسان کو ہلاک کردیتے ہیں ۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ مجذوم کے پاس جانے سے پرہیز کرے ۔ اور ایسے شہر میں جانے کی کوشش نہ کرے جہاں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہو۔ کیونکہ وہاں جانا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دینے کے مترادف ہے ۔ اور اس بات کو قطعاً نہ بھولے کہ تمام اسباب کا پیدا کرنے والا اﷲ تعالیٰ ہے ۔ کسی دوسرے کی کوئی مجال اور طاقت نہیں کہ وہ کسی سبب کو سود مند یا ضرررساں بنادے ۔
    ہاں! البتہ جب توکل علی اللہ اور قضا و قدر پر ایمان مضبوط تر ہو جائے، اس قسم کے مریضوں کے پاس جانے میں انسان کے لرزش نہ پیدا ہو، اللہ تعالیٰ پر اعتماد و یقین کمال کی حد تک پہنچا ہوا ہو اور اس کے قلب میں یہ بات راسخ ہو چکی ہو کہ اللہ کی مرضی اور مشیت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، تو اس صورت میں بعض اوقات انسان اسباب پر حاوی ہو جاتا ہے اور خصوصاً جب کوئی خاص یا عام مصلحت ہو تو انسان کو ضرور جانا چاہیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کو بھی اسی پر محمول کیا جائے گا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجذوم کو پکڑا اور اپنے ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ:
    امام احمدرحمہ اللہ نے اس کو روایت کیا ہے اور یہ حدیث عبداللہ بن عمر اور سلمان فارسی سے بھی مروی ہے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے واقعے سے اس کی مزید تائید ہوتی ہے جبکہ آپ رضی اللہ عنہ نے زہر ہلاہل کے جام کو بسم اللہ پڑھ کر پی لیا اور اس زہر نے رتی بھر بھی تکلیف نہ پہنچائی۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص اور ابومسلم الخولانی رضی اللہ عنہما کو دیکھئے کہ وہ اپنی فوج سمیت سمندر کی سطح پر ایسے چلے جا رہے تھے جیسے خشکی پر محو سفر ہوں۔
    صحیح مسلم میں ایک روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بن الحکم نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم میں چند افراد ایسے بھی ہیں جو فالِ بد لیتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت فرمائی کہ ہے کہ اس قسم کا تشاؤم اور فالِ بد لینا انسان کے عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے۔ فی نفسہٖ کسی پرندے وغیرہ کے اُڑانے میں تطیر نہیں ہے کیونکہ انسان کا وہم، خوف کھانا اور اُس کا شرک میں مبتلا ہو جانا اس کے دیکھنے اور سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو اس امر کی پوری تفصیل سے آگاہ فرمایا اور اس قسم کے تطیر وغیرہ نقصانات اور فساد فی الدین کی وضاحت بیان فرمائی تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی کوئی علامت نہیں بیان کی اور نہ اس قسم کے خوف و ہراس کی کوئی وجہ جواز ہے تاکہ لوگوں کے دِل مطمئن رہیں ان میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت راسخ ہو جائے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ان کے سینوں میں مستحکم اور مضبوط تر ہو جائیں۔ یہی وہ مقصودِ اعظم ہے جس کی وضاحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت کا سلسلہ شروع کیا، اور اپنی مخلوق کی ہدایت کے لئے کتابیں بھی نازل فرمائیں، اسی مقصد توحید کی خاطر زمین و آسمان کی تخلیق کی، جنت اور دوزخ کے لئے توحید کو میزان قرار دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دلوں سے شرک و بدعت کی جڑوں کو کاٹا تاکہ لوگ اہل جہنم کے سے عمل سے دامن کشاں رہیں۔
    پس جو شخص توحید کی مضبوط رسی کو تھام لے، اور اللہ تعالیٰ پر توکل اور یقین کو پختہ کر لے تو طیرہ وغیرہ کے دل میں جاگزین ہونے سے پہلے ہی اسکی جڑیں کٹ جائیں گی اور اس کے تمام تخیلات باطلہ ختم ہو جائیں گے۔
    سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ ہمارے اوپر سے ایک پرندہ چیختا ہوا گزر گیا۔ ایک آدمی کہنے لگا ’’بھلائی ہے بھلائی ہے‘‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا کہ ’’دیکھو! اس میں خیر ہے نہ شر ہے‘‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سنتے ہی اس کی تردید اور ممانعت فرمائی کہ کہیں اس کے دِل میں خیر و شر کی تاثیر کا عقیدہ نہ پیدا ہو جائے۔
    چند احادیث اس قسم کی موجود ہیں جن سے بعض علماء نے فال لینے کا جواز پیش کیا ہے، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مندرجہ بالا ارشاد گرامی میں شوم وغیرہ کے اثبات کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی۔ حدیث کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض اشیاء کو منحوس اور بعض کو مبارک پیدا کرتا ہے۔ منحوس کے پاس جانے سے نحوست پیدا ہو جاتی ہے اور مبارک اجسام والے افراد سے خیر و برکت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ جیسے کسی کے ہاں صالح لڑکا پیدا ہو تو گھر میں چار چاند لگ جاتے ہیں، اور اگر منحوس لڑکا ہو تو اس کے شر سے سارا گھرانا برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ لہٰذا اس حدیث میں عورت، گھر اور گھوڑے کی بھی یہی صورت ہے کسی کو نیک بخت، منحوس اور صاحب ِ خیر پیدا کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ و اختیار میں ہے۔ دونوں صورتوں میں فقط اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کو دخل ہے، اللہ تعالیٰ مختلف اسباب و نتائج پیدا کرتا ہے جیسے کستوری سے خوشبو آئے گی جس سے انسان محظوظ ہوتا ہے اور لذت حاصل کرتا ہے اور گندگی سے بدبو آئے گی جس سے ہر انسان نفرت کرتا ہے۔ ان دونوںقسموں میں فرق واضح ہے۔ یہی صورت مذکورہ حدیث کی۔ پس مبارک و منحوس اشیاء اور تطیر میں فرق ہے، وہ ایک قسم ہے، اور یہ دوسری قسم‘‘۔
    ولھما عن انس قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا عَدْوٰی وَ لَا طِیَرَۃَ وَ یُعْجِبُنِی الْفَالُ قَالُوْا وَ مَا الْفَالُ قَالَ اَلْکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ
    ابو السعادات رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’فال خوشی، اور تکلیف دونوں حالتوں پر بولا جاتا ہے۔ البتہ طیرۃ تکلیف دہ حالت کے لئے خاص ہے۔ بعض اوقات خوشی کی حالت پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فال کو اس لئے پسند فرمایا ہے کہ جب لوگ اللہ کی طرف سے کسی فائدہ کی اُمید کریں گے اور کسی اچھے نتیجے کی توقع رکھیں گے تو ان کے حصول کے لئے خواہ سبب ہلکا پھلکا ہو یا بہت بڑا دونوں صورتوں میں خیر ہی ہو گی۔ اور اگر وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی اُمیدیں اور آرزوئیں ختم کر لیں گے تو سوائے مصائب کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ لیکن تطیر میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے بدگمانی اور مصائب کی توقع کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ تفاؤل کی صورت یہ ہے کہ جب مریض کسی کو یہ کہتا ہوا سنے کہ یا سالم! تو مریض کے دل میں فوراً یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اب میں بہت جلد صحت یاب ہو جاؤں گا۔ یا کوئی شخص اپنی کسی گم شدہ چیز کو تلاش کر رہا ہو اور وہ کسی کو یہ کہتا ہوا سنے کہ یا واجد! تو اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ میری چیز مجھے ضرور مل جائے گی۔ مندرجہ ذیل حدیث اس کی تائید کرتی ہے:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ فال کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھی بات کو فال کہتے ہیں‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ مجھے فال بہت اچھی لگتی ہے جس سے ثابت ہوا کہ فال اور چیز ہے اور طیرہ جس کی ممانعت کی گئی ہے، اور چیز ہے۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’فال کو پسند کرنے یا اس سے خوش ہونے میں شرک کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، بلکہ یہ انسانی فطرت اور طبیعت کے عین مطابق ہے کیونکہ فطرف انسانی ہر اُس چیز کو اچھا سمجھتی ہے جو اس کے ذوق کے مطابق ہو، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں دو چیزیں پسند ہیں، ایک خوشبو اور دوسری عورت‘‘۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو محبوب گردانتے تھے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی آواز سے اذان اور تلاوتِ قرآنِ کریم کو سننا بہت محبوب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھے اخلاق اور عمدہ خصلتوں اور عادتوں کو بہت پسند فرماتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اچھی چیز کو، اور جو اُس کے حصول کا ذریعہ اور وسیلہ ہو اُسے پسند فرماتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی طبیعت اور فطرت میں یہ صفت ودیعت فرما دی ہے کہ وہ ہر اچھے نام کو چاہتا اور اُس سے محبت کا خواہاں ہے جس کی وجہ سے انسان طبعی طور پر ان کی طرف میلان رکھتا ہے جیسے انسان کی طبیعت ہے، اسی طرح ان اشیاء کے ناموں میں بھی یہ تاثیر رکھ دی ہے جس سے انسان ان کا نام سنتے ہی خوشی اور مسرت محسوس کرنے لگتا ہے جیسے کامیابی و کامرانی، تندرستی اور سرخروئی اور مبارکبادی وغیرہ الفاظ سنتے ہی انسان کی طبیعت کھلکھلا اٹھتی ہے، دل مضبوط ہو جاتا ہے اور سینہ کھل جاتا ہے اور انسان کا جسم ایک تازگی محسوس کرنے لگتا ہے۔لیکن مذکورہ اوصاف کے خلاف اگر کوئی چیز انسان کے کان میں پڑے تو غم اور خوف کے آثار دکھائی دیتے ہیں، اور انسان کا جسم ایک گھٹن سی محسوس کرتا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ چیز دنیا میں مصائب و مشکلات کا پیش خیمہ بنتی ہے اور قوتِ ایمانی میں نقص اور کمی واقع ہو جاتی ہے، بعض اوقات تو یہ چیز انسان کے شرک میں مبتلا ہو جانے کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے‘‘۔
    حلیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    ولابی داوٗد بسند صحیح عن عقبۃ بن عامر قال ذُکِرَتِ الطِّیَرَۃُ عِنْدَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ أَحْسَنُھَا الْفَآلُ وَ لَا تَرُدُّ مُسْلِمًا فَاِذَا رَاٰی أَحَدُکُمْ مَا یَکْرَہُ فَلْیَقُلْ اَللّٰھُمَّ لَا یَاْتِیْ بِالْحَسَنٰتِ اِلَّا أَنْتَ وَ لَا یَدْفَعُ السَّیِّأٰتِ إِلَّا أَنْتَ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِکَ
    سنن ابوداؤد میں صحیح سند سے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فال بد کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے فال بہتر ہے ۔ اور یہ کسی مسلمان کو کسی مقصد سے باز نہیں رکھتی ۔ تم میں سے کوئی شخص ناپسند چیز دیکھے تو یہ دعاء کرے۔ ’’ اے اﷲ ، تیرے سوا کوئی بھلائی نہیں لاتا اور تیرے سوا کوئی برائی دور نہیں کرسکتا ۔ اور تیری مدد کے بغیر ہمیں نہ بھلائی کی طاقت ، نہ برائی سے بچنے کی ہمت ہے ۔
    قرآن کریم میں ہے:
    وعن ابن مسعود مرفوعًا اَلطِّیَرَۃُ شِرْکٌ الطِّیَرَۃُ شِرْکٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا وَ لٰکِنَّ اﷲَ یُذْھِبُہٗ بِالتَّوَکُّلِ رواہ ابوداؤد ، والترمذی وصحہ وَجَعَلَ أٰخِرَہٗ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ
    عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے کہ
    اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کرکے صحیح کہا اور آخری جملہ یعنی ’’وَمَا مِنَّا إِلَّا وَ لٰکِنَّ اﷲَ یُذْھِبُہٗ بِالتَّوَکُّلِ‘‘ کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے۔
    وَ لِاَحْمَدَ مِنْ حَدِیْثِ ابْنِ عَمْرٍ و مَنْ رَدَّتْہُ الطِّیَرَۃُ عَنْ حَاجَتِہٖ فَقَدْ أَشْرَکَ قَالُوْا فَمَا کَفَّارَۃُ ذٰلِکَ قَالَ أَنْ تَقُوْلَ اَللّٰھُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُکَ وَ لَا طَیْرَ إِلَّا طَیْرُکَ وَ لَآ إِلٰہَ غَیْرُکَ
    ترجمہ : مسند احمد میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    کسی چیز کو دیکھ کر یا سن کر اس کو منحوس سمجھتے ہوئے اپنے کام یا سفر سے رُک جانا شرک ہے لہٰذا جو شخص ایسا خلافِ شریعت عمل کرے گا وہ مشرک ہو گا۔ اور اس لحاظ سے کہ ایسے شخص نے اللہ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد نہیں کیا بلکہ غیر اللہ پر اعتماد کر لیا ہے اس لئے اس کے اس فعل میں شیطان کا عمل دخل اور اس کا حصہ پایا جائے گا۔

    ولہ من حدیث الفضل ابن عباس إِنَّمَا الطَِّیَرَۃُ مَا اَمْضَاکَ اَوْ رَدَّکَ
    مسند احمد میں سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فالِ بد یہ ہے کہ وہ تجھے کسی کام میں لگا دے یا روک دے۔
    جب کوئی شخص تطیر کے بعد اس کے مطابق عمل کرے یعنی یا تو اپنے کام سے رُک جائے یا اُس پر عمل شروع کر دے، تو یہی وہ حد فاصل ہے جسکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے، کیونکہ انسان تطیر پر اعتماد اور بھروسہ کر لیتا ہے۔ اور وہ فال جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا ہے اس میں اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہوتا ہے۔ اس میں صرف خوشی اور مسرت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے اور بس۔ اس امتیازی فرق کو بالکل نہ بھولنا چاہیئے۔

    فیہ مسائل
    ٭ اللہ تعالیٰ کے قول۔ ٭مرض کے متعدی ہونے کی نفی ۔ ٭فالِ بد کی نفی ۔ ٭اُلو سے فالِ بد کی ممانعت ۔ ٭صفر کے عقیدہ کی تردید ۔ ٭فال کی ممانعت نہیں بلکہ یہ مستحب ہے۔ ٭فال پر مفصل بحث اور اس کے تمام پہلوؤں کی وضاحت ۔ ٭اگر فال بد کے وساوس دل میں پیدا ہوجائیں اور انسان ان کو ناپسند کرے تو یہ تکلیف دہ نہیں ہوتے بلکہ اﷲ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد کی وجہ سے یہ وساوس ختم ہوجاتے ہیں ۔ ٭جس شخص کے دل میں اس قسم کے وساوس پیدا ہوجائیں ان کو رفع کرنے کی دعاء۔ ٭فال بد کے شرک ہونے کی تصریح ۔ ٭قابل مذمت تطیر سے پردہ اٹھاگیا ہے اور پوری تفصیل سے اس نشاندہی کی گئی ہے۔
     
  4. ‏مئی 06، 2013 #34
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    علم نجوم کے بارے میں شرعی احکام۔
    باب:ماجاء فِی التَّنْجِیْمِ

    اس باب میں علم نجوم کے بارے میں شرعی احکام کی وضاحت کی گئی ہے ۔
    قال البخاری فی صحیحہ قال قتادہ خَلَقَ اﷲُ ھٰذِہِ النُّجُوْمَ لِثَلَاثٍ زِیْنَۃً لِّلسَّمَآءِ وَرُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ عَلَامَاتٍ یُّھْتَدٰی بِھَا فَمَنْ تَأَوَّلَ فِیْھَا غَیْرَ ذٰلِکَ أَخْطَأَ وَ أَضَاعَ نَصِیْبَہٗ وَ کَلَّفَ مَا لَا عِلْمَ لَہٗ بِہٖ انتھی
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    الخطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    ایک دوسری روایت میں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    غور فرمائیے، تابعین کرام کے دور میں جو منکرات و بدعات پیدا ہو گئی تھیں ان کی تردید کس انداز سے امام موصوف نے کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب نے تردید کا حق ادا کر دیا ہے۔ مبتدعین کی بیہودگیاں ہر زمانے میں اور خصوصاً تابعین کے بعد سے آج تک بڑھتی ہی چلی گئی ہیں، جنہوں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ بعض مقامات میں کم ہیں اور بعض مقامات میں زیادہ۔ جو اللہ کا بندہ لوگوں کو ان سے روکتا ہے اور صحیح راستے کی نشان دہی کرتا ہے اس پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    قتادہ رحمہ اللہ کے زیر نظر اثر میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ستارے آسمانِ دنیا میں ہیں جیسا کہ ابن مردویہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:
    یعنی ان ستاروں سے سمندروں اور جنگلوں میں مشرق و مغرب، اور جنوب و شمال کی جہت کا پتہ لگایا جاتا ہے جس سے مسافر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
    اس آیت سے یہ ہرگز معلوم نہیں ہوتا کہ تم غیب کی باتیں معلوم کر لیتے ہو جیسا کہ نجومیوں کا دعویٰ ہے۔ اس کی تردید اس سے پہلے بتفصیل گذر چکی ہے۔ نجومیوں کے اس قول کی کوئی حقیقت نہیں ہے جیسا کہ جناب قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    سوال: نجومیوں کی بعض باتیں درست ثابت ہوتی ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
    جواب: نجومیوں کی بعض باتوں کی حیثیت وہی ہے جو کاہنوں کی ہے یہ ایک بات درست کہتے ہیں اور سو جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کی درست بات کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ بربنائے علم درست ہے بلکہ وہ اتفاقاً درست ثابت ہو جاتی ہے اس میں نجومی کا کمال نہیں ہے۔ پس جو شخص ان کو سچا سمجھتا ہے وہ آزمائش اور فتنے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت
    کے متعلق فرماتے ہیں کہ علامات کا لفظ پہلے کلام پر معطوف ہے۔ وہ کلام جس کو زمین کے متعلق بیان کیا ہے پھر زیادہ وضاحت کی اور آسمان کے بارے میں الگ فرمایاکہ ’’وَبِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ‘‘ (یعنی وہ ستاروں سے راستے تلاش کر لیتے ہیں)۔
    علم نجوم اور نجومیوں کی تردید اور اُ ن کے بطلان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے ارشادات موجود ہیں جیسے:
    اسی طرح رجاء بن حیوۃ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ابو محجن رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’
    علم نجوم کی تردید میں متعدد احادیث ذکر کی گئی ہیں اور اس سے محفوظ رہنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وعیدی ارشادات ایک مسلمان کے لئے کافی و وافی ہیں۔
    وہ علم نجوم جس سے تجربہ اور مشاہدہ کے بعد زوالِ شمس، اور جہت ِ قبلہ وغیرہ معلوم کی جاتی ہے اُس کا حاصل کرنا ممنوع نہیں کیونکہ یہ اس سے زیادہ نہیں کہ اس سے پتا چل جاتا ہے کہ جب تک سایہ کم ہوتا رہے گا تو سورج مشرقی کنارہ سے وسط آسمان کی طرف بڑھتا جائے گا اور جب سایہ زیادہ ہونے لگے گا تو وسط آسمان سے سورج مغربی کنارہ کی طرف گرنا شروع ہو جائے گا اور یہ ایک صحیح علم ہے جس کا ادراک مشاہدہ سے ہوتا ہے۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اس فن کے جاننے والوں نے ایسے آلات ایجاد کر لئے ہیں جن کی وجہ سے آدمی سورج کی رفتار کا ہر وقت معائنہ کرنے کا محتاج نہیں رہا (مثلاً گھڑیاں وغیرہ)۔ اور جو ستاروں سے جہت قبلہ پر استدلال کیا جاتا ہے تو وہ ایسے ستارے ہیں جن کے مطالعہ سے ایسے اہل علم ائمہ نے قوانین وضع کئے ہیں جن کے دینی شغف اور معرفت اسلام میں ہمیں کوئی شک نہیں ہے اور ہم ان کو اس معاملہ میں سچا سمجھتے ہیں۔ مثلاً کبھی ان ستاروں کو کعبہ میں کھڑے ہو کر مشاہدہ کیا اور کبھی کعبہ سے باہر تو ان کا ادراک ایک مشاہدہ کی خبر ہے اور ہمارا ادراک یہ ہے کہ ہم ان کی خبر کو قبول کرتے ہیں کیونکہ وہ دینی لحاظ سے ہمارے نزدیک مشکوک نہیں ہیں اور نہ وہ اپنی معرفت میں کوتاہی کرنے والے تھے‘‘۔
    ابن المنذر مجاہد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ:
    ابن المنذر نے ابراہیم کا یہ قول بھی روایت کیا ہے کہ
    ابن رجب رحمہ اللہ اور الماذون رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    فیہ مسائل
    ٭ ستاروں کے پیدا کرنے میں کون کون سی حکمتیں پنہاں ہیں ۔ ٭جو حکمتیں بیان کی گئی ہیں ، ان کے علاوہ تمام کی تردید ۔ ٭منازل قمر کا علم حاصل کرنے کے سلسلے میں علماء کا اختلاف ۔ ٭سحر کو باطل سمجھتے ہوئے بھی اس کی تصدیق کرنے پر وعید۔
     
  5. ‏مئی 06، 2013 #35
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بارش کو ستاروں اور مختلف منزلوں کی طرف منسوب کرنا کیسا ہے؟
    بابُ :مَاجَآء فِی الْإِسْتِسْقَاءِ بِالْأنْوَاءِ

    اس باب میں بارش کو ستاروں کی مختلف منزلوں کی طرف منسوب کرنے پر وعید کی گئی ہے ۔ اور بتایا گیا ہے کہ اس قسم کا عقیدہ رکھنا خلاف شریعت ہے۔
    قول اﷲ تعالیٰ وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ (سورۃ الواقعہ)
    چاند کی مختلف منزلوں کو انواء کہتے ہیں۔ ابوالسعادات رحمہ اللہ نہایۃ میں فرماتے ہیں کہ:
    چاند کی مختلف منزلوں کو قرآن کریم میں بھی ذکر کیا گیا ہے جیسے:
    ہر تیرہ تاریخ کی رات طلوعِ فجر کے وقت مغرب میں چاند غروب ہو جاتا ہے اور اس کے بالمقابل اسی وقت مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور اسی طرح پورا دَور ساری منزلوں میں ایک سال میں مکمل ہوتا ہے۔ عربوں کا عقیدہ تھا کہ جب چاند ایک منزل سے غروب کے بعد اس کے بالمقابل منزل سے طلوع ہوتا ہے تو اس وقت بارش ہوتی ہے اور اس بارش کو وہ اس منزل کی طرف منسوب کرتے اور کہتے کہ ہمیں چاند کی فلاں منزل کے ترحم کی وجہ سے بارش ملی اور اس کا نام نو رکھا گیا ہے کیونکہ جب چاند مغرب میں جا کر گرتا ہے تو وہ مشرقی مطلع سے دُور ہو جاتا ہے۔
    زیر نظر آیت کریمہ کی تشریح کے سلسلے میں ایک روایت امام احمدرحمہ اللہ ، امام ترمذی رحمہ اللہ (اس کو حسن بھی قرار دیتے ہیں) ابن جریر، ابن ابی حاتم رحمہم اللہ سے نقل کرتے ہیں اور الضیاء بھی اپنی کتاب المختارہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    تمام تفسیروں میں سے مندرجہ بالا تفسیر صحیح ہے۔ سیدنا علی، ابن عباس، قتادہ، ضحاک رضی اللہ عنہم اور عطا خراسانی رحمہ اللہ سے بھی مندرجہ بالا تفسیر ہی منقول ہے اور جمہور مفسرین کا بھی یہی قول ہے۔ مصنف نے بھی اِسی وجہ سے اس آیت کریمہ کو اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ اس کی تشریح یوں بیان فرماتے ہیں کہ:
    امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
    وعن ابی مالک الاشعری أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ أَرْبَعٌ فِیْ أُمَّتِیْ مِنْ أَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ لَا یَتْرُکُوْنَھُنَّ أَلْفَخْرُ بِالْأَحْسَابِ وَ الطَّعْنُ فِی الْأَنْسَابِ وَالْاءِ سْتِسْقَآءُ بِالنُّجُوْمِ وَ النِّیَاحَۃُ وَقَالَ أَلنَّائِحَۃُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِھَا تُقَامُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ عَلَیْھَا سِرْبَالٌ مِّنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِّنْ جَرَبٍ (رواہ مسلم)
    مطلب یہ ہے کہ بعض افرادِ اُمت ان چار اُمور پر، ان کی حُرمت جاننے کے باوجود یا لا علمی کی وجہ سے عمل کرتے رہیں گے، حالانکہ یہ اُمورِ جاہلیت اور اُن کی یاد انتہائی مذموم اور مکروہ ہے لیکن اس کے باوصف لوگ اس میں مبتلا رہیں گے۔ جاہلیت سے، قبل از نبوت کا زمانہ مراد ہے، کیونکہ اُس وقت جہالت عام تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہو وہ جاہلیت ہی کی رسم ہے اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت سے پہلے کی بہت سی رسموں کی ممانعت فرمائی ہے۔
    شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے اس پر ایک مستقل کتاب ’’مسائل الجاہلیہ‘‘ تصنیف فرمائی ہے جس میں ان تمام اُمور کا مختصر طور سے بیان آگیا ہے جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخالفت کی ہے اور جن کا جاہلیت سے خاص تعلق ہے۔ ان اُمور کی تعداد تقریباً ایک سو بیس تک پہنچ گئی ہے۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اس آیت میں تبرج کی مذمت کی گئی ہے اور خصوصاً جاہلیت کی حالت کو مذموم قرار دیا گیا ہے۔ اس میں دورِ جاہلیت کے لوگوں سے مشابہت کی بھی ممانعت کی گئی ہے‘‘۔
    اپنے آباء و اجداد اور ان کے کارناموں کی وجہ سے لوگوں پر اظہارِ فخر کرنا، یہ جہالت اور دیوانگی کی علامت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت و شرف کے حصول کا تعلق صرف تقوی اور پرہیزگاری سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    سنن ابی داؤد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حسب و نسب میں عیب نکالنا بھی اعمالِ جاہلیت میں سے ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کبھی مسلمان میں بھی ایسے اعمال، جن کا تعلق جاہلیت، یہودیت اور نصرانیت سے ہے، پائے جاتے ہیں، ان سے کوئی مسلمان کافر یا فاسق نہیں ہو جاتا۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ اس قسم کی معمولی لغزش سے انسان کافر نہیں ہو جاتا
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور ابن جریر رحمہ اللہ نے سیدنا جابرالسوائی سے ایک روایت نقل کی ہے، جس میں جابر سوائی کہتے ہیں کہ میں نے
    دوسرے یہ کہ ’’مُطِرنَا کَذَا وَ کَذَا‘‘ (ہمیں اس اس طرح بارش ملی)وغیرہ کہنے والے کا عقیدہ یہ ہو کہ حقیقی موثر اور بارش برسانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن یونہی بربنائے عادت اور لوگوں کی دیکھا دیکھی اس نے یہ جملہ کہہ دیا۔ اس بارے میں صحیح موقف یہ ہے کہ مجازاً بھی بارش کو کسی ستارے کی طرف نسبت کرنا حرام ہے جیسا کہ ابن مفلح نے اپنی کتاب ’’الفروع‘‘ میں اس کی تصریح کی ہے کہ ’’مُطِرنَا کَذَا وَ کَذَا‘‘ (ہمیں اس اس طرح بارش ملی) کہنا حرام ہے۔ اور صاحب ِ انصاف نے اس کی حرمت پر آخری فیصلہ دیا ہے۔ یعنی اگرچہ یہ مجازاً ہی کہا گیا ہو مگر اس کی حرمت میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
    اس کی حرمت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ جملہ کہنے والے نے ایک ایسے فعل کی نسبت ایسی مخلوق کی طرف کی ہے جس کو اس فعل پر قطعاًا کوئی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مسخر ہے اور اسے نفع اور ضرر دینے پر ذرّہ بھر بھی اختیار نہیں ہے۔ اس نسبت کو ہم شرکِ اصغر کہہ سکتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
    کسی کے فوت ہونے پر بین کرنے کو النیاحۃ کہتے ہیں کیونکہ بین کرنے والا اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہو کر ہی تو بین کرے گا۔ بین کرنا صبر کے سراسر خلاف ہے اور شریعت اسلامیہ میں کبیرہ گناہ شمار ہوتا ہے جس پر سخت وعید آتی ہے اور اس کی تردید میں بہت سی حدیثیں کتب احادیث میں موجود ہیں۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جملے میں اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ اگرچہ گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، توبہ کرنے سے ختم ہو جاتا ہے۔ اس مسئلے پر تمام علمائے اُمت کا اتفاق ہے اور اعمالِ صالحہ اور حسنات سے بھی بڑے بڑے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز مصائب و مشکلات میں ابتلاء سے بھی انسان کے گناہ دُھل جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان کے لئے دعا کرنے سے بھی گناہ دُھل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے شفاعت کرنے سے بھی گناہ دُھل جاتے ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ بھی گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے جبکہ انسان مشرک نہ ہو، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’سربال، سرابیل کا واحد ہے، یہ قمیص کے علاوہ دوسرے کپڑوں پر بھی بولا جاتا ہے‘‘۔ یعنی ان کپڑوں کو گندھک سے لیپ دیا جائے گا اور وہ ان کے لئے قمیص کی طرح ہو جائے گا تاکہ ان کے جسموںپر آگ خوب بھڑکے اور ان کی بو بدترین قسم کی ہو اور خارش کی وجہ سے ان کی تکلیف بہت سخت ہو جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے قطران کا ترجمہ ’’پگھلا ہوا تانبہ‘‘ کیا ہے۔
    ولھما عن زید بن خالد قَالَ صَلّٰی لَنَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلٰوۃَ الصُّبْحِ بِالْحُدَیْبِیَّۃِ عَلٰی إِثَرِسَمَآئٍ کَانَتْ مِنَ اللّیْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ ھَلْ تَدْرُوْنَ مَا ذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوْا أَﷲُ وَ رَسُوْلُہٗ أَعْلَمُ قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِیْ مُؤمِنٌ بِیْ وَ کَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اﷲِ وَ رَحْمَتِہٖ فَذٰلِکَ مُؤمِنٌ بِیْ کَافِرٌ بِالْکَوَاکِبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ کَذَا وَ کَذَا فَذَالِکَ کَافِرٌ بِیْ مُؤمِنٌ بِالْکَوَاکِبِ
    صحیحین میں زید بن خالد سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ِ حدیبیہ میں ہمیں صبح کی نماز ایسی رات میں پڑھائی جس میں بارش ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازسے فارغ ہو کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ کیا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں ۔
    حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بارش کے متعلق جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ انواء کی وجہ سے اور ان کے اثر کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو یہ شخص کافر ہے کیونکہ وہ شرک فی الربوبیت کا مرتکب ہوا ہے اور ہر مشرک کافر ہوتا ہے اور جو شخص انواء وغیرہ کی تاثیر کا معتقد نہیں بلکہ اس نے رسماً یہ جملہ کہہ دیا ہے تو یہ شرکِ اصغر ہے، کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو غیر اللہ کی طرف منسوب کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی بھی ستارے میں کسی قسم کا کوئی بھی سبب بارش برسنے کا نہیں رکھا۔ یہ تو اس کا خاص فضل اور احسان ہے کہ جب چاہتا ہے بارش برساتا ہے اور جب چاہتا ہے اُسے روک لیتا ہے۔ زیر بحث حدیث اس بات پر واضح دلیل کی حیثیت رکھتی ہے کہ وہ افعال، جن کا تعلق صرف اللہ کی ذات سے ہے ان کو غیر اللہ کی طرف مجازاً بھی منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
    اس مقام پر ایمان کی حقیقت کو سمجھنا چاہیئے۔ فضل اور رحمت اللہ تعالیٰ کی دو صفتیں ہیں اور اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے، یا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صفات، اللہ تعالیٰ کی بیان کی ہیں، وہ صفات قائم بالذات ہیں، کسی غیر کی محتاج نہیں، خواہ وہ صفات ذات سے تعلق رکھتی ہوں جیسے حیات، علم یا افعال سے، جیسے رحمت وغیرہ۔ اس مسئلے کو خوب غور سے سمجھ لینا چاہیئے، کیونکہ اس مسئلے میں بہت سے لوگوں نے لغزش کھائی اور گمراہ ہوئے ہیں۔ زیر نظر حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کو صرف اسی کی طرف منسوب کرنا چاہیئے اور اسی ایک کی تعریف کرنی چاہیئے۔ اہل توحید کا یہی شیوہ ہے کہ وہ فقط اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔
    اور اس مقام پر کفر کی حقیقت کو بھی سمجھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی کسی بھی نعمت کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرنا کفر ہے، اسی لئے بعض علماء نے اس کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے، اگرچہ کہنے والے کا عقیدہ ستاروں میں تاثیر کا نہ ہو، اس کو کفرانِ نعمت سے تعبیر کیا جائے گا کیونکہ نسبت غلط ہو گئی ہے۔

    فیہ مسائل
    ٭ ان چار امور کا ذکر جو جاہلیت کی رسوم سے تعبیر ہیں ۔ ٭ان چار اعمال میں سے بعض کا کفر ہونا ۔ ٭بعض کفر ایسا بھی ہے جو انسان کو ملت اسلامی سے خارج نہیں کرتا۔ ٭انعام واکرام کے نزول کی وجہ سے بعض اوقات انسان کا کافر ہونا۔ ٭اس مقام پر ایمان کی حقیقت کو سمجھنا۔ ٭اس مقام پر کفر کی حقیقت کو سمجھنا۔ ٭اس بات کو سمجھنا کہ فلاں ستارے کی تاثیر صحیح ثابت ہوئی۔ ٭طالب علم کو بات ذہن نشین کرانے کے لئے اُستاد کا سوالیہ جملہ استعمال کرنا، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تھا کہ فَقَالَ ھَلْ تَدْرُوْنَ مَا ذَا قَالَ رَبُّکُمْ یعنی کیا تمہیں معلوم ہے تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا؟ ٭بَین کرنے والی کو سخت ڈانٹ پلانا۔
     
  6. ‏مئی 06، 2013 #36
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اللہ تعالیٰ کی محبت اسلام کی بنیاد ہے۔
    باب :فی قولہٖ تعالیٰ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اﷲِ اَندَادًا یُّحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اﷲِ

    اللہ تعالیٰ کی محبت اسلام کی بنیادہے اسی محور کے گرد اسلام کی چکی گھومتی ہے۔ جس شخص کا اسلام مکمل ہوگا اس کی اﷲ سے محبت بھی کامل ہوگی۔ اور جس کا اسلام ناقص ہوگا اس کی محبت بھی ناقص ہوگی۔ لہٰذا اسی مناسبت سے مصنف رحمہ اللہ نے اﷲ کی محبت کے متعلق باب قائم کیا ہے۔ اور اس باب میں اسی موضوع پر بحث ہو گی۔ ان شاء اﷲ۔
    وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اﷲِ اَندَادًا یُّحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اﷲِ
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ مدارج السالکین میں اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
    اس آیت کے معنی میں علماء کے دونوں قول نقل کئے گئے ہیں:

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پہلے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ:
    مشرکین مکہ شرک فی الالوہیت میں گرفتار تھے البتہ شرک فی الربوبیت سے کسی حد تک بچے ہوئے تھے لیکن افسوس کہ آج کا مشرک شرک فی الالوہیت میں تو گرفتار تھا ہی، اب شرک فی الربوبیت میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے جیسا کہ یہ عقیدہ رکھنا کہ فوت شدہ افراد کو دنیوی معاملات میں تصرف حاصل ہے۔ العیاذ باﷲ۔
    ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
    اس آیت کریمہ کو آیت ِ محبت بھی کہتے ہیں۔ یعنی سلف اُمت سے منقول ہے کہ بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعوی کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ اس آیت کریمہ میں محبت کا معیار اور پھر محبت کے فوائد و ثمرات کا بھی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ سے محبت کی سب سے بڑی علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق زندگی کو مشعل راہ بنا لے۔ اور پھر اس کا عظیم فائدہ یہ بیان فرمایا کہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔ پس جب انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی محبت بھی اس کو حاصل نہ ہو گی۔
    اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا کہ:
    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے محبت کرنے والوں کی تین علامتیں بیان کی ہیں:
    ۱۔ پہلی یہ کہ وہ آپس میں انتہائی شفیق اور رحم دِل ہوتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے سے نہایت خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں۔ عطا رحمہ اللہ مومن کی خصلت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا شخص مومنین کے لئے ایسا نرم ہوتا ہے جیسے بیٹا باپ کے سامنے یا غلام اپنے آقا کے سامنے، اور کافروں کے لئے ایسا سخت ہوتا ہے جیسے شیر اپنے شکار پر، قرآن کریم میں: ’’اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ‘‘ سے مراد یہی لوگ ہیں۔
    ۲۔ دوسری علامت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے نفس، اپنے ہاتھ، اپنی زبان اور اپنے مال سے جہاد کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہی وہ علامت ہے جس سے اصل محبت کا پتہ چلتا ہے۔
    ۳۔ ان کی تیسری علامت یہ ہے کہ وہ شریعت ِ اسلامیہ پر عمل پیرا ہونے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کے سلسلے میں کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہیں گھبراتے۔ سچی محبت کی یہ سب سے بڑی علامت ہے۔

    محبت کا دعویٰ کرنے والا اگر اپنے محبوب کی محبت میں کسی سے خوف اور ملامت کا ڈر یا خطرہ محسوس کرے تو وہ حقیقی محب کہلانے کا مستحق نہیں۔ قرآن کریم میں ہے:
    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے تین مقام بیان فرمائے گئے ہیں:
    ۱۔ اَلْحُبّ: محبت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ محبوب کا قرب کسی نہ کسی صورت میں حاصل ہو جائے۔
    ۲۔ التَوَسُّلْ: یعنی اعمالِ صالحہ کر کے محبوب تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔
    ۳۔ اَلرَّجَاء خوف: یہ دونوں وصف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اعمالِ صالحہ کا وسیلہ اُمید، رحمت اور خوفِ عذاب سے ایک زائد عمل ہے۔
    یہ بات واضح ہے کہ اُسی کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے محبت اور دِلی لگاؤ ہو۔ محبوب کا قرب اس کی ذات کی محبت کے تابع ہے۔ فی نفسہٖ محبوب کا قرب کوئی معنے نہیں رکھتا یہ محبوب تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ فرقہ جہمیہ اور معطّلہ کے ہاں اِن سب اُمور کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ اُن کا عقیدہ یہ ہے کہ نہ اللہ کسی کے قریب آتا ہے اور نہ اُس کے قریب کوئی جا سکتا ہے۔ اُس کی ذات سے نہ کوئی محبت کرتا ہے اور نہ وہ کسی سے محبت کرتا ہے۔ ان دونوں فرقوں نے: ٭دلوں کی حیات اور زندگی کا انکار کیا۔ ٭رُوح کی نعمتوں اور اُس کی آسائشوں کو ناقابل فہم سمجھا۔ ٭نفوس کی تروتازگی سے انحراف کیا۔ ٭آنکھوں کی ٹھنڈک سے محرومی کے قائل ہوئے۔ ٭دنیا و آخرت کی اعلیٰ نعمتوں کی تردید کی۔ یہی وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے اُن کے دِل سخت ہو گئے اور اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان معرفت اور محبت کے حصول کی راہ میں بہت سے پردے حائل کر دیئے گئے۔ اب صورتِ حال یہ ہو گئی ہے کہ: ٭یہ لوگ نہ تو اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں، ٭نہ محبت کے لئے قدم بڑھاتے ہیں۔ ٭بلکہ وہ ان لوگوں کو سزائیں دیتے ہیں جو اللہ کے اسماء و صفات اور اس کی جلالت ِ شان کا تذکرہ کرتے رہے ہیں اور ان پر ایسی بیماریوں کی تہمت لگاتے ہیں جن کے وہ خود زیادہ مستحق ہیں۔ ٭ اور صاحب بصیرت اور زندہ دِل لوگوں کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ ان کے کلام میں سختی اور ناخوشی اور نفرت محسوس کرتے ہیں اور جان لیتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی محبت اور معرفت اور توحید سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:
    اور لوگوں نے جو اس پر یہ گفتگو کی ہے تو وہ اس کے اسباب و موجبات اور علامات و شواہد اور ثمرات و احکام پر گفتگو کی ہے۔ محبت کی تعریف میں جو جامع بات کہی گئی وہ وہ ہے جس کو ابوبکر الکتانی رحمہ اللہ نے جنید بغدادی سے نقل کیا ہے۔ ابوبکر الکتانی فرماتے ہیں کہ:
    ۔
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ محبت الٰہی پر تفصیل سے بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
    قُلْ اِنْ کَانَ ٰابَآؤُکُمْ وَ اَبْنَآؤُکُمْ وَ اِخْوَانُکُمْ وَ اَزْوَاجُکُمْ وَ عَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْھَا وَ تِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَ مَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اﷲِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اﷲُ بِاَمْرِہٖ وَ اﷲُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ (سورۃ التوبہ : ۲۴)۔
    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جو اپنے اہل و عیال، اپنے مال و متاع، اپنے قبیلہ و قوم، اپنے تجارتی اثاثوں، اپنے گھر بار کو کلی یا جزوی لحاظ سے اللہ کے احکام سے زیادہ محبوب اور پسند کرتے ہیں یا ان میں سے کوئی چیز جہاد فی سبیل اﷲ کرنے سے مانع ہو تو عذابِ الٰہی کی گرفت سے ڈرائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ان کو بعد میں کف افسوس ملنا پڑے۔ زیر بحث آیت کریمہ کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
    مسند احمد اور ابوداؤد میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:
    پس انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیزوں کو اپنی پسندیدہ چیزوں پر ترجیح دے، جسے اللہ پسند کرتا ہے ان کو پسند کرے اور جو اُمور اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں اُن کو ترک کر دے کسی سے دوستی ہو تو صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر اور دشمنی ہو تو فقط اُس کی رضا کے لئے اور اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی کرے کیونکہ اسی میں انسان کی فلاح اور کامیابی مضمر ہے۔
    عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَّلَدِہٖ وَ وَالِدِہٖ وَ النَّاسِ أَجْمَعِیْنَ۔ (صحیحین )۔
    ایمانِ کامل یہ ہے کہ انسان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے اپنی اولاد، اپنے ماں باپ، حتی کہ تمام دنیا سے زیادہ محبت ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ کمال کا یہ درجہ اُس وقت تک حاصل ہونا ممکن نہیں جب تک کہ انسان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اپنی جان سے بھی زیادہ نہ ہو۔ صحیح بخاری میں ایک روایت ہے کہ
    جو شخص یہ کہتا ہے کہ نفی کمال مراد ہے، اگر اس سے اُس کا مقصد کمالِ واجب مراد ہے جس کے ترک کرنے والے کی مذمت کی گئی ہے اور اس کی سزا بھی سنا دی گئی ہے تو وہ صحیح کہتا ہے۔ اور جو شخص یہاں کمال مستحب سمجھتا ہے تو اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی نہ کلام اللہ میں، نہ کلامِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    زیر بحث حدیث سے معلوم ہوا کہ اعمال صالحہ ایمان کا جزوِ لاینفک ہیں کیونکہ محبت دل کا عمل ہے اور دُوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت واجب ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کا لازمی حصہ ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی خاطر اور اُس کے حکم کے مطابق کی جاتی ہے ایک مومن صادق کے دل میں جس قدر محبت الٰہی کی کثرت ہو گی اسی لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بھی زیادہ ہو گی اور اِسی مناسبت سے کمی بھی واقع ہو گی کیونکہ جو شخص کسی سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہے تو اس کی محبت حقیقتاً اللہ ہی سے ہوتی ہے جیسا کہ ایمان عمل صالح سے محبت کرنا، حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا ہے ایسی محبت میں شرک کا اثر نہیں ہوتا کیونکہ بذاتہٖ نہ تو اس پر اعتماد ہوتی ہے نہ کسی مرغوب چیز کے حصول کی اُمید یا کسی تکلیف دہ چیز کا دفاع اور جو ایسی محبت ہو وہ حقیقت میں اللہ سے محبت ہوتی ہے، اس لئے کہ اس میں نہ تو غیر اللہ سے تعلق ہے اور نہ اللہ کے سوا کسی سے رغبت ہے۔ یہاں اس محبت میں جو اللہ کے لئے ہو اور اس محبت میں جو مشرکین اپنے باطل معبودوں سے کرتے ہیں، ایک نمایاں فرق اور امتیاز موجود ہے کیونکہ مشرکوں کے دِلوں میں اُن کی اُلوہیت کا عنصر غالب ہوتا ہے جو اللہ کے سوا کہیں جائز نہیں ہے۔
    ولھما عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فَیْہِ وَجَدَ بِھِنَّ حَلَاوَۃَ الْاِیْمَانِ أَنْ یَّکُوْنَ اﷲُ وَرَسُوْلُہٗ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوِاھُمَا وَ أَنْ یُّحِبَّ الْمَرْءَ لَا یُحِبُّہٗ إِلَّا لِلّٰہِ وَ أَنْ یَّکْرَہَ أَنْ یَّعُوْدَ فِی الْکُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَہُ اﷲُ مِنْہُ کَمَا یَکْرَہُ أَنْ یُّقْذَفَ فِی النَّارِ
    صحیح بخاری ومسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین صفات ایسی ہیں وہ جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس اپنے اندر ضرور محسوس کرے گا ۔ پہلی یہ کہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب سمجھے ۔ دوسری یہ کہ کسی شخص سے محض اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرے ۔ تیسر ی یہ کہ کفر میں جانا اس قدر ناپسند کرے جس طرح کہ آگ میں گرنا ناپسند کرتا ہے ۔ بعد ااس بات کے کہ اﷲ تعالیٰ نے اسے کفر کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکالا ۔
    حلاوت سے وہ دِلی کیفیت مراد ہے جو کسی نعمت اور خوشی کے موقع پر دِل پر طاری ہوتی ہے اور یہ ذوق مومن اپنے قلوب میں ہمہ وقت محسوس کرتے ہیں۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ التوشیح میں لکھتے ہیں:
    امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    رہی وہ محبت جو طبعاً اور فطرتاً ایک انسان اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں سے کرتا ہے، یہ محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے برابر نہ ہو بلکہ کمتر ہو۔ امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    لیکن محبت شرکیہ جس کا سابقہ صفحات میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے منافی ہے، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ ہر لحاظ سے غلط اور کتاب و سنت کے صریح احکام کے خلاف ہے۔
    اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کے سلسلہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ :
    اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی مندرجہ ذیل چند نمایاں خصوصیات ہیں ٭ جسے اللہ پسند کرے، انسان بھی اس کو پسند کرے۔ ٭جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو وہ انسان کو بھی ناپسند ہو۔ ٭اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ اشیاء کو تمام چیزوں پر ترجیح دے۔ ٭ جس قدر ممکن ہو سکے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہو۔ ٭ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ حدود سے دُور رہے اور ان کو انتہائی حقیر و ذلیل سمجھے۔ ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور فرمانبرداری کرے۔ ٭ اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں ڈھالنے کی کوشش کرے۔ ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کردہ اُمور سے کنارہ کش اور دُور رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
    اس آیت کی مکمل اور چلتی پھرتی تصویر نظر آئے۔ پس جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر دوسرے افراد کے قول کو ترجیح دے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن اُمور سے روکا ہے اُن کی کھلم کھلا مخالفت کرے تو یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ اپنی محبت میں جھوٹا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی محبت،دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اور اُس سے محبت کا دعویٰ کرے تو لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور ان سے محبت کا اظہار بھی کرے، اور جو شخص ایسا نہیں کرتا وہ اپنی محبت میںجھوٹا ہے جیسا کہ سابقہ صفحات میں ’’آیت جنت‘‘ وغیرہ میں واضح ہو چکا ہے۔ واللہ المستعان۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
    زیر بحث حدیث میں اُن لوگوں کی تردید ہوتی ہے جن کا گمان یہ ہے کہ انسان سے گناہ کا صادر ہونا اسکے حق میں موجب نقص ہوتا ہے اگرچہ وہ توبہ بھی کر لے۔ اس سلسلے میں صحیح بات یہ ہے کہ اگر گنہگار توبہ نہ کرے تو اس کے ایمان میں نقص واقع ہو جاتا ہے اور اگر فوراً توبہ کر لے تو نقص واقع نہیں ہوتا۔ اسکی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اُمت کا اجماع ہے کہ وہ اِس اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے افضل تھے باوجود اِس بات کے کہ وہ قبل از اسلام کافر اور مشرک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام کے نور سے منور فرما دیا۔ ہجرت اور اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ گذشتہ تمام اعمالِ سیہء کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیتے ہیں جیسا کہ صحیح روایات اس کی تصدیق کرتی ہیں۔
    وفی روایۃ لَا یَجِدُ أَحَدٌ حَلَاوَۃَ الْاِیْمَانَ حَتّٰی یُحِبُّ الْمَرْءَ لَا یُحِبُّہٗ إِلَّا لِلّٰہِ
    ایک روایت میں اس طرح ہے کہ کوئی شخص ایمان کی مٹھاس اس وقت تک محسوس نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ کسی آدمی سے صرف اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے محبت نہ کرے ۔
    یہ روایت صحیح بخاری کتابُ الادب میں مذکور ہے، پوری حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
    محبت کے متعلق پوری تفصیل گزر چکی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ محبت مومن کی اُس قلبی کیفیت کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت کی وجہ سے اُس پر طاری ہوتی ہے۔
    وعن ابن عباس قَالَ مَنْ أَحَبَّ فِی اﷲِ وَ أَبْغَضَ فِی اﷲِ وَ وَالٰی فِی اﷲِ وَ عَادٰی فِی اﷲِ فَإِنَّمَا تَنَالُ وَلَایَۃَ اﷲِ بِذٰلِکَ وَ لَنْ یَّجِدَ عَبْدٌ طَعْمَ الْاِیْمَانِ وَ إِنْ کَثُرَتْ صَلٰوتُہٗ وَ صَوْمُہٗ حَتّٰی یَکُوْنَ کَذٰلِکَ وَ قَدْ صَارَتْ عَامَّۃُ مُوَاخَاۃِ النَّاسِ عَلٰی أَمْرِ الدُّنْیَا وَ ذٰلِکَ لَا یُجْدِ عَلٰی أَھْلِہٖ
    یعنی اہل ایمان سے اس لئے محبت کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اور جو لوگ کفر و شرک میں مبتلا ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور اطاعت سے منحرف ہیں، ایسے لوگوں سے نفرت و بغض اور دشمنی صرف اس لئے رکھے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مرتکب ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ اِنتہائی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    خالص اللہ تعالیٰ کے لئے دوستی اور عداوت، اللہ کی محبت کے یہ دو بنیادی وصف ہیں کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے محبت کرے گا وہ اگر کسی دوسرے سے محبت اور دوستی کرے گا، جیسے اولیاء اﷲ سے دوستی اور اُن کی مدد اور اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں سے عداوت اور اُن سے جہاد، تو یہ بھی حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہو گا۔ جس قدر اللہ تعالیٰ کی محبت دِل میں قوی اور مضبوط ہو گی، اُسی قدر یہ اعمال بھی ظہور پذیر ہوں گے اور اسی محبت کے کمال سے توحید کی تکمیل ہو گی اور اس کی کمزوری سے اس میں کمزوری واقع ہو گی، پس اس میدان میںلوگوں کی تین قسمیں ہیں: ٭ بعض کی محبت کامل ترین۔ ٭ بعض کی محبت کمزور اور ضعیف۔ ٭ اور بعض بدقسمت وجودِ محبت سے بالکل کورے۔
    اخوت، محبت اور نصرت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور بالکسر اَمارت کے معنی میں، اور یہاں پہلی صورت مراد ہے۔ مسند احمد اور طبرانی میں ایک روایت ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: (ترجمہ) ’’انسان واضح طور سے ایمان کی روشنی محسوس نہیں کر سکتا جب تک وہ اللہ کی رضا کے لئے محبت نہ کرے اور اس کی رضا کے لئے دشمنی نہ رکھے، اور جب دوستی اور دشمنی اللہ ہی کے لئے کرے گا تو پھر اللہ کی محبت اور ولایت کا حقدار ہو جائے گا‘‘۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
    صوم و صلوٰۃ کی کثرت کے باوجود بھی اس کو ایمان کی لذت اور اس کی مٹھاس حاصل نہیں ہو سکے گی جب تک کہ وہ اپنے اندر محض اللہ تعالیٰ کے لئے دوسروں سے محبت، عداوت، دوستی اور دشمنی کی صفات پیدا نہ کرے
    جیسا کہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    دنیوی غرض سے ایک دوسرے سے میل ملاپ بجائے فائدہ کے الٹا نقصان دے ہوتا ہے، اس کی وضاحت قرآن کریم میں موجود ہے؛ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    دنیوی اغراض کی بنا پر ایک دوسرے سے لین دین اور دوستی ایک فتنہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے دَور میں، جو بالاتفاق خیر القرون کہلاتا ہے، یہ بات مصیبت کا باعث بن گئی تھی اور آج تک اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور اب تو نوبت بایں جا رسید کہ شرک و بدعت، فسق و فجور اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی بنیاد پر دوستیاں قائم کی جارہی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مندرجہ ذیل ارشاد حرف بحرف صادق آ رہا ہے کہ:
    مہاجرین و انصار، تمام صحابہء رسول رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خیر القرون میں سب کی یہ حالت تھی کہ صرف اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا قرب حاصل کرنے کے ئے اپنی خاص اور اشد ضرورت کے باوجود دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔ اس کا نقشہ قرآن کریم نے ان الفاظ میں کھینچا ہے کہ
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس وصف کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
    وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی وَ تَقَطَّعَتْ بِھِمُ الْأَسْبَابٌ قَالَ الْمَوَدَّۃ
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کہ ’’ اور ان کے اسباب وسائل کا سلسلہ کٹ جائے گا ‘‘۔ کی یہ تفسیر کی ہے کہ اسباب کے معنی دوستی اور تعلقات ہیں ۔
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کو عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے بھی نقل کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ معنی یہ کہ دُنیاوی محبت اور دوستی قیامت کے دن ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکے گی جبکہ میدانِ محشر میں اُن کو اس دوستی کی اشد ضرورت ہو گی۔ بلکہ وہاں تو ایک دُوسرے سے بیزاری اور قطع تعلق کا اظہار کریں گے۔ ان کی اس حالت کو اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ:
    قرآنِ کریم کی آیت: اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا وَرَاَوُ الْعَذَابَ کی تشریح میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    فیہ مسائل
    ٭ اپنے اہل وعیال ، مال ودولت ، حتی کہ اپنی جان سے بھی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا وجوب۔ ٭کسی وقت ایمان کی نفی کی جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ ٭ایمان کی حلاوت ضرور ہے لیکن کبھی انسان محسوس کرتاہے ۔ اور کبھی نہیں کرتا ۔ ٭یہ چار اعمال قلب ایسے ہیں جن کے بغیر انسان اﷲ کی محبت حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان کے بغیر ایمان کا ذائقہ چکھ سکتا ہے ۔ ٭صحابہ کرام کا یہ محسوس کرنا کہ لوگوں کا زیادہ تر میل ملاپ صرف دنیا کی خاطر ہے ۔ ٭بعض مشرک بھی ایسے ہوتے ہیں جو اﷲ تعالیٰ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں ۔ ٭مندرجہ آٹھ اشیاء جس کو دین سے زیادہ پیاری ہوں اس کو سخت وعید اور سزا سنانا ۔ ٭ کسی شخص کا اپنے باطل معبود سے اﷲ تعالیٰ کی محبت کے برابر محبت رکھنا ہی شرک ِ اکبر کہلاتا ہے
     
  7. ‏مئی 06، 2013 #37
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    خوف الٰہی
    بابُ :قول اﷲ تعَالیٰ اِنَّمَا ذَالِکُمُ الشَّیْطَانُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَاءَ ہٗ فَلَا تَخَافُوْھُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ

    شریعت اِسلامیہ میں خوف الٰہی کو افضل و اہم ترین مقام حاصل ہے اور عبادات میں اس کو مرکزیت حاصل ہے لہٰذا خوف و خشیت صرف اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہیئے اس باب میں اسی پر سیر حاصل بحث ہوگی۔ ان شاء اللہ
    اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ أَوْلِیَاءَ ہ فَلاَ تَخَافُوْھُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
    شریعت اسلامیہ میں خوفِ الٰہی کو افضل و اہم ترین مقام حاصل ہے اور عبادات میں اس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے خوف و خشیت، صرف اللہ سے ہونی چاہیے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل آیاتِ بینات سے واضح ہے:
    اس موضوع پر بے شمار آیاتِ قرآن موجودہیں۔
    خوف کی تین قسمیں ممکن ہیں۔
    اول…سری اور پوشیدہ خوف: وہ یہ کہ انسان غیراللہ مثلاً وثن اور طاغوت وغیرہ کے شر سے خوف کھائے جیسا کہ قوم ہود نے جناب ہود علیہ السلام سے کہا تھا ۔ کہ
    ایک مقام پر ارشادہوا:
    خوف کی یہی وہ صورت ہے جو قبر پرستوں اور غیراللہ کی عبادت کرنے والوں میں پائی جاتی ہے قبرپرست خود بھی ان سے ڈرتے اور خوف کھاتے ہیں۔ اہلِ توحید کو بھی جب کہ وہ ان کی عبادت سے انکارکرتے ہیں اور خالص اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں تو یہ ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خوف کی یہ قسم توحیدِ خالص کے سَراسَر منافی ہے۔
    الثانی نمبر۲… خوف کی دوسری قسم یہ ہے کہ انسان بعض لوگوں سے ڈرکر ایسے امور کو چھوڑدے جن پرعمل کرنا واجب اور ضروری ہے… یہ خوف قطعی طور سے حرام ہے خوف کی یہ صورت وہ شرک ہے جو کمالِ توحید کے منافی ہے… زیر نظر آیت کریمہ کے نازل ہونے کا سبب بھی یہی خوف تھا۔ قرآنِ کریم نے اس خوف کو ان الفاظ میں بیان کیاہے:
    ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندے سے سوال کرے گا:
    ثالث نمبر۳……الخوف الطبیعی: اس کی صورت یہ ہے کہ انسان کسی زبردست دشمن یا کسی جنگلی درندے وغیرہ سے وقتی طورپرخوف کھاجائے۔خوف کی یہ قسم مذموم نہیں ہے۔ جیسا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہـ:
    اِنَّمَا ذٰلِکُمْ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَاءَ ہٗ کا مطلب یہ ہے کہ شیطان تم کو اپنے دوستوں سے خوف زدہ کرتاہے اور فَلاَ تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ میں اللہ کی طرف سے مومنوں کے لئے غیراللہ سے خوف زدہ ہونے کی نہی فرمائی گئی ہے۔ اس میں در حقیقت یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے لئے خوف و خطرکے حدودکو صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس تک محدود رکھیں اور اپنی ذات پر فقط اسی سے ڈرنے کی کیفیت طاری رکھیں۔ یہی وہ اخلاص ہے جس کو دلوں میں جاگزین کرنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوںکو حکم دیا ہے اور اسی کو پسند فرمایا ہے جب وہ خوف و خطر اور اپنی تمام عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیں گے تو وہ ان کو ایسی چیزوں سے بہرہ ور کردے گاجوان کی توقعات کے دائرہ سے بالکل باہر ہوں گی اور ان کو دنیا وآخرت کے خطرات سے قطعی طور پر محفوظ رکھے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: اَلَیْسَ اﷲُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، آیت کا معنی یہ ہے کہ:
    پس اس آیت سے معلوم ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور خوف کھانا کامل ایمان کی شروط میں سب سے بڑی شرط ہے۔
    قول اﷲ تعالیٰ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اﷲِ مَنْ اٰمَنَ بِاﷲِ وَ الْیَوْمِ الأٰخِرِ وَ أَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ أٰتَی الزَّکوٰۃَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلاَّ اﷲَ فَعَسٰیٓ أُولٰٓئِکَ أَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ (التوبۃ: ۱۸)
    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایاہے کہ تعمیر مساجد میں وہی لوگ حصہ لیتے ہیں جن کے دلوں میں ایمان کی دولت و دیعت کی گئی ہے اور ان کا آخرت پر یقین کامل ہے۔ ان کا ایمان دل کے ہر گوشے میں پیوست ہوتاہے، وہ ظاہری اعضا سے اعمالِ صالحہ انجام دیتے ہیں اور کسی طاغوتی قوت سے نہیں ڈرتے۔ان ہی صفات کے حامل لوگوں سے تعمیر مساجد کا عمل معرضِ ظہور میں آتاہے اور مشرک اس عمل سے دوربھاگتے ہیں تعمیر مساجد میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع، اور اعمالِ صالحہ کی روح کار فرما ہوتی ہے۔ اگر کبھی مشرکین کے ہاتھوں سے ایسا عمل ظاہر ہوجائے تو اس کی حیثیت ایسے ہوتی ہے جیسے:
    جن بدنصیب لوگوں کے اعمال کی حیثیت بطور نتیجہ کے یہ ہو، اس سے تو بہتریہ ہے کہ عمل کیا ہی نہ جائے۔پس تعمیر مساجد جیسا عظیم الشان عمل جس کا تعلق توحید خالص اور عملِ صالح سے ہے اور شرک وبدعت کی ملاوٹ سے یہ عمل بالکل پاک و صاف ہے، وہ ایمان مطلق میں داخل ہے۔ اہل سنت و الجماعۃ کا یہی عقیدہ ہے۔
    ابن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    قولہٗ فَعَسٰیٓ أُولٰٓئِکَ أَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ ابن ابی طلحہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا ترجمہ یوں نقل کرتے ہیں کہ:
    قرآن میں جہاں بھی عسیٰ کا لفظ آیا ہے اس کا واقع ہونا لازمی ہے۔ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    (رورہ احمد، والترمذی، والحاکم، عن ابی سعید الخدریرضی اللہ عنہ )
    قول اﷲ تعالیٰ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاﷲِ فَإِذَآ أُوْذِیَ فِی اﷲِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اﷲِ (العنکبوت: ۱۰)
    اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کا ترجمہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ :
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس ارشاد گرامی کو جو انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا، مضبوطی سے تھام لینا چاہیے اور حرزجان بنالینا چاہیئے۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    پس جس خوش نصیب کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے، بھلائی و کامیابی کا راستہ اس کے سامنے ظاہرکردے اور مخالفین کے شرسے اس کو محفوظ رکھے تو وہ محرمات میں ان کی موافقت نہیں کرے گا اور ان ظالموں کے ظلم و ستم کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتاچلاجائے گا۔ یہاں تک کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی اس کے قدم چوم لے گی۔ جیساکہ انبیاء اور ان کی اتباع کرنے والوں کے ساتھ ہوتا چلاآیاہے۔
    مذکورۃ الصدر دو قسم کے لوگوں کے علاوہ ایک شخص وہ بھی ہے جو بے بصیرتی اور کم عقلی کی بنا پر ایمان کا دعویدار بن بیٹھاہو اگر کسی وقت کسی مصیبت اور مشکل میں پھنس جائے تو اسے وہ ایک فتنہ سمجھتا ہے۔ فتنہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس آزمائش اور تکلیف کو جو بہرحال انبیاء اور ان کے فرمانبرداروںکو مخالفین کی طرف سے پہنچتی ہے، ایک عذاب سمجھتاہے۔ اس فتنہ کی وجہ سے وہ ایمان سے بھاگتاہے اور اس سبب کوچھوڑدیتاہے جس سے یہ مصیبت دور ہو، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کہ مومن ایمان لاکراس سے خلاصی چاہتے ہیں۔
    صاحبِ بصیرت، اور خالص مومن تو عذابِ الٰہی سے ڈرکرایمان کی طرف لپکے اور دوڑے اور عارضی مصائب کو برداشت کرنے کے لئے سینہ سپرہوگئے۔
    اور یہ کم عقل اور بے بصیرت لوگ انبیائے کرام کے دشمنوں کی عارضی تکلیف سے بچنے کے لئے ان کی موافقت کرنے پر رضا مند ہوگئے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے، ان کی عارضی تکلیف اور جلد ختم ہوجانے والی مصیبت سے بھاگے اور عذابِ الہٰی کی طرف چل پڑے۔ لوگوںکی آزمائش اور فتنہ کو عذابِ الٰہی سمجھ بیٹھے اوربالکل برباد ہوگئے۔ اس ذہن کے حامل لوگ حماقت اور بے وقوفی کا شکار اس طرح ہوگئے کہ گرمی سے بچاؤکی خاطر آگ میں چھلانگ لگادی…چند لمحوں کی تکلیف برداشت کرنے سے تو انکارکردیا لیکن دائمی عذاب کو دعوت دے دی۔ایسے شخص کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو غلبہ اور کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے، تو یہ شخص فوراً بول اٹھتا ہے کہ میں تو تمہارے ہی ساتھ تھا لیکن ایسا شخص اللہ تعالیٰ کو کیسے دھوکادے سکتاہے؟ وہ اس کے نفاق سے بخوبی آگاہ ہے اور اس کے دل کی دھڑکنوں سے واقف ہے۔
    وَعَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ رضی اللہ عنہ مَرْفُوْعًا اِنَّ مِنْ ضَعْفِ الْیَقِیْنِ أَنْ تُرْضِیَ النَّاسَ بِسَخَطِ اﷲِ وَأَنْ تَحْمَدَھُمْ عَلٰی رِزْقِ اﷲِ ـ
    سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ضعف ، کمزوری کو کہتے ہیں۔ اور یقین کامل ایمان کا دوسرا نام ہے سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    اس روایت کو ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں، اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے کتاب الزھد میں سیدنا ابنِ مسعودرضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
    حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر دوسروں کی رضا کو ترجیح دی جائے یہ چیزاس وقت پیداہوتی ہے جب کسی شخص کے قلب میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و بزرگی اور اس کی علوشان کا جذبہ مفقود ہو۔ یہی وہ جذبہ ہے جس سے رَبِّ کریم کو ناراض کرکے مخلوقِ الٰہی کوراضی اور خوش کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ اللہ کریم ہی دلوں میں مختلف تصرفات کرتاہے، غم و اندوہ کے حملوں سے انسان کو نجات بخشتا ہے اور اس کی بدکرداریوں کو آنِ واحدمیںختم کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا پر دوسروں کی رضا کو ترجیح دینا شرک کی اقسام میں سے ایک قسم ہے کیونکہ انسان نے اللہ کی رضاپر مخلوق کی رضا کو اہم گردانا۔ ایسے لوگوں کا قرب اس طرح حاصل کیا جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتاہے۔
    اس ناپسندیدہ عمل سے وہی شخص محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ محفوظ رکھے،اپنی اطاعت کی توفیق بخشے اور ان صفات جلیلہ کی معرفت تامہ عطا کرے جواس کی ذاتِ کبریا کی عظمت کے قابل ہیں۔ اور ان تمام صفات سے اللہ تعالیٰ کو پاک اور منزہ سمجھے جو اس کے کمال کے منافی ہیں۔ نیز اس کی توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ الُوہیت کی معرفت بھی مکمل ہو۔
    قولہٗ وَأَنْ تَحْمَدَھُمْ عَلٰی رِزْقِ اﷲِ
    یعنی جن لوگوں کے توسط سے رزق کی نعمت میسرآئی ہو، اس نعمت کو ان کی طرف منسوب کرنا، اور ان کی تعریف میں لگے رہنا کیونکہ حقیقت میں تو اللہ تعالیٰ ہی اس نعمت کو عطا کرنے والا ہے اسی نے ان ذرائع سے یہ رزق بہم پہنچایا ہے۔ اور جب وہ چاہتا ہے اس قسم کے خودبخود اسباب مہیافرمادیتا ہے۔ کسی شخص کی تعریف نہ کرنا مندرجہ ذیل حدیث کے مخالف نہیں ہے ’’جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا‘‘۔ (ابوداؤد، ترمذی، صحیح ابن حبان)۔
    لوگوں کا شکر ادا کرنے کی صورت صرف یہ ہوتی ہے کہ ان کے لئے دعا کرے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے نعمت عطافرمائی ہے اس کے بدلے میں یا تو دُعائے خیر کی جائے یا اس کا کوئی بہتربدلہ دینے کی کوشش کی جائے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ چکاؤ اگر بدلہ نہ دے سکو تو اس کے لئے اتنی دعا کرو کہ تمہیں یقین ہوجائے کہ تم نے بدلہ چکا دیا ہے‘‘۔ (ابوداؤد، نسائی)۔ اچھے اور معروف عمل کو لوگوںکی طرف اس لحاظ سے منسوب کرنا کہ یہ ذریعہ اور سبب بنے ہیں درست ہے لیکن حقیقت میں یہ اچھا عمل اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے وجود میں آیاہے۔

    وَ أَنْ تَذُمَّھُمْ عَلٰی مَا لَمْ یُؤْتِکَ اﷲُ اِنْ رِزَقَ اﷲُ لَا یَجُرُّہٗ حِرْصُ حَرِیْصٍ وَ لَا یَرُدُّہٗ کَرَاھِیَۃ کَارِہٍ ـ
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی پوری کوشش کرتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد ضرورکرتاہے۔ اسے رزق بھی فراخی سے ملتا ہے، وہ لوگوں کا دستِ نگر بھی نہیں رہتا۔ اللہ کو ناراض کرکے لوگوں کی خوشی حاصل کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں سے خوف کھاتاہے اور ان سے امیدیں وابستہ رکھتاہے۔ یقین کا یہ انتہائی کمزورپہلو ہے۔ جس چیز کی لوگوں سے امید ہوتی ہے اگر وہ حاصل نہ ہو تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تمام امور کی باگ ڈور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جو چاہتاہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا اس کا ہونا ممکن ہی نہیں۔ ناکامی کی صورت میں لوگوں کی مذمت کرنا بھی یقین اور ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔ اس لئے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ نہ کسی سے ڈرے، نہ کسی سے امید باندھے اور نہ اپنے خواہشات کی بناپرکسی کی مذمت کرے کیونکہ محمود وہی شخص ہے جس کی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تعریف کریں اور مذموم بھی وہی ہے جس کی مذمت اللہ تعالیٰ خود کرے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے مذمت بیان کی جائے۔
    زیرِ بحث حدیث سے ثابت ہوا، کہ ایمان بڑھتا گھٹتا رہتاہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے اور اعمال اور ایمان کا آپس میں گہراتعلق ہے۔
    وعن عائشۃ رضی اللہ عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنِ الْتَمَسَ رِضَی اﷲِ بِسَخَطِ النَّاسِ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ وَ أَرْضٰی عَنْہُ النَّاس ـ وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَی النَّاسِ بِسَخَطِ اﷲِ سَخَطَ اﷲُ عَلَیْہِ وَ أَسْخَطَ عَلَیْہِ النَّاسَ
    ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہرضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
    ابن حبان نے مندرجہ بالا الفاظ سے یہی روایت نقل کی ہے، البتہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اہل مدینہ میں سے ایک شخص سے مندرجہ ذیل واقعہ تفصیل سے نقل کیا ہے کہ:
    شیخ الاسلام امام تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہـ:
    البتہ موقوف حدیث کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کو سامنے رکھ کر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جس مسئلہ کو واضح فرمایا ہے وہ تفقہ فی الدین کی عظیم الشان مثال ہے۔ کیونکہ جو شخص لوگوں کی ناراضی مول لے کر اپنے اللہ کو منا لیتا اور اس کو راضی کر لیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے ضائع نہیں کرتا بلکہ اسے شریروں کے ظلم و ستم سے محفوظ فرمالیتاہے اور ایسا شخص اللہ کا صالح بندہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صالحین کاہی دوست اور والی ہے، اور وہی اپنے بندے کے لئے کافی اور کارساز ہے وہ خود فرماتاہے: ’’جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کاکوئی راستہ پیداکردے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دیگا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو‘‘۔
    اللہ تعالیٰ بلاشبہ اپنے بندوں کی کفالت کرتاہے۔ جو شخص یہ خیال کرے کہ سب لوگ اس سے راضی اور خوش ہوجائیں تو یہ ناممکن بات ہے۔ لوگ اس وقت تک خوش رہیں گے جب تک ان کی اغراض پوری ہوتی رہیں گی۔ لیکن جب لوگوں کو انجام کا پتا چلے گا کہ: ’’جو اللہ کو ناراض کرکے لوگوں کو خوش کرے تو وہ اللہ کے مقابل اس کے کسی کام نہ آئیں گے‘‘۔ تو اپنے ہی ہاتھوں کو کاٹیں گے، جیسے ظالم کی طرح جو اپنے ہی ہاتھوں کو کاٹتاہے۔ جو شخص اس دارِفانی میں لوگوںکی بے حد تعریف کرتا ہے وہی آخرت میں ان کی مذمت کرے گا۔ آخرت تو متقین کے لئے ہی مخصوص ہے یہ عام لوگوں کی خواہش کے مطابق ابتدا میں کیسے میسرآسکتی ہے؟
    ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    زیر بحث حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جو شخص لوگوں سے خوف کھائے گا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر لوگوںکی خوشی کو ترجیح دے گا اسے سخت ترین سزا سے دو چار ہونا پڑے گا۔ خصوصاً شریعت اسلامیہ کے مطابق جو سزا ملے گی اس کی سختی کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہرمسلمان کو اس سزا سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
    فیہ مسائل
    ٭ یقین، کمزور اور قوی ہوتا رہتا ہے۔ ٭ یقین کے کمزور ہونے کی تین علامات کا ذکر۔ ٭خوف کو خالص اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے مخصوص کردینا اسلام کے فرائض میں سے ایک فرض ہے۔ ٭ جو شخص خوفِ الہٰی میں خلوص پیداکرلیتا ہے اس کے اجرو ثواب کا ذکر۔ ٭ جس شخص کے خوفِ الٰہی میں ملاوٹ پیداہوگئی اس کی سزا کے متعلق گفتگو۔
     
  8. ‏مئی 07، 2013 #38
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    توکل علی اللہ مومنوں کی خاص علامت ہے۔

    توکل علی اللہ مومنوں کی خاص علامت ہے۔
    باب: قال اﷲ تعالیٰ وعلی اﷲ فتوکلوا ان کنتم مؤمنین

    اس باب میں توکل علی اﷲ کو مومنوں کی ایک خاص علامت قرار دیاگیا ہے
    قال اﷲ تعالیٰ وعلی اﷲ فتوکلوا ان کنتم مؤمنین
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’تم اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرو، اگر تم مومن ہو‘‘۔
    ابو السعادات رحمہ اللہ فرماتے ہیں
    مصنف رحمہ اللہ نے مندرجہ بالا آیت پر باب کا عنوان اس لیے قائم کیا ہے کہ توکل فرائضِ اسلام میں سے ایک ایسا فریضہ ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ۔
    آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ساری دنیا سے منہ موڑ کر صرف اللہ پر توکل کرلے۔ عبادات کی جتنی بھی اقسام ہیں تَوَکُّلْ عَلَی اﷲِ ان تمام عبادات سے عظیم تر ہے کیونکہ اعمالِ صالحہ کادارومدار توکل ہی پرہے۔
    جب ایک انسان ساری دنیا سے کٹ کر اپنے دینی اور دنیاوی تمام اُمور میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرلیتاہے تواس کے اخلاص میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا اور اس کا معاملہ اللہ سے ہوجاتاہے۔ توکل علی اﷲ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کی بڑی منزلوں میں سے ایک منزل ہے لہٰذا توحیدکی تینوںقسمیں اس وقت تک مکمل نہ ہوںگی جب تک توکل علی اللہ کامل نہ ہو گا۔ جیسا کہ زیر نظرآیت سے واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ایک مقام پر اس کی یوں وضاحت فرمائی:
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    پیشِ نظر آیت کریمہ کی تشریح میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    اس آیت کریمہ میں توکل کو اسلام کی صحت کا معیار قرار دیا گیا ہے، پس جس شخص کا ایمان قوی ہوگا اس کا توکل علی اللہ بھی مضبوط ہوگا۔ اور اگر خدانخواستہ ایمان کمزور ہوگیا تو توکل کا کمزور ہونا بھی یقینی ہے۔ اسی طرح جس کا توکل علی اللہ کمزورہوگااس کا ایمان بھی کمزور ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں کبھی تو توکل اور عبادت کو یکجا بیان فرماتاہے،کبھی توکل اور ایمان کو اور کبھی توکل اور تقویٰ کو اور کبھی توکل اور اسلام کو اور کبھی توکل اور ہدایت کو۔ پس معلوم ہوا کہ ایمان اور احسان کے تمام اہم مقامات پرتوکل علی اللہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور یہ کہ اسلام کے تمام اعمال میں توکل کا وہی مقام اور اس کی وہی حیثیت ہے جو بدن انسانی میں سر کی ہے۔ جیسے بدن کے بغیر سَر قائم نہیں رہ سکتا اسی طرح ایمان اور اس کے مقامات اور اعمال توکل علی اللہ کے بغیرقائم نہیںرہ سکتے۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہرحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اور مشرک کے متعلق اللہ تعالیٰ کافرمان ہے۔
    شارح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توکل علی اللہ کی دو قسمیں ہیں۔
    ۱۔ایسے اُمور میں غیراللہ پر توکل کرنا جو صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں، جیسے وہ لوگ جو فوت شدگان یا طاغوت وغیرہ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ کسی قسم کی امداد کریں گے یا حفاظت کا فریضہ ادا کریں گے یا رزق وغیرہ دیں گے یا قیامت کے دن سفارش کریں گے، یہ عقیدہ شرکِ اکبرہے۔
    ۲۔دوسری قسم یہ ہے کہ ظاہری اسباب و ذرائع پر بھروسہ کرلیا جائے، جیسے کسی امیر یا بادشاہ پر یہ بھروسہ کرلیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے دیا ہے اس میں سے ہم کو بھی دے گا یا کسی بیرونی طاقت کے شر سے بچاؤ کی امید کرلی جائے تو یہ شرکِ اصغر کی ایک قسم ہے۔

    جائز وکالت یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے شخص کوایسے کام پر وکیل بنائے جس پر اسے قدرت حاصل ہو اور وکیل بنانے کے بعد بھی وکیل پر اعتماد اور بھروسہ نہ کر بیٹھے بلکہ توکل اور کلی اعتماد اللہ تعالیٰ پر رکھے کہ وہ اس کام کو نائب اور وکیل پر آسان کردے۔ نائب اور وکیل پر اعتماد کے بجائے ربِ کریم پر اعتماد کرے جو حقیقی مسبّب الاسباب ہے۔
    قال اﷲ تعالیٰ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اﷲُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَاناً وَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (الانفال: ۲)
    اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’پہلے اللہ تعالیٰ نے منافقین کی علامات بیان فرمائی ہیں کہ فرائض کی ادائیگی کے وقت بھی ان کے دل میں ذکراللہ کی جھلک نظر نہیں آتی۔ ٭ نہ اللہ تعالیٰ کی آیات پران کا ایمان ہے۔ ٭ نہ توکل علی اللہ کے قائل ہیں۔ ٭ جب مسلمانوں سے الگ ہوتے ہیں تو نماز نہیں پڑھتے۔ ٭ اور اپنے مال کی زکوٰۃ بھی ادا نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ مومن ہی نہیں ہیں۔
    منافقین کی علامات بیان کرنے کے بعد مومنین کی صفاتِ حسنہ کوبیان کیاگیاہے: ’’سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ تعالیٰ کا ذکر سن کرلرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتاہے اور وہ اپنے رب پر توکل رکھتے ہیں‘‘۔ (الانفال:۲)۔ مومن ہی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض ادا کرتاہے‘‘۔ دل کے کپکپاجانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جن اعمال کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کو انجام دینے اور جن سے روکاگیا ہے ان کو چھوڑدینے کے لئے مستعد اور چوکس ہوجاتاہے‘‘۔
    زیر نظر آیت کے بارے میں السُّدی کہتے ہیں:
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام، تبع تابعین اور تمام اہل سنت نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے کہ ایمان بڑھتا گھٹتا رہتاہے۔ سیدنا عمیر بن حبیب رضی اللہ عنہ صحابی فرماتے ہیں:
    مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    امام شافعی رحمہ اللہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اورابو عبید رحمہ اللہ نے ایمان کے بڑھنے گھٹنے پراجماعِ اُمت بیان کیا ہے۔
    قولہٗ وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ یعنی مومنین کی صفات یہ ہیں: وہ دل سے اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ کرتے ہیں۔ اپنے تمام دینی اور دنیاوی امور کو اللہ ہی کی طرف سونپ دیتے ہیں۔ ٭ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتے۔ ٭ اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا مقصود سمجھتے ہیں۔ ٭ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رغبت کرتے ہیں۔ ٭مومنین کو یہ یقین ہے کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے گا وہی ہوگا۔ ٭ اور جو اس کی مشیت کے خلاف ہے اس کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ ٭اللہ تعالیٰ اپنی مملکت میں واحد متصرف ہے۔ ٭اور وہی اکیلا معبودِ حقیقی ہے۔
    زیر نظر آیت کریمہ میں مخلص مومنین کے خاص طور پر تین اعلیٰ مقام بتائے گئے ہیں اور تین علامات بیان کی گئی ہیں۔ ۱۔خوفِ الٰہی۔ ۲۔ ایمان میں اضافہ۔ ۳۔ اور صرف اللہ تعالیٰ پر توکل۔ یہ تین مقامات ایسے ہیں جن سے ایمان کامل ہوتا ہے۔ ظاہری اور باطنی اعمال انسان سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جیسے۔
    نماز:جو شخص نماز قائم کرے، اس کی حفاظت بھی کرے۔ اور اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتا رہے تو اس عمل صالح کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ دوسرے واجبات پر بھی عمل کرے گا اور محرکات کو چھوڑ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    قول اﷲ تعالیٰ یٰٓأَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اﷲُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤُمِنِیْنَ (الانفال: ۶۴)۔
    اس آیت کریمہ کے معنی علامہ ابن قیم رحمہ اللہ یوں فرماتے ہیں کہ:
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی یہی معنی پسند فرمائے ہیں۔
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ـ:
    اس آیت کریمہ پر غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ نے ’’حسب‘‘ اور تائید کو الگ الگ بیان فرمایا ہے۔ ’’حسب‘‘ کو صرف اپنی طرف منسوب فرمایا اور ’’تائید‘‘ کو اپنی مدد و نصرت اور مومنین دونوں کی طرف نسبت فرمائی ہے۔ اور خصوصاً اپنے ان بندوں کی جو اہل توحید ہیں اس بات پر تعریف کی ہے کہ انہوں نے ’’حسب‘‘ کو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص کیا ہے جیسا کہ اہلِ توحید کا قول نقل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
    مومنین نے حسبنااللہ ورسولہ نہیں کہا۔ ایک جگہ پر اسی کو یوں بیان کیا گیا ہے:
    اس آیت پر ذرا غور فرمائیے کہ مومنین موحدین نے ’’ایتاء‘‘ کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کی طرف اور ’’حسب‘‘ کو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ حسبنااﷲ ورسولہ بلکہ حسب کو خالص اللہ کا حق قرار دیاہے جیسے ایک دوسرے مقام پراللہ تعالیٰ ان کی بات کو یوں نقل فرماتا ہے کہ:
    اس آیت میں رغبت کو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیاگیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتاہے:
    پس ثابت ہوا کہ رغبت، توکل، انابت اور حسب صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ جیسے عبادت، تقویٰ، سجدہ، نذرونیاز، اور قسم وغیرہ صرف اللہ کے لئے ہیں۔
    مندرجہ بالابحث سے آیت زیر نظر آیت کا باب سے تعلق بھی معلوم ہوگیا وہ یہ کہ جب اللہ تعالیٰ ہی اکیلا اپنے بندے کا کارساز ہے تو بندے پر واجب ہے کہ وہ اسی ایک وحدہٗ لا شریک پر توکل اور اعتماد کرے جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ادھر اُدھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی رحمتوں کو روک لیتا ہے اور انسان کو اس کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں فرمایا گیاہے:
    قال اﷲ تعالیٰ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اﷲِ فَھُوَ حَسْبُہٗ (الطلاق: ۳)
    بعض سلف نے کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر عمل کی جزاء اس کی ذات سے رکھی ہے اور اللہ پرتوکل کی جزا اس کو کفایت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    اور یہ نہیں فرمایا کہ اس کو اتنا اجر ملے گا، جیسا کہ دوسرے اعمال میں کہا ہے بلکہ متوکل کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو کافی اور اس کا محافظ بنایا ہے۔ اگر بندہ اللہ تعالیٰ پر پوری طرح توکل کرے اور اس کے خلاف زمین اور آسمان اور ان میں رہنے والی مخلوقات اس کے خلاف تدبیر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی کشادگی کی راہ پیداکرے گا اور رزق اور مدد میں اس کی کفایت کرے گا‘‘۔
    امام احمد رحمہ اللہ نے کتاب الزہد میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ کا ایک قول نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ :
    پیش نظر آیت کریمہ میں توکل علی اللہ کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جلب منفعت اور دفع ضرر کے لئے توکل علی اللہ بہت بڑا سبب اور ذریعہ ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ توکل کے ساتھ ساتھ اسباب اور ذرائع کو بروئے کار لانا چاہیئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بھی پہلے تقویٰ کا ذکر فرمایا اور بعد میں توکل بیان کیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    یہاں تقویٰ کو توکل کے ساتھ اس لئے بیان فرمایا کہ تقوی ان اسباب کو شامل ہے جن اسباب کی شریعت اسلامیہ نے اجازت دی ہے اور اس بات کو بطور خاص ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ توکل بغیر شرعی اسباب کے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اگرچہ اس میں اس طرح کا توکل پایا جاتا ہے پس انسان کو چاہیئے کہ اپنے عجز کو توکل اور توکل کو عجز نہ سمجھے بلکہ ان تمام اسباب کو جن سے اپنا مقصود حاصل کرنا ہو، بروئے کار لائے اور جو جائز اسباب مہیا ہو سکیں، ان کو ترک نہ کرے۔
    وعن ابن عباس رضی اللہ عنہ قَالَ حَسْبُنَا اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ قَالَھَا اِبْرَاھِیْمُ حِیْنَ اُلْقِیَ فِی النَّارِ وَ قَالَھَا مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم حِیْنَ قَالُوْا لَہٗ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَانًا وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ (رواہ البخاری والنسائی)۔
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’حَسْبُنَا اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ‘‘ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اُس وقت کہا تھا جب انہیں آگ میں ڈالا گیا تھا۔ اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت کہا تھا جب جنگ اُحد کے اختتام پر لوگوں نے کہا کہ دشمن تمہارے لئے فوجیں جمع کر رہا ہے اس سے ڈرو، تو اس سے مسلمانوں کا ایمان اور مضبوط ہوا اور بڑھا۔
    یعنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمارا کارساز ہے ہم اسی پر توکل اور بھروسہ کریں گے جیسا کہ ’’کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے‘‘ (الزمر:۳۹)۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا اور اس کو اپنا وکیل بنایا ہے وہ بہت ہی عمدہ اعلی اور ارفع ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے: (ترجمہ) ’’اور اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہو جاؤ وہ ہے تمہارا مولیٰ بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے مددگار‘‘۔ (الحج:۷۸)۔
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ قرآن کریم میں نقل فرمایا ہے، قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں کہ:
    غزوئہ اُحد میں شکست کھانے کے بعد جب قریش مکہ، مدینہ منورہ کی حدود سے باہر نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی کہ ابوسفیان جو اس وقت لشکر کفار کا سپہ سالار تھا دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ستر جانباز سوار صحابہ کرام کو لے کر اس کے مقابلہ کے لئے حمراء الاسد نامی مقام پر قریشی حملہ آوروں کو روکنے کے لئے تشریف لے گئے۔ یہ سن کر ابوسفیان حواس باختہ ہو گیا اور وہ اپنے لشکر کو لے کر سیدھا مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں ابوسفیان کو عبدالقیس میں سے ایک قافلہ ملا۔ ابوسفیان نے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: مدینہ جانا چاہتے ہیں۔ ابوسفیان بولا: مدینہ جا کرہمارا پیغام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دو گے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ ضرور پہنچائیں گے۔ ابوسفیان نے یہ پیغام دیا کہ: جب مدینہ پہنچو تو مسلمانوں سے کہنا کہ ہم نے دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے تاکہ تم سب مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ چنانچہ عبدالقیس کا یہ قافلہ جب حمراء الاسد پہنچا تو ابوسفیان کی یہ بات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا دی۔ آپ اُس وقت تک ابھی حمراء الاسد ہی میں قریش کے انتظار میں تھے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی فرمایا: ’’حَسْبُنَا اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ‘‘ ۔
    سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعہ میں اس عظیم الشان دعائیہ جملہ کی عظمت اور فضیلت کا پتا چلتا ہے کیونکہ یہ دو خلیلوں کا متفقہ دعائیہ جملہ ہے اور وہ بھی انتہائی مشکل وقت میں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    فیہ مسائل
    ٭ توکل علی اللہ فرائض میں سے ہے۔ ٭ ایمانِ صادق کی سب سے بڑی شرط یہی توکل ہے۔ ٭کلمہ ’’حَسْبُنَا اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ‘‘ کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ مشکل اور مصیبت کے وقت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نے اِسے پڑھا۔
     
  9. ‏مئی 07، 2013 #39
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    کیا لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہو گئے ہیں؟

    کیا لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہو گئے ہیں؟
    باب:اَفَاَمِنُوْا مَکْرَ اﷲِ فَلَا یَاْمَنُ مَکْرَ اﷲِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُوْنَ (الاعراف:۹۹)

    اس مقام پر اس آیت کریمہ کے ذکر سے مصنف رحمہ اللہ کا مقصد یہ تنبیہ کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بے خوف ہو جانا بالکل اسی طرح کے عظیم گناہوں میں سے ہے اور توحید الٰہی کے سراسر خلاف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نااُمید ہو جانا بہت بڑا گناہ ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ مومن کو چاہیئے کہ وہ خوف اور رِجا کی کیفیتوں کے درمیان اپنی زندگی بسر کرے جیسا کہ کتاب و سنت اور سلف ِ اُمت نے اس کی وضاحت فرمائی ہے۔
    زیر نظر آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنہوں نے پوری قوت سے انبیاء کی مخالفت اور اُن کی تکذیب کی اور پھر فرمایا کہ اِن لوگوں نے انبیائے کرام کی مخالفت اس لئے کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بے خوف ہو گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں پوری تفصیل سے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ:
    ان کے اس مکروہ کردار کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بے خوف ہو گئے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قدر نعمتوں سے نوازا اور مال و دولت میں اس قدر فراوانی عطا فرمائی کہ یہ لوگ اس بات کو قطعاً بھول گئے کہ یہ مال و متاع بھی ہماری گرفت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
    امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    اسماعیل بن رافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    بعض متقدمین اہل علم نے مکر اللہ کی مندرجہ ذیل تشریح فرمائی ہے:
    مکر اللہ کی یہ مختصر سی تشریح تھی جو مختلف علمائے کرام اور محدثین عظام کی عبارات سے پیش کی گئی۔ واللہ اعلم۔
    قَالَ وَمَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖٓ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ (الحجر)
    سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کہا:
    اللہ تعالیٰ سے نااُمید ہونے اور اس کی طرف سے مصائب کے حل کو مستبعد سمجھنے کو قنوط کہتے ہیں۔ اس کے بالمقابل اللہ کی گرفت سے بے خوف ہونا۔ یہ دونوں کبیرہ گناہوں میں سے ہیں اور تصورِ توحید کے منافی ہیں۔ زیر نظر آیت اور اس سے پہلے بیان کی گئی آیت کریمہ کو مصنف رحمہ اللہ نے اس لئے یکجا بیان کیا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اُس کو رحمت الٰہی سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے بلکہ خوف اور اُمید کے بین بین زندگی گزارنا چاہیئے۔ انسان اپنے گناہوں سے ڈرتا اور اُس کی اطاعت میں عمل صالح کرتا رہے اور پھر اُس کی رحمت کا اُمیدوار بھی رہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    دوسرے مقام پر فرمایا:
    اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کو چھوڑ کر نافرمانی اور گناہوں پر اصرار کرنا اور اس پر بخشش کی اُمید رکھنا شیطان کا زبردست دھوکا اور فریب ہے تاکہ بندے کو خوفناک کیفیت میں ڈال دے اور ان اسباب و ذرائع کے قریب بھی نہ آنے دے جن کی وجہ سے انسان نجات حاصل کر سکے۔ لیکن اہل ایمان اور توحید میں پکے افراد کا ہمیشہ یہ دستور رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ان اسباب سے دست کش نہیں ہوتے جن سے کامیابی اور نجات ممکن ہے وہ اللہ کے عذاب سے بھاگتے اور اُس کی بخشش کی اُمید رکھتے ہیں۔ اور ان کے سینوںمیں اجر و ثواب کی توقع پنہاں ہوتی ہے۔
    آیت زیربحث کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا قول نقل فرمایا ہے، یہ اُس وقت کا واقعہ ہے جب فرشتوں نے سیدنا خلیل علیہ السلام کو سیدنا اسحق علیہ السلام کی پیدائش کی خوشخبری سنائی تھی، چنانچہ اس خوشخبری پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کہا:
    کیونکہ دنیا کا دستور یہ ہے کہ جب انسان خود اور اس کی بیوی بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں تو پھر اولاد کا پیدا ہونا بہت ہی مشکل نظر آتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں تو کوئی چیز بھی مشکل نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اس تعجب خیز جملہ کو سن کر فرشتوں نے کہا:
    ہم نے جو خوشخبری دی ہے اُس میں شک و شبہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ کر لیتا ہے تو پھر کوئی چیز درمیان میں حائل اور رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اس لئے
    اس پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کہا:
    سیدنا ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کی رحمت کی وسعتوں کو خوب جانتے اور سمجھتے تھے لیکن اُنہوں نے صرف تعجب اور حیرت سے فرمایا تھا
    الضَّالُّوْنَ کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں: ۱۔ وہ لوگ جو صراط مستقیم کو چھوڑ کر شیطان کی بتائی ہوئی غلط راہ پر چلے جا رہے ہوں۔ ۲۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کافر ہی اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں۔ دوسرے معنی کی تائید مندرجہ ذیل آیت سے ہوتی ہے:
    عن ابن عباس رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم سُئِلَ عَنِ الْکَبَآئِرِ فَقَالَ الشِّرْکُ بِاﷲِ وَ الْیَاْسُ مِنْ رَّوْحِ اﷲِ وَ الْاَمْنُ مِنْ مَّکْرِ اﷲِ
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کون کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    تمام کبیرہ گناہوںمیں شرک سب سے کبیرہ گناہ ہے۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اللہ تعالیٰ نے بالکل سچ فرمایا اور اپنی مخلوق کی خیرخواہی کے لئے فرمایا:
    جن اُمور کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرا جاتا ہے اور جن اُمور کی توقع کی جاتی ہے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے اُمید اور توقع ختم کر لینا نااُمیدی کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ سوء ظن کی بدترین مثال ہے۔ اس کی رحمت لازوال سے نااُمیدی اس کی جُودت بے پایاں سے قنوطیت اور اس کی مغفرت لابدی سے صرفِ نظر کر لینے کا یہی نتیجہ ہوا کرتا ہے۔
    انسان کو مہلت پر مہلت دیتے جانا، اور اس کے دل سے ایمان کی دولت کو سلب کر لینا، یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان اللہ کے بارے میں بڑا جاہل اور بیوقوف ہے اور اپنے بارے میں خودفریبی میں مبتلا ہے۔

    یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ زیر بحث حدیث میں صرف تین کبیرہ گناہوں کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے کبیرہ گناہ ہیں۔ کتاب و سنت میں ان تین کو بہت ہی اہمیت حاصل ہے یہ تمام کبیرہ گناہوں میں سر فہرست ہیں۔ محققین علمائے کرام و محدثین عظام کی تصریحات کے مطابق کبیرہ گناہ کے متعلق مندرجہ ذیل اصول سامنے رکھنے چاہئیں کہ : ٭ ہر گناہ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ جہنم کی وعید سنائے۔ ٭یا جس کے مرتکب کو ملعون قرار دیا جائے۔ ٭ یا اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب کی وعید سنائی جائے۔ ٭ یا بقول امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایمان کی نفی کی جائے۔ وہ کبیرہ گناہ ہوتا ہے۔ ٭ وہ بھی کبیرہ گناہ ہے جس کے مرتکب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی برات کا اظہار کر دیں۔ ٭ یا جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما دیں کہ یہ ہم میں سے نہیں ہے۔
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کبیرہ گناہ تقریباً سات سو تک پہنچتے ہیں جن میں سے یہ اکبر الکبائر ہیں لیکن یہ اصول یاد رکھنا چاہیئے کہ استغفار کرنے پر کوئی کبیرہ گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اس پر اصرار کیا جائے تو کوئی صغیرہ گناہ صغیرہ نہیں رہتا‘‘۔
    و عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قَالَ اَکْبَرُ الْکَبَآئِرِ اَلْاِشْرَکُ بِاﷲِ وَ الْاَمْنُ مِنْ مَّکْرِ اﷲِ وَ الْقُنُوْطُ مِنْ رَّحْمَۃِ اﷲِ وَ الْیَاْسُ مِنْ رُّوْحِ اﷲِ (رواہ عبدالرزاق)۔
    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، اُس کے مکر سے بے خوف ہونا، اُس کی رحمت اور اس کے کرم سے نااُمید اور مایوس ہونا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔
    زیر بحث حدیث میں خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان کو خوف اور رجاء کے درمیان رہنا چاہیئے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو اُس کی رحمت سے مایوس اور بد دِل نہ ہو بلکہ اُس کی رحمت کی اُمید کا چراغ دِل میں روشن رکھے۔ سلف صالحین پسند کرتے تھے کہ صحت میںخوف غالب رہے اور بیماری میں اُمید غالب ہو جائے۔ ابوسلیمان الدارانی رحمہ اللہ کا یہی طریقہ اور یہی دستور تھا۔ بلکہ وہ فرماتے تھے کہ ’’دل پر خوف کا غلبہ ہونا چاہیئے کیونکہ اگر خوف پر رجا غالب آگئی تو دِ ل کی دُنیا میں فساد برپا ہو جائے گا‘‘۔

    مندرجہ ذیل آیاتِ قرآنی میں خوف کو اُمید سے مقدم گردانا گیا ہے اور پہلے ذکر کیا گیا ہے فرمایا:
     
  10. ‏مئی 07، 2013 #40
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر پر صبر کیا جائے۔

    اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر پر صبر کیا جائے۔
    باب:من الایمان باﷲ الصبر علی اقدار اﷲ

    اس باب میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر صبر کیا جائے۔
    وَمَنْ یُّؤْمِنْ بِاﷲِ یَھْدِ قَلْبَہٗ وَ اﷲُ بِکُلِّ شَییئٍ عَلِیْمٌ (التغابن:۱۱)۔
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں تقریباً نوے مقامات پر صبر کا ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم اور مسند امام احمد کی ایک صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اَلصَّبْرُ ضِیَائٌ صبر ایک نور ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ صبر سے بہتر اور وُسعت پذیر چیز کسی کو نہیں دی گئی، اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک قول نقل کیا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں
    ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    صبر کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے نفس پر ضبط کرے، زبان کا صبر یہ ہے کہ شکوہ و شکایت کے الفاظ زبان سے نہ نکلیں اور اعضاء کا صبر یہ ہے کہ مصائب و مشکلات کے وقت اپنے چہرے کو نہ نوچا جائے، نہ گریبان چاک کیا جائے۔ صبر تین اُمور سے تعبیر ہے:
    ۱۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کو عملی جامہ پہنانا۔
    ۲۔ اللہ تعالیٰ کے منع کردہ اُمور سے مجتنب رہنا اور ان کو ترک کرنا۔ اور
    ۳۔ مصائب و مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا۔

    اس آیت کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں: مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اﷲِ (التغابن:۱۱) کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے اِذن ہی سے آتی ہے۔ یعنی ہر قسم کی مصیبت اور آزمائش اللہ تعالیٰ کی مشیت، ارادے اور اس کے حکم کے بعد ہی انسان کو پہنچتی ہے، ایک آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے: (ترجمہ) ’’کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں نہ لکھ رکھا ہو، ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان کام ہے‘‘۔ (الحدید:۲۲)۔ سورئہ بقرہ میں فرمایا:
    یعنی جو شخص مصائب و مشکلات میں گھر جائے اور یہ سمجھے کہ یہ مصائب و آلام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر ہی سے نازل ہوئی ہیں، پھر صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اور اجر و ثواب کا اُمیدوار رہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر رضامند ہو کر اُسے تسلیم کرے تو اللہ تعالیٰ اُس کے دل کو ثابت قدم بھی رکھتا ہے اور صراطِ مستقیم سے بھی دُور نہیں جانے دیتا اور نتیجتاً جو کچھ اُس سے ضائع ہو جاتا ہے، اللہ اُس سے کہیں زیادہ عطا فرما دیتا ہے، اس کا دل نورِ ہدایت سے منور ہو جاتا ہے اور صدقِ یقین کی بے مثل دولت اُس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ آیت کے اس ٹکڑے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا صبر کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے اس علم کے مطابق ہوتا ہے جو اس کی حکمت کو شامل ہے جس کی وجہ سے انسان صبر و رضا کا مظاہرہ کرتا ہے۔
    قال علقمہ رحمہ اللہ ھُوَ الرَّجُلُ تُصِیْبُہُ الْمُصِیْبَۃُ فَیَعْلَمُ اَنَّھَا مِنْ عِنْدِ اﷲِ فَیَرْضٰی وَ یُسَلِّمُ
    جناب علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وہ شخص ہے جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ یہ سمجھے کہ یہ مصیبت اللہ کی طرف سے ہے اس لئے اس پر خوش ہو اور دِل کی گہرائیوں سے اُسے تسلیم کرے۔
    یہ قول اعمش نے ابی ظبیان سے یوں نقل فرمایا ہے کہ:
    جناب علقمہ رضی اللہ عنہ کے اس قول سے ثابت ہوا کہ اعمال ایمان کا جزو ہیں۔
    و فی صحیح مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِثْنَتَانِ فِی النَّاسِ ھُمَا بِھِمْ کُفْرٌ اَلطَّعْنُ فِی النَّسَبِ وَ النِّیَاحَۃُ عَلَی الْمَیِّتِ
    صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    یعنی یہ دونوں چیزیں لوگوںمیں کفر کا بقایا ہیں کیونکہ یہ جاہلیت کے اعمال میں سے ہیں اور یہ لوگوںمیں موجود رہتی ہیں اور ان سے وہی شخص بچ سکتا ہے جسے اللہ بچائے اور علم عطا فرمائے اور ایسا نورِ ایمانی بخشے جس سے وہ روشنی حاصل کرے، لیکن یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ جس آدمی میں کفر کا ایک شعبہ ہو وہ کافر مطلق کی طرح نہیں ہوتا جیسا کہ وہ آدمی جس میں ایمان کی ایک شاخ ہو وہ مطلق مومن کی طرح نہیں ہوتا اور کفر نکرہ اور معرف باللام کے اثبات میں بہت بڑا فرق ہے۔
    حدیث کے ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو نسب کی بنا پر حقیر سمجھنا یا اس کا نسب نامہ معلوم ہوتے ہوئے اُسے کسی دوسرے شخص کا بیٹا قرار دینا۔ کسی رشتہ دار کی موت پر بین کرنا اور لوگوں کے سامنے اس کے فضائل و محاسن بیان کرنا، بین کہلاتا ہے۔ اس قسم کے بین کرنا اور میت کے اوصاف ظاہر کرنا وغیرہ اُمور تقدیر الٰہی پر عدمِ رضا اور صبر کے سراسر منافی ہے۔ نیاحۃ میں اس قسم کے بول بولنا مراد ہے کہ ’’مرنے والا میرا دایاں بازو تھا اور یہی میرا پشت پناہ تھا‘‘۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صبر کرنا واجب ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ایک کفر ایسا بھی ہے جس کے ارتکاب سے انسان ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا۔

    و لھما عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوعا لَیْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُوْدَ وَ شَقَّ الْجُیُوْبَ وَ دَعَا بِدَعْوَی الْجَاھِلِیَّۃِ
    صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    یہ حدیث اُن نصوص میں سے ایک ہے جن میں وعید سنائی گئی اور تنبیہ کی گئی ہے۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اس قسم کی احادیث کی تاویل کرنا صحیح نہیں ہے تاکہ لوگوں کے دلوںمیں گناہوں کے بارے میں ڈر اور خوف پیدا ہو اور لوگ ان برے اور مکروہ اعمال سے باز رہیں۔ یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مذکورہ حدیث میں جن افعالِ قبیحہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ کمال توحید کے منافی ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    جیوب گریبان کو کہتے ہیں، گریبان پھاڑنا، اہل جاہلیت کی پرانی رسم ہے مرنے والے کے غم میں ایسا کیا جاتا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ابن ماجہ میں ایک حدیث سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جسے ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے، حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ افعال کبیرہ گناہوں سے ہیں۔ دوسرے بات یہ معلوم ہوئی کہ اگر کوئی شخص قضاء و قدر پر برافروختہ نہ ہو اور بین وغیرہ کرنے کی نیت بھی نہ ہو اور بات بھی جھوٹی نہ ہو تو ان افعال میں سے اگر معمولی فعل اتفاقاً سرزد ہو جائے تو وہ قابل مواخذہ نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر بعض صحابہ جیسے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس قسم کی معمولی سی بات کا اظہار ثابت ہے جس کی تصریح امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کی ہے۔
    ان احادیث میں رونے کی نفی نہیں کی گئی کیونکہ صحیح بخاری میں ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی جب وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا فرمائے تھے:
    صحیح بخاری و مسلم میں سیدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنی ایک بیٹی (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ) کے ہاں تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ اُس کا لڑکا موت و حیات کی کش مکش میں ہے۔ بیٹی نے بچے کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں دے دیا۔ بچے کا سانس اس طرح چل رہا تھا جیسے دھونکنی۔ یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بولے یارسول اللہ! یہ کیا بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ رحمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دِلوںمیں رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اُن بندوںپر ہی رحم کرتا ہے جو خود دُوسرے پر رحم کرتے ہیں‘‘۔
    عن انس رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِذَا اَرَادَ اﷲُ بَعَبْدِہِ الْخَیْرَ عَجَّلَ لَہُ الْعُقُوْبَۃَ فِی الدُّنْیَا وَ اِذَا اَرَادَ بَعَبْدِہِ الشَّرَّ اَمْسَکَ عَنْہُ بِذَنْبِہٖ حَتّٰی یُوَافِیَ بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ عِظَمَ الْجَزَآءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاؓءِ وَ اِنَّ اﷲ تَعَالٰی اِذَا اَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَلَاھُمْ فَمَنْ رَضِیَ فَلَہُ الرِّضَا وَ مَنْ سَخِطَ فَلَہُ السَّخَطُ
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ
    فیہ مسائل
    ٭ صبر کرنا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا ایک حصہ ہے۔ ٭اُس شخص کو سخت وعید اور ڈانٹ پلائی گئی ہے جو مصیبت اور مشکل کے وقت اپنے چہرے کو نوچے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی سی آہ و بکا کرے۔ ٭ جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کرنا چاہتا ہے اُس کی علامت اور نشانی۔ ٭ جس شخص کے بارے میںاللہ تعالیٰ برائی کا ارادہ کرے اُس کی علامت۔ ٭ جب اللہ تعالیٰ کسی شخص سے محبت کرنا چاہتا ہے تو اُس کی علامت۔ ٭ ناراضگی کی حرمت۔ ٭ مصائب و مشکلات میں محصور ہو جانے پر رضا کا اجر و ثواب۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں