1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ھِدایۃ المُستفید اُردُو ترجمہ فتح المجید شرح کتابُ التوحید

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 29، 2013۔

  1. ‏مئی 10، 2013 #71
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کے پہلو کو کیونکر ثابت کیا اور کس طرح …
    باب:مَا جَآءَ فی حمایۃ النبی حمی التوحید و سدہ طرق الشرک

    اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کے پہلو کو کیونکر ثابت کیا اور کس طرح اُس راہ کو بند کر دیا ہے جو شرک کی طرف لے جاتی ہو۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن اقوال و اعمال کی جو عقیدئہ توحید میں نقص و اضمحلال کا باعث بنتے ہیں، کس طرح بیخ کنی کی اور شجر توحید کی آبیاری کے لئے کیا کیا کوششیں فرمائیں۔ اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیشمار ارشادات کتب احادیث میں موجود ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
    گزشتہ صفحات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مندرجہ ذیل ارشادِ گرامی ذکر کیا جا چکا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    ۔ ابوداؤد میں عبدالرحمن بن ابی بکر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے دُوسرے کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کرنے والے کو تین بار فرمایا کہ
    عن عبداﷲ بن الشخیر رضی اللہ عنہ قَالَ اِنْطَلَقْتُ فِیْ وَفْدِ بَنِیْ عَامِرٍ اِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقُلْنَا اَنْتَ سَیِّدُنَا فَقَالَ السَّیِّدُ اﷲ تَبَارکَ وَ تَعَالٰی قُلْنَا وَ اَفْضَلنَا فَضْلًا وَّ اَعْظَمُنَا طَوْلاً فَقَالَ قُوْلُوْا بِقَوْلِکُمْ اَوْ بَعْضَ قَوْلِکُمْ وَ لَا یَسْتَجْرِیَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ
    سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بنی عامر کے ایک وفد کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا ہم نے عرض کی آپ ہمارے سردار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سردار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بابرکت اور بلند ہے۔ ہم نے پھر عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے افضل ترین اور بیشمار احسان کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ یا اس طرح کی مناسب باتیں کرو اور یاد رکھنا کہ کہیں شیطان کے پھندے میں نہ آجانا۔
    رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو بالکل پسند نہیں فرمایا کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر مدح اور تعریف کریں تاکہ وہ غلو میں مبتلا ہو جائیں اور اس کی صراحت فرمائی کہ کسی کے منہ پر تعریف کرنے والا اگرچہ جس معاملے میں تعریف کی جا رہی ہے، وہ اس میں موجود ہی ہو، شیطانی عمل کا مرتکب ہوتا ہے کیونکہ تعریف کرنے والا اپنے ممدوح کو بہت ہی پر عظمت اور اعلیٰ و ارفع سمجھے گا تو اس کی تعریف کے گا اور یہ کمالِ توحید کے منافی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادت کا ایک مخصوص انداز اور خاص مرکز و محور ہے جس کے اردگرد عبادت کا پورا نظام گھومتا ہے اور وہ محور ہے کسی کی محبت میں اس کے سامنے انتہائی عجز و تذلل سے پیش آنا اور یہ عجز و تذلل خضوع و خشیت اور مسکنت کو مستلزم ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے۔
    جب تعریف اور مدح کی وجہ سے انسان کے دماغ میں بڑا پن یا فخر و عجب کی کیفیت ابھر آئے گی تو عبدیت کے خاصہ میں عظیم نقص پیدا ہو جائے گا جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ایک روایت میں یوں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
    اپنی مدح اور تعریف کو پسند کرنا بعض اوقات ذہنی اور دینی آفات و مصائب میں مبتلا ہونے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ بات ہر شخص کے ذہن میں رہنی چاہیئے کہ عُجب اور فخر اعمالِ صالحہ کو اس طرح کھا جاتے ہیں جیسے آگ لکڑی کو۔
    یہ احتیاطی تدابیر اس لئے اختیار کی گئیں تاکہ عقیدئہ توحید کی پوری طرح حفاظت کی جا سکے اور اس میں کوئی ایسی بات شامل نہ ہو جائے جو بنیادی طور پر اس کے مزاج کے منافی ہو۔ اور پھر کہیں نوبت یہاں تک نہ پہنچ جائے کہ شرک اور اس کے جراثیم، اس کی اساس کو کمزور کر دیں۔
    کسی شخص کو ’’السید‘‘ کہہ کر پکارنے میں علماء کا اختلاف ہے۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اپنی کتاب: ’’بدائع الفوائد‘‘ میں لکھتے ہیں: بعض علماء نے یہ لفظ کہنا ناجائز قرار دیا ہے۔ یہ علمائے کرم اس باب میں اسی حدیث کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاسیدنا کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’السید اللہ تبارک و تعالیٰ‘‘۔ اور بعض علمائے کرام نے اس کو جائز ٹھہرایا ہے۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انصاری ساتھیوں سے فرمایا تھا کہ ’’اپنے سید کے لئے کھڑے ہو جاؤ‘‘۔ یہ حدیث پہلی سے زیادہ قوی اور صحیح ہے۔ مگر دونوں احادیث میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ یہاں سیادت اضافی مراد ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں ہے۔ لفظ ’’السید‘‘ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو گا تو اس وقت اس کے معنی: مالک، مولی اور ’’ربّ‘‘ کے ہوں گے۔ وہ معنی مراد نہیں ہوں گے جو مخلوق پر استعمال کرتے وقت مراد لئے جاتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جن کے لئے یہ جملہ ارشاد فرمایا تھا: وہاں سیادت کے وہ معنی نہیں ہیں جن معنی میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

    فیہ مسائل
    ٭ مبالغہ آمیزی سے لوگوں کو ڈرانا۔ ٭باوجود اس کے کہ لوگوں نے سچی اور حق بات کہی تھی لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کہیں تم کو شیطان بہکا نہ دے‘‘۔ ٭ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے اُس مرتبہ سے جس پر اللہ کریم نے مجھے فائز کیا ہے، بڑھاؤ‘‘ کی وضاحت۔
     
  2. ‏مئی 10، 2013 #72
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کی ہمہ گیریوں کی وضاحت۔
    باب:ما جا فی قول اﷲ تعالیٰ وَمَا قَدَرُوا اﷲَ حَقَّ قَدْرِہٖ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ السَّمَاوَاتُ مَطْوِیّٰتٌ بِیَمِیْنِہٖ سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (الزمر:۶۷)

    علامہ ابن کثیر اس آیت کریمہ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ:
    عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قَالَ جَآءَ حِبْرٌ مِّنَ الْاَحْبَارِ اِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ یَامُحَمَّدُ اِنَّا نَجِدُ اَنَّ اﷲَ یَجْعَلُ السَّمَاوَاتِ عَلٰی اِصْبَعٍ وَالْاَرْضِیْنَ عَلٰی اِصْبَعٍ والشَّجَرَ عَلٰی اِصْبَعٍ وَ الْمَآءَ عَلٰی اِصْبَعٍ وَ الثَّرٰی عَلٰی اِصْبَعٍ وَسَآئِرَ الْخَلْقِ عَلٰی اِصْبَعٍ فَیَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ فَضَحِکَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہٗ تَصْدِیْقًا لِّقَوْلِ الْحِبْرِ ثُمَّ قَرَاَ وَمَا قَدَرُوا اﷲَ حَقَّ قَدْرِہٖ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ
    و فِی روایۃ لمسلم والْجِبَالَ وَ الشَّجَرَ عَلٰی اِصْبَعٍ ثُمَّ یَھْزُّھُنَّ فَیَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَنَا اﷲُ و فی روایۃ للبخاری یَجْعَلُ السَّمٰوٰتِ عَلٰی اِصْبَعٍ وَ الْمَآءَ وَ الثَّرٰی عَلٰی اِصْبَعٍ وَ سَآئِرَ الْخَلْقِ عَلٰی اِصْبَعٍ
    و لمسلم عن ابن عمر مرفوعا یَطْوِی اﷲُ السَّمَاوَاتِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ یَاْخُذُھُنَّ بِیَدِہٖ الْیُمْنٰی ثُمَّ یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ اَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ ثُمَّ یَطْوِی الْاَرْضِیْنَ السَّبْعَ ثُمَّ یَاْخُذُھُنَّ بِشِمَالِہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ اَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ
    یہ احادیث اور اس مفہوم کی دوسری احادیث مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور اس کی قدرت و رفعت کے بارے میں واضح طور سے دلالت کناں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بندوں پر اس کی معرفت کے دروازے اس کی صفات کی بنا پر ہی کھلتے ہیں اور یہ تمام مخلوق اس کے کمال عجائب کی واضح علامت ہے جیسا کہ نصوصِ کتاب و سنت، سلف امت اور ائمہ کرام سے ثابت ہے۔ وہ اثبات بلا تمثیل اور تنزیہ بلاتعطیل ہے اس کی عبادت، ربوبیت، اور الوہیت میں کوئی اس کا مثیل اور ساجھی نہیں۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو ایمان کی بنیاد ہے اور جس پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔
    مذکورہ بالا صحیح احادیث پر ہر شخص کو غور کرنا چاہیئے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ربِّ کریم کی کامل اور اس کی وہ عظمت و رفعت بیان کی ہے جو کہ اس کی ذاتِ کبریا کو زیبا ہے۔ اور بعض ان صفاتِ الٰہی کی تصدیق بھی فرمائی جن کا یہودی عالم نے ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے شایانِ شان ہے۔ اور اس بات پر بھی غور کرنا چاہیئے کہ ان احادیث سے اللہ تعالیٰ کے عرشِ عظیم پر مستوی ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ (نعوذ باﷲ) ان اسماء و صفات سے ظاہری معنی مراد نہیں۔ اور یہ بھی کہیں نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ ہیں۔ اگر یہ باتیں درست اور صحیح ہوتیں تو اللہ تعالیٰ کے یہ امین ترین انسان اپنی اُمت کو ضرور بتاتے کیونکہ ربِّ کریم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دین اسلام کو مکمل فرمایا اور تمام نعمتوں سے نوازا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری وضاحت سے اس کو لوگوں تک پہنچا دیا۔ صلوات اﷲ و سلامہ علیہ وعلی آلہ و صحبہ و من تبعہم الی یوم الدین۔

    اور دوسری طرف صحابہ کرام نے اپنے محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ تمام اوصاف کا علم حاصل کیا جو ربِّ کریم نے اپنی عظمت و جلات اور کمال کے سلسلے میں بیان کیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان سب پر ایمان لائے اور ان کو انہوں نے تسلیم کیا وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لائے اُن سب صفات پر بھی ایمان لائے جو کتاب اللہ میں مذکور ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود اِن کے ایمان لانے کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے:
    تابعین، تبع تابعین، ائمہ کرام، محدثین عظام اور تمام فقہاء بھی اسی طرح ایمان لائے اور اُنہوں نے بھی اسی طرح اللہ کریم کی صفات بیان کیں جس طرح کہ خود اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں۔ ان بزرگانِ دین نے اللہ کی کسی ایک صفت کا بھی انکار نہیں کیا اور نہ یہ کہا کہ اِن صفات کے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں اور نہ یہ کہا کہ اِن صفات سے تشبیہ لازم آتی ہے بلکہ جن لوگوں نے تشبیہ دینے کی کوشش کی ان کا مقابلہ کیا اور بڑی بڑی کتابیں لکھ کر ان کے شبہات کی تردید کا حق ادا کر دیا۔ یہ کتب آج تک اہل سنت کے ہاں معروف اور متداول ہیں۔ فجزاھم اﷲ احسن الجزاء۔
    علامہ ابن جریر رحمہ اللہ نے بطریق یونس روایت کی ہے جس میں ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد محترم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ساتوں آسمان کرسی کے مقابلہ میں اُن سات درہموں کے برابر ہیں جو کسی ڈھال میں ڈال دیئے گئے ہوں‘‘۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ کی کرسی، عرش کے مقابلے میں ایک لوہے کے چھلے کی طرح ہے جسے کسی چٹیل میدان میں پھینک دیا گیا ہو‘‘۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ پہلے اور اُس کے آگے والے آسمان کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ اور ہر آسمان کے درمیان پانچ پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ اور ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اور کرسی اور پانی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ اور عرش پانی کے اوپر ہے اور اللہ کریم عرش کے اوپر ہے۔ تمہارے اعمال میں سے کوئی شے اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔
    سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِن دونوں کے درمیان پانچ سو برس کا فاصلہ ہے۔ اور ہرآسمان سے دُوسرے آسمان تک پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اور ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو برس کی مسافت کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ساتویں آسمان اور عرش کے درمیان ایک سمندر ہے، اُس کے نچلے اور اُوپر کے حصے کا فاصلہ وہی ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے اوپر ہے اور اعمالِ بنی آدم میں سے کوئی عمل اس سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’کتاب اللہ اِبتدا سے انتہا تک سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین عظام اور تمام ائمہ کا کلام اس سے بھرا پڑا ہے کہ ربِّ کریم ہر چیز سے بلند ہے اور یہ کہ وہ آسمانوں اور زمینوں سے اوپر عرش پر ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات اس پر شاہد ہیں:
    علامہ الذہبی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور تصنیف ’’کتاب العلو‘‘ میں صحیح اسناد سے اُم المؤمنین اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول ذکر کیا ہے؛ آپ ’’اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی‘‘ کے بارے میں فرماتی ہیں: ’’استواء کے معنی معلوم ہیں اس کی کیفیت سمجھ میں آنے والی نہیں ہے۔ اور اس کا اقرار کرنا ہی ایمان ہے اور اس کا انکار کرنا کفر ہے‘‘۔
    ابن المنذر اور لالکائی وغیرہ نے اپنی اپنی کتب میں صحیح اسناد سے ذکر کیا ہے کہ سفیان بن عینیہ کہتے ہیں کہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا: ’’استواء کی کیا کیفیت ہے؟ اُنہوں نے کہا استویٰ کا معنی معلوم ہے، اس کی کیفیت سمجھ میں آنے والی نہیں۔ اللہ تعالیٰ احکام نازل فرماتا ہے اور رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذِمہ ان کی تبلیغ ہے اور ہمارا فرض ان کی تصدیق کرنا ہے‘‘۔
    ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’ہم امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا: اے ابوعبداللہ: قرآن کریم میں یہ آیت ہے کہ ’’اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی‘‘ استوی کی کیفیت کیا ہے؟ اس کے متعلق ہمیں بتایا جائے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے یہ سوال سن کر سر جھکا لیا اور پسینہ پسینہ ہو گئے۔ پھر فرمایا ’’اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی‘‘ کو ہم اسی طرح مانتے ہیں جیسے اس نے اپنے لئے استعمال کیا ہے۔ اس کی کیفیت کے بارے میں ہرگز سوال نہ کیا جائے کیونکہ اللہ کے لئے کیفیت کا سوال ہی نہیں ہوتا البتہ تو بدعتی ہے (کیونکہ تو نے سوال ہی ایسا کیا ہے)۔ اسے میری مجلس سے نکال دو‘‘۔
    اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کے ثبوت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین، اور سلف ِ اُمت کے اقوال اور شواہد اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے ہم چند اقوال پر اکتفا کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے اور دوزخ کافروںکا ٹھکانہ ہے۔ عرش پانی کے اوپر ہے اور عرش کے اوپر رب العالمین ہے۔ اس کو طاقتور فرشتوں نے اٹھا رکھا ہے اور یہ اللہ کے وہ فرشتے ہیں جو نشان دار ہیں۔
    تمام اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ کریم اپنی ذات کے ساتھ عرش پر مستوی ہے اور اس کا عرش پر مستوی ہونا حقیقی ہے مجازی نہیں۔ البتہ اُس کا علم ہر جگہ میں ہے۔
    اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا جس نے سب سے پہلے انکار کیا وہ جعد بن درہم تھا۔ اُس نے جہاں استوی علی العرش کا انکار کیا وہاں تمام صفات کا بھی انکار کیا ہے۔ اس بد عقیدہ شخص کو خالد بن عبداللہ القسری نے قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ بہت مشہور ہے۔ جعد بن درہم کے عقیدئہ بد کو جہم بن صفوان نے پروان چڑھایا جس کو فرقہء جہمیہ کا امام کہا جاتا تھا۔ اس نے اس عقیدہ کی خوب تشہیر کی۔ اور متشابہ آیات سے استدلال کر کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کیا۔ جہم بن صفوان تابعین کے آخری دور میں ہوا ہے۔ اس کے اس بد عقیدہ کی تردید میں اِس دور کے جید علماء کرام اور ائمہ نے کی۔ امام اوزاعی، امام ابوحنیفہ، امام مالک، لیث بن سعد ثور، حماد بن زیر، حماد بن سلمہ، ابن المبارک رحمہم اللہ تعالیٰ۔ اور ان کے بعد کے آئمہ ہدیٰ نے اس فتنہ کو ختم کرنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔
    اس سلسلے میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری میں امام شافعی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے جو زریں حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اتنے ہیں کہ جن کی تردید ممکن نہیں ہے۔ دلائل معلوم ہو جانے کے بعد جو شخص انکار کرے اُسے کافر قررا دیا جائے گا البتہ دلائل معلوم ہونے سے پہلے ایسے شخص کو اُس کی جہالت کی وجہ سے معذور سمجھا جائے گا۔ ہم ان تمام صفات کو ثابت کرتے ہیں اور تشبیہ کی تردید کرتے ہیں جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے تشبیہ کی تردید فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
    والحمد ﷲ رب العالمین و صلی اﷲ علی سیدنا محمد و علی الہ و اصحابہ اجمعین۔
    ابن ابراہیم و ابو علی
    ۵۲شعبان۶۲۴۱ھ ۲۹بمطابق ستمبر ۵۰۰۲ء


    فیہ مسائل
    ٭ اس حدیث میں جن علوم کا ذکر کیا گیا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دَور کے یہودیوں میں موجود تھے، اسی لئے نہ تو اُنہوں نے اِن کی تاویل کی اور نہ انہیں جھٹلایا۔ ٭ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب یہودی عالم نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق کی اور اس کی مزید تصدیق کے لئے قرآن کریم بھی نازل ہوا۔ ٭یہودی عالم کی طرف سے جب اِس عظیم علم کا اظہار ہوا تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسکرانا۔ ٭ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کے ثبوت کی وضاحت اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سیدھے ہاتھ میں آسمان اور دوسرے میں زمینیں ہوں گی۔ ٭ اللہ تعالیٰ کا اپنے ایک ہاتھ کو بایاں بتانے کی صراحت۔ ٭اُس وقت اللہ تعالیٰ کا بڑے بڑے سرکش اور متکبرین کو پکارنا۔ ٭ بنسبت آسمان کے کرسی کا بڑا ہونا۔ بنسبت کرسی کے عرش کا بڑا ہونا۔ ٭کرسی، پانی اور عرش تینوں کا الگ الگ ہونا۔ ٭دو آسمانوں کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے؟ ( کی وضاحت)۔ ٭ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے؟ (کی کیفیت)۔ ٭اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر ہے۔ ٭ زمین و آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ (کی وضاحت)۔ ٭آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت کے برابر ہے۔ ٭ ساتوں آسمانوں کے اوپر جو سمندر ہے اُس کے نیچے اور اوپر پانچ پانچ سو سال کی مسافت کا راستے ہے (واللہ اعلم)۔

    یونی کوڈ فائل فراہم کرنے پر محمد آصف مغل بھائی کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ اللہ تعالی موصوف کو جزائے خیر دے اور ان کی دین کے راستے میں کاوشوں کو قبول و منظور فرمائے۔ اللہ تعالی مجھے اور آصف بھائی کو ریا کاری سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 01، 2019 #73
    شیخ قاسم

    شیخ قاسم رکن
    جگہ:
    سیالکوٹ
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 03، 2014
    پیغامات:
    223
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
    بھائی کیا ہمیں بھی یونیکوڈ فائل مل سکتی ہے؟ میری خواہش ہے کہ میں اس یونیکوڈ فائل سے روزانہ کی بنیاد پر ایک وال پیپر یا پوسٹ تیار کرو۔
     
  4. ‏اکتوبر 01، 2019 #74
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جی ضرور ۔۔ ان شاء اللہ
    بارک اللہ فیہ
    اپنا ای میل ایڈریس مجھے ذاتی پیغام میں لکھ دیں!
     

اس صفحے کو مشتہر کریں