1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہبہ کرتے ہوئے دادا یا نانا اپنے کسی ایک نواسے یا پوتے کو زیادہ دے دسکتا ہے؟

'ہبہ اور عطیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 13، 2014۔

  1. ‏مئی 13، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,923
    موصول شکریہ جات:
    6,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ہبہ کرتے ہوئے دادا یا نانا اپنے کسی ایک نواسے یا پوتے کو زیادہ دے دسکتا ہے؟
    میرے والد صاحب نے میرے اور ایک بہن ، اور بھائی [تین افراد] کے درمیان شریعت کے مطابق اپنی ملکیتی چیزوں کو تقسیم کردیا، اور کچھ چیزوں کو میرے بھانجے (چھ پوتا پوتی یا نواسہ نواسیوں میں سے ایک)کیلئے مختص کردیا، تو کیا دادا یا نانا سب پوتا پوتیوں اور نواسہ نواسیوں کو نظر انداز کرکے ایک کیلئے کچھ پراپرٹی مختص کرسکتا ہے؟

    الحمد للہ:

    اول:

    انسان اپنی اولاد میں عدل وانصاف کیساتھ اپنا سارا مال تقسیم کرسکتا ہے، اگرچہ افضل یہی ہے کہ ایسا نہ کرے۔

    " الإنصاف " (7/142) میں کہتے ہیں:

    "صحیح [حنبلی] مذہب کے مطابق زندہ شخص کا اپنی اولاد میں اپنا مال تقسیم کرنا مکروہ نہیں ہے، جبکہ امام احمد سے دوسری روایت کے مطابق اس عمل کو مکروہ بھی کہا گیا ہے، اور ایسے ہی "الرعایۃ الکبری" میں ہے کہ اگر تقسیم کنندہ کی زندگی ہی میں مزید اولاد کے پیدا ہونے کا امکان ہوتو اسکے لئے اپنا سارا مال تقسیم کرنا مکروہ ہے" انتہی

    ایسے ہی "فتاوى اللجنة الدائمة" (16/463) میں ہے:

    "۔۔۔ہم آپکے والد کو نصیحت کرتے ہیں کہ اپنی زندگی میں اپنا مال تقسیم نہ کرے، کیونکہ ہو سکتا ہے بعد میں اسے مال کی ضرورت پڑ سکتی ہے" انتہی

    چنانچہ اگر اس نے مال کو اپنی اولاد میں تقسیم کرنا ہی ہے، تو عدل ضروری ہے، کہ لڑکے کو لڑکی سے دوگنا دیا جائے گا۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ "الاختيارات" ( ص 184) میں کہتے ہیں:

    "اپنی اولاد کو کچھ بھی دیتے ہوئے وراثت کے مطابق عدل کرنا ضروری ہے، اور امام احمد کا یہی مذہب ہے" انتہی

    اور "فتاوى اللجنة الدائمة" ( 16/197) میں ہے کہ:

    "۔۔۔اگر آپکے والد اپنا سارا یا کچھ مال اولاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو انکے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بیٹے اور بیٹیوں سب پر شرعی وراثت کے مطابق تقسیم کرے یعنی لڑکے کو لڑکی سے دوگنا دے" انتہی

    دوم:

    جب یہ بات ثابت ہوچکی کہ والد پر اپنی اولاد کو تحائف دیتے ہوئے عدل کرنا ضروری ہے تو اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا دادا یا نانا پر بھی یہی حکم جاری ہوگا؟ یعنی دادا یا نانا اپنے پوتا پوتیوں یا نواسہ نواسیوں کو کچھ تحفہ دینا چاہے تو کیا اس پر عدل کرنا ضروری ہوگا یا نہیں؟

    اس بارے میں جمہور کی رائے یہ ہے کہ دادا اور نانا کیلئے مذکورہ عدل مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔

    چنانچہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "اگر کوئی کہنے والا کہے: کیا یہ عدل دادا یا نانا پر بھی ضروری ہوگا؟ یعنی کسی کی اولاد کی اولاد ہے، تو کیا وہ ان میں بھی عدل کرنے کا پابند ہوگا؟

    جواب: ظاہر ہے کہ واجب نہیں ہے؛ کیونکہ باپ بیٹے کے درمیان رشتہ دادا اور پوتا کے درمیان رشتہ سے کہیں مضبوط ہے، لیکن ہاں اگر قطع رحمی کا خوف ہو تو ایسی حالت میں دادا جس کو بھی دینا چاہے چھپا کردے" ماخوذ از: "الشرح الممتع"(11/84)

    چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل کے بعد ، دادا یا نانا اپنے کچھ پوتا پوتیوں یا نواسہ نواسیوں کیلئے کوئی چیز مختص کرے اور کچھ کو نہ دے تو اس میں ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں ہوگا، اگرچہ اختلاف سے بچتے ہوئے افضل یہی ہے کہ ان میں بھی عدل ہی کیا جائے۔

    اور اس میں یہ شرط بھی قابل غور ہے کہ دادا حیلہ کرتے ہوئے اپنے پوتے کو اس لئے نہ دے کہ اپنے کسی ایک بیٹے کا حصہ زیادہ کردے -

    واللہ اعلم .

    اسلام سوال وجواب ویب سائٹ

    http://islamqa.info/ur/200713
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں