1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ھِدایۃ المُستفید اُردُو ترجمہ فتح المجید شرح کتابُ التوحید

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 29، 2013۔

  1. ‏مئی 10، 2013 #61
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    باب:لَا یُسْالُ بِوَجْہِ اﷲِ اِلَّا الْجَنَّۃُ

    اس باب میں اس مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ کا واسطہ دے کر جنت کے سوا اور کوئی سوال نہ کیا جائے۔
    عن جابر رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا یُسْاَلُ بِوَجْہِ اﷲِ اِلَّا الْجَنَّۃُ (رواہ ابوداؤد)
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ دین کے لئے طائف تشریف لے گئے اور اہل طائف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو بجائے قبول کرنے کے ٹھکرا دیا اور انتہائی بدسلوکی سے پیش آئے۔ طائف سے واپسی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی دعائیں کیں جن سے جنت کا ذکر نہیں ہے جیسے:
    سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اذکار میں مندرجہ ذیل دعا بھی موجود ہے: ’’اے اللہ تو سب سے زیادہ ذکر کئے جانے اور سب سے زیادہ عبادت کئے جانے کا مستحق ہے‘‘۔ اس دعا کے آخری الفاظ یہ ہیں: ’’میں تیرے چہرے کے نور کی پناہ لیتا ہوں جس سے سب آسمان اور زمین روشن ہیں‘‘۔ یہ دُعا ان الفاظ پر ختم ہوتی ہے: ’’میں اللہ کریم کے چہرے اور اللہ عظیم کے نام اور اس کے پورے کلمات کی پناہ لیتا ہوں موت اور ڈسنے والی چیزوں کی برائی سے اور اے رب ہر اس چیز کی برائی سے جو تو نے پیدا کی اور اس دن کی برائی سے اور اس کے بعد کی برائی سے اور دنیا اور آخرت کی برائی سے۔ احادیث مرفوعہ میں صحیح اور حسن اسناد سے ان ادعیہ کے علاوہ بھی دعائیں مذکور ہیں جن میں جنت کی طلب کا ذکر نہیں ہے ان کا جواب کیا ہو سکتا ہے؟
    جواب: ان ادعیہ ماثورہ میں اگرچہ بظاہر جنت کا سوال نہیں لیکن ایسے اعمال و افعال کا ذکر موجود ہے جو جنت کے قرب کا ذریعہ اور وسیلہ بنتے ہیں اور ایسے اعمال سے اجتناب کا سوال بھی موجود ہے جو دخولِ جنت کے لئے رکاوٹ ثابت ہوں۔ پس اِن ادعیہ میں اللہ تعالیٰ کے چہرے اور اُس کے نور کے واسطہ سے اُن ہی اعمال کے انجام دینے کی توفیق مانگی گئی ہے جو جنت کے قرب کا ذریعہ ہیں۔ جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں یہ دعا مذکور ہے: ’’اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور اُن اقوال و اعمال کا جو مجھے جنت کے قریب کر دیں اور میں تیری پناہ لیتا ہوں آگ سے اور اُن اقوال و اعمال سے جو آگ کے قریب کریں‘‘۔
    یہ دُعائیں ان لوگوں کی دعاؤں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہیں جو صرف دنیا کا مال و متاع رزق میں وسعت اور دنیاوی زیب و زینت کی دعائیں کرتے ہیں۔ بلا شبہ دنیا کا مال و متاع اگر نجات اُخروی کے لئے استعمال کیا جائے تو بہت ہی مستحسن عمل ہے، جس کا ان ادعیہ میں ذکر آگیا ہے۔ پس اس میں شک نہیں کہ اللہ کریم کے نام سے صرف دنیاوی حوائج طلب کرنے کے بارے میں یہ حدیث ممانعت پر دلالت کرتی ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ زیرنظر حدیث اور ان مذکورہ ادعیہ میں کوئی تعارض، تناقض اور اختلاف نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔
    زیر بحث حدیث اُن احادیثِ متواترہ میں سے ایک ہے جن میں اللہ تعالیٰ کے چہرے کا اثبات پایا جاتا ہے یہ صفت کمال ہے اور اس کا انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی ناقص چیز سے اللہ کریم کو تشبیہ دی جائے جیسا کہ بعض فرق باطلہ نے اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا انکار کیا یا بعض صفات سے منکر ہو گئے۔ لہٰذا جس گناہ سے وہ بچنا چاہتے تھے اُس سے بڑے اور سنگین جرم میں مبتلا ہو گئے۔
    اہل سنت کا سلفاً و خلفاً یہ دستور رہا ہے کہ وہ صفات جن کا ذکر رب کریم نے خود اپنی کتاب میں کیا ہے یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صفات رب کریم کی بیان فرمائی ہیں اُن پر مکمل ایمان لایا جائے اور ان صفات کو تمثیل اور تشبیہ سے بالکل پاک اور صاف رکھا جائے۔ اہل سنت اُن تمام صفات کو تسلیم کرتے ہیں جو خود اللہ تعالیٰ نے یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں۔ اور مخلوق کی مشابہت سے مبرہ سمجھتے ہیں جیسے اللہ کریم کی ذات کو بلا تمثیل و تشبیہ مانتے ہیں اسی طرح اس کی صفات کو بھی بلا تمثیل و تشبیہ تسلیم کرتے ہیں۔ پس جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کیا یوں سمجھئے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے کمال کا انکار کیا۔


    فیہ مسائل
    ٭ اللہ کریم کے نام سے انتہائی اہم اور بڑے بڑے سوال ہی کرنے چاہئیں۔ ٭ اللہ تعالیٰ کے لئے ’’چہرے‘‘ کا ثبوت۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 10، 2013 #62
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مصائب و مشکلات میں صبر و بردباری اختیار کرنے کی تلقین۔
    باب:ما جاء فی اللو

    اس باب میں انسان کو مصائب و مشکلات کے وقت صبر و بردباری اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور جو لوگ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے آپ کو تقدیر کی گرفت سے آزاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی مذمت کی گئی ہے۔
    قولہ تعالیٰ یَقُوْلُوْنَ لَوْ کَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰھُنَا (آل عمران:۱۵۴)۔
    مصائب و مشکلات کے وقت جزع فزع کرنا شریعت اسلامیہ میں منع ہے اور اس پر سخت ترین وعید سنائی گئی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ تقدیر الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کر کے اللہ تعالیٰ کی بندگی کا فریضہ انجام دے اس کی صورت صرف یہ ہے کہ انسان مصائب و مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرے اور سخت ترین حالات میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرے۔ کیونکہ ایمان کے چھ اُصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کا تقدیر الٰہی پر کامل ایمان ہو۔
    جنگ اُحد میں خوف اور بزدلی اور ڈر سے منافقین نے یہ جملہ کہا تھا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں جنگ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ تھا اور دُشمن کا حملہ زبردست تھا کہ اچانک ہم پر نیند کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور ہم میں سے ہر مجاہد کی ٹھوڑی غلبہء نیند کی بنا پر سینے سے لگ گئی۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ حلفیہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے متعب بن قشیر منافق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ’’اگر ہمارے بس کی بات ہوتی ہم یہاں قتل ہی نہ کئے جاتے‘‘۔ اس سے سن کر یہ الفاظ میں نے اچھی طرح یاد کر لئے۔ چنانچہ اسی پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ ’’وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کئے جاتے‘‘۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے: کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے۔ مطلب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی تھی جس سے کسی کو مفر نہیں اور یہ ایسا فیصلہ کن امر تھا جس کا بہر کیف پورا ہونا ضروری تھا۔
    اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا (آل عمران:۱۶۸)۔
    ان کے جو بھائی بند جنگ لڑنے گئے اور مارے گئے ان کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے۔
    اس کے جواب میں اللہ کریم نے فرمایا:
    یعنی گھر بیٹھنے رہنے سے موت سے نجات مل سکتی ہے تو تمہیں بالکل نہیں مرنا چاہیئے اور یاد رکھو کہ موت بہرحال آنی ہے اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں جا کر پناہ لے لو۔ اگر تمہارے قول میں سچائی کی ذرا سی مقدار بھی باقی ہے تو موت سے بچ کر تو دکھلاؤ؟۔
    مجاہد رحمہ اللہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’زیر نظر آیت کریمہ مشہور منافق عبداللہ بن ابی اور اُس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی‘‘۔ یعنی یہ الفاظ عبداللہ بن ابی نے کہے تھے۔
    امام بیہقی رحمہ اللہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے جنگ اُحد کا نقشہ یوں بیان فرمایا کہ:
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    وفی الصحیح عن ابی ھریرۃ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِحْرِصْ عَلٰی مَا یَنْفَعُکَ وَ اسْتَعِنْ بِاﷲِ وَ لَا تَعْجَزَنَّ وَ اِنْ اَصَابَکَ شیْیئٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ اَنِّیْ فَعَلْتُ کَذَا وَ کََذا لَکَانَ کَذَا وَ کَذَا وَ لٰکِنْ قُلْ قَدَّرَ اﷲُ وَ مَا شَآءَ فَعَلَ فَاِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطٰنِ
    فیہ مسائل
    کسی ناگہانی مصیبت پر یہ کہنا سخت جرم اور گناہ ہے کہ ’’اگر میں یوں کرتا تو یہ مصیبت نہ آتی‘‘۔ ٭ لفظ ’’اگر‘‘ استعمال نہ کرنے کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ اس سے شیطانی اعمال کا دروازہ کھلتا ہے۔ ٭ اچھی گفتگو کی ترغیب۔ ٭اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہوئے ایسے اعمال کا شوق دلایا گیا ہے جو نفع بخش ہیں۔ ٭ جو اس کے اُلٹ ہے، اُس یعنی عجز سے روکنا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 10، 2013 #63
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ہوا اور آندھی کو گالی دینے سے سختی سے روکا گیا ہے۔
    باب:النھی عن سب الریح

    اس باب میں ہوا اور آندھی کو گالی دینے سے سختی سے روکا گیا ہے۔
    عن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَا تَسُبُّوا الرِّیْحَ فَاِذَا رَاَیْتُمْ مَّا تَکْرَھُوْنَ فَقُوْلُوْا اللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ ھٰذِہِ الرِّیْحِ وَ خَیْرِ مَا فِیْھَا وَ خَیْرِ مَآ اُمِرَتْ بِہٖ وَ نَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ ھٰذِہِ الرِّیْحِ وَ شَرِّ مَا فِیْھَا وَ شَرِّ مَآ اُمِرَتْ بِہٖ
    ہوا کو گالی دینے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک ہے اور اُس کے حکم کے مطابق چلتی ہے لہٰذا ہوا کو گالی دینا، اس کے پیدا کرنے والے کو گالی دینے کے مترادف ہے جیسا کہ سابقہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ زمانہ کو گالی دینا ایسا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کو گالی دے دی۔ اس قسم کی غلط حرکت وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اُس کے دین سے بالکل کورے ہیں چنانچہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ جاہل اور ظالم لوگوںکی طرح ہوا کو گالی نہ دیں نہ اُس کو بُرا کہیں۔

    فیہ مسائل
    ٭ ہوا کو گالی دینے کی ممانعت۔ ٭ جب انسان ناپسندیدہ چیز کو دیکھے تو اُس وقت نفع مند دُعا کی تعلیم دی گئی ہے۔ ٭ اس بات سے بھی انسان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ہوا اللہ تعالیٰ کے حُکم کی پابند ہے۔ ٭ اس راز سے بھی پردہ اُٹھایا گیا ہے کہ ہوا کو کبھی بھلائی اور خیر کا اور کبھی تباہی مچانے کا بھی حکم ملتا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 10، 2013 #64
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اللہ تعالیٰ کے متعلق جاہلانہ گمان کرنا …
    باب:یَظُنُّوْنَ بِاﷲِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاھِلِیَّۃِ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْیئٍ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّہٗ ِﷲِ یُخْفُوْنَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَکَ (آل عمران:۱۵۴)

    یہ آیاتِ بینات اللہ تعالیٰ نے جنگ اُحد کے واقعہ کے ربط میں نازل فرمائیں، غزوئہ اُحد میں ایک خاص واقعہ پیش آیا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    غنودگی کی یہ حالت ایمان والوں میدانِ جنگ میں ثابت قدم رہنے والوں، اللہ پر توکل اور بھروسہ رکھنے والوں،مصائب و مشکلات میںصبر کرنے والوں اور سچائی کے خوگر افراد پر طاری ہو۔ یہ وہی حضرات تھے جنہیں یقین تھا کہ رب ذوالجلال اپنے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرور مدد فرمائے گا اور تمام وعدوں اور توقعات کو پورا کرے گا اور دوسرے گروہ کے بارے میں فرمایا گیا:
    ان کو یہ نعمت عظمیٰ نصیب نہ ہوئی کیونکہ وہ جزع فزع، قلق و اضطراب اور خوف و ہراس کا شکار ہو کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں اہل جاہلیت کے سے سوءِ ظن اور بدگمانی میں مبتلا ہو گئے ان کے اس سوء ظن کی تصدیق خود اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: (ترجمہ)
    دوسرے مقام پر فرمایا:
    منافقین کے اس بزدل گروہ نے جب دیکھا کہ وقتی طور پر مشرکین کو غلبہ حاصل ہو رہا ہے تو انہوں نے اس کو آخری فیصلہ سمجھا۔ ان کے دلوں میں یہ بات گھر کر گئی کہ اب اسلام اور اہل اسلام کا بالکل خاتمہ ہو جائے گا۔ شکوک و شبہات میں گرفتار لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ اہل اسلام جب کسی مصیبت میں گھر جاتے ہیں تو ان سے اسی قسم کی لغو گفتگو، اور نامعقول باتیں سرزد ہوتی ہیں۔

    فیہ مسائل
    ٭ برے گمان کی بیشمار قسمیں ہیں جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ٭ان برے گمانوں سے وہی شخص محفوظ رہ سکتاہے جو اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اپنے نفس کی معرفت سے بہرہ مند ہو۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 10، 2013 #65
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    باب: تقدیر کا انکار کرنا شریعت اسلامی سے انکار کے مترادف ہے۔
    باب :ما جاء فی منکری القدر

    اس باب میں بتایا گیا ہے کہ تقدیر کا انکار کرنا شریعت اسلامی سے انکار کے مترادف ہے منکرین تقدیر الٰہی کی حیثیت اسلام میں وہی ہے جو مجوسیوں کی ہے۔
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادِ گرامی ہے:
    یہ کہہ کر فرمانے لگے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی جس کے الفاظ یہ ہیں:
    اس حدیث سے ثابت ہوا کہ تقدیر پر ایمان لانا ایمان کے مذکورہ چھ اصولوں میں سے ایک ہے۔ لہٰذا جس کا تقدیر پر خواہ وہ خیر ہو یا شر، ایمان نہیں ہے، یوں سمجھئے کہ اس نے دین کے ایک اصول کو چھوڑ دیا اور اس کا منکر ٹھہرا۔ ایسا شخص ان لوگوں کی طرح ہو گا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    مسند احمد میں عبادہ بن الولید بن عبادہ کہتے ہیں کہ
    اس حدیث اور ایسی دوسری احادیث سے ثابت ہوا کہ جو کچھ ہو چکا اور قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے احاطہء علم میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے تقدیر کے متعلق جب سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:
    امام ابن عقیل رحمہ اللہ نے اس جواب کو بہت پسند فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے کوئی چیز زیادہ طاقتور نہیں ہے منکرین تقدیر اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا انکار کر کے گمراہ ہو گئے بعض علمائے سلف کا کہنا ہے کہ منکرین تقدیر سے علم اور دلائل سے مناظرہ کرو۔ اگر یہ لوگ مان جائیں تو مغلوب ہو جائیں گے اور اگر انکار پر اڑے رہے تو کافر قرار پائیں گے۔

    فیہ مسائل
    ٭ تقدیر پر ایمان لانے کی فرضیت۔ ٭ ایمان کی کیفیت کا بیان۔ ٭ جو شخص تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا اُس کے اعمال کا اکارت جانا۔ ٭ اس بات کی وضاہت کہ جو شخص تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا وہ ایمان کے مزے سے بالکل محروم ہے۔ ٭ اس چیز کا ذکر جس کو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا فرمایا (یعنی قلم)۔ ٭ قلم نے حکم الٰہی سنتے ہی اُس وقت سے لے کر جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب اُسی وقت لکھ دیا۔ ٭ جس شخص کا تقدیر پر ایمان نہیں اُس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیزاری اور لا تعلقی کا اظہار۔ ٭ سلف صالحین کی یہ عادتِ مبارکہ تھی کہ علمائے کرام سے دریافت فرما کر شبہات کا ازالہ کرتے۔ ٭ تقدیر کے متعلق جتنے شبہات پیدا ہو سکتے تھے، علمائے کرام نے اِن سب کا ایک ایک کر کے اس کا جواب دیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے دلائل کو براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے۔
     
  6. ‏مئی 10، 2013 #66
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    باب: تصویر اُتارنے اور اُتروانے والے اللہ کے نزدیک سخت ترین عذاب …
    باب:ما جاء فی المصورین

    اس باب میں اس مسئلہ شرعی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں کہ تصویر اُتارنے اور اُتروانے والے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ترین عذاب کے مستوجب قرار دیئے گئے ہیں۔
    عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذَھَبَ یَخْلُقُ کَخَلْقِیْ فَلْیَخْلُقُوْا ذَرَّۃً اَوْ لِیَخْلُقُوْا حَبَّۃً اَوْ لِیَخْلُقُوْا شَعِیْرَۃً (بخاری و مسلم)۔
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر کی ممانعت اور حرمت کی وجہ خود بیان فرمائی کہ مصور تصویر کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق جیسی بنانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ تخلیق کائنات اور تدبیر امر سب اللہ تعالیٰ کے قبضہ و قدرت میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی سب کا مالک، پالنے والا، خالق اور تمام مخلوق کو جدا جدا تصویریں بنانے والا ہے۔ وہی اجسامِ خاکی میں روح پھونکتا ہے جس سے ان میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ قرآن کریم میں ہے کہ:
    ولھما عن عائشۃ رضی اللہ عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ الَّذِیْنَ یُضَاھِھُوْنَ بِخَلْقِ اﷲ (متفق علیہ)
    صحیحین میں اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    و لھما عن ابن عباس رضی اللہ عنہ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ کُلُّ مُصَوّرٍ فِی النَّارِ یُجْعَلُ لَہٗ بِکُلِّ صُوْرَۃٍ صَوَّرَھَا نَفْسٌ یُّعَذَّبُ بِھَا فِیْ جَھَنَّمَ و لھما عنہ مرفوعا مَنْ صَوَّرَ صُوْرَۃً فِی الدُّنْیَا کُلِّفَ اَنْ یَّنْفُخَ فِیْھَا الرُّوْحَ وَ لَیْسَ بِنَافِخٍ (متفق علیہ)
    صحیحین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ
    صحیحین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    مصور جب کسی انسان یا کسی چوپائے وغیرہ کی تصویر بناتا یا فوٹو کھینچتا ہے تو اس کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا ہے، یہ اس کی مثل اور اس کے ہم شکل ہوں، اس میں ذرہ بھی فرق نہ ہو، یہی تصویر مصور کے لئے قیامت کے دن بہت بڑی شکل اور عذاب کا سبب بن جائے گی اور مصور کو اس کا مکلف ٹھہرایا جائے گا کہ اس تصویر میں رُوح ڈالے لیکن وہ ایسا ہرگز نہ کر سکے گا۔ لہٰذا اس کو سخت ترین سزا دی جائے گی کیونکہ تصویر بنانا کبیرہ گناہوںمیں سے ہے۔
    غور کرنے کا مقام ہے کہ جاندار چیز کی تصویر بنانے کی جب یہ سزا ہے تو اُس شخص کی سزا کا کیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کو اس کے برابر قرار دے لے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کو مشابہ ٹھہرائے، تمام عبادات کو یا کسی ایک عبادت کو غیر اللہ کے لئے انجام دے۔ اس کو اور دوسری تمام مخلوق کو تو اللہ کریم نے صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا تھا عبادت کا مستحق تو اللہ کے سوا کوئی نہیں۔

    صحیح مسلم میں ابو الھیاج اسدی رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ
    اس حدیث میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جس بڑی مہم کو سر کرنے کے لئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوالہیّاج کو روانہ فرمایا اسی مہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا تھا۔ تصاویر کو اس لئے مٹانے کا حکم دیا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے مشابہت و مماثلت پائی جاتی ہے۔ قبور کو زمین کے برابر کرنے میں حکمت یہ تھی کہ اس سے عوام کے دلوں میں قبروں اور اہل قبور کی تعظیم اور فتنے میں گرفتار ہونے کا خدشہ تھا کیونکہ شرک میں ملوث ہونے کے لئے سب سے بڑا سبب قبور کی تعظیم ہی ہے۔ لہٰذا انسان کو ان تمام اُمور کی طرف عنانِ توجہ مرکوز کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی جو دین اسلام اُس کے مقاصد اور اس کے فرائض و واجبات کی ادائیگی میں رکاوٹ کا باعث بن سکتے تھے۔جن اُمور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا تھا ان میں جب سے تساہل اور سستی واقع ہوئی ہے، اس وقت سے عوام ان میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ وہ اُمور ہیں جن سے بچنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔ قبریں اہل قبور کے لئے ایک آزمائش و ابتلا بن کر رہ گئیں۔ اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ آہستہ آہستہ قبروں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی اور بڑی بڑی عبادتیں جو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے انجام دینی چاہئیں تھیں وہ اہل قبور کے لئے انجام دی جانے لگیں جیسے: دُعا کرنا، مدد مانگنا، فریاد اور استغاثہ کرنا، جانوروں کو ذبح کرنا، نذرونیاز دینا، اور ان کے علاوہ دوسری عبادات جن سے انسان مشرک ہو جاتا ہے۔
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل اور آج کل لوگوں نے جو قبور سے متعلق رویہ اختیار کر رکھا ہے ان دونوں کے درمیان موازنہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور دونوں کے طریق کار ایک دوسرے سے جدا ہیں اور یہ دونوں طریق ہائے عمل کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ٭قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے لیکن آجکل کا مسلمان قبروں کی طرف منہ کر کے بلکہ قبرستان میں جا کر نماز پڑھنے کا عادی ہو چکا ہے۔ ٭ قبرستان کو عبادت گاہ بنانے سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے لیکن آجکل قبرستان میں مسجدیں بنائی جا رہی ہیں اور ان کا نام مشاہد رکھا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے گھروں سے مشابہت ہو جائے۔ ٭قبر پر چراغاں کرنے کو رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے روکا اور منع فرمایا تھا لیکن یارلوگوں نے بڑی بڑی جائیدادیں وقف کر رکھیں ہیں جن کی آمدنی سے قبروں پر چراغاں ہوتا ہے۔ ٭ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان پر میلے ٹھیلے لگانے سے منع فرمایا لیکن انہوں نے ایک خاص قسم کے میلے رچا رکھے ہیں جہاں بڑی دھوم دھام سے سالانہ اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جیسے مسلمان عید یا حج کے لئے اجتماع کرتے ہیں بلکہ آجکل ان میلوں میں عیدین سے بھی زیادہ چہل پہل نظر آتی ہے۔ ٭ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو زمین کے برابر رکھنے کا حکم فرمایا جیسا کہ زیر مطالعہ حدیث میں مذکور ہے۔ اس کی تائید صحیح مسلم کی ثمامہ بن شفی والی حدیث بھی کرتی ہے جس میں ابن شفی کہتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ سرزمین روم میں سفر کر رہے تھے کہ رودسؔ کے مقام پر ہمارا ایک ساتھی فوت ہو گیا۔ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے حکم کے مطابق اس کی قبر زمین کے برابر کر دی گئی پھر فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ قبر کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ لیکن آجکل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں حدیث کی مخالفت میں پورا پورا زور لگا رہے ہیں اور قبر کو اتنا اونچا کر دیتے ہیں جیسے کسی کا گھر ہو اور قبروں پر بڑے بڑے مزار اورقبے بنا رہے ہیں۔ ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو چونا گچ کرنے اور اس پر کسی قسم کی تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’قبروں کو چونا گچ کرنے، ان پر بیٹھنے اور ان پر کسی قسم کی تعمیر کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے‘‘۔ نیز یہ کہ قبر پر لکھنے سے بھی روکا ہے جیسا کہ ابوداؤد میں سیدنا جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    لیکن آجکل بڑی بڑی تختیوں پر قرآن کریم کی آیات لکھ کر قبروںپر لگاتے ہیں۔ ٭ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تو یہ ہے کہ قبر پر صرف قبر والی مٹی ہی ڈالی جائے، اس کے علاوہ دوسری جگہ کی مٹی نہ ڈالی جائے۔ جیسا کہ ابوداؤد میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
    لیکن آجکل لوگ بڑی بڑی اینٹیں اور پتھر رکھنے سے باز نہیں آتے بلکہ قبر کو چونا گچ کرنے سے بھی نہ رُکتے۔ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی قبروں پر اینٹ وغیرہ رکھنے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ہماری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ قبروں کی تعظیم کرنے والے قبروں پر میلے رچانے والے اور ان پر چراغاں کرنے والے ایسے افراد جو قبروں پر مسجدیں تعمیر کرواتے ہیں، اور بڑے بڑے قبے بنانے سے نہیں رکتے اصل میں یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی کھلم کھلا مخالفت کر رہے ہیں اور شریعت مطہرہ سے برسرجنگ ہیں اور سب سے بڑا ظلم یہ ہو رہا ہے کہ قبرستان میں مسجدیں بنا رہے ہیں اور پھر ان پر چراغاں بھی ہو رہا ہے حالانکہ یہ سب چیزیں کبائر میں سے ہیں۔

    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے شاگروں اور دوسرے فقہاء نے ان اُمور کو حرام قرار دیا ہے۔ ابو محمد المقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
    قبرستان میں نماز پڑھنے کی ممانعت کو خصوصیت کے ساتھ اس لئے ذکر کیا ہے کہ اس سے بت پرستوں سے مشابہت پائی جاتی ہے جیسے بت پرست اپنے بتوں کو پوجتے ہیں اور ان سے تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے، ان سے مشابہت ہو جاتی ہے اس لئے ممانعت کر دی گئی۔
    ہم یہ بات واضح کر آئے ہیں کہ بت پرستی کی ابتدا اُس وقت ہوئی جب کہ لوگوں نے اپنے مردوں کی بے انتہا تعظیم کی اور ان کی صورتیں اور شکلیں بنا کر رکھ لیں اور پھر وقتاً فوقتاًان کو چومتے چاٹتے رہے، اور اِن کے پاس جا کر عبادت کرتے رہے۔


    فیہ مسائل
    ٭ تصویر بنانے والوں کے لئے سخت وعید۔ ٭تصویر نہ بنانے کی وجہ یہ بتائی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی بے ادبی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میری بناوٹ جیسی بنانا چاہتا ہے۔ ٭ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مخلوق کی عاجزی کا اظہار اس طرح فرمایا کہ ایک ذرہ (ایک دانہ) یا کم از کم ایک ’’جَو‘‘ ہی بنا کر دکھلائیں۔ ٭ اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ تصویر بنانے والے کو دُوسرے لوگوں سے سخت عذاب ہو گا۔ ٭ دنیا میںمصور نے جتنی تصویریں بنائی ہوں گی،اتنی ہی جانیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بنائے گا جن کے ذریعہ مصور کو دوزخ میں عذاب دیا جائے گا۔ ٭مصور کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ ان تصاویر میں رُوح ڈالے۔ ٭ جہاں بھی تصویر ملے اُسے مٹا دینے کا حکم۔
     
  7. ‏مئی 10، 2013 #67
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بکثرت قسمیں کھانے کی ممانعت
    باب:ما جَآ فی کَثْرَۃِ الْحَلْفِ

    اس باب میں بکثرت قسمیں کھانے کی ممانعت، اور اس پر وعید اور تہدید کی گئی ہے
    وَاحْفَظُوْا اَیْمَانَکُمْ (المائدہ:۸۹)
    اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مفہوم نقل فرمایا ہے کہ:
    بعض اہل علم نے یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ:
    شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے زیر نظر آیت کے وہی معنی مراد لئے ہیں جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ذکر کئے ہیں کیونکہ زیادہ قسمیں کھانا اور باربار قسم توڑنا آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ اس میں ایک برائی تو یہ ہے کہ قسم کو بالکل ہلکا سمجھا جاتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا خیال نہیں کیا جاتا۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی برائیاں ہیں جو کمالِ توحید کے منافی ہیں۔
    عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ یَقُوْلُ الْحَلْفُ مَنْفَقَۃٌ لِلسِّلْعَۃِ مَمْحَقَۃٌ لِلْکَسَبِ
    حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان اپنے مال کے بارے میں یوں قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے اس مال کو اتنی قیمت دے کر خریدا ہے اور مجھے اتنی قیمت مل رہی ہے تو خریدار اس کی قسم پر اعتبار کرتے ہوئے اور اس کو سچا سمجھتے ہوئے اصل قیمت سے زیادہ ادا کر دیتا ہے۔ حالانکہ وہ اپنی قسم میں سچا نہیں ہوتا بلکہ جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کو زیادہ قیمت ملے۔ اس نے یہ جھوٹی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اس کو اس کی سزا یہ ملتی ہے کہ اس کے مال سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔ برکت کا ختم ہو جانا اتنا بڑا نقصان ہے کہ اس نے جو جھوٹی قسم اٹھا کر معمولی سی قیمت زیادہ وصول کی تھی، وہ برکت ختم ہو جانے کی تلافی نہیں کر سکتی۔ بعض اوقات تو اس قدر سزا ملتی ہے کہ راس المال ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ رہا وہ اجر و ثواب جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ملے گا تو وہ اطاعت الٰہی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ دنیا کی زیب و زینت گنہگار کے لئے اپنی پوری رعنائی اور خوشنمائی کے ساتھ جلوہ گر ہے لیکن اس کا انجام ہلاکت اور عذابِ الٰہی کے سوا کچھ نہیں۔
    و عن سلمان رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ثَلَاثَۃٌ لَّا یُکَلِّمُھُمُ اﷲُ وَ لَا یُزَکِّیْھِمْ وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌاُشَیْمِطُ زَانٍ وَ عَآئِلٌ مُّسْتَکْبِرٌ وَ رَجُلٌ جَعَلَ اﷲَ بِضَاعَتَہٗ لَا یَشْتَرِیْ اِلاَّ بِیَمِیْنِہٖ وَ لَا یَبِیْعُ اِلاَّ بِیَمِیْنِہٖ (رواہ الطبرانی بسند صحیح)
    سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ یَجِیْئُ قَوْمٌ تَسْبِقَ شَھَادَۃُ اَحَدِھِمْ یَمِیْنَہٗ وَ یَمِیْنُہٗ شَھَادَتَہٗ
    صحیح مسلم میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    فیہ مسائل
    ٭ اپنی قسم کی حفاظت کرنے کی وصیت کی گئی ہے۔ ٭ خواہ مخواہ اور جھوٹی قسم اٹھانے سے مال کی قیمت تو اچھی مل جاتی ہے لیکن برکت ختم ہو جاتی ہے۔ ٭ اُس شخص کو سخت ڈانٹ پلائی گئی ہے جو مال خریدتے اور بیچتے وقت خواہ مخواہ قسمیں اٹھاتا ہے۔ ٭ اس بات کی طرف خاص توجہ دلائی گئی ہے کہ جس شخص میں گناہ میں ملوث ہونے کے امکانات انتہائی قلیل اور تھوڑے ہوں اور وہ پھر بھی گناہ کی طرف زیادہ میلان رکھے تو اُس کا یہ گناہ صغیرہ نہ ہو گا بلکہ کبیرہ گناہ شمار ہو گا۔ ٭ اُن لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جن سے قسم طلب نہیں کی جاتی لیکن وہ اس کے باوجود قسمیں اٹھاتے ہیں۔ ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریب ترین تین یا چار اَدوار کی تعریف فرمائی ہے اور جن نئی نئی بدعات کا ظہور ہونے والا تھا، اس کی پیشگوئی بھی فرما دی۔
     
  8. ‏مئی 10، 2013 #68
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اپنے عہدو پیمان توڑنا ہلکا گناہ ہے بنسبت اللہ و رسول کے عہدو پیمان توڑنے کے۔
    باب:ما جاء فی ذمۃ اﷲ و ذمۃ نبیہ

    اس باب میں وضاحت سے یہ بتایا گیا ہے کہ انسان اپنے عہد و پیمان توڑ دے تو یہ گناہ ہلکا ہے بنسبت اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد و پیمان توڑنے کے۔
    وقولہ تعالی وَ اَوْفُوْا بِعَھْدِ اﷲِ اِذَا عَاھَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوْا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْکِیْدِھَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اﷲَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلًا اِنَّ اﷲَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ (النحل:۹۱)۔
    اس آیت کریمہ کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    اسی لئے حکم فرمایا کہ دیکھو:
    اس آیت کریمہ اور میں مندرجہ ذیل آیت میں کوئی تعارض نہیں ہے:
    اور آیت
    اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشادِ گرامی اور ان آیات میں بھی کوئی تناقض نہیں ہے:
    ان آیات اور حدیث پاک میں فی الواقع کوئی تعارض یا تناقض نہیں ہے کیونکہ ان آیات میں وہ قسمیں مراد ہیں جو کسی عہد و پیمان میں داخل ہیں۔ اور جن قسموں کو توڑنا جائز بلکہ بعض اوقات ضروری ہو جاتا ہے، ان سے وہ قسمیں مراد ہیں جو کسی کو ترغیب دینے یا کسی چیز کے نہ دینے کے بارے میں اٹھائی جائیں۔ اسی بنا پر اس آیت میں جن قسموں کی ممانعت کی گئی ہے اُن کے متعلق مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جاہلیت کی قسمیں ہیں۔ مجاہد کے اس قول کی تائید وہ روایت کرتی ہے جو امام احمد رحمہ اللہ نے سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے کی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ایسا صاف ستھرا اور نکھرا ہوا مذہب ہے جسے جاہلیت کی قسموں کی قطعاً ضرورت اور احتیاج نہیں ہے کیونکہ اسلام سے تمسک اور اس پر عمل کی دیواریں استوار کرنا، انسان کو زمانہ جاہلیت کی تمام چیزوں سے محفوظ کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں
    ان لوگوں کے لئے سخت تہدید اور وعید پنہاں ہے جو قسم کھانے کے بعد، اُسے توڑ دیتے ہیں۔
    سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
    فیہ مسائل
    ٭ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ اور عام مسلمانوں کے ذمہ میں فرق۔ ٭ دو خطرناک کاموں میں سے جو زیادہ ہلکا ہو اُسے اختیار کرنے کی طرف رہنمائی۔ ٭آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ’’بسم اللہ‘‘ کہہ کر اور صرف رضائے الٰہی کو مدنظر رکھ کر جہاد میں حصہ لو۔ ٭ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ جو اللہ سے کفر کرتا ہے اُس سے جنگ کرو۔ ٭ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور کفار سے جنگ کرو۔ ٭ اللہ تعالیٰ اور علماء کے حُکم میں فرق۔
     
  9. ‏مئی 10، 2013 #69
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اس بات کی ممانعت کہ ’’اللہ کی قسم اللہ فلاں شخص کو کبھی معاف نہیں کرے گا‘‘۔
    باب :مَا جَآءَ فی الْاِقْسَامِ عَلَی اﷲِ

    اس باب میں اس بات کی سخت مذمت کی گئی ہے کہ کوئی شخص کسی کے بارے میں اس طرح اللہ کی قسم کھائے کہ وہ فلاں شخص کو معاف نہیں کرے گا۔
    عن جندب بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ رَجُلٌ وَ اﷲِ لَا یَغْفِرُ اﷲُ لِفُلَانٍ فَقَالَ اﷲُ تَعَالٰی مَنْ ذَا الَّذِیْ یَتَاَلّٰی عَلَیَّ اَنْ لاَّا اَغْفِرَ لِفُلَانٍ اِنِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَہٗ وَ اَحْبَطْتُ عَمَلَکَ
    سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا کہ ایک شخص نے کہا کہ
    اللہ عز و جل نے فرمایا کہ
    شرح السنۃ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت مروی ہے جو صحیح ہے اور جس کی سند سیدنا عکرمہ بن عمار رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کے یہ الفاظ حدیث کے اِن الفاظ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اَحَدُھُمَا مُجْتَھِدٌ فِی الْعِبَادَۃِ یعنی ان میں سے ایک بہت عبادت گزار تھا۔ ان احادیث میں لغزش زبان کا بیان ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کو گفتگو میں بھی احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔ جیسا کہ
    فیہ مسائل
    ٭ اللہ تعالیٰ پر قسم کھانے سے ڈرنا۔ ٭ عذابِ دوزخ ہمارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔ ٭ جنت کا بھی یہی حال ہے۔ ٭انسان بعض اوقات ایسا جملہ کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ عذاب میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ ٭ بعض اوقات ایسے معاملے میں بھی بخشش ہو جاتی ہے جو انسان کے نزدیک بہت برا ہوتا ہے۔
     
  10. ‏مئی 10، 2013 #70
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اللہ تعالیٰ کو کسی کے سامنے سفارشی مت بناؤ
    باب:لَا یُسْتَشْفَعُ بِاﷲِ عَلٰی خَلْقِہٖ

    اس باب میں اِس امر کی صراحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے سامنے سفارشی کی حیثیت نہیں دینی چاہیئے خواہ وہ شخص اپنے طور پر کتنی بھی اہمیت کا مالک ہو۔
    عن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ قَالَ جَآءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ یَارَسُوْلَ اﷲ نُھِکَتِ الْاَنْفُسُ وَ جَاعَ الْعِیَالُ وَ ھَلَکَتِ الْاَمْوَالُ فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّکَ فَاِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِاﷲِ عَلَیْکَ وَ بِکَ عَلَی اﷲِ فَقَالَ النَّبِیُّ سُبْحَانَ اﷲِ سُبْحَانَ اﷲِ فَمَا زَالَ یُسَبِّحُ حَتّٰی عُرِفَ ذَالِکَ فِیْ وُجُوْہِ اَصْحَابِہٖ ثُمَّ قَالَ وَیْحَکَ اَتَدْرِیْ مَا اﷲُ اِنَّ شَاْنَ اﷲِ اَعْظَمُ منْ ذَالِکَ اِنَّہٗ لَا یُسْتَشْفَعُ بِاﷲِ عَلٰی اَحَدٍ (ابوداؤد)۔
    حدیث میں ہے کہ
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز تصنیف ’’مفتاح دارالسعادۃ‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ ’’جب انسان اپنی اندرونی بصیرت سے اپنے آپ کی، اور اپنے رب کی معرفت تامہ حاصل کر لیتا ہے تو پھر اس کے سامنے بابِ آسمان کھل جاتے ہیں اور اِنسان آسمان کے چپے چپے، اس کے ملکوت اور فرشتوں پر نگاہ ڈالتا ہے اور پھر یکے بعد دیگرے تمام دروازے کھلتے جاتے ہیں۔حتی کہ قلب انسانی ربِّ ذوالجلال کے عرش تک جا پہنچتا ہے۔ عرش کی وُسعت، اُس کی عظمت، اُس کا جلال، اُس کی بلندی اور بزرگی دل کی آنکھوں کے سامنے ہوتی ہے۔ اُس وقت اُس کے مقابل ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے کسی چٹیل اور وسیع و عریض میدان میں چھوٹا سا گول حلقہ پڑا ہو۔ اور اللہ ذوالجلال کے عرش کے ارد گرد ملائکہ کی فوجیں سجدہ ریز ہوتی ہیں۔ فرشتوں کے تسبیح و تحمید اور تکبیر و تقدیس کہنے کی وجہ سے ایک شور بپا ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے تمام عالم کی تدابیر جاری ہوتی ہیں، اور تمام جہان کے لشکر کے لئے جن کی تعداد اللہ ہی بہتر جانتا ہے، احکام صادر ہوتے ہیں، قوموں کی موت و حیات اور عزت و ذلت کے فیصلے یہیں کئے جاتے ہیں۔ ایک کو بادشاہ بنانے اور دوسرے سے مملکت چھین لینے کا حکم یہیں سے صادر ہوتا ہے۔ نعمتوں کے اَدل بدل کا مرکز یہی ہے۔ انسانی ضروریات مختلف اندازوں سے پورا کرنے کا فیصلہ یہیں سے ہوتا ہے۔ نقصانات کی تلافی کرنا اور محتاج کو تونگر اور غنی بنانا سب اسی مقام پر کیا جاتا ہے۔ مریضوں کو شفا دینا، کسی کی تکالیف کو دور کرنا، کسی گنہگار کو معاف کرنا، کسی کی مشکل کو حل کرنا، مظلوم کی فریاد رسی اور امداد کرنا، بھولے ہوئے کو راہ دکھانا، جاہل کو عالم بنانا، بھاگے ہوئے کو واپس لانا، خوفزدہ کو امان دینا، پناہ کے طالب کو محفوظ جگہ عطا کرنا، کمزور کی مدد کرنا، عاجز اور درماندہ کی اعانت کرنا، پریشان حال کی پریشانی رفع کرنا، ظالم سے بدلہ لینا، اور سرکش کی زیادتیوں کو روکنے کے فیصلے یہیں سے صادر ہوتے ہیں۔ یہ سب فیصلے عدل و انصاف اور حکمت کے عین مطابق جاری اور تمام عالم میں نافذ ہوتے ہیں۔ ربِّ ذوالجلال کی ذات ایسی بے مثل ذات ہے کہ بیک وقت مختلف زبانوں سے نکلی ہوئی مختلف دعائیں اور عرض داشتیں اسے کسی کا کلام سننے میں حائل نہیں ہو سکتیں۔ اور بلحاظ اختلافِ لغات اور کثرت مسائل و حاجات، اور طرفہ یہ کہ بیک وقت پکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں خلط ملط نہیں ہوتیں۔ رب کریم اصرار سے مانگنے والوں سے اُکتاتا نہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ سب کی حاجات و ضروریات کو پورا کر دے تو اُس کے خزانہ میں ذرہ بھر کمی پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ اس کی سب سے نمایاں صفت یہ کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ہے۔
    انسان یہاں پہنچ کر ربِّ ذوالجلال کی خشیت و ہبیت کی وجہ سے اُس کے سامنے سر جھکا دیتا ہے، اس کی بے پناہ عزت و عظمت کے پیش نظر انتہائی خشوع و خضوع سے اُس کے حضور کھڑا ہو جاتا اور اللہ ذوالجلال والاکرام کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا سجدہ ہوتا ہے جو قیامت تک کے لئے انسان کو سر اُٹھانے کا نام نہیں لینے دیتا۔ یہ تھا دل کا سفر جبکہ انسان اپنے وطن، گھربار اور اہل و عیال میںہوتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے نشانات اور اس کی کاریگری کے بے مثل عجائب ہیں۔ پس مبارک ہو اس سفر کو، کتنا بابرکت ہے یہ سفر، اس کے نتائج و ثمرات بہت ہی زیادہ ہیں۔ اس کے فوائد اور اس کا انجام عدیم النظیر ہے۔ یہ ایسا بابرکت سفر ہے جس سے رُوح کو نئی زندگی ملتی ہے اور جو سعادت و خوش بختی کی کلید ہے، عقلمندوں کا مال غنیمت ہے۔
    رہا مسئلہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُن کی زندگی میں سفارش کرائی جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفیع بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دُعا کرائی جائے۔
    باقی رہا مسئلہ فوت شدہ شخص کا تو شریعت مطہرہ نے اس کے جنازہ اور اس کی قبر پر اس کے لئے دُعا کرنے کی ترغیب دی ہے۔ میت کے لئے بس اتنا ہی حکم ہے کہ اس کے لئے دُعا کی جائے البتہ میت سے دُعا کی التجا کرنے کی شریعت اسلامیہ نے اجازت نہیں دی بلکہ اس کی ممانعت کر دی گئی ہے اور کتاب و سنت میں ایسے شخص کے لئے سخت وعید آئی ہے جو مُردے سے دُعا کی التجا کرتا ہے۔ قرآن کریم اس کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے:
    اسی طرح فرمایا:
    پس ہر میت اور غائب شخص نہ تو سن سکتا ہے اور نہ دُعا قبول کرنے کی اُسے قدرت و طاقت ہے۔ اور نہ وہ کسی کو نفع دے سکتا ہے اور نہ کسی کو تکلیف میں مبتلا کر سکتا ہے۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے اور خصوصاً خلفائے راشدین میں سے کسی سے بھی منقول نہیں ہے کہ اُنہوں نے کسی وقت بھی اپنی حاجات اور مشکلات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر جا کر اُن کی خدمت میں پیش کی ہوں، خصوصاً قحط سالی کے وقت۔
    جیسا کہ دَورِ خلافت فاروق ہی میں قحط سالی ہوئی۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر میدان میں مدینہ سے باہر نکلے تاکہ نمازِ استسقٰی پڑھی جائے۔ اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ نماز استسقٰی پڑھائیں اور دُعا کریں کیونکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ زندہ موجود تھے۔ ثابت ہوا کہ اگر کسی شخص کے مرنے کے بعد اس سے بارش وغیرہ کے لئے دُعا کرانا جائز ہوتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو نہ کہتے بلکہ سیدھے قبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خود بھی آتے اور لوگوں کو بھی لاتے۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں کیا گیا۔ نہ خلفائے راشدین میں سے کسی نے کیا اور نہ کسی دُسرے صحابی نے کیا۔
    اس واقعہ سے زندہ اور فوت شدہ کے درمیان جو امتیازی فرق ہے وہ واضح ہو جاتا ہے کیونکہ زندہ شخص سے سب سے بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ موجود ہو تو دعا کرے۔

    فیہ مسائل
    ٭ جس شخص نے یہ کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفارشی بناتے ہیں اِس پر ناراض ہونا اور اس کی اس بات کو خلافِ شریعت قرار دینا۔ ٭رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرئہ انور کا اس طرح متغیر ہو جانا کہ صحابہ کرام کے چہروں پر بھی اس کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ ناپسند نہیں فرمایا کہ ’’ہم اللہ تعالیٰ کے حضور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفارشی بناتے ہیں‘‘۔ ٭سبحان اللہ کے معنی و مفہوم کی وضاحت۔ ٭ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بارش کی دُعا کروایا کرتے تھے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں