1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہاں! ہمارے نزدیک مسلمان عورتوں کا قتل جائز ہے۔!!!

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏اکتوبر 11، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 15، 2012 #21
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    راشد بھائی نے لکھا::

    بھائی آپ بد گمانی چھوڑ سکتے ہیں یا نہیں؟؟؟
    الحمد اللہ میں قرآن و سنت کے سوا کسی کو بھی حجت نہیں مانتا ،،،،، مگر لگتا ہے آپ مجھ سے میرے نظریات جاننے کی بجائے ’’بد گمانی ‘‘ سے ہی کام چلائیں گے۔
    میری آپ کو دعوت ہے ، جو میرے نظریات بارے پوچھنا چاہتے ہیں پوچھ لیں تاکہ کوئی ابہام نہ رہے اور دلوں میں سے غبار نکل جائے۔ جزاک اللہ خیرا
     
  2. ‏اکتوبر 15، 2012 #22
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    راشد بھائی نے لکھا::

    میرا بھی یہی ماننا ہے بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طالبان پاکستان کے لئے خطرہ نہیں کیونکہ وہ خود پاکستان کے ہمنوا ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم یہاں تحریک ظالمان پاکستان کی بات کر رہے ہیں۔۔۔معذرت کے ساتھ!!!

    نہیں یقین تو یہ پتا کروا لیں کہ جلال الدین حقانی صاحب کی رہائش کہاں ہے آجکل؟؟؟
    ڈاکٹر نصیر الدین حقانی (جلال الدین حقانی صاحب کا بیٹا) کہاں سے جہاد افغانستان کے معاملات چلا رہا ہے؟؟؟ ھھھھ

    میں یہاں نہیں بتا سکتا ،،،،،،،جواسیس بھی موجود ہیں۔۔۔ امید ہے آپ سمجتے ہوں گے
     
  3. ‏اکتوبر 16، 2012 #23
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    الحمدللہ،ہم سب اسلام کے ماننے والے ہیں،کسی بھی انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت اس کو ناحق قتل کرنا اسلام کی روشن تعلیمات کے خلاف ہے،جب تک آپ اپنے بھائیوں کے لیے حسن ظن نہیں رکھیں گے تب تک اس بحث کو سمیٹنا مشکل ہے۔
    ایک طرف راجا بھائی کہہ رہے ہیں کہ ہم ڈرون حملے کے خلاف ہیں لیکن ملالہ پر حملے کی بھی مذمت کرتے ہیں،ملالہ پر حملے کی مذمت سے یہ گمان نہ کیا جائے کہ ہم ڈرون حملے کی حمایت کرتے ہیں،غور کیا جائے تو دوسرے موقف والے بھائی (راشد،خضر حیات،ٹائپسٹ وغیرہ) جب یہ کہتے ہیں کہ ملالہ کے نظریات غلط تھے تو آپ وہاں یہ بدگمانی کیوں قائم کر لیتے ہیں کہ وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ ایسی نظریات رکھنے والے شخص (مرد یا عورت) کا قتل جائز ہے،یہاں بھی حسن ظن سے کام لیا جائے تو معاملہ صاف ہے کہ وہ بھائی جو ملالہ کے نظریات پر تنقید کر رہے ہیں اس سے یہ گمان نہ کیا جائے کہ وہ کسی بھی مسلم پر حملے کو جائز قرار دیتے ہیں۔اُمید ہے آپ میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
     
  4. ‏اکتوبر 17، 2012 #24
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    بھائیوں پورے پاکستان میں کسی بھی فرقے کا معتبر عالم دین نہیں ہے جس نے اس واقعہ کی حمایت کی ہو۔ بلکہ سب نے مذمت ہی کی ہے۔ اور جو لوگ خاموش ہیں وہ ساون کے اندھے ہیں میرا مطلب ہے جس طرح ساون کے اندھے کو ہر چیز ہری بہری لگتی ہے تو اُن کو بھی اس میں امریکی سازش نظر آتی ہے۔۔۔۔۔ پھر ایک یہ بات بھی سوچیں کہ اگر کہ امریکہ کی سازش ہے تو اس سازش کا حصہ کون ہے۔ ظاہر سی بات ہے ٹی ٹی پی نے جب ذمہ داری قبول کی تو وہی اس امریکی سازش میں شریک اور امریکہ کے لئے معاون ہے۔۔۔۔۔​
     
  5. ‏اکتوبر 18، 2012 #25
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    بھائی پورے ڈرامے کو دیکھو جب سے اس نے ڈائری لکھی پھر بی بی سی پر آئی اور اب اور اس کے نتائج، بات سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ کس نے کیا ہے اور کیسے کیا ہے؟ یہ ٹی ٹی پی تو ایک مہرا ہے جو کام ہونے سے پہلے ہی ذمہ داری بھی قبول کر لیتی ہے ۔
     
  6. ‏فروری 19، 2013 #26
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 : 219۔۔۔طبری، تاريخ الأمم والملوک، 3 : 119۔۔۔ابن کثير، البداية والنهاية، 7 : 288
    ’’پس خوارج نے حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ کو چت لٹا کر ذبح کر دیا۔ آپ کا خون پانی میں بہ گیا تو وہ آپ کی زوجہ کی طرف بڑھے۔
    انہوں نے خوارج سے کہا :
    میں عورت ہوں، کیا تم (میرے معاملے میں) اﷲ سے نہیں ڈرتے؟
    اُنہوں نے ان کا پیٹ چاک کر ڈالا اور (ہمدردی جتانے پر) قبیلہ طے کی تین خواتین کو بھی قتل کر ڈالا۔‘‘
    اس واقعے کے بعد:
    جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ نے حارث بن مُرہ العبدی کو خوارج کے پاس دریافتِ احوال کے لیے بھیجا کہ معلوم کریں کیا ماجرا ہے؟
    جب وہ خوارج کے پاس پہنچے اور حضرت عبد اﷲ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا سبب پوچھا تو خوارج نے انہیں بھی شہید کر دیا۔

    (ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 :219)​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں