1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہر چیز کا حکم موجود ہے؟ سارے احکام واضح ہیں؟

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از عدیل سلفی, ‏اپریل 22، 2019۔

  1. ‏اپریل 22، 2019 #1
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,504
    موصول شکریہ جات:
    393
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    محترم شیوخ ان روایات کی صحت درکار ہے!

    عن ابي ثعلبة الخشني جرثوم بن ناشر رضي الله عنه قال ثال رسول الله صلى عليه وسلم (ان الله فرض فرائض فلا تضيعوها وحد حدودا فلا تعتدوها وحرم اشياء فلا تنتهكوها وسكت عن اشياء رحمة لكم غير نسيان فلا تبحثوا عنها

    ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا: کہ اللہ تعالی نے فرائض فرض کیے ہیں ان کو ضائع نہ کرو اور حدود مقرر فرمائے ہیں ان سے آگے مت گزرو اور کوئی چیزیں حرام کی ہیں ان کے قریب مت جاو اور بعض کے متعلق تم پر مہربانی کرتے ہوئے سکوت فرمایا ہے، اور اس کو بھول نہیں ہوئی، ان سے بحث نہ کرو۔

    شرح رياض الصالحين ج ۶ ص ۶۴۲ رقم ۱۸۳۲

    قال عمر بن الخطاب : وقد وضحت الأمور ، وسنت السنن ، ولم يترك لاحد متكلم إلا أن يضل عبد عن عمد


    حضرت عمرؓ نے فرمایاؒ سارے احکام واضح کردئیے گئے ہیں اور سنتیں مقرر کردی گئیں اور کسی ایک بولنے والے شخص کے لیے گنجائش نہیں رکھی گئی، مگر ہاں جان بوجھ کر کوئی بندہ اگر گمراہ ہو تو اور بات ہے۔

    الإحكام في أصول الأحكام ج ۸ ص ۲۸
     
  2. ‏اپریل 23، 2019 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,658
    موصول شکریہ جات:
    8,296
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    کئی ایک محدثین نے اسے حسن یعنی ’حسن لغیرہ‘ قرار دیا ہے۔ حسن لغیرہ والے مباحثے میں اس حدیث کو عقائد میں حسن لغیرہ حجت کے تحت بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔
    إحکام ابن حزم سے اس کی سند ملاحظہ کریں:
    حدثنا محمد بن سعيد بن نبات نا إسماعيل بن إسحاق البصري نا عيسىبن حبيب نا عبد الرحمن بن عبد الله بن يزيد المقرىء نا جدي محمد بن عبد الله بن يزيد نا سفيان بن عيينة عن خلف بن حوشب عن سلمة بن كهيل قال قال عمر بن الخطاب -
    اس میں سلمۃ بن کہیل اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔
    لیکن یہی اثر الفاظ کے تھوڑے اختلاف سے متصل سند سے بھی مروی ہے، ابن عبد البر لکھتے ہیں:
    أخبرنا سعيد بن نصر، ثنا قاسم بن أصبغ، ثنا محمد بن وضاح، وأحمد بن يزيد، قالا: نا موسى بن معاوية، قال: نا ابن مهدي، عن حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، " أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه لما قدم المدينة قام خطيبا فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: أيها الناس إنه قد سنت لكم السنن وفرضت لكم الفرائض وتركتم على الواضحة إلا أن تضلوا بالناس يمينا وشمالا "
    (جامع بيان العلم وفضله (2/ 1178)(2331)
    لہذا یہ اثر صحیح ہے۔
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں