1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہر بدزبان پر جنت میں داخلہ حرام ہے کیا یہ روایت حسن لغیرہ بن سکتی ہے ؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏اپریل 26، 2019۔

  1. ‏اپریل 26، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    824
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    محترم شیخ @خضر حیات حفظہ اللہ
    اس روایت کے متعلق عرض کر دیں کہ یہ روایت حسن لغیرہ بن سکتی ہے ؟

    حضرت سیدنا ابوعبدالرحمن جبلی علیہ الرحمہ نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا کہ
    "ہر بدزبان پر جنت میں داخلہ حرام ہے۔"
    [حلیۃ الاولیاء (مترجم) ج 1 ص 508 رقم 982]
    [حلیۃ الاولیاء (عربی) ج1 ص 288]
    حلیۃ الاولیاء کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے امام ابونعیم کے شیخ ابومسلم محمد بن معمر کے ان کی توثیق مجھے نہ مل سکی اگرچہ وہ ادیب ضرور ہیں۔ [تاریخ الاصبہان ج 2 ص 255 رقم 1618]
    لیکن اس روایت میں ان کی متابعت امام ابوبکر ابن ابی الدنیا نےکر رکھی ہے ۔
    [کتاب الصمت لابن ابی الدنیا ج 1 ص 183 رقم 322]
    لیکن ان کی سند میں عبداللہ بن لہیعہ ہے جس پر کافی کلام ہے لیکن عبداللہ بن لہیعہ کی متابعت حلیۃ الاولیاء [ج1 ص 288] میں امام لیث بن سعد نے کر رکھی ہے لہذا یہ روایت سنداحسن ہے۔
    واللہ اعلم

    فیس بک سے کاپی
     
  2. ‏اپریل 26، 2019 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,730
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جو صورت حال بیان کی گئی ہے، اس حساب سے تو یہ حسن لغیرہ درجہ کی حدیث ہے۔ واللہ اعلم۔
    کیونکہ ایک سند میں خفیف درجہ کی جہالت ہے، دوسرے میں ابن لہیعہ ہے، اور دونوں ضعف قابل للتقویۃ اور قابل اعتبار ہیں۔
     
  3. ‏اپریل 26، 2019 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    824
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    محترم شیخ علامہ البانی رحمہ نے اس کو ضعیف کہا ہے ۔ الضعیفة رقم 5784
    جب کہ علامہ البانی رحمہ اللہ حسن لغیرہ کے قائلین میں سے ہیں ۔
     
  4. ‏اپریل 26، 2019 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,730
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ابتسامه-
    آپ نے کہا تھا ایک دوسرے کی متابعت کی ہے، جبکہ شیخ البانی کی بات دیکھی تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں متابعت نہیں بلکہ مخالفت ہے، یعنی حدیث معلول ہے، اور اس کے رفع ووقف میں اختلاف ہے۔
     
  5. ‏اپریل 26، 2019 #5
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    824
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاکم اللہ خیرا ۔۔۔
    یعنی یہ روایت حسن لغیرہ کے درجہ تک نہیں پہنچتی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں