1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہاں! ہمارے نزدیک مسلمان عورتوں کا قتل جائز ہے۔!!!

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏اکتوبر 11، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 11، 2012 #1
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔
    جناب کسی عورت کا قتل؟؟؟
    جنگ میں تو کسی کافرہ عورت کا دانستہ قتل بھی حرام ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے سختی کے ساتھ منع فرمایا تھا۔
    تو پھر کس شرعی قاعدہ کی بنیاد پر ، کس منہج کے تحت ٹی ٹی پی نے اپنی نام نہاد جنگ میں ایک مسلمان بچی کو دانستہ طور پر قتل کرنے جیسا قبیح عمل کیا؟؟؟
    آپ بھی سوچ رہیں ہوں گے کہ کس چیز نے ان کو اس مذموم عمل پر ابھارا؟؟؟

    جی ہاں!! اسکی دلیل ہے ان کے پاس۔۔ مسلمان عورتوں کو قتل کیا جا سکتا ہے۔۔اور ان کے آباو اجداد بھی اسی شرعی کلئیے کے تحت یہ کام کرتے آئے ہیں۔۔ اور وہ ہے:
    اختلاف رائے!!


    حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ کا سفاکانہ قتل

    امام طبری، امام ابن الاثیر اور حافظ ابن کثیر روایت کرتے ہیں :
    اس واقعے کے بعد:
    لہذا ، یہ کوئی انہونی اور نئی حرکت ہر گز نہیں کہ جس پر حیرت کا اظہار کیا جائے۔
     
  2. ‏اکتوبر 13، 2012 #2
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏اکتوبر 14، 2012 #3
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    عبداللہ عبدل! میں کوئی عالم تو نہیں، لیکن پھر بھی ایک حدیث جو کہ میں نے سنی ہے اور شاید پڑھی بھی ہے کہ ایک صحابی نے اپنی لونڈی کو قتل کر دیا تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کو کہا تھا کہ اس لونڈی کاخون رائیگاں ہے یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نے اس کو قتل کیا، ان کی لونڈی نبی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی۔
    اس حدیث میں صرف اس بات کا جواب دیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے قتل کو رائیگاں قرار نہیں دیا۔
    اور ایک اور حدیث بھی ہے کہ شب خون مارنا اسلام میں جائز ہے جس میں بچے ، بوڑھے اور عورتیں سب ہی مارے جاتے ہیں تو کیا اس کی بھی اجازت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔
    تو میرے بھائی طالبان سے اختلاف اپنی جگہ لیکن ان سے اختلاف کے چکر میں اسلام کی دھجیاں مت بکھیروں اور اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کی جستجو میں احادیث کہ جن میں اس عمل کی اجازت موجود ہے ان سے منہ مت موڑو۔
    میں اس پر بحث کرنا ہی نہیں چاہتا کہ یہ صحیح ہوا یا غلط کیوں کہ میرا ماننا تو یہ ہے کہ یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے خود ہی کروایا ہے تاکہ کوئی بڑا فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ اور کسی بھی چیز کا الزام اپنے سر لینے کے لیے طالبان تو موجود ہیں نا!
    تو بس اس لڑکی کو مار دو اور ویسے بھی اسلام مخالف تو اس کے خیالات ہیں تو بڑا ہی آسان ہوگا یہ کہنا کہ طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
    تو میرے بھائی صرف یہ گذارش ہے کہ جن چیزوں کی اسلام میں اجازت موجود ہے اگر ان دلائل سے کوئی غلط استدلال کر کے اپنے کسی غلط کام کو جائز کر کے دکھاتا ہے تو آپ اس دلیل کو ماننے سے انکار نہ کریں بلکہ اس کے اس عمل کی مذمت کریں نہ کہ یہ کہہ دیں کہ اسلام میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں۔
    اللہ اہل اسلام کی مدد فرمائے اور ان پر پڑی ہوئی ذلت کو ان سے دور فرما دے۔ آمین
     
  4. ‏اکتوبر 14، 2012 #4
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم ۔۔

    جی جی آپ باتوں سے احساس ہو رہا ہے آپ عالم نہیں اور نہ ہی اہل علم کی طرف رجوع کرنے کو تیار ہیں۔۔

    ٹائپسٹ نے ٹائپ کیا::

    جی کس نے کی رسول کریم کی گساخی جو آپ کو یہ حدیث پیش کرنی پڑ گئی؟؟؟ حیرت ہے!


    دوبارہ ٹائپسٹ کا ٹائپ رائٹر حرکت میں ::
    یہ بات بھی واقع سے مطابقت نہیں رکھتی۔۔۔۔۔کیونکہ ظالمان نے شب خون کفار پر نہیں معصوم بچیوں کی سکول وین پر مارا ،،،، اور ویسے بھی شب خون نہیں اسے ٹارگٹڈ حملہ کہیئے۔۔۔

    لیں جی، آپ نے بھی دلیلیں گھڑی ، وہ آپ کی اس مسئلے اور دینی علمی سے وابستگی شاہد ہیں۔

    اللہ کے بندے اللہ ڈر اور احادیث کا انطباق علماء کا کام ہے ٹائپسٹس کا نہیں!!!
     
  5. ‏اکتوبر 14، 2012 #5
    Rashid Yaqoob Salafi

    Rashid Yaqoob Salafi مشہور رکن
    جگہ:
    Rawalpindi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 12، 2011
    پیغامات:
    139
    موصول شکریہ جات:
    507
    تمغے کے پوائنٹ:
    114

    ٹائپسٹ بھائی، آپ کی بات ان جناب کو سمجھ ہی نہیں آئی. ان کی "پائپ لائن اپروچ" انہیں کچھ اور سوچنے یا سمجھنے کی اجازت ہی نہیں دیتی.
    اپنے مئوقف کو "صحیح" ثابت کرنے کی خاطر یہ اسلام کو بھی تبدیل کر دیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا.
     
  6. ‏اکتوبر 14، 2012 #6
    Rashid Yaqoob Salafi

    Rashid Yaqoob Salafi مشہور رکن
    جگہ:
    Rawalpindi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 12، 2011
    پیغامات:
    139
    موصول شکریہ جات:
    507
    تمغے کے پوائنٹ:
    114

    خوارج اسلام میں ایک گمراہ فرقہ تھا. علما نے احادیث کی روشنی میں ان کی کچھ نشانیاں بھی بتائی تھیں . جن کو آپ خوارج قرار دیتے ہیں ان میں وہ نشانیاںموجود ہیں ؟؟

    آپ کے "خوارج" ، آپ لوگوں کو "مرجئہ" قرار دیتے ہیں ؛ کیا وجہ ہے کہ ہم ان کی بات نہ مانیں ؟
     
  7. ‏اکتوبر 14، 2012 #7
    ضحاک

    ضحاک مبتدی
    جگہ:
    grw
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2012
    پیغامات:
    43
    موصول شکریہ جات:
    180
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    راشد یعقوب سلفی بھائی!

    آپ کی باتیں کچھ مبھم سی ہیں تھوڑی سی وضاحت کر دیں کہ کس کی بات کس کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں ۔
     
  8. ‏اکتوبر 14، 2012 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آپ سے گفتگو کرتے ہوئے اکثر معاملات آپ کے لہجے کی تلخی کی وجہ سے خراب ہو جاتے ہیں،مثال کے طور پر اس تھریڈ کو دیکھیں۔
    آپ یہی بات احسن انداز سے بھی کر سکتے ہیں۔بات ٹائپسٹ بھائی کی ٹھیک ہے۔
     
  9. ‏اکتوبر 14، 2012 #9
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    عبدل! میں نے جو لکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے قتل کی اجازت دی تو یہ حدیث میں نے یہ ثابت کرنے کے لیے کوٹ نہیں کی کہ ملالہ کا قتل جائز ہے۔ بلکہ تمہاری اصلاح کی غرض سے کہ تمہاری یہ بات قرآن و سنت کے خلاف ہے ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت موجود ہے، اب ملالہ کا مسئلہ الگ ہے اس کے ساتھ جو ہوا میں اس پر بحث کر ہی نہیں رہا بس یہ کہہ رہا ہوں کہ اسلام میں عورت کے قتل کی اجازت موجود ہے۔ اپنی اصلاح کر لو اگر تم کہتے ہو کہ اجازت موجود نہیں تو پھر یہ کہو کہ میں نے جو حدیث کوٹ کی ہے وہ حدیث غلط ہے یعنی میرے سمجھنے میں یا تو غلطی ہوئی ہے یا میں بھول کر کچھ غلط بیان کر رہا ہوں۔ پھر کہہ رہا ہوں کہ میں نے صرف تمہاری اصلاح کے لیے کہ تم جو مؤقف رکھتے ہو کہ اسلام میں اجازت ہی نہیں کہ کسی عورت کو مارا جائے تو یہ بات غلط ہے۔
    جی ہاں میں عالم نہیں ہوں اور یہ آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں میں نے خود اس کا اعتراف کیا ہے، اور رہی بات علماء کی طرف رجوع کرنے کی تو الحمدللہ اللہ کے فضل سے میں علم علماء سے ہی حاصل کرتا ہوں اور جو باتیں میں نے کوٹ کیں ان میں بھی میں نے یہی لکھا کہ میں نے سنا ہے۔ اور علمی باتیں علماء سے ہی سنی جاتی ہیں نہ آپ سے۔
    جی حیرت میں پڑنے کی ضرورت نہیں میں نے وجہ بیان کر دی ہے کہ میں نے یہ حدیث کیوں پیش کی ہے۔
    الحمدللہ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میرا کی بورڈ حرکت میں ہے اور اللہ کے فضل سے آپ لوگوں کی اصلاح کی غرض سے حرکت میں ہے، اور اللہ اس کو نیک مقصد کے لیے حرکت میں ہی رکھے۔ آمین
    آپ کا یہ کہنا کہ میں نے دلیلیں گھڑی ہیں تو کیا آپ ان احادیث کو نہیں مانتے یا آپ کے علم کے مطابق یہ احادیث کتب احادیث میں موجود نہیں ہیں؟ اگر نہیں ہیں تو برائے مہربانی میری اصلاح کر دیں تاکہ میں آئندہ کسی اور کو یہ احادیث سنا کر اپنے لیے اللہ کی ناراضگی کا سبب نہ بنوں۔ اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھے علم سے وابستہ کر دے جیسے اس کو پسند ہے نہ کہ کسی بندے کو ، کیونکہ اس زندگی کا مقصد رب کی رضا ہے۔
    اے اللہ مجھے معاف فرما دے اگر میں نے کوئی غلطی کی ہے ان صاحب کو جواب دینے میں اور اللہ تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے میں بہت گناہ گار اور سیاہ کار ہوں۔ اور اے اللہ مجھے صحیح بات کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین
    تو کیا میں دین اسلام پر عمل کرنا یکسر چھوڑ دوں اور لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دینے سے اپنے آپ کو بالکل بری الذمہ سمجھوں کیا یہ آپ کا فتوی ہے ایسے شخص کے متعلق جو کہ کسی متعین عالم سے باقاعدہ تو علم حاصل نہیں کرتا لیکن جو کچھ سنتا اور سمجھتا ہے اس کو کوشش کرتا ہے کہ لوگوں تک پہنچا دے۔

    آخر میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اگر میری کوئی بھی بات نہ مانیں جو کہ میں قرآن و سنت کے حوالے سے کر رہا ہوں تو مجھے آپ سے بد تمیزی کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں کیوں ہمیں ہمارے رب نے کہاں ہے کہ ’’وما علینا الا البلاغ‘‘ تو میں نے اپنی ذمہ داری پور کر لی تو اب مجھے غصہ ہونے کی کیا ضرورت ہے کسی پر اگر وہ میری نہیں مانتا اور اپنی بد اخلاقی ظاہر کرنے کی کیا پڑی ہے اگر کوئی قرآن اور حدیث پر عمل نہیں کرے گا تو وہ اپنے لیے آگ کا گڑھا تیار کر رہا ہے میں تو اپنا کام کر چکا اس کو دعوت دے کر ۔ تو میرے بھائی جذبات کو قابو میں رکھو اور بداخلاقی کا مظاہرہ کر کے لوگوں کو موقعہ نہ دو کہ یہ ہیں دین اسلام کے داعی جن کو اخلاق سے واسطہ نہیں ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کو کہا ہے۔ اللہ ہمیں توفیق بخشے۔ آمین
     
  10. ‏اکتوبر 14، 2012 #10
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم۔

    جی جی سمجھ کیسے آئے ، جب مسئلہ کچھ ہو اور بے علمی میں اس پر کچھ اور پیش کیا جارہا ہو!!!

    میں نے عرض کی کہ ملالہ کے مسئلے میں گستاخی رسول والی حدیث کی بنیاد پر فٹ کی گئ؟؟؟

    اور شب خون والی روایات کفار کے خلاف قتال کے دوران ہے نہ کہ مسلمانوں پر حملوں کے لئے دلیل ، اور نہ ہی آج تک صحابہ نے سلف صالحین نے اس روایت سے مسلمان جتھوں پر شب خون کا جواز تراشنا کہاں کا انصاف ہے؟؟؟


    اب میں کیا کہوں جو چاہے جس کی مرضی حمایت کرے ، جس کو مرضی صحیح کہے، راشد صاحب ۔۔میری اپروچ جو بھی ہو ، میرے موقف کو غلط ثابت کرنے کے لئے آپ دلیل سے بات کریں، محض ملفوظات سے کام نہیں چلے گا۔ معذرت کے ساتھ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں