1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہاتھ چھوڑ کر نماز

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 03، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 05، 2017 #31
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    لیکن اس فعل کی کیا توجیہ بیان کی جائے گی؟
    یہ فعل امام مالکؒ کا مسلک ہے یعنی اہل مدینہ کا عمل ہے اس پر اور مدینہ کے تابعین اور تبع تابعین جب یہ کرتے تھے تو اس کا مطلب یہی ہوا کہ انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ سیکھا تھا (امام مالکؒ کے اہل مدینہ کے تعامل کے مسلک کی بنیاد اسی پر ہے)۔
     
  2. ‏اکتوبر 05، 2017 #32
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    جو توجیہات اس تھریڈ میں بیان کی گئیں وہ علماء کرام نے ذکر کی ہیں لیکن جس کی بھی شروح حدیث اور فقہ کی کتب پر نظر ہے وہ جانتا ہے کہ اپنے مسلک کے اثبات کے بعد مخالف دلائل کو تطبیق دینے میں اس طرح کی توجیہات تمام علماء کرتے ہیں۔ ان کا حقیقت میں ہونا یقینی نہیں ہوتا۔
    یہ تو ممکن ہے کہ سلف کے بعض بزرگ یہ افعال ان وجوہات کی بناء پر کرتے بھی ہوں لیکن کیا امام مالکؒ سے یہ بات مخفی رہ سکتی تھی؟ اور کیا امام مالکؒ ان چیزوں کی بناء پر سنت رسول کو ترک کر سکتے تھے؟ اور اس زمانے میں یہود مدینے میں کب تھے؟ جو امامؒ کو جانتا ہے وہ میرا خیال ہے یہ نہیں کہہ سکتا۔
    مالکیہ کا اصل اور مضبوط مسلک ہاتھ چھوڑنے کا ہے البتہ متاخرین نے ہاتھ باندھنے کو ترجیح دی ہے۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر 05، 2017
  3. ‏اکتوبر 05، 2017 #33
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    عرب سے آئی ہوئی تبلیغی جماعت میں ایک عرب کو میں نے خود دیکھا کہ وہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتا تھا۔
     
  4. ‏اکتوبر 05، 2017 #34
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,251
    موصول شکریہ جات:
    1,066
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    محترم بھائی!
    محدثین نے توجیہات یقینا بیان کی ہوں گی آپ مراجعہ کریں. میں نے کبھی التمہید میں اس تعلق سے پڑھا تھا.
    بہرحال میرا یہاں بحث کا کوئی ارادہ نہیں ہے. میں صرف مرشد صاحب سے انکا موقف جاننا چاہتا تھا. ورنہ ان دنوں میں بہت مصروف ہوں. امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک جزء کی تخریج کرنی ہے. مزید حدیث الجنۃ تحت اقدام الامہات پر مقالہ ہے جس پر ابھی کافی کام باقی ہے ابن طاہر مقدسی (المعراف بابن القیسرانی) کی کتاب الکشف عن احادیث الشہاب نہیں مل رہی اس لئے مقالہ بھی رکا ہوا ہے.
     
    • پسند پسند x 2
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 05، 2017 #35
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,251
    موصول شکریہ جات:
    1,066
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    جی جناب عالی!
    ایسا کیا جاتا ہے لیکن ہر کوئی ایسا نہیں کرتا. محدثین جب کسی صحابی کے عمل کو حدیث کے خلاف دیکھتے ہیں تو تاول کرتے ہیں جیسے کہ مسئلہ تطبیق میں کی. اور اس مسئلہ میں ذہبی عصر علامہ معلمی کی تطبیق مجھے عمدہ لگتی ہے (یہ صرف بطور فائدہ کہ دیا ورنہ تطبیق کی بحث یہاں نہیں ہے)
    میں مالکیہ کا اکسپرٹ تو نہیں ہوں اس لئے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے عمل پر کچھ کہ نہیں سکتا. البتہ کسی امام سے بھی کسی بات کا مخفی رہ جانا بعید نہیں. اسکی مثال امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بن سکتے ہیں.
    گویا متاخرین نے یہ بات محسوس کر لی ہوگی کہ نبی اکرم ﷺ سے ارسال کا عمل ثابت نہیں.
    واللہ اعلم

    ایک بات آخر میں اگر آپ یا مرشد صاحب کے نزدیک ارسال ثابت ہے تو ارسال کریں
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 05، 2017 #36
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,251
    موصول شکریہ جات:
    1,066
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    پیارے بھائی!
    اس پر آپ کو حیرت نہیں ہونی چاہئے. ہو سکتا ہے کہ وہ مالکی ہوں. اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اکثر یا تمام اہل عرب کا ارسال کا موقف ہے. بلکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عرب میں مالکی بھی موجود ہیں..... فقط
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 05، 2017 #37
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    نہیں میرے بھائی ہمارے نزدیک راجح ہاتھ باندھنا ہے۔ لیکن مطلقاً انکار کر دینا کہ فلاں عمل نبی کریم ﷺ کا تھا ہی نہیں، اس کا مطلب ان اسلاف پر تہمت ہوتی ہے جنہوں نے اس عمل کو سیکھا، کرتے رہے اور آگے سکھایا۔ یوں کہنا چاہیے کہ ہمارے نزدیک یہ مسئلہ ثابت نہیں۔

    یہ تو خیر نہیں ہے البتہ متاخرین نے یہ کہا ہے کہ حدیث سے جو چیز ثابت ہے اسے ترجیح دی جائے۔ یہ ایک اچھا طرز عمل ہے۔ اس پر ایک کتاب بھی ہے لیکن اس وقت اس کا نام میرے ذہن میں نہیں آ رہا، اس میں مالکیہ کے اس مسئلے پر ایک مالکی عالم نے تحقیق کی ہے۔
     
  8. ‏اکتوبر 05، 2017 #38
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,251
    موصول شکریہ جات:
    1,066
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    نبی اکرم ﷺ کی طرف کسی عمل کو منسوب کرنے کے لئے اسکا ثابت ہونا بھی ضروری ہے.
    یہ اسلاف پر تہمت نہیں میرے بھائی! یہ انکے انسان ہونے کی دلیل ہے. آپ خود بھی جانتے ہیں کہ چند لوگوں سے ہی ارسال کا عمل منقول ہے. جبکہ اکثر ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں. ظاہر سی بات ہے کہ اختلاف ہوگیا. اور اختلافات کے موقع پر اللہ اور اسکے رسول کی طرف رجوع کیا جائے گا.
    رہے اسلاف جو ارسال کے قائل تھے تو انکے عمل کی توجیہ و تاویل کی جائے گی ان سے حسن ظن کا اظہار کرتے ہوئے.
    ہو سکتا ہے کہ کسی کے ساتھ مجبوری رہی ہو. اس لئے اس نے ارسال کیا ہو. اور یہ بعید نہیں ہے. غالبا ابن عباس یا ابن مسعود (رضی اللہ عنہم) سے کسی نے تیمم کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے تیمم کا انکار کیا. حالانکہ تیمم ثابت ہے. اور جو فتوی دیا گیا تھا وہ حالات کو دیکھتے ہوئے دیا گیا تھا. اور شاید اس کی مثال میں نے کسی سے کسی تھریڈ میں گفتگو کے دوران دی تھی. فی الحال یاد نہیں
    یہی ہم بھی کہتے ہیں کہ ارسال کا عمل نبی اکرم ﷺ سے ثابت نہیں ہے.
    کتاب کا نام بتائے گا کبھی موقع ملا تو استفادہ کروں گا.
    اللہ آپکو خوش رکھے. آمین
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  9. ‏اکتوبر 05، 2017 #39
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    میں نے یہی بتانے کی کوشش کی ہے کہ مالکی ابھی تک ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کو ہی مسنون خیال کرتے ہیں۔
     
  10. ‏اکتوبر 05، 2017 #40
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,251
    موصول شکریہ جات:
    1,066
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایک شخص کو دیکھ کر پورے مذہب کے متعلق فتوی لگا دیا جاتا ہے!!!!
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں