1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہمارے مصائب و آفات کس گناہ کی پاداش میں ہیں (حدیث نبوی کی روشنی میں)

'تراجم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از رانا ابوبکر, ‏فروری 22، 2012۔

  1. ‏فروری 22، 2012 #1
    رانا ابوبکر

    رانا ابوبکر ناظم خاص رکن انتظامیہ
    جگہ:
    بورے والہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2011
    پیغامات:
    2,055
    موصول شکریہ جات:
    3,032
    تمغے کے پوائنٹ:
    432

    ہمارے مصائب و آفات کس گناہ کی پاداش میں ہیں (حدیث نبوی کی روشنی میں)
    اموات کی کثرت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زنا جب عام ہوتا ہے تو گناہ کی کثرت ہوتی ہے۔
    قتل و غارت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فیصلوں میں ظلم کرنے اور جھوٹی قسم کھانے سے۔
    نت نئے امراض ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے حیائی اور آلات لہو لعب۔
    رزق کی کمی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جھوٹ، فریب، دغا بازی۔۔
    مہنگائی کا عذاب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ناپ تول میں کمی۔
    پانی کا بحران، چوری ڈکیتی۔۔۔ زکوٰۃ سے فرار اور حکام کا ظلم۔
    اختلاف و انتشار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صفیں (باجماعت نماز) درست نہ کرنے سے دلوں میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔
    دشمنوں سے مرعوبیت۔ ۔ ۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نا فرمانی، رشوت کا لین دین، خیانت سے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 22، 2012 #2
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جزاک الله خیرا
    حدیث کی دلیل بھی دے دیا کریں
     
  3. ‏فروری 22، 2012 #3
    محمد موسی

    محمد موسی رکن
    جگہ:
    یو -ایس -اے
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    493
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    اسلام علیکم ! ارشاد باری تعالی ہے """‏{ ‏ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدي الناس‏ }‏ ‏[‏الروم‏:‏ 41‏]""”خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہو گیا، اس وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائی کی“۔
    سورۃ شوری میں ارشاد ہے :وما اصابکم من مصیبہ فبما کسبت ایدیکم (شوری: ٣٠)”تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی سے ہے“۔
    اور سورہ النساء میں فرماتا ہے ""(ما اصابک من حسنة فمن اللہ وما اصابک من سیئة فمن نفسک)(سورہ النساء:آیت ۷۹)
    ایک اور جگہ پر ارشاد ہے :-" ومن یکسب اثماً فانما یکسب علے نفسہ (نساء: ١١١)”جو گناہ کماتا ہے وہ اپنی جان کے خلاف گناہ کماتا ہے“۔
    یہ اختیار انسان کو دیا ہے کہ وہ کون سی راہ اختیار کرتا ہے اپنے نفس کی یا اپنے رب کی ۔
    ارشاد باری تعالی ہے ""” انا ھدینٰا السبیل امّا شاکراً و امّا کفورا “ ( سورھٴ دھر / ۳ )
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں