1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ھِدایۃ المُستفید اُردُو ترجمہ فتح المجید شرح کتابُ التوحید

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 29، 2013۔

  1. ‏مئی 07، 2013 #41
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ریاکاری سے نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں۔
    باب:ما جآء فی الریاء

    اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ریاکاری ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے اور اس سے نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں۔
    قال اﷲ تعالیٰ قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا (الکہف:۱۱۰)
    اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یہ فرمان جاری کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اعلان کر دیں کہ میرے اندر نہ ربوبیت ہے اور نہ الوہیت کی کوئی صفت ہے، بلکہ یہ دونوں صفتیں صرف اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ کے لئے مختص ہیں اور میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا متمنی ہو، اُسے اعمالِ صالحہ کرنے چاہئیں اور اُس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔ آیت کا آخری لفظ ’’اَحَدًا‘‘ ہے جو نحوی لحاظ سے سیاقِ نہی میں نکرہ استعمال ہوا ہے اس میں عمومیت پائی جاتی ہے جس میں انبیاء، ملائکہ، صالحین اور اولیائے کرام وغیرہ سب شامل ہیں۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    پیش نظر آیت کریمہ کی تفسیر میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    یہ آیت کریمہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اصل دین جس کی تبلیغ و اشاعت کے لئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیائے کرام علیہ السلام کو مبعوث فرمایا، وہ یہ تھا کہ تمام عبادات میں اللہ تعالیٰ کو واحد و یکتا سمجھا جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
    اس اصولی دعوت کا انکار کرنے والوں کی کئی قسمیں ہیں: ٭ یا تو وہ کوئی طاغوت ہے جو اللہ کی الوہیت اور ربوبیت میں رخنہ اندازی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی عبادت کے لئے لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔ ٭ یا ایسا طاغوت ہے جو غیر اللہ کی عبادت کے لئے لوگوں کو بلاتا ہے۔ ٭ یا وہ مشرک ہے جو اللہ کے ساتھ ساتھ غیراللہ کو بھی پکارتا ہے اور کئی قسم کی غیر شرعی عبادات کی وجہ سے اس غیر کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ٭ یا ایسا شخص ہے جسے توحید میںشک و شبہ ہو، یعنی اس کے دِل میں یہ شبہ ہو کہ آیا اللہ ہی سچا ہے یا اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرایا جائے؟ ٭ یا وہ شخص ہے جو بالکل عقل و خرد سے خالی اور کورا ہے، جو شرکیہ اعمال کو شریعت سمجھتا ہے اور شرک کو قرب الٰہی کا ذریعہ خیال کرتا ہے۔
    اس آخری قسم میں اُمت محمدیہ کی اکثریت گرفتار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ علم سے بہت دُور ہیں اور تقلید کے پھندے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ دین اسلام اپنی بے بسی پر نوحہ کناں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو لوگ بالکل بھول گئے ہیں۔

    و عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ مرفوعا قال اﷲ تعالیٰ اَنَا اَغْنَی الشُّرَکَآءِ عَنِ الشِّرْکِ مَنْ عَمِلَ عَمَلاً اَشْرَکَ مَعِیَ فِیْہِ غَیْرِیْ تَرَکْتُہٗ وَ شِرْکَہٗ (رواہ مسلم)۔
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    یہ حدیث قدسی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر مخلوق میں سے کسی کی رضاء کے لئے کوئی عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اُس سے اور اُس کے عمل بد سے بیزار ہوں، میرا اِن دونوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    سنن ابن ماجہ میں ایک روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
    ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اعمال جو کسی غیر اللہ کے لئے کئے جاتے ہیں اُن کی کئی قسمیں ہیں: کچھ اعمال تو ایسے ہوتے ہیں جو صرف ریاکاری کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں جیسے منافقین کے اعمال۔ اِن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ریا کاری کی یہ قسم مومنین کے فرض روزوں میں پیدا نہیں ہو سکتی بلکہ صدقات و خیرات اور حج وغیرہ اعمال میں جن کا ظاہر سے تعلق ہے اس کا پایا جانا ممکن ہے۔ یا اِن اعمال میں جن کا فائدہ دوسروں کو بھی پہنچتا ہے ایسے اعمال میں اخلاص اِنتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک مسلمان کو قطعاً شک نہ کرنا چاہیئے کہ اس قسم کی ریاکاری اعمال کو ضائع کر دیتی ہے۔ اور ایسا ریاکار شخص اللہ تعالیٰ کی سزا اور اُس کی ناراضگی کا سزاوار ہے۔
    کچھ اعمال ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کئے جاتے ہیں لیکن ان میں ریاکاری کا دخل ہوتا ہے ایسے اعمال میں اگر ریاکاری غالب آجائے تو نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہے کہ یہ عمل باطل ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ زیر نظر حدیث سے واضح ہے۔ اس کی تائید میں دوسری حدیث مسند امام احمد میں ہے جس کو شداد بن اوس سے امام صاحب نے مرفوعاً روایت کیا ہے، اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    امام احمد رحمہ اللہ اس مقام پر بہت سی احادیث ذکر فرمانے کے بعد لکھتے ہیں کہ:
    ابن رجب رحمہ اللہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُنہوں نے کہا کہ:
    وہ شخص جو مزدوری لے کر جہاد میں شرکت کرتا ہے، ایسے شخص کے بارے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں کہ:
    مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    و عن ابی سعید رضی اللہ عنہ مرفوعاً اَلَآ اُخْبِرُکُمْ بِمَا ھُوَ اَخْوَفُ عَلَیْکُمْ عِنْدِیْ مِنَ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ قَالُوْا بَلٰی یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الشِّرْکُ الْخَفِیُّ یَقُوْمُ الرَّجُلُ فَیُصَلِّیْ فَیُزَیِّنُ صَلٰوتَہٗ لِمَا یَرٰی مِنْ نَّظرِ رَجُلٍ (رواہ احمد)
    سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کا خوف مجھے تم پر مسیح دجال سے بھی زیادہ ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ ہاں ضرور بتائیے۔
    صحیح ابن خزیمہ میں محمود بن لبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں
    اس شرک کو خفی اس لئے کہا گیا ہے کہ انسان لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کا یہ عمل خالص اللہ کے لئے ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ بباطن وہ غیر اللہ کے لئے انجام دے رہا ہے، کیونکہ وہ نماز اس لئے ٹھیک ادا کر رہا ہے کہ اُسے لوگ دیکھ رہے ہیں۔ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ :
    (ابن جریر فی التہذیب)۔
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اس امر میں کسی کو بھی اختلاف نہیں ہے کہ صحت عمل اور اس کی قبولیت میں اخلاص کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اخلاص کے ساتھ ساتھ عمل کا مطابق سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہونا بھی عظیم ترین شرط ہے۔
    فضیل بن عیاض رحمہ اللہ آیت لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
    دوستوں نے عرض کی کہ خالص اور صواب میں کیافرق ہے؟ فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:
    زیرِ نظر حدیث میں بہت سے فوائد پنہاں ہیں مثلاً: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت و محبت اُمت کے ساتھ، اُمت کی خیرخواہی۔ صالحین اُمت کے لئے ریاکاری کو فتنہ دجال سے بھی زیادہ خطرناک محسوس فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق قوت ایمانی کے باوجود ریاکاری کا خطرہ محسوس کیا تو ان کے بعد آنے والے حضرات کی کیا وقعت اور حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟ بعد میں آنے والے افراد اُمت تو بالاولیٰ شرکِ اکبر اور شرک اصغر میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

    فیہ مسائل
    ٭عمل صالحہ میں جب غیر اللہ کی رضا کا دخل ہو جائے تو اس کے ضائع ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ ٭ غیر اللہ کی رضا والے عمل کے ضائع ہونے کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ گرامی مستغنی اور بے پرواہ ہے۔ ٭ اس کے ضائع ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے ارفع و اعلیٰ ہے۔ ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں خطرہ محسوس کرنا کہ کہیں ان کے قلوب میں ریاکاری کے جراثیم نہ پیدا ہو جائیں۔ ٭ریاکاری کی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ ارشاد فرمائی کہ انسان نماز کو خالص اللہ کے لئے صحیح طور پر اطمینان سے اس لئے ادا کرے کہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں
     
  2. ‏مئی 07، 2013 #42
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    دنیوی اغراض کے پیش نظر کوئی بھی عمل شرک کی تعریف میں آتا ہے۔
    باب:مِنَ الشِّرْکِ اِرَادَۃُ الْاِنْسَانِ بِعَمَلِہِ الدنیا

    اس باب میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ انسان اگر دنیوی اغراض کے پیش نظر کوئی عمل کرے تو یہ بھی شرک کی تعریف میں آتا ہے۔
    قولہ تعالٰی مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَھَا الدُّنْیَا نُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالَھُمْ فِیْھَا وَ ھُمْ فِیْھَا لَا یُبْخَسُوْنَ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْھَا وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (سورئہ ھود:۱۵تا۱۶)
    اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس میں اور اس سے پہلے کے ترجمہ باب میں کیا فرق ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے۔ یہ دونوں حقیقت میں مشترک ہیں کہ جب انسان اپنے کسی عمل سے لوگوں کی نظر میں اپنے لئے تزین و تصنع اور ثنا و توصیف کی توقع رکھے تو، جیسا کہ پہلے باب میں منافقین کے سلسلے میں گزر چکا ہے، یہ ریاکاری ہے۔ لوگوں کے سامنے اطہارِ تصنع کر کے طلب ِ دنیا کرنا اور ان سے مدحت و تکریم کے خواہاں ہونا بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ اس نے اگرچہ نیک عمل کیا مگر ریاکاری اس میں تفریق پیدا کر دے گی۔ کیونکہ اس سے اُس نے ساز و سامانِ دنیا کی تمنا کی۔ مثلاً حصولِ مال کے لئے جہاد کیا، جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’بندئہ دینار ہلا ک ہو گیا‘‘۔ یا غنیمت اور دیگر چیزوں کو حاصل کرنے کی غرض سے میدانِ جہاد میں نکلا۔
    اس ترجمہ اور اس سے بعد کے ترجمہ سے مصنف رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کے لئے کوئی عمل کرنا شرک ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کمالِ توحید کے منافی ہے اور اس سے ذخیرئہ اعمال ضائع ہو جاتا ہے۔ اعمال کے معاملے میں مفادِ دنیا کے حصول کی طلب کا جذبہ دِل میں پیدا کرنا بہت بڑی ریاکاری ہے اور ایسے شخص کے کردار پر دُنیا مسلط ہو جاتی ہے جس سے محفوظ رہنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی اور مومن کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اس قسم کے اُمور سے ہمیشہ دامن کشاں رہتا ہے۔
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ کے معنی یہ بیان فرماتے ہیں کہ:
    مندرجہ بالا آیت عام تھی اور اس کو درج ذیل آیت نے خاص اور مقید کر دیا کہ:
    جناب قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ابن جریر رحمہ اللہ یہ حدیث نقل کرنے کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث بیان کرتے ہیں:
    شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ سے زیر نظر آیت کریمہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے اس پر سیر حاصل بحث کی اور اس کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی، جن کا خلاصہ ہم قارئین کریم کے سامنے پیش کرتے ہیں؛ آپ نے فرمایا: ’’سلف سے کچھ اعمال ایسے منقول ہیں جن پر عوام عمل کرتے ہیں مگر ان کا مطلب اور مفہوم نہیں سمجھتے مثلاً : ٭ جب ایک شخص کوئی عمل صالح اللہ کی رضا کے لئے انجام دیتا ہے جیسے صدقہ و خیرات، روزہ، نماز، رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور اُن سے حسن سلوک، یا کسی پر ظلم کرنے سے رُک گیا۔ علی ھٰذا القیاس بہت سے اعمالِ حسنہ کرتا ہے لیکن ان اعمال کی بجا آوری میں آخرت کے اجر و ثواب کا متمنی نہیں ہوتا بلکہ چاہتا ہے کہ دُنیا میں ہی اُسے اس کا بدلہ مل جائے جیسے کہ وہ اپنے مال و متاع کی حفاظت کا خواہشمند ہو، اس میں اضافے کا طلبگار ہو، اپنے اہل و عیال کی عزت و آبرو، ان کی حفاظت ذہن میں ہو اور چاہتا ہو کہ وہ عیش و آرام کی زندگی بسر کریں، ان اعمالِ حسنہ سے نہ تو وہ جنت کا طلبگار ہو اور نہ جہنم کے عذاب سے بچنے کی تمنا ہو۔ پس ایسے شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں چکا دیا جاتا ہے۔ اور آخرت میں اس کا قطعاً کوئی حصہ نہ ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس نوع کا ذکر فرمایا ہے۔ ٭دوسری قسم پہلی قسم سے زیادہ خطرناک ہے، وہ یہ کہ انسان عمل صالح انجام دے مگر نیت میں رِیاکاری اور لوگوںکو دکھلاوا ہو، آخرت میں کامیابی مد نظر نہ ہو۔ ٭تیسری صورت یہ ہے کہ انسان اعمالِ صالحہ کی بجاآوری سے دنیاوی مال و متاع کا خواہشمند ہو، جیسے سفر حج میں مال و متاع حاصل کرنا مقصود ہو، یا دنیا کے حصول کی خاطر، یا کسی عورت سے شادی رچانے کی غرض سے ہجرت کرے یا مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لئے جہاد جیسے حولِ عظیم میں جان خطرہ میں ڈال دے یا دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض یہ ہو کہ بال بچوں کا پیٹ پال سکے، یا قرآن کریم حفظ کر کے کسی مسجد کی امامت کا خواہشمند ہو، جس سے اسے اچھی خاصی تنخواہ ملنے کی توقع ہو، جیسا کہ آج کل علمائے کرام اور ائمہ مساجد کا دستور ہے۔ ٭ چوتھی قسم یہ ہے کہ عمل صالح تو رضائے الٰہی کے لئے کرے، لیکن ان اعمالِ حسنہ کے ساتھ ساتھ ایسا عمل بھی کر رہا ہو جس سے وہ دین اسلام سے خارج سمجھا جائے گا جیسے یہود و نصاریٰ کا عبادتِ الٰہی کرنا، ان کا روزے رکھنا، ان کا صدقہ و خیرات کرنا جس سے ان کی اصل مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا حاصل کر لیں اور آخرت میں کامران ہو جائیں۔ یا اسلام کا دعویٰ کرنے والے وہ افراد جو کفر و شرک میں مبتلا ہیں جس سے انسان دائرہ اسلام سے بالکل خارج ہو جاتا ہے۔ اگر یہ لوگ کوئی ایسا عمل صالح کریں جس سے آخرت کے عذاب سے نجات اور اللہ کی رضا چاہتے ہیں لیکن افسوس کہ ان کے کفر و شرک میں ملوث اعمال کی وجہ سے ان کے اچھے اعمال بھی برباد ہو رہے ہیں۔
    سلف صالحین رحمہم اللہ اس قسم کے اعمال سے بہت ڈرا کرتے تھے جن کی وجہ سے صحیح اور درست اعمال بھی ضائع ہو جائیں۔ ایک بزرگ کا قول مشہور ہے: ’’اگر مجھے علم ہو جائے کہ میرا صرف ایک سجدہ اللہ تعالیٰ نے قبول کر لیا ہے تو میں موت کی آرزو کروں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ صرف متقین ہی کے اعمال قبول فرماتا ہے‘‘۔ ٭پانچویں اور آخری قسم یہ ہے کہ انسان پانچوں نمازوں کی پابندی، روزہ، حج، زکوۃ اور صدقہ و خیرات اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لئے کرتا ہے اور آخرت میں اجر و ثواب کا متمنی ہوتا ہے اس کے بعد کچھ ایسے اعمال کرتا ہے جن سے دنیا کا مال و متاع حاصل کرنا مقصود ہو، جیسے فرض حج ادا کرنے کے بعد نفلی حج کرتا ہے جس سے دنیا کمانا مقصود ہو جیسا کہ اکثر لوگ آج کل کر رہے ہیں تو اس عمل پر اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا۔ بعض علمائے کرام نے لکھا ہے کہ قرآن کریم تین قسم کے لوگوں کا حال بیان کرتا ہے: ۱۔اہل جنت، ۲۔اہل جہنم کا ۔ اور۔ ۳۔ تیسری قسم اُن لوگوں کی ہے جن میں دونوںصفتیں پائی جاتی ہیں، ان کے بارے میں قرآن کریم خاموش ہے۔ اس تیسری قسم میں مذکورہ بالا پانچویں قسم شامل ہے‘‘۔
    فی الصحیح عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم تَعِسَ عَبْدُ الدِّیْنَارِ تَعِسَ عَبْدُ الدِّرْھَمِ تَعِسَ عَبْدُ الْخَمِیْصَۃِ تَعِسَ عَبْدُ الْخَمِیْلَۃِ اِنْ اُعْطِیَ رَضِیَ وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَ سَخِطَ تَعِسَ وَ انْتُکِسَ وَ اِذَا شِیْکَ فَلَا اُنْتُقِشَ طُوبٰی لِعَبْدٍ اَخَذَ بِعَنَانِ فَرَسِہٖ فیْ سَبِیْلِ اﷲ اَشْعَثَ رَاْسُہٗ مُغْبَرَّۃً قَدَمَاہُ اِنْ کَانَ فِی الْحِرَاسَۃِ کَانَ فِی الْحِرَاسَۃِ وَ اِنْ کَانَ فِی السَّاقَۃِ کَانَ فِی السَّاقَۃِ اِنِ اسْتَاْذَنَ لَمْ یُؤْذَنْ لَہٗ وَ اِنْ شَفَعَ لَمْ یُشَفَّعْ
    صحیح (بخاری) میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ہلاک ہو جانے، شقی اور بدبخت ہوجانے اور منہ کے بل گرجانے کو تَعِسَ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ جس شخص کے بارے میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کے لئے بددعا کرنا۔
    ابوالسعادات رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    طوبیٰ کو ایک درخت سمجھنے کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے جسے ابن وہب نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    مسند احمد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
    صحیح بخاری، مسلم اور دوسری کتب حدیث میں بھی احادیث مروی ہیں۔ اس سلسلے میں علامہ ابن جریر رحمہ اللہ نے وہب بن منبہ رحمہ اللہ کا ایک عجیب و غریب اثر نقل فرمایا ہے، جسے ہم قارئین کرام کے استفادہ کے لئے یہاں پورا نقل کرتے ہیں۔ وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
    ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو وہب بن منبہ سے ہی روایت کیا ہے۔ ابن ابی حاتم رحمہ اللہ کی روایت میں مندرجہ ذیل الفاظ زائد ہیں:
    یہ عجیب و غیرب اثر جو نقل کیا گیا ہے اس کے اکثر الفاظ کی تصدیق صحیحین کی روایات سے بھی ہوتی ہے۔

    فیہ مسائل
    ٭ وہ عمل جو آخرت کے لئے تھا اُس سے دنیا طلب کرنا۔ ٭ بعض اوقات مسلمان کا نام بھی درہم و دینار کا بندہ رکھا جاتا ہے۔ ٭ اس کی صورت یہ ہے کہ اگر اس کی آرزو پوری ہو گئی تو راضی ورنہ ناراض۔ ٭ جو مجاہد مذکورہ صفات کا حامل ہو اُس کی تعریف۔
     
  3. ‏مئی 07، 2013 #43
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    حلال و حرام کی پرواہ کئے بغیرعلماء اور اُمراء کی اطاعت شرک ہے۔
    باب:من اطاع العلماء والامرا فی تحریم ما احل اﷲ او تحلیل ما حرم اﷲ فقد اتخذھم اربابا من دون اﷲ

    اس باب میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے حلال و حرام کی پرواہ کئے بغیر علما اور اُمراء کی اطاعت کرتا ہے وہ مشرک ہے کیونکہ اُس نے اللہ کے سوا اُن لوگوںکو رب قرار دے لیا ہے۔
    و قال ابن عباس رضی اللہ عنہ یُوْشِکَ اَنْ تَنْزِلَ عَلَیْکُمْ حِجَارَۃٌ مِّنَ السَّمَآءِ اَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَ تَقُوْلُوْنَ قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ وَّ عُمَرُ
    اس باب میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو شخص اللہ کی طرف سے حلال اور حرام کی پرواہ کئے بغیر علماء اور امراء کی اطاعت کرتا ہے وہ مشرک ہے کیونکہ اس نے اللہ کے سوا ان لوگوںکو رب قرار دے لیا ہے۔اس کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے:
    سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج تمتع کے قائل نہ تھے، ان کی رائے یہ تھی کہ تمتع سے حج اِفراد افضل ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ تمتع کرنا واجب ہے۔ چنانچہ بعض صحابہ کرام نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ابوبکر و عمررضی اللہ عنہما تو حج اِفراد کو افضل قرار دیتے ہیں اور آپ تمتع کو کیوں واجب ٹھہراتے ہیں؟ اس کے جواب میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا جملہ ارشاد فرمایا۔
    واضح احادیث کے ہوتے ہوئے کسی شخص کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ علمائے کرام یا ائمہ عظام کے دلائل اور ان کے اقول کو ان پر ترجیح دے کیونکہ قرآنِ کریم نے اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے:
    چنانچہ بعض لوگوں نے جب سیدنا ابوبکر و عمررضی اللہ عنہما کی بات سے صحیح حدیث کا معارضہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے پیش کیا تو اس وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا:
    امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے (مدینہ منورہ مسجد نبوی میں درس دیتے ہوئے) فرمایا تھا کہ
    علمائے کرام وقوعِ مسائل کے وقت ہمیشہ اجتہاد کرتے رہے۔ پس جس شخص کا اجتہاد صحیح ہوا اُسے دُہرا اجر ملے گا اور جس شخص نے اجہتاد میں غلطی کھائی اُسے اس کی محنت اور اجہتاد کا اجر ملے گا جیسا کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مذکور ہے۔ لیکن مجتہد علماء کا یہ دستور تھا کہ جب ان پر کوئی دلیل واضح ہو گئی تو اس پر عمل کر لیا اور اجتہاد ترک کر دیا۔ ائمہ کرام نے اجتہاد سے اُس وقت کام لیا جب کہ ان کے علم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح فرمان نہ تھا، یا علم تھا لیکن اس میں دوسرا فرمانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود پایا تو اس صورت میں اُنہوں نے اجتہاد سے مسئلہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش فرمائی۔
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پوری وضاحت کے ساتھ پیش کر دیا جائے اور پھر بھی وہ اپنے امام کی تقلید کی وجہ سے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم نہ کرے تو اس کی سختی سے تغلیط کرنی چاہیئے کیونکہ وہ جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو ترک کر رہا ہے۔
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    پس ثابت ہوا کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے ہوتے ہوئے کسی عالم یا امام کے قول کو ترجیح دیتا ہے، اس سے انکار کرنا واجب ہے کیونکہ کسی مجتہد یا امام کی بات کو تسلیم کرنا صرف ان مسائل اجتہاد ی تک جائز ہے جن میں کتاب اﷲ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت نہ ملتی ہو، لیکن جس مسئلہ میں کتاب و سنت سے واضح رہنمائی ہوتی ہو اُس میں اجتہاد کی تردید ضروری ہے جیسا کہ سابقہ صفحات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما امام شافعی رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی تصریحات سے ثابت ہو چکا ہے۔
    و قال الامام احمد رحمہ اللہ عَجِبْتُ لِقَوْمٍ عَرَفُوا الْاِسْنَادَ وَ صِحَّتَہٗ وَ یَذْھَبُوْنَ اِلٰی رَاْیِ سُفْیَانَ وَ اﷲُ تَعَالٰٰی یَقُوْلُ فَلْیَحذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (النور:۶۳) لَعَلَّہٗ اِذَا رَدَّ بَعْضَ قَوْلِہٖٓ اَنْ یَّقَعَ فِیْ قَلْبِہٖ شَیْئٌ مِّنَ الزَّیْغِ فَیَھْلِکُ
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اُن لوگوں پر سخت تعجب ہے جو صحت حدیث کے بعد بھی جناب سفیان رحمہ اللہ کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    امام صاحب نے اس آیت میں مذکور فتنے کو شرک سے تعبیر کیا ہے۔ اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی:
    امام احمد رحمہ اللہ کا یہ قول ان لوگوں کی سخت تردید کر رہا ہے جو کتاب و سنت کے ہوتے ہوئے آئمہ کے اقوال کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس سے انسان کا دل قبول حق سے برگشتہ ہو جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کفر تک پہنچ جاتا ہے۔ آج کل مسلمانوں کی اکثریت اسی مرض میں مبتلا دکھائی دیتی ہے خصوصاً جن لوگوں کو اہل علم کہا جاتا ہے، وہ اس کی عین زد میں ہیں، انہوں نے ایک ایسا جال بچھا رکھا ہے جس سے گزر کر عام آدمی کتاب و سنت اور اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل تک پہنچ ہی نہیں سکتا اور نہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر و نواہی کی پوری طرح عظمت کر سکتا ہے اس قسم کے علماء کے اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ: ’’قرآن و حدیث سے استدلال مجتہد ہی کر سکتا ہے، اور اجتہاد کا دروازہ اب بند ہو چکا ہے‘‘۔
    ان لوگوں نے اس مسئلہ میں غلطی کھائی ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے مندرجہ ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہو گا:
    ان لوگوں کے خطرناک اقوال میں سے ایک یہ بھی ہے:
    اسی قسم کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو وہ کرتے ہیں اور جن کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے، جن کی صفت ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے:
    دُور ہٹ جائے۔ یہ لوگ اُن افراد پر اعتماد کرتے ہیں جن سے خطا اور غلطی کا ہر وقت امکان ہے کیونکہ ہر امام کے پاس شریعت کا پورا علم نہیں بلکہ کچھ حصہء علم ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہیئے کہ جب اُس کے سامنے کتاب و سنت کا حکم واضح ہو جائے تو وہ تمام آئمہ کے اقوال کو چھوڑ کر کتاب و سنت کو اپنا رہبر بنائے اور اس پر عمل کرے اور اس سلسلے میں کسی بڑے سے بڑے امام اور مجتہد کی مخالفت کی پروا نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہنمائی کرتے ہوئے فرماتا ہے:
    سابقہ صفحات میں اس مسئلہ پر ائمہ اربعہ کے اجماع کا فیصلہ گزر چکا ہے اور یہ بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ مقلد کو اہل علم میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ابوعمر بن عبدالبر رحمہ اللہ نے بھی اس مسئلہ پر اجماعِ اُمت بیان کیا ہے۔

    علامہ الشیخ عبدالرحمن بن حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    اس آیت کریمہ کی مزید تشریح سیدنا عدی بن حاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کرتی ہے جو آئندہ صفحات میں آ رہی ہے۔ ان شاء اللہ۔
    پس جو شخص اپنی اصلاح کا خواہشمند ہے اُسے چاہیئے کہ علمائے کرام اور آئمہ عظام کی کتب کا مطالعہ کرتے وقت ان کے دلائل کی کتابُ اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطابقت پیدا کر لے کیونکہ مجتہدین اور ان کے متبعین اہل علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی بات کہتے وقت اس کی دلیل بھی ذکر کریں۔ اس لئے کہ مسائل میں حق بات تو ایک ہی ہوتی ہے۔ حق کے متلاشی اور انصاف پسند شخص کو چاہیئے کہ وہ آئمہ اور علماء کے دلائل کو خوب پرکھ لے اور کتاب و سنت سے ملا لے تاکہ کتاب و سنت کے مطابق مسئلہ کی صحت واضح ہو جائے اور خطا و غلطی کا امکان باقی نہ رہے۔ اس چھان بین کے سلسلے میں کتاب و سنت میںبیشمار دلائل موجود ہیں۔
    ائمہ اربعہ رحمہ اللہ نے بھی تقلید کی تردید اور مخالفت میں کوئی کمی نہیں رہنے دی۔ کتاب و سنت کی موجودگی میں وہ تقلید کے بالکل قائل نہ تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اُنہیں بعض مسائل کا علم نہیں ہے جس کا کسی دوسرے شخص کو علم ہو سکتا ہے۔ اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو بہت سے مسائل کا علم تھا اس سلسلے میں اُن کے لئے بیشمار اقوال موجود ہیں چنانچہ اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ایک موقع پر فرمایا:
    ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ:
    امام شافعی رحمہ اللہ کا مندرجہ ذیل قول سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے، آپ فرماتے ہیں
    آئمہ کرام رحمہم اللہ کی اِن تصریحات کے بعد کسی شخص کی پاس کوئی وجہ جواز نہیں کہ وہ خواہ مخواہ کسی امام کے قول کو کتاب و سنت کے مقابلے میں تسلیم کرے۔تقلید کے ردّ میں علمائے کرام نے جو اِرشادات فرمائے ہیں اگر ہم ان سب کا یہاں ذکر کریں تو اختصار سے دُور نکل جائیں گے لہٰذا ایک طالب حق اور محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ کرنے والے کے لئے آئمہ کے مندرجہ بالا ارشادات کافی ہیں۔
    اگر کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ گرامی کو ٹھکرا دیا تو پھر اس کے قلب میں کجی کا واقع ہو جانا لازمی ہے جس کا نتیجہ ہلاکت اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ پتا چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو ترک کرنے سے انسان کے دل میں کجی اور ٹیڑھ پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دُنیا اور آخرت میں ہلاکت یقینی ہے۔ قرآن کریم اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے:
    قرآن کریم کی آیت ’’فَلْیَحذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ ‘‘کی تفسیر بیان کرتے ہوئے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    عن عدی ابن حاتم رضی اللہ عنہ اَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یَقْرَاُ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَآ اُمِرُوْا اِلَّا لِیَعْبُدُوْا اِلٰھًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰہ اِلَّا ھُوْ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ فَقُلْتُ لَہٗ اِنَّا لَسْنَا نَعْبُدُھُمْ قَالَ اَلَیْسَ یُحِرِّمُوْنَ مَآ اَحَلَّ اﷲُ فَتُحَرِّمُوْنَہٗ فَقُلْتُ بَلٰی قَالَ فَتِلْکَ عِبَادَتُھُمْ (رواہ الترمذی و حسنہ، و احمد)۔
    عدی بن ابی حاتم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا کہ: ’’انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ اُن کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں پاک ہے وہ اُن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ تو عدی رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے عدی اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو حلال اور حلال کردہ اشیاء کو حرام قرار دیتے وقت تم ان کی بات کو تسلیم نہیں کرتے تھے؟ عدی ر ضی اللہ عنہ بولے یہ تو درست ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی اُن کی عبادت ہے
    چنانچہ جن آئمہ کرام کی تقلید کی جارہی ہے وہاں یہ شرک پوری طرح پایا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ اپنے امام کی مخالفت میں کتاب و سنت کی پروا نہیں کرتے۔ اور نہ قرآن و حدیث کے دلائل پر ان کو اعتماد ہے۔ اور بعض غالی قسم کے مقلد اپنے امام کی مخالفت کی صورت میں کتاب و سنت پر عمل کرنا مکروہ بلکہ حرام سمجھتے ہیں اور یہ کہہ کر کتاب و سنت کو ترک کر دیتے ہیں کہ ’’ہمارے امام کو ان دلائل کا زیادہ علم تھا، دلائل پر غور کرنا صرف مجتہد کا کام ہے‘‘۔ جو شخص ان کے سامنے کتاب و سنت کے دلائل پیش کرتا ہے، اکثر اوقات اس کی مذمت اور مخالفت پر اُتر آتے ہیں بلا شبہ یہ اسلام سے بُعد (یعنی دُوری) اختیار کرنے کی بہت بڑی دلیل ہے؟ حالات اس قدر متغیر ہو چکے ہیں کہ نتیجہ ہر شخص کے سامنے ہے، اور سب سے زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ اکثر لوگ پیروں کی اس عبادت کو تمام اعمال سے افضل سمجھتے ہیں۔ اس کا نام بدل کر ولایت رکھ دیا گیا ہے۔ علماء کی عبادت ان کے علم و فقہ کو ماننا ہے حالات کی سنگینی یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اب ایسے لوگوں کی عبادت کی جانے لگی ہے جو صالحین میں سے بھی نہیں اور اب علماء کی جگہ جہلا کی عبادت بھی شروع ہو چکی ہے۔
    کتاب و سنت کے مقابلے میں اُمراء اور سلاطین کی اطاعت کرنا کوئی نئی بات نہیں خلفائے راشدین کے بعد سے آج تک مسلسل اس عذاب میں اُمت گرفتار ہے۔

    ’’پھر اگر یہ لوگ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہو گا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (القصص:۵۰)۔
    زیادہ بن حُدیر کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق کو قبول کرنے والوں، اور اس کی اطاعت کرنے والوں میں سے بنا دے۔ آمین۔
     
  4. ‏مئی 07، 2013 #44
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    طاغوت سے کفر
    باب:اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْٓا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِہٖ۝۰ۭ وَيُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّھُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۝۶۰ (سورۃ النساء:۶۰)

    حافظ ابن کثیررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    گزشتہ صفحات میں گذر چکا ہے جس میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ طاغوت کے بارے میں وضاحت سے فرماتے ہیں کہ:
    یہی صورت حال اُس شخص کی ہے جو غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ بھی اصل میں طاغوت ہی کی عبادت میں مشغول ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں۔ غیر اللہ کی عبادت دو حال سے خالی نہیں پہلی صورت یہ ہے کہ ایسے شخص کا معبود اگر صالح انسان ہے تو اس کی عبادت شیطان کی عبادت تصور ہو گی ایسی عبادت کرنے والوں کے بارے میں قرآن کریم کہتا ہے:
    دوسری صورت یہ ہے کہ انسان اپنے نفس اور خواہش کی عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دے یا شجر وحجر یا کسی ولی اللہ کی قبر کی عبادت کرنے کا پرچار کرے، جیسے مشرکین اپنے اصنام وغیرہ کی، جو صالحین اور ملائکہ کی شکل و صورت میں بنا کر رکھے گئے تھے، عبادت کرتے تھے تو یہ وہ طاغوت ہے جس کی عبادت کرنے سے خود اللہ تعالیٰ نے روکا ہے لوگوں کو ان سے اظہارِ برات کا حکم دیا ہے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی ہو، اگر اس کی عبادت کی گئی تو یہ شیطانی فعل ہو گا۔ شیطان نے اپنے ان قبیح افعال اور مذموم اعمال کو بڑے مزین اور انتہائی خوبصورت بنا رکھا ہے یہ ایسے افعال ہیں جو توحید اور کلمہ لَا اِلٰہ اِلاَّ اﷲ کے بالکل الٹ ہیں۔ توحید کی اصل یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا ہر طاغوت کا انکار کر دے جس کی کسی نہ کسی صورت میں عبادت کی جا رہی ہو۔ اس سلسلے میں قرآن کریم کا حکم یہ ہے:
    لہٰذا جو شخص غیر اللہ میں سے کسی کی عبادت کرتا ہے، وہ ان حدود سے تجاوز کرنے کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے اور اس کو معبود گردانتا ہے جس کا وہ مستحق نہیں تھا۔
    امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی سے فیصلہ کرانے والے شخص کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے پوری شریعت اسلامیہ کا انکار کر دیا ہو، اور مزید برآں یہ کہ اس نے غیر اللہ کو اپنی اطاعت میں شریک ٹھہرا لیا ہو۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
    دوسری جگہ پر فرمایا:
    پس جو شخص اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت بایں طور پر کرتا ہے کہ وہ کتاب و سنت کے علاوہ کسی اور جگہ سے فیصلہ کرواتا ہے یا اپنی خواہشات کی تکمیل میں مگن ہے تو گویا اس نے عملاً ایمان اور اسلام کی رسی کو گردن سے اتار پھینکا ہے۔ اس کے بعد خواہ وہ کتنا ہی ایمان اور اسلام کا دعویٰ کرے بیکار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ لفظ یَزْعُمُوْنَ وہاں استعمال کیا جاتا ہے جہاں عمل دعویٰ کے خلاف کیا جارہا ہو۔ ہمارے اس دعویٰ کی دلیل قرآن کریم کی زیر نظر آیت ’’و قَدْ اُمِرُوْا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ‘‘ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طاغوت کا انکار کرنا توحید کا سب سے اہم رکن ہے جب تک کسی شخص کے اندر یہ رکن نہ ہو گا اس وقت تک اسے موحد کہنا غلط ہے تمام اعمال اور ایمان کی اساس اور مرکزی حیثیت توحید کو حاصل ہے۔ اعمال کی صحت اور عدمِ صحت کا دارومدار توحید ہی پر ہے اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جانے والے کا اس پر ایمان ہے۔
    طاغوت کے پاس اپنے متنازعہ معاملات لے جانے اور وہاں سے فیصلہ طلب کرنے کا اصل محرک شیطان ہوتا ہے اور وہ اس قسم کی باتیں بہت ہی خوبصورت انداز میں انسان کے دل میں ڈالتا ہے۔ اس طرح شیطان بیشمار لوگوں کو گمراہ کر چکا ہے۔ کتاب و سنت کو پس پشت ڈال کر طاغوت کو فصیل ماننے اور فیصلہ کن طاقت قرار دینے سے بڑی گمراہی اور ہدایت سے دُور کر دینے والی اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی ہے۔
    وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا۝۶۱ۚ فَكَيْفَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِيْبَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْہِمْ ثُمَّ جَاۗءُوْكَ يَحْلِفُوْنَ۝۰ۤۖ بِاللہِ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّآ اِحْسَانًا وَّتَوْفِيْقًا۝۶۲ (النساء:۶۱۔۶۲)۔
    اللہ تعالیٰ نے منافقین کی علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ ان کے سامنے جب کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی جاتی ہے تو اس سے اغماض کرتے ہیں اور جو شخص ایسا کرے گا خواہ وہ کتنا ہی مدعی ایمان ہو حقیقت میں وہ ایمان کی دولت سے بالکل محروم ہے۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    لوگوں کی اکثریت اس جرم میں گرفتار ہے اور خصوصاً علماء پر نہایت افسوس ہے جو علم کے ہوتے ہوئے ایسے لوگوں کے اقوال کو سامنے رکھ کر کتاب و سنت سے اعراض کئے ہوئے ہیں جو کئی مسائل میں مرتکب خطا ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے آپ کو آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید کا پابند کر رکھا ہے حالانکہ ان میں سے کسی کی تقلید کا کوئی جواز نہیں اور ایسے لوگوں کے اقوال کو قابل اعتماد ٹھہرا لیا ہے جن پر اعتماد کی ضرورت نہ تھی۔ مقلدین کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ نصوصِ کتاب و سنت کے مقابلے میں آئمہ کے اقوال کو پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قواعد شرعیہ ہی ایسے قواعد ہیں جن پر کلی اعتماد کیا جا سکتا ہے اور ان کے بغیر کسی اور چیز پر فتویٰ صادر کرنا قرین صحت نہیں۔
    اب صورتِ حال یہ ہے کہ سنت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع کی حیثیت ایک اجنبی اور مسافر کی سی ہو کر رہ گئی ہے ایسے شخص کو اس دَور میں کوئی وقعت نہیں دی جاتی۔ ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت کتاب و سنت سے روگرداں ہے اور اکثر مقامات پر ان دو بنیادی نصوصِ شرعیہ پر عمل متروک ہو چکا ہے۔ (واللہ المستعان)۔
    وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ۝۰ۙ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۝۱۱ (البقرۃ:۱۱)
    جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اور دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی پر اُکساتا ہے تو گویا وہ زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور زمین و آسمان میں اِصلاح کی ایک ہی صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ہر نافرمانی فساد فی الارض ہے۔ زیر نظر آیت کریمہ کا باب سے تعلق یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ سے فیصلہ کروانا منافقین کا کام ہے جو درحقیقت فساد فی الارض ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس بات کی تنبیہ کی گئی ہے کہ خواہشات کے بندوں کے اقوال سے ہوشیار اور چوکس رہنا چاہیئے کیونکہ یہ لوگ اپنے دعوؤں کو بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اہل خواہش کے فریب سے بھی ہوشیار رہنا چاہیئے جب تک کہ وہ اپنی بات کی دلیل کتاب و سنت سے پیش نہ کریں۔ کیونکہ اُن کی یہ عادت ہے کہ وہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کہنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ فساد فی الارض کی اس سے بڑی اور کیا صورت ہو سکتی ہے۔ فساد فی الارض سے خود بخود ایسے اُمور مرتب ہوتے ہیں جن سے انسان دائرہ حق سے باہر نکل کر باطل کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔
    ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ لوگوں کی اکثریت اسی وہم میں گرفتار ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان و یقین کی پختگی کی نعمت عطا فرما دی ہو ، شہواتِ نفس کے غلبہ کے وقت ان کی عقل کامل اور شکوک و شبہات کے مقابلے میں وہ بصیرت تامہ سے بہرہ ور ہوں۔ بس یہی وہ افراد ہیں جو شبہات اور وساوس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ذالک فضل اﷲ یوتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم۔
    قول اﷲ تعالیوَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّطَمَعًا۝۰ۭ اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِـنِيْنَ۝۵۶ (الاعراف:۵۶)
    اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے ابوبکر بن عیاش رقمطراز ہیں کہ:
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    زیرنظر آیت کریمہ کا ترجمۃ الباب والی آیت سے تعلق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر دوسروں سے فیصلہ کروانا تمام گناہوں سے بدترین گناہ ہے جو حقیقی طور پر فساد فی الارض ہے۔ اصلاح کی ایک ہی صورت ہے کہ انسان اپنے تمام متنازع فیہ مسائل میں صرف کتاب و سنت کی طرف رجوع کرے۔ تمام مومنین کا یہی طریقہ اور دستور رہا ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    اَفَحُكْمَ الْجَاہِلِيَّۃِ يَبْغُوْنَ۝۰ۭ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ۝۵۰ۧ (المائدۃ:۵۰)
    زیر نظر آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ:
    جو شخص عقل و خرد سے اور غور و فکر سے کام لے گا اس کے سامنے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے زیادہ عدل کہیں نہیں۔ اللہ احکم الحاکمین ہے اور ماں سے بھی زیادہ اپنی مخلوق پر رحمت و شفقت کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی حاجتوں کو خوب جانتا ہے، وہ ہر چیز کے کرنے پر قدرتِ تامہ رکھتا ہے اس کے اقوال و افعال اور قضاء و قدر میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اس آیت کریمہ میں جاہلیت کے تمام فیصلوں کو کتاب و سنت کے فیصلوں یک مقابلے میں ترک کر دینے کی وضاحت کی گئی ہے اور جس شخص نے جاہلیت کے فیصلہ کو اپنایا اس نے حق اور احسن فیصلہ سے اعراض کیا اور باطل کو حق کے مقابلے میں ترجیح دی۔
     
  5. ‏مئی 07، 2013 #45
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اس شخص کا حکم جو اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا منکر ہے۔
    باب:مَنْ جَحَدَ شَیْئًا مِّنَ الْاَسْمَآءِ وَ الصِّفَاتِ

    اس باب میں اُس شخص کا حکم بیان کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا منکر ہے۔
    و قول اﷲ تعالی وَ ھُمْ یَکْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ قُلْ ھُوَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ اِلَیْہِ مَتَابِ (الرعد:۳۰)
    پیش نظر آیت ِ کریمہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ مشرکین قریش نے عناد اور بغض کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے نام الرحمن کا انکار کر دیا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    الرحمن: اللہ کا نام بھی اور صفت بھی اس نام سے پتا چلا کہ رحمت، اللہ کی صفاتِ کاملہ میں سے ایک صفت ہے۔ مشرکین نے اللہ کے اسماء میں سے ایک ایسے اسم کا انکار کیا جو اللہ کی حمد اور اس کے کمال پر دلالت کرتا ہے، الرحمن کا انکار اصل میں اُس کی صفت اور معنی کا انکار ہے۔ جہم بن صفوان اور اس کے ساتھیوں کا گمانِ باطل یہ تھا کہ الرحمن، اللہ تعالیٰ کی ایسی صفت نہیں جو اللہ کی ذات سے قائم ہو۔ اس کی دیکھا دیکھی معتزلہ، اور اشاعرہ نے بھی اس صفت کا انکار کر دیا۔ اسی وجہ سے اکثر اہل سنت نے ان دونوں فرقوں کو کافر قرار دیا ہے۔
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    فرقہ جہمیہ اور ان کے پیروکاروں نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا تعطیل کی وجہ سے انکار کیا، جن صفات کو خود رَبِّ کریم نے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا، اس انکار، اور تعطیل کے لئے انہوں نے ایسے اصول مرتب کئے جو بالکل غلط اور باطل تھے۔ انکار کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی صفات اجسام کی ہوتی ہیں، ان صفات کو مان لینے سے اللہ تعالیٰ کا جسم ماننا پڑے گا۔ اس نوع کے دلائل ان کی کم عقلی کی دلیل ہیں کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوق جیسی صفات خیال کیا۔ شروع شروع میں تو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو بھی مخلوق سمجھ لیا تھا۔ آہستہ آہستہ صفاتِ کاملہ کا انکار کیا، اور ناقصات یعنی جمادات اور معدومات سے تشبیہ دی۔ پہلے تشبیہ دی اور پھر تعطیل تک پہنچ گئے اور تیسری مرتبہ ان کو ناقص اور معدوم اشیاء سے تشبیہ دینے کی جسارت کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح نصوص کا انکار کر دیا جس میں خود اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صفات بیان کی ہیں جو حقیقت میں اس کی عظمت اور جلالت قدر کے لائق ہیں۔ سلف صالحین اور آئمہ کرام ان تمام صفات کو تسلیم کرتے ہیں جو خود اللہ تعالیٰ یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان فرمائی ہیں۔ آئمہ کرام نے ان تمام صفات کو بلا تمثیل اور بلا تعطیل مانا ہے۔ کیونکہ صفات میں بحث کرنا ذات میں بحث کرنے کے مترادف ہے۔ فرقہ معطلہ والے اللہ تعالیٰ کی ذات کو ثابت کرتے ہیں لیکن تشبیہ کے قائل نہیں ہیں۔پس اہل سنت کا بھی یہی مسلک ہے لیکن اہل سنت ان صفات کو بھی بلا تشبیہ و تمثیل مانتے ہیں جو صفات کہ اللہ نے اپنے لئے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے بیان فرمائی ہیں۔ ان صفات کو مخلوق سے تشبیہ نہیں دیتے، اس لئے کہ اہل سنت کتاب و سنت پر ایمان رکھتے ہیں اور ان میں تناقص کے قائل نہیں ہیں۔ لیکن معطلہ سرے سے کتاب و سنت کا ہی انکار کرتے ہیں۔ اور اس میں تناقض ثابت کرنے کیلئے کوشاں ہیں لہٰذا عقل اور نقل دونوں لحاظ سے معطلہ کا مذہب باطل ٹھہرا۔ اس پر اہل سنت، صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔ فللّٰہِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ۔
    اہل حدیث علمائے کرام اور ان کے متاخرین جیسے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ، ابن قدامہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب میں کثیر علماء نے اس موضوع پر وافر ذخیرہ چھوڑا ہے۔
    اہل بدعت کی کثرت، اور مختلف آراء کے باوجود ان پاکباز لوگوں نے سنت خیرالوریٰ کو بالکل پاک و صاف اور منزہ رکھنے میں اپنی عزیز عمریں کھپا دیں۔ فجزاھم اﷲ احسن الجزاء۔
    و فی صحیح البخاری قَالَ عَلِیٌّ حَدِّثُوْا النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُوْنَ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّکَذَّبَ اﷲُ وَ رَسُوْلُہٗ
    صحیح بخاری میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول مذکور ہے کہ
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے زیر نظر جملہ اِرشاد فرمانے کی ضرورت اس لئے محسوس فرمائی کہ ان کے دَورِ خلافت میں لوگ احادیث بیان کرنے میں احتیاط سے کام نہیں لیتے تھے، وعظ و ارشاد میں عام قصے کہانیاں بیان کرتے وقت ایسی ایسی باتیں احادیث کے نام سے بیان کرنا شروع کر دی تھیں جن کا کوئی اصل نہ تھا۔ لوگوں نے بعض روایات کو بالکل عجوبہ خیال کیا اور ان کی تردید بھی کی، تاہم ان میں بعض صحیح روایات بھی بیان کی جاتی تھیں۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے واعظین کو ہدایات جاری فرمائیں کہ وعظ و ارشاد میں صرف وہ احادیث بیان کی جائیں جن کی صحت پر یقین ہو، اور جن سے ایک عام آدمی کو دین کے سمجھنے میں مدد ملے۔ جیسے حلال و حرام کی وضاحت کرنا، جس کا ہر شخص مکلف ٹھہرایا گیا ہے۔ بالکل گہرے اور پیچیدہ مسائل کو زیر بحث نہ لایا جائے جن سے ایک عام آدمی حق کو قبول کرنے میں پس و پیش کرے اور جو اس کو تکذیب کی سرحدوں میں پہنچانے کا موجب بنتے ہوں۔ بالخصوص وہ باتیں ہرگز بیان نہ کی جائیں جن میں اختلاف پایا جاتا ہے اور جدل و نزاع کا موجب بنتی ہیں۔
    شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی بھی یہی عادت تھی کہ وہ ایسے مسائل بیان فرماتے جن کا تعلق انسان کے دین، عبادات اور معاملات سے ہوتا تھا، اور جن کا جاننا ہر شخص کے لئے ضروری ہے۔عام لوگوں کو ابن جوزی کی کتب مثلاً المنعش، المرعش، اور تبصرہ کے مطالعہ سے روکا کرتے تھے، کیونکہ ان میں ضروری اور انفع اُمور سے اعراض کیا گیا ہے اور ایسی چیزیں درج کی گئی ہیں جن کا عقیدے سے کوئی علاقہ نہیں ہے۔
    امیر المؤمنین سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ واعظین کو عام قصے کہانیاں بیان کرنے سے روکا کرتے تھے کیونکہ یہ لوگ احتیاط سے کام نہیں لیتے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
    اس قسم کی روک تھام کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ صراط مستقیم کی علم و عمل اور یقین محکم کے ذریعے سے حفاظت کی جائے اور یہ بدعت و خرافات سے بچ کر زندگی بسر کی جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کسی کو درست اور صحیح رکھ سکتا ہے اور اِسی سے اس کی توفیق مانگتے رہنا چاہیئے۔
    متشابہ آیات میں علمائے سلف کے اقوال
    مندرجہ ذیل حدیث الدرالمنثور میں موجود ہے، جس کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    فیہ مسائل
    ٭ جو شخص اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں سے کسی ایک کا بھی انکار کر دے تو وہ شخص ایمان سے بالکل خالی ہو جاتا ہے۔ ٭ جس بات کو مخاطب نہیں سمجھ سکتا اُسے چھوڑ دینا۔ ٭ اُس علت کا تذکرہ جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب تک پہنچا دیتی ہے، اگرچہ انکار کرنے والے کا یہ ارادہ نہ ہو۔ ٭سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا کلام کہ جو شخص ان میں سے کسی کا انکار کرے وہ اُسے ہلاک کر دے گی۔
     
  6. ‏مئی 07، 2013 #46
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    دنیا میں بیشتر لوگ ایسے ہیں جو حق کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
    باب:قال اﷲ تعالی یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اﷲِ ثُمَّ یُنْکَرُوْنَھَا وَ اَکْثَرُھُمُ الْکَافِرُوْنَ

    یہ اللہ تعالیٰ کے اِحسان کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں بیشتر لوگ ایسے ہیں جو حق کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔
    قول اﷲ تعالی یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اﷲِ ثُمَّ یُنْکَرُوْنَھَا وَ اَکْثَرُھُمُ الْکَافِرُوْنَ (النحل:۸۳)
    ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    بعض علمائے کرام کا بیان ہے کہ اس سورت میں جن انعامات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی حقیقی منعم ہے۔ لیکن اِن مشرکین کا گمانِ باطل یہ ہے کہ وہ ان اِنعامات کے آباؤ اجداد کی طرف سے وارث ہیں۔
    مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ
    بعض علماء نے یہ معنی بیان فرمائے ہیں کہ
    پیش نظر آیت ’’یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اﷲِ ثُمَّ یُنْکَرُوْنَھَا ‘‘ کے متعلق عون بن عبداللہ لکھتے ہیں:
    ابن جریر رحمہ اللہ نے پہلے قول کو پسند کیا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کے علاوہ دوسرے علماء نے اس آیت کریمہ کو عام رکھا ہے۔ کسی ایک معنی میں منحصر نہیں۔ یہی زیادہ بہتر ہے کہ اس آیت میں عمومت کو برقرار رکھا جائے۔ واللہ اعلم ۔

    ٭ نعمت کی پہچان اور اس کے اِنکار کی جتنی صورتیں ممکن تھیں، ان کی وضاحت کرنا۔ ٭اِنکار کی جتنی صورتیں ہیں وہ اکثر لوگوں کی زبان پر جاری ہیں۔ ٭ایسے کلام کا نام انکارِ نعمت ہے۔ ٭ دِلوں میں اجتماع ضدین پایا جانا۔
     
  7. ‏مئی 07، 2013 #47
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    پس جب تم جانتے ہو تو دُوسروں کو اللہ کا مقابل نہ ٹھہراؤ۔
    باب:فَلَا تَجْعَلُوْ ِﷲِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

    پس جب تم جانتے ہو تو دُوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھہراؤ۔
    فَلَا تَجْعَلُوْ ِﷲِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (البقرۃ:۲۲)۔
    الند: مثل اور نظیر کو کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ’’ند‘‘ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان تمام عبادات کو یا کسی ایک عبادت کو غیر اللہ کے لئے ادا کرے۔ جیسے بتوں کے پجاری اپنے معبودانِ باطل سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کو نفع پہنچانے اور ان سے تکلیف دُور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتے ہیں۔ پوری آیت اس طرح ہے:
    اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ابوالعالیہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
    ربیع بن انس، قتادہ، السدی، ابومالک اور اسماعیل بن ابی خالد نے بھی یہی معنی بیان کئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ:
    قتادہ رحمہ اللہ اور مجاہد اس آیت کی تشریح میں انداد کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ
    انداد کے بارے میں ابن زید کا قول یہ ہے کہ
    مجاہد رحمہ اللہ نے اس آیت کریمہ کے مفہوم کی مزید وضاحت کے لئے ایک حدیث نقل کی ہے جو مسند احمد میں حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
    یہ حدیث حسن ہے اور اس آیت سے اس کی شہادت ملتی ہے:
    زیرنظر آیت کریمہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنی چاہیئے کیونکہ وہ یکتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔
    زیر بحث آیت کریمہ سے اکثر مفسرین نے اللہ تعالیٰ کے وجود پر استدلال کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وجود پر بہت سی آیات موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں ابو نواس سے پوچھا گیا تو اُس نے فی البدیہہ اشعار میں اس کا جواب یوں دیا:
    اللہ کے وجود پر ابن المعتز نے جو اشعار کہے وہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں وہ کہتا ہے:
    جناب عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے اس آیت کے بارے میں کہا ہے کہ
    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ
    سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے کفر یا شرک کیا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
    ہر شخص کو اس بات کا علم ہونا چاہیئے کہ اللہ کے نام کی جھوٹی قسمیں کھانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، لیکن شرک تمام بڑے بڑے گناہوں سے زیادہ سنگین ہے اگرچہ شرکِ اصغر ہی کیوں نہ ہو۔ شرکِ اصغر جب تمام کبیرہ گناہوں سے زیادہ سنگین ہے تو اس سے شرکِ اکبر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو خلودِ جہنم کا موجب ہے۔
    شرکِ اکبر میں سے چند اعمال مندرجہ ذیل ہیں: ٭غیر اللہ کو مصائب و مشکلات میں پکارنا۔ ٭غیر اللہ سے استغاثہ کرنا۔ ٭غیر اللہ کی طرف توجہ اور رغبت کرنا۔ ٭ اپنی حوائج اور ضروریات کو غیر اللہ کے سامنے پیش کرنا۔ ٭ قبروں کی تعظیم کرنا۔ ٭قبروں کی بایں طور پر تعظیم کرنا کہ ان کو وثن بنا لیا جائے۔ ٭قبروں پر تعمیرات کرنا اور بڑے بڑے قبے بنا ڈالنا۔ ٭قبروں میں مساجد تعمیر کرنا اور ان کو سجدہ گاہ قرار دینا۔ ٭صاحب قبر کے نام پر قبہ بنانا تاکہ صاحب قبر کی عظمت باقی رہے۔ ٭اور صاحب قبر کی طرف اقوال و اعمال اور دل سے متوجہ ہونا وغیرہ۔
    اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثریت ان افعال و اعمالِ شرکیہ میں غرق ہو چکی ہے۔ یہ ایسا شرک ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ یہ ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ نام نہاد مسلمانوں نے قرآن کریم کی واضح اور بین آیات کو جن میں سے اس شرک کی نفی کی گئی ہے ترک کر دیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے:
    مندرجہ بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو کافر قرار دیا ہے جو اِس دُنیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارا کرتے تھے۔ ایک مقام پر ارشادِ الٰہی ہے:
    ایک مقام پر فرمایا:
    مشرکین کا بُرا ہو کہ اُنہوں نے احکام الٰہی اور فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کی مخالفت کی اور جس چیز سے روکا گیا تھا اُس پر عمل کیا جیسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، اور غیر اللہ پر توکل اور بھروسہ کرنا وغیرہ۔ افسوس کہ بعض لوگوں نے اپنے اشعار میں یوں کہا:
    مندرجہ بالا اشعار میں کس قدر جہالت اور گمراہی بھری ہوئی ہے۔ شاعر اپنا عقیدہ بیان کرتا ہوا کہتا ہے کہ نجاتِ اُخروی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ غیر اللہ کی پناہ حاصل نہ کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ شاعر اُن حدود سے تجاوز کر گیا ہے جن سے تجاوز کرنا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    مندرجہ بالا آیاتِ قرآنی اور (ترجمہء) اشعار میں بہت بڑا اختلاف پایا جاتا ہے بلکہ حقیقت میں یہ اشعار اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے کے مترادف ہیں۔
    سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ ’’جو اللہ چاہے اور فلاں شخص چاہے‘‘۔ بلکہ یہ کہو ’’جو اللہ چاہے اور پھر جو فلاں شخص چاہے‘‘۔

    فیہ مسائل
    ٭ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ وہ شرکِ اکبر کے متعلق جو آیت نازل ہوتی اسے شرکِ اصغر پر بھی محمول کرتے۔ ٭غیراللہ کے نام کی قسم کھانا شرک ہے۔ ٭غیر اللہ کے نام کی سچی قسم کھانا، اللہ کی جھوٹی قسم کھانے سے بھی بدترین فعل ہے۔
     
  8. ‏مئی 08، 2013 #48
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    باب: باپ دادا کی قسم کی ممانعت اور قسم لینے کے بعد حسن ظن رکھنے کے متعلق…
    باب:ما جاء فیمن لم یقنع بالحلف باﷲ

    اس باب میں کہ بیان کیا گیا ہے کہ اپنے آباؤاجداد کی قسم نہیں کھانی چاہئے اور قسم لینے والے کا فرض ہے کہ قسم کے بعد اپنے مخالف سے متعلق حسن ظن رکھے
    عن ابن عمر رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَا تَحْلِفُوْا بِاٰبَآئِکُمْ مَنْ حُلِفَ لَہٗ بِاﷲِ فَلْیُصَدِّقْ وَمَنْ حُلِفَ لَہٗ بِاﷲِ فَلْیَرْضَ وَ مَنْ لَّمْ یَرْضَ فَلَیْسَ مِنَ اﷲ (ابن ماجہ بسند حسن)
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    غیراللہ کے نام کی قسم اٹھانے کی نفی اور تردید کے بارے میں گزشتہ صفحات میں بیان ہو چکا ہے۔ سچی بات ایک ایسا عمل ہے جو اللہ کریم نے اپنے نبیوں پر واجب قرار دیا ہے اور قرآن کریم میں اِس عمل کی خصوصی طور پر ترغیب دی ہے، فرمایا:
    شریعت اسلامیہ کی ہدایات اور احکام کی روشنی میں جب مدعا علیہ سے قسم اٹھوانے کی نوبت آجائے اور وہ اس سے قسم لے تو مدعی کو لازم ہے کہ اس کی قسم کا اعتبار کرے اور راضی ہو جائے۔ جب صورتِ حال یہ ہو کہ ایک دوسرے کے معاملات چل رہے ہوں تو مسلمان کا مسلمان پر حق ہے کہ اس کا عذر قبول کرتے ہوئے یا تہمت و برائی سے اس کے اظہارِ برات کے پیش نظر قسم کھانے والے کی قسم منظور کرے اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اُس کے ساتھ حسن ظن رکھے جب تک کہ اُس کے خلاف کوئی بات واضح نہ ہو جائے جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اثر میں بتایا گیا ہے۔
    اس حدیث میں تواضع، انکساری، اُلفت اور محبت وغیرہ اوصاف پنہاں ہیں جو اللہ کریم کو انتہائی محبوب اور پسندیدہ ہیں۔ صاحب عقل و بصیرت شخص سے یہ باتیں پوشیدہ نہیں ہیں۔ یہ ایسے اسباب اور اعمال ہیں جنکے انجام دینے سے لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر جمع ہو جاتے ہیں یہ اوصاف جس خوش نصیب کے دل میں ودیعت کر دیئے جائیں وہ حسن اخلاق کے اُس بلند ترین مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کے نامہ اعمال میں یہ اوصاف سب سے وزنی ہوں گے۔ یہ مکارمِ اخلاق کی آخری کڑی ہیں جیسا کہ حدیث میں موجود ہے۔
    ترمذی میں سیدنا ابی الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    اے نفس کے خیر خواہ! ان باتوں پر غوروفکر کر، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تیری صلاح و خیر خواہی کا باعث ہوں، جیسے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بجا آوری، ایسے کام کر، جن سے عام مسلمانوں میں خوشی اور مسرت پیدا ہو، ایسے اُمور سے اجتناب کر جن سے اپنی برتری اور دُوسروں سے اِنقباض نمایاں ہو کیونکہ ان اُمور میں ایسا خطرناک پہلو ہے جو نہ عقل میں آتا ہے اور نہ اسے دل ہی محسوس کرتا ہے۔

    فیہ مسائل
    ٭ والدین کی قسم اُٹھانے کی ممانعت۔ ٭ جس شخص کے لئے اللہ کے نام کی قسم لی گئی اُسے قسم کے بعد راضی ہونے کا حکم۔ ٭ جو شخص قسم لینے کے بعد بھی راضی نہ ہو اُس کو وعید۔
     
  9. ‏مئی 08، 2013 #49
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ’’جو اللہ چاہے اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ چاہیں‘‘ کے الفاظ شرک ہے۔
    باب:قول ما شاء اﷲ و شئت

    جو اللہ چاہے اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ چاہیں کے الفاظ زبان سے نکالنا شرک ہے۔ زمانہ نبوی کے یہودی اور عیسائی بھی ان الفاظ کو شرک قرار دیتے تھے۔
    عن قتیلہ رضی اللہ عنہا اَنَّ یَھُوْدِیًّا اَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اِنَّکُمْ تُشْرِکُوْنَ تَقُوْلُوْنَ مَاشَآءَ اﷲُ وَ شِئْتَ وَ تَقُوْلُوْنَ وَالْکَعْبَۃِ فَاَمَرَھُمُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَرَادُوْا اَنْ یَّحْلِفُوْا اَنْ یَّقُوْلُوْا وَ رَبِّ الْکَعْبَۃِ وَ اَنْ یَّقُوْلُوْا مَا شَاؓءَ اﷲُ ثُمَّ شِئْتَ (رواہ النسائی و صححہ)۔
    سیدہ قتیلہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر کہا:
    زیر نظر حدیث سے پتا چلتا ہے کہ ٭ حق بات کہنے والا کوئی بھی ہو اُسے تسلیم کر لینا چاہیئے۔ ٭ کعبہ کی قسم نہ اُٹھانی چاہییے، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہی وہ بیت اللہ ہے کہ حج و عمرہ کرنے کے لئے جس کا قصد کرنا فرض ہے۔ اور یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے کی ممانعت عام ہے نہ کسی مقرب فرشتے کو، نہ کسی نبی مرسل کو، نہ بیت اللہ کو، غرض یہ کہ کسی کو بھی اللہ کریم کے ساتھ شریک بنانا حرام ہے۔ افسوس ہے کہ آج کل عوام بیت اللہ کی قسمیں اٹھانا اور اس سے ایسا سوال کرنا جسے صرف اللہ تعالیٰ ہی پورا کر سکتا ہے، جیسے قبیح عمل کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ہر عقلمند، اور صاحب بصیرت شخص کے سامنے یہ مسئلہ واضح ہے کہ بیت اللہ نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے اور نہ کسی کو ادنیٰ سی مصیبت میں مبتلا کر سکتا ہے۔ اللہ کریم نے تو صرف اس کا طواف کرنا اور اس کے اندر عبادت کرنا جائز قرار دیا ہے اور اس کو اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قبلہ مقرر فرمایا ہے۔ بیت اللہ کا طواف کرنا جائز اور اس کے نام کی قسم اٹھانا اور اس سے دعا و التجاء کرنا حرام ٹھہرا دیا ہے۔ لہٰذا ہر عقلمند شخص کو ان اُمور میں جو بیت اللہ میں جائز، اور بعض ممنوع ہیں فرق کرنا ضروری ہے اگرچہ ساری دُنیا مخالف اور دشمن ہو جائے۔
    انسان کتنی بھی تدبیریں سوچے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کا اِرادہ، اللہ کریم کے ارادے کے تحت اور تابع ہے۔ انسان کو اپنے ارادے کے انجام دینے کی قطعاً قدرت نہیں ہے جب تک کہ اللہ کریم نہ چاہے۔ اور وُہی کام ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ جیسے فرمایا:
    ایک دوسرے مقام پر اِرشادِ الٰہی ہے: ’’یہ ایک نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔ یقینا اللہ بڑا علیم و حکیم ہے‘‘۔
    ان آیاتِ قرآنیہ اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، قدریہ، اور معتزلہ کی تردید ہوتی ہے۔ یہ دونوں فرقے تقدیر الٰہی کے منکر ہیں۔ ان گمراہ فرقوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور مشیت کے خلاف، انسان کام کر سکتا ہے۔ ان کے اس باطل عقیدہ کی تردید آئندہ صفحات میں تفصیل سے آرہی ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
    یہ فرقے اُمت محمدیہ کے مجوسی ہیں۔ اہل سنت والجماعت کا وہی عقیدہ اور موقف ہے جسے قرآن و حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ شریعت کے مخالف اور موافق اعمال و اقوال میں انسان کے تمام ارادے اللہ تعالیٰ کے ارادے کے تابع ہیں۔ انسان کے وُہ ارادے جو شریعت مطہرہ کے موافق ہیں اللہ کریم ان سے راضی اور خوش ہوتا ہے اور وہ عزائم جو شریعت اسلامیہ سے متصادم ہیں ان کو اللہ ناپسند کرتا ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    زیرنظر حدیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ کعبہ کی قسم اٹھانا شرک ہے کیونکہ آنے والے یہودی نے یہی کہا تھا ’’تم شرک کرتے ہو‘‘۔ اور اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی بھی گزشتہ حدیث کی تائید کرتا ہے کہ غیر اللہ کی قسم اُٹھانا اور مَا شَآءَ اﷲ وَ شِئْتَ کہنا شرک ہے۔
    اس میں اس بات کی وضاحت ہے کہ جو شخص کسی بندے کو اللہ کریم کے برابر قرار دے، اگرچہ یہ برابری شرکِ اصغر میں ہی کیوں نہ ہو گویا اُس نے اللہ تعالیٰ کا ’’ند‘‘ اور مثیل قرار دیا۔ خواہ یہ شخص مانے یا انکار کرے، اس سلسلے میں کم عقل اور جاہل لوگوں کی اس بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا جن کا کہنا ہے کہ جب تک ہم غیر اللہ کی عبادت نہ کریں اور شرک اکبر و شرک اصغر میں سے کسی منہیہ عنہ کا ارتکاب نہ کریں اس وقت تک ہم مشرک نہ ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے ’’اللہ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہے اُسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے‘‘۔
    و لابن ماجۃ عن الطفیل اخی عائشۃ رضی اللہ عنہا قال رَاَیْتُ فِیْمَا یَرَ النَّآئِمُ کَاَنِّیْ اَتَیْتُ عَلٰی نَفَرٍ مِّنَ الْیَھُوْدِ قُلْتُ اِنَّکُمْ لَاَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْ لَا اَنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ عُزَیْرُ ابْنُ اﷲِ قَالُوْا وَ اِنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ مَاشَآءَ اﷲُ وَ شَآءَ مُحَمَّدٌ ثُمَّ مَرَرْتُ بِنَفَرٍ مِّنَ النَّصَارٰی فَقُلْتُ اِنَّکُمْ لَاَنْتُمُ الْقَوْمُ لَوْ لَا اَنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ الْمَسِیْحُ ابْنُ اﷲِ قَالُوْا وَ اِنَّکُمْ لَاَنْتُمُ الْقَوْمُ لَوْ لَا اَنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ مَاشَآءَ اﷲُ وَ شَآءَ مُحَمَّدٌ فَلَمَّا اَصْبَحْتُ اَخْبَرْتُ بِھَا مَنْ اَخْبَرْتُ ثُمَّ اَتَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَخْبَرْتُہٗ قَالَ ھَلْ اَخْبَرْتَ بِھَا اَحَدًا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَحَمِدَ اﷲَ وَ اَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ طُفَیْلاً رَاٰی رُؤْیًا اَخْبَرَ بِھَا مَنْ اَخْبَرَ مِنْکُمْ وَ اِنَّکُمْ قُلْتُمْ کَلِمَۃً کَانَ یَمْنَعْنِیْ کَذَا وَ کَذَا اَنْ اَنْھَاکُمْ عَنْھَا فَلَا تَقُوْلُوْا مَاشَآءَ اﷲُ وَ شَآءَ مُحَمَّدٌ وَلٰکِنْ قُوْلُوْا مَاشَآءَ اﷲُ وَحْدَہٗ
    سنن ابن ماجہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادر زاد بھائی سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس پہنچا میں نے کہا تم بہتر لوگ ہو اگر سیدنا عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا نہ کہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ تم بھی بہتر لوگ ہو اگر یہ نہ کہو کہ
    پھر عیسائیوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا،میں نے کہا تم بہت اچھے لوگ ہو اگر سیدنا مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا نہ کہو۔ انہوں نے کہا کہ تم بھی اچھے لوگ ہو، اگر ’’جو اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم چاہے‘‘ کے الفاظ نہ کہو۔ صبح ہوئی تو میں نے یہ بات کچھ لوگوں کو بتائی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ بات عرض کی۔ فرمایا کسی اور کو بھی بتایا؟ عرض کی جی ہاں! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا:
    پیش نظر حدیث میں جس خواب کا تذکرہ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے کیا ہے وہ سچا خواب تھا جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق فرمائی اور اس کے مطابق عمل کرنے کی تاکید بھی فرمائی۔ اس حدیث میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت سے فرمایا: ’’وہی کام ہو گا جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ چاہیں گے، کہنا حرام ہے‘‘۔ بلکہ اس حدیث اور گزشتہ حدیث دونوں میں فرمایا کہ صرف ’’جو اللہ اکیلا چاہے کہا کرو‘‘۔ اس میں شک نہیں کہ اس حدیث میںجس عمل پر حکم کرنے کو کہا گیا ہے وہ اخلاص کا مکمل اور اعلیٰ ترین مقام ہے اور شرک سے بہت دُور ہے۔ کیونکہ اِس میں اس توحید کی صراحت ہے جو تہدید کے ہر پہلو کی نفی کرتی ہے۔ لہٰذا ہر عقلمند اور صاحب بصیرت شخص توحید اور اخلاص کے اعلی مقام کو ہی اپنے لئے پسند کرے گا۔
    طفیل رضی اللہ عنہ بن عبداللہ کی خواب سننے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں اس مذکورہ حدیث میں مذکور الفاظ کہنے کو سختی سے منع فرمایا اور دِین اسلام کے مکمل ہونے تک اس مسئلہ کو بار بار ذہن نشین کرواتے رہے، اور اس کی تبلیغ کا حق ادا کر دیا۔
    طفیل بن عبداللہ کے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی جھلک پائی جاتی ہے! جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ’’اچھا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔

    فیہ مسائل
    ٭ شرک اصغر سے یہودیوں کا آگاہ ہونا۔ ٭ خواہشات کے دباؤ کے وقت اِنسان کا شرک سے متعلق خوب آگاہ ہونا۔ ٭ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیا ہے ۔ ٭ ماشاء اﷲ و شاء محمد کہنا شرک اصغر ہے نہ کہ شرک اکبر۔ ٭ اچھا خواب وحی کی اقسام میں سے ہے۔ ٭ اچھا خواب بعض اوقات کسی حکم کی وضاحت اور تشریح کے لئے دکھائی دیتا ہے۔
     
  10. ‏مئی 08، 2013 #50
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    زمانے کو گالی دینا اللہ تعالیٰ کو ایذا رسانی کے مترادف ہے۔
    باب:من سب الدھر فقد اذی اﷲ

    اس باب میں اس اہم بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ زمانے کو گالی دینا اللہ تعالیٰ کو ایذا رسانی کے مترادف ہے۔
    وقول اﷲ تعالی وَ قَالُوْا مَا ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُھْلِکُنَااِلاَّ الدَّھْرُ وَ مَا لَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ ھُمْ اِلاَّ یٍَظُنُّوْنَ (الجاثیۃ:۲۴)۔
    اس آیت کریمہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
    یہ تھا مشرکین عرب کا عقیدہ جو معاد کے منکر تھے اور فلاسفہ الٰھیین کا بھی یہی عقیدہ ہے جو نہ تو ابتدائے آفرنیش کے قائل ہیں اور نہ قیامت کو مانتے ہیں۔ نیز فلاسفہ دہریہ یا فلاسفہ دَوریہ کا بھی یہی عقیدہ ہے یہ لوگ صانع حقیقی کے منکر ہیں۔ مزید برآں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد دوبارہ ہر چیز اپنی پہلی شکل و صورت میں آجاتی ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہا ہے اور رہے گا۔پس ان لوگوں نے ہر معقول بات اور منقول دلائل کو پس پشت ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ
    ۔ صحیح بخاری میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ان مشرکین کی یہ اپنی خیالی باتیں ہیں اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
    و فی الصحیح عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ قَالَ اﷲُ تَعَالٰی یُؤْذِیْنِی ابْنُ اٰدَمَ یَسُبُّ الدَّھْرَ وَ اَنَا الدَّھْرُ اُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَ النَّھَارَ و فی روایۃ لَا تَسُبُّوا الدَّھْرَ فَاِنَّ اﷲَ ھُوَ الدَّھْرُ
    صحیح بخاری میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    صحیحین، ابوداؤد، اور نسائی کی وہ روایت جو سفیان بن عینیہ، عن الزہری عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ
    ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ
    مشرکین عرب کا یہ دستورتھا کہ وہ زمانے کی مذمت کیا کرتے تھے۔ جب بھی اُن پر کوئی آفت اور مصیبت نازل ہو جاتی تو زمانے کو گالی دینا شروع کر دیتے اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ ان مصائب و مشکلات کو زمانے کی طرف منسوب کرتے اور کہتے کہ ہم کو زمانے کے نشیب و فراز نے تباہ کر دیا ہے۔ تو نتیجتاً ان کی گالیوں کا براہِ راست ہدف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ گرامی ہوتی کیونکہ حقیقی طور پر وہ تمام اُمور جو مشرک سرانجام دیتے ہیں ان کا فاعل اللہ تعالیٰ ہی ہے لہٰذا زمانے کو گالیاں دینے سے روک دیا گیا‘‘۔
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ابن حزم رحمہ اللہ اور ان کے ہمنوا علمائے ظاہریہ نے اسی حدیث کو سامنے رکھ کر الدہرؔ کو اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں شمار کیا ہے۔ ان کا یہ قیاس اور اجتہاد درست نہیں۔ الدہرؔ کے معنی کی خود اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی کہ ’’رات اور دن کو میں ہی بدل کر لاتا ہوں‘‘۔ زمانے میں انقلاب و تغیر صرف اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔ ان میں بعض تغیرات کو لوگ اچھا سمجھتے ہیں اور بعض کو ناگوار قرار دیتے ہیں۔
    مطلب یہ ہے کہ جو کچھ زمانے میں خیر و شر کا وقوع ہو رہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر اور اُس کے علم میں ہے اور اس کی حکمتوں کے مطابق ہو رہا ہے۔ جس میں کسی غیراللہ کو قطعی طور سے شرک نہیں ہے۔ کیونکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا دونوںصورتوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور اُس سے حسن ظن رکھنا چاہیئے اور انتہائی درماندگی اور بے بسی کی حالت میں اس کی رحمت کی اُمید ہونی چاہیئے اور اسی سے توبہ و استغفار کرنا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ:
    ایک مقام پر ارشادِ ربانی ہے کہ:
    فیہ مسائل
    ٭ زمانے کو گالی دینے سے روکنا۔ ٭ زمانہ کو گالی دینا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کو ایذا دینا ہے۔ ٭ زمانے کو برا کہنا بعض اوقات گالی ہی ہوتا ہے اگرچہ انسان کے دِل میں گالی دینا مقصود نہ ہو۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں