1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہفتہ کی رات (اغیار کا کلچر اور موجودہ مسلمان )

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از sheikh fam, ‏فروری 08، 2019۔

  1. ‏فروری 08، 2019 #1
    sheikh fam

    sheikh fam رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 16، 2016
    پیغامات:
    39
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    اسلام وعلیکم،
    ہمارے معاشرے میں آجکل مغرب کی تقلید زیادہ پائی جاتی ہے جس میں ہفتہ کی رات سر فہرست ہے ، مثلا شادی بیاہ ،پارٹی ، ناچ گانا ودیگر تقریبات ۔ برائے مہربانی قرآن و سنت بمعہ حوالاجات سے اصلاح فرمایئے ،جزاک اللہ
     
  2. ‏فروری 10، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    اہلِ اسلام کو غیر مسلموں کی مشابہت اور تقلید سے بڑی سختی سے روکا گیا ہے ،
    کیونکہ مشابہت کرنے سے جس کی مشابہت کی جائے اُسکی تعظیم ہوتی ہے، عمومی طور پر یہ نا مناسب عادت ہے، اسی لئے شریعت نے کفار سے مشابہت کے مسئلے کو کافی اہمیت دی ، اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے ،
    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
    (مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ) رواه أبو داود (4031) وصححه الألباني في صحيح أبي داود .
    یعنی (جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اُنہی میں سے ہے) ابو داود، (4031)

    اس حدیث کے پیش نظر علمائے اسلام نے غیروں کی نقالی اور تشبیہ و تقلید کی حرمت و سنگینی کو واضح کیا ہے ،اہل اسلام کی مایہ ناز علمی شخصیت شیخ الاسلام امام احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہؒ (المتوفی 728 ھ) جو اہل اسلام پر تاتاریوں کی یلغار اور تسلط کے ماحول کا مشاہدہ رکھتے ہیں ، اس وقت مسلم تہذیب و ثقافت کو کفار کے کلچر کا سامنا تھا ،
    شیخ الاسلامؒ فرماتے ہیں:
    "وهذا الحديث أقل أحواله أن يقتضي تحريم التشبه بهم ، وإن كان ظاهره يقتضي كفر المتشبه بهم ، كما في قوله : (وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ) المائدة/51.
    فقد يحمل هذا على التشبه المطلق فإنه يوجب الكفر ، ويقتضي تحريم أبعاض ذلك ، وقد يحمل على أنه منهم في القدر المشترك الذي شابههم فيه ، فإن كان كفرا ، أو معصية ، أو شعارا لها كان حكمه كذلك . وبكل حال يقتضي تحريم التشبه" انتهى باختصار من "اقتضاء الصراط المستقيم" (1/270، 271) .

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "اس حدیث کا کم از کم یہ تقاضا ہے کہ کفار سے مشابہت حرام ہے، اگرچہ ظاہری طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان سے مشابہت رکھنے والا شخص کافر ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی میں ہے:
    (وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ) المائدة/51
    ترجمہ: جو تم میں سے انکے ساتھ دوستی رکھے گا تو وہ اُنہی میں سے ہوگا۔
    تو اس حدیث کو مطلق تشبیہ پر محمول کیا جاسکتا ہے، جو کہ کفر کا موجِب ہے، اور کم از کم اس تشبیہ کے کچھ اجزا کے حرام ہونے کا تقاضا کرتا ہے، یا اسکا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح کی مشابہت ہوگی اسی طرح کا حکم ہوگا، کفریہ کام میں مشابہت ہوگی تو کفر، گناہ کے کام میں مشابہت ہوگی تو گناہ، اور اگر ان کفار کے کسی خاص کام میں مشابہت ہوئی تو اسکا بھی حکم اُسی کام کے مطابق لگے گا، بہر حال اس حدیث کا تقاضا ہے کہ مشابہت اختیار کرنا حرام ہے۔
    انتہی مختصراً از کتاب "اقتضاء الصراط المستقيم" (1/270، 271)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور اگر آپ سمجھ سکیں تو :
    اصل معاملہ یہ ہے کہ مغرب بالخصوص پنجہ یہود نے اہل اسلام کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ان کی حالت کسی بڑی جیل میں قید ان قیدیوں جیسی ہے جنہیں سونے جاگنے اور کھانے پینے کے فطری اوقات کے بجائے جیل انتظامیہ کے مقرر کردہ اوقات اور ترتیب کی پابندی کرنا پڑتی ہو ،
    رات کی بجائے دن کو سونا پڑے ،صبح و شام اور دوپہر کی بجائے آدھی رات کو کھانا دیا جائے ،
    اور ان کاموں کیلئے جیل انتظامیہ کے مقرر کردہ اوقات کو کوئی قیدی چیلنج نہ کرسکے ۔
    بس کچھ ایسی ہی صورت حال اس وقت اہل اسلام کی ہے کہ دنیا ان کیلئے ایک جیل بن چکی ہے جس کی انتظامیہ (یعنی یہود و نصاریٰ ) اس جیل میں موجود قیدیوں کو ہر معاملہ میں اپنی خواہشات کے مطابق وقت گزارنے کا ڈھنگ اپنانے پر مجبور کرچکی ہے ،
    یہ تو تھی موجودہ صورت حال کی عکاسی
    اس صورت حال کے اسباب کیا ہیں ،یہ سمجھنا بہت ضروری ہے ،
    تو یہ بات بہت طویل اور پر پیچ ہے (زلف محبوب کی طرح )
    یہ بات قوموں کے عروج و زوال کی داستان ہے ، اور تہذیبوں کے اتار چڑھاؤ کی کہانی ہے ،
    بات صرف جمعہ ، ہفتہ کی نہیں ،بلکہ تہذیب و ثقافت کے پنپنے اور بکھرنے کی ہے ،
    جب دنیا میں اہل اسلام کا جھنڈا بلند تھا تو ایشیا ،یورپ و افریقہ سب جگہ اسلامی تہذیب و ثقافت کا رنگ و خوشبو پھیلی ہوئی تھی ،اور انسانی حواس کی اس سے شناسائی تھی ،
    اپنے پرائے سبھی اس تہذیب و ثقافت کا رنگ اپنانے پر مجبور تھے ،
    پھر جب اہل اسلام نے پسپائی اختیار کی ،تو اغیار نے ہماری تہذیب کے سب نشانوں اور رنگوں کو مٹانا شروع کردیا ،
    نتیجہ سامنے ہے اب ہم ان انداز و اطوار اپنانے پر مجبور ہیں ،
    ہفتہ کا دن یہود کے ہاں اور اتوار کادن نصاریٰ کے ہاں متبرک و اعلیٰ ہے ، ان دنوں کو انہوں نے تعطیل و تفریح اور مذہبی رسومات کیلئے مخصوص کیا ہوا ہے ،
    اس لئے ان دنوں عالمی منڈیاں بھی تعطیل کرتی ہیں ،
    لہذا مسلم ممالک کی انتظامیہ کا کہنا ہے ہمیں عالمی اوقات کار اور ایام کار کا ساتھ دیئے بغیر چارہ نہیں ،
    اور دنیا کا مالیاتی نظام اور سیاسی و انتظامی نظام چونکہ یہود و نصاری کے پنجہ میں ہے ،بالکل اس طرح جس طرح جیل انتظامیہ کے ہاتھ جیل کے انتظامی اختیارات ہوتے ہیں ،
    اس لئے اس صورت حال میں مسلم ممالک کے نمائشی حکمران اور ڈمی انتظامیہ اتوار کی تعطیل کے متعلق یہ عذر پیش کرتی ہے ۔
    ــــــــــــــــــ
    اگر میری ان گذارشات کو آپ سمجھ گئے ہونگے تو بات واضح ہے کہ :
    اصل مسئلہ صرف جمعہ ، ہفتہ کا نہیں ،بلکہ تہذیب و ثقافت کے پنپنے اور بکھرنے کی ہے ،
    اب بھی بہت سارےمسلمان چاہتے ہیں کہ :
    جمعہ کی تعطیل ہو ،اور ہفتہ کے سات ایام کا نظام کار ہماری شریعت اورتہذیب کے متصادم نہ ہو ،
    لیکن یہ خواہش نیک ہونے کے باوجود اس وقت تک محض ایک خواہش ہی رہے گی جب تک بحیثیت امت مسلمہ اپنا وجود اور حیثیت منوانے کے قابل نہیں ہوجاتے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور ملحوظ رہے کہ :
    میری ان گذارشات کو دیکھ مبادا کوئی مجھ فقیر کو "جدید خوارج " کا نمائندہ شمار کرلے ،میں وضاحت کرتا چلوں کہ میں " نہ مرجی نہ خارجی " بس ایک سیدھا سادہ کمزور و بے بس مسلمان ۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
     
    Last edited: ‏فروری 10، 2019
    • مفید مفید x 2
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 10، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    گانا ،بجانا اور رقص و سرود اسلام کی نظر میں


    گانے بجانا اور موسیقی سننا شریعت اسلامیہ میں سختی سے منع ہے۔
    لیکن امت کے اس دور زوال میں ناچ ،گانا اور رقص اب باقاعدہ عمومی دلچسپی کا فن بن چکا ،
    ان واہیات کاموں کو سیکھئے کیلئے اکیڈمیاں اور سکول قائم ہوچکے ہیں ، اور ان فنون خبیثہ کے پروڈکٹ اور مظاہر معاشرے میں وسیع پیمانے پر پھیلانے کیلئے باقاعدہ انڈسٹری ہوتی ہے ، اور حکومت اور دیگر ادارے ان فنون خبیثہ کی سرپرستی کرتے ہیں ، جدید ذرائع ابلاغ نے ان ناکارہ اور خبیث فنون کو گھر گھر اور ہر آدمی تک زبردستی پہنچایا ہے ۔ بلکہ موبائل فون نے ان خباثتوں کو ہر جیب تک پہنچادیا ہے ،
    جس کی وجہ سے ان خباثتوں کے متاثرین کی تعداد ناقابل بیان حد تک بڑھ چکی ہے ، یہاں تک کہ موبائل فون کی گھنٹی کے عنوان سے مسجدوں میں بھی یہ شیطانی آوازیں سنائی دیتی ہیں.
    اور پرانے دور کے
    میراثی اب گلوکار، ادکار،موسیقار اور فنکار بلکہ سٹار، ہیرو جیسے دل فریب مہذب ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں۔
    مردوزَن کی مخلوط محفلوں کا انعقاد عروج پر ہے۔ بڑے بڑے شادی ہال، کلب، انٹرنیشنل ہوٹل اور دیگر اہم مقامات ا ن بیہودہ کاموں کے لئے بک کر دیئے جاتے ہیں جس کے لئے بھاری معاوضے ادا کئے جاتے اور شو کے لئے خصوصی ٹکٹ جاری ہوتے ہیں۔ چست اور باریک لباس، میک اَپ سے آراستہ لڑکیاں مجرے کرتی ہیں جسے ثقافت اور کلچر کا نام دیا جاتا ہے۔عاشقانہ اَشعار، ڈانس میں مہارت، جسم کی تھرتھراہٹ اور نسوانی آواز کی نغمگی اور ڈھول باجوں اور موسیقی کی دھن میں کمال دکھانے والوں اور کمال دکھانے والیوں،جنسی جذبات کو اُبھارنے والوں کو خصوصی ایوارڈز سے نوازا جاتاہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گانا بجانا سننا حرام ہے اور شیطانی افعال میں سے ہے۔
    قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ (سورۃ لقمان 6)
    اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں ،جو اس لئے لہو الحدیث ( یعنی بیہودہ چیزیں)خریدتا ہے کہ (لوگوں کو ) بغیر علم کے اللہ کی راہ سے بہکا دے اور اس کا مذاق اڑائے ۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ "(لقمان)

    اس آیت کی تفسیر میں امام محمد بن جریر الطبریؒ (المتوفی 310 ھ) نے اپنی تفسیر (جامع البيان ) میں
    سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تفسیری قول نقل فرمایا ہے:
    عن أبي الصهباء البكري أنه سمع عبد الله بن مسعود وهو يسأل عن هذه الآية: (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِى لَهْوَ الحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ بغَيْرِ عِلْمٍ) فقال عبد الله: الغناء، والذي لا إله إلا هو، يردّدها ثلاث مرّات
    یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (ومن النّاس من یّشتری لھو الحدیث)کے بارے میں تین مرتبہ قسم کھا کر کہا کہ لہو الحدیث سے مراد گانا بجانا ہے۔
    اس طرح تفسیر طبریؒ میں مفسر قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے لہو الحدیث کی تفسیر گانا بجانا اور گانا سننا منقول ہے۔( عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِى لَهْوَ الحَدِيثِ) قال: الغناء.)
    سیدنا جابررضی اللہ عنہ، امام مجاہدؒ اور سیدنا عکرمہ جیسے جلیل القدر مفسرین نے بھی لہو الحدیث سے گانا بجانا وغیرہ ہی مراد لیا ہے۔ عن حبيب، عن مجاهد (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِى لَهْوَ الحَدِيثِ) قال: الغناء.

    اور قرآن مجید نے بہت بڑی ایک حقیقت بیان کر رکھی ہے کہ : جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو مہلت دی تو اسے کہا: وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا (سورہ بنی اسرائیل )
    یعنی انسانوں میں سے تو جسے بھی اپنی آواز سے بہکاسکتا ہے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھالا ، اور ان کے مال اور اولاد میں سے اپنا بھی حصہ لگا ، اور انھیں (جھوٹے) وعدے دے لے ،ان سے جتنے بھی وعدے شیطان کے ہوتے ہیں سب کے سب سراسر فریب ہیں ۔
    ''اور ان میں سے جس کو بھی تو بہکا سکتاہے اپنی آواز سے بہکاتا رہے۔''(بنی اسرائیل :۶۴)
    اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت سے مراد: عن ابن عباس (وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ) قال: صوته كلّ داع دعا إلى معصية الله.(تفسیر ابن جریرؒ )
    '' یعنی شیطان کی آواز سے مراد ہر وہ آدمی ہے جو اللہ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتا ہے۔''
    سیدنا مجاہد نے اس آیت کی تفسیر یہ مروی ہے کہ اس سے مراد گانا بجانا اور لہو و لعب ہے۔ (تفسیر ابنِ کثیر ٣۳/۴۰٤٠) یعنی وہ تمام آوازیں (جیسا کہ گانا بجانا، عشقیہ اشعار وغیرہ) جو اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کی طرف بلاتی ہیں، وہ اس آیت کا مصداق ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مشہور سلفی محقق و مفسر علامہ صلاح الدین یوسف سورہ لقمان کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
    سورۃ لقمان کی اس آیت میں ان بدنصیب و بدکردار لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ جو کلام الہی کے سننے سے تو اعراض کرتے ہیں۔ البتہ ساز و موسیقی، نغمہ و سرود اور گانے وغیرہ خوب شوق سے سنتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خریدنے سے مراد یہی ہے کہ آلات طرب شوق سے اپنے گھروں میں لاتے اور پھر ان سے لذت اندوز ہوتے ہیں۔ لغوالحدیث سے مراد گانا بجانا، اس کا سازوسامان اور آلات، ساز و موسیقی اور ہر وہ چیز ہے جو انسانوں کو خیر اور معروف سے غافل کر دے۔ اس میں قصے کہانیاں، افسانے ڈرامے، اور جنسی اور سنسنی خیز لٹریچر، رسالے اور بے حیائی کے پرچار اخبارات سب ہی آجاتے ہیں اور جدید ترین ایجادات ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، ویڈیو فلمیں وغیرہ بھی۔ عہد رسالت میں بعض لوگوں نے گانے بجانے والی لونڈیاں بھی اسی مقصد کے لیے خریدی تھیں کہ وہ لوگوں کا دل گانے سنا کر بہلاتی رہیں تاکہ قرآن و اسلام سے وہ دور رہیں۔ اس اعتبار سے اس میں گلو کارائیں بھی آجاتی ہیں جو آج کل فن کار، فلمی ستارہ اور ثقافتی سفیر اور پتہ نہیں کیسے کیسے مہذب خوش نما اور دل فریب ناموں سے پکاری جاتی ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بخاری شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:​
    حدثني أبو عامر أو أبو مالك الأشعري، والله ما كذبني: سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " ليكونن من أمتي أقوام، يستحلون الحر والحرير، والخمر والمعازف، ولينزلن أقوام إلى جنب علم، يروح عليهم بسارحة لهم، يأتيهم - يعني الفقير - لحاجة فيقولون: ارجع إلينا غدا، فيبيتهم الله، ويضع العلم، ويمسخ آخرين قردة وخنازير إلى يوم القيامة "
    ترجمہ :
    ابو عامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اللہ کی قسم انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہوجائیں گے جو زنا کاری ، ریشم کا پہننا ، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنالیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے ۔ چرواہے ان کے مویشی صبح وشام لائیں گے اور لے جائیں گے ۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو ( ان کی سرکشی کی وجہ سے ) ہلاک کردے گا پہاڑ کو ( ان پر ) گرادے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کردے گا ۔
    (صحیح بخاری ،کتاب الاشربۃ ،حدیث 5590 )
    وضاحت : یہ ساری برائیاں آج عام ہو رہی ہیں گانا بجانا، ریڈیو نے گھر گھر عام کردیا ہے۔ شراب نوشی عام ہے، زناکاری کی حکومتیں سرپرستی کرتی ہیں۔

    یعنی زنا ، ریشم ، شراب اور باجے گاجے جن کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے، بعض لوگ انہیں حلال سمجھیں گے۔ اور آج وہ قومیں اکثر پائی جاتی ہیں جو گانا بجانا شراب وغیرہ کوئی عیب نہیں سمجھتیں بلکہ گانے بجانے کے آلات، ٹی وی ، وی سی آر اور گانوں کی کیسٹوں کی صورت میں ان کے گھروں میں موجود ہیں بلکہ شیطانیت اس قدر ترقی کر رہی ہے کہ ڈش انٹینا کی صورت میں اس برائی کو دن رات پھیلا یا جا رہا ہے اور مسلمانان عالم کی ذلت کے سبب بھی یہی ہے کہ انہوں نے اپنی اسلامی تہذیب ترک کر کے غیر مسلموں اور ہندوؤں وغیرہ کی تہذیب و تمدن کو اپنا لیا ہے اور ان کی پیروی میں گانا بجانا اور رقص وغیرہ کو اپنا لیا ۔ اللہ تعالیٰ حرام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    موسیقی کی حرمت پر سنن ابی داود (4924 ) کی ایک روایت اور صحت

    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے شاگرد خاص سیدنا نافع رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ :
    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ مِزْمَارًا، قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ، وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَقَالَ لِي: يَا نَافِعُ! هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا، فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا.
    قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْلُؤْلُؤِيُّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.

    ترجمہ : جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بانسری کی آواز سنی تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر رکھ لیں اور اس راستے سے دور چلے گئے ۔ اور پھر مجھ سے پوچھا : اے نافع ! کیا بھلا کچھ سن رہے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں ، تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے اٹھا لیں اور کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ساتھ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا ۔
    امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا : یہ حدیث منکر ( ضعیف ) ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس روایت کے متعلق شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اور شیخ شعیب ارناؤوط رحمہ اللہ فرماتے ہیں "حسن" اور علامہ البانی رحمہ اللہ صحیح فرماتے ہیں۔
    تنبیہ : امام ابو داؤدؒ کا قول صحیح نہیں ہے یہ روایت حسن اور بقول علامہ البانی ؒ صحیح ہے،
    اس روایت کے متعلق علامہ شمس الحق عظیم آبادی نے عون المعبود میں فرمایا : ’’ وهذا سند جيد قوي ‘‘ یعنی اس کی اسناد قوی اور عمدہ ہے ‘‘‘
    اور امام ابوداود کی جرح نقل کرکے فرماتے ہیں :
    (قال أبو داود وهذا) الحديث (أنكرها) أي أنكر الرواية
    قلت ولا يعلم وجه النكارة بل إسناده قوي وليس بمخالف لرواية الثقاة

    کہ امام ابوداودؒ اس کو منکر کہتے ہیں ، لیکن منکر کہنے کا سبب اور وجہ نامعلوم ہے ، حالانکہ اس روایت کی سند بھی قوی ہے ، اور ثقہ رواۃ کی روایت کے خلاف بھی نہیں ،(تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے منکر کہا جائے )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور گانے بجانے کی حرمت پر یہ کوئی اکیلی روایت یا دلیل نہیں ، بلکہ کئی اور دلائل موجود ہیں ،
    آپ مولانا ارشاد الحق حفظہ اللہ کی یہ کتاب پڑھیں
    اسلام اور موسیقی​
    https://archive.org/details/IslamAurMosiqi

    اور یہ کتاب بھی پڑھیں :
    اسلام اور موسیقی‘‘ پر ’’اشراق‘‘ کے اعتراضات کا جائزہ
    https://archive.org/details/Islam-Aur-Moseeki-Par-Ishraq-ke-Aitrazt-ka-Jaeza

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    کئی احادیث اور اقوال سلفؒ سے ثابت ہے کہ (لهو الحديث۔۔ یعنی انسان کوذمہ داریوں سے غافل کردینے والے امور) سے مراد آلاتِ موسیقی ہیں جنکی قطعاََ اجازت نہیں ہے۔ اور بالخصوص اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے نام کو طبلے کی تھاپ پر بجانا انکی انتہائی توہیں ہے اور موسیقی کی تمام لغویات حرام ہیں سوائے دف کے ،وہ بھی مخصوص صورت میں ۔
    سنن ابن ماجہ کی حدیث ہے کہ:
    عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ، يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، يُعْزَفُ عَلَى رُءُوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ، وَالْمُغَنِّيَاتِ، يَخْسِفُ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ»
    (يعزف على رؤوسهم بالمعازف) في النهاية العزف اللعب بالمعازف وهي الدفوف وغيرها مما يضرب.
    سیدنا ابی مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، البتہ میری اُمت میں سے لوگ ضرور شراب پئیں گے اور اس کے نام کے علاوہ کوئی اور نام رکھیں گے ۔ ان کے سروں پر باجے گاجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں (گانے گائیں گی) ۔ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا ان میں سے بندر اور سور بنا دے گا۔" (ابنِ ماجہ، کتاب الفتن،حدیث نمبر :4020 )
    امام ابنِ قیم نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے اس طرح علامہ البانی نے بھی اس سلسلہ صحیحہ میں شمار کیا ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــ​
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 11، 2019 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    چھٹی کی رات شادی بیاہ وغیرہ دیگر کام کرنے میں کوئی حرج نہیں، چاہے وہ کوئی بھی دن یا رات ہو۔
    اصل بات وہی ہے، جو اسحاق سلفی صاحب نے فرمائی کہ ہمیں کافروں کے کلچر اور تہذیب و ثفاقت سے بچنا چاہیے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں