1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہمارے گاؤں میں عسائیوں کا ایک ہی گھر تھا ------

'تقابل مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏ستمبر 29، 2013۔

  1. ‏ستمبر 29، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,980
    موصول شکریہ جات:
    6,509
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ہمارے گاؤں میں عسائیوں کا ایک ہی گھر تھا ------

    ہمارے گاؤں میں عسائیوں کا ایک ہی گھر تھا۔ اس گھر کی ایک ادھیڑ عمر عورت کا وقت نزاع قریب آیا تو گاؤں کے ایک معزز اور دیندار بزرگ چند نمازیوں سمیت مسجد سے ہی انکی عیادت کیلۓ تشریف لے گۓ۔ (کیونکہ دیہاتوں میں اس چیز کا ذیادہ خیال رکھا جاتا ہے) وہاں پہنچ کر اسکی حال خیر دریافت کرنے کے بعد کہا کہ بی بی: آپ نے اتنی عمر گزاری ہے، کیا آپ نہیں سمجھتیں کی اسلام ہی واحد مذہب برحق ہے جس میں دونوں جہانوں کی فلاح ہے۔

    وہ بولی تمہارا مطلب ہے میں تمہارا کلمہ پڑھ لوں؟ بزرگ کہنے لگے جی ہاں ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی آخرت سنور جاۓ۔ اور اسلیۓ بھی کہ گاؤں میں آپکا ایک ہی گھر ہے تو کلمہ پڑھ لیں اللہ پاک اسکی برکت سے پورے گاؤں پہ رحمت فرمایئں گے۔

    وہ کہنے لگی: پڑھ لیتے ہیں کلمہ مگر ہمیں کس نبی کا کلمہ پڑھاؤ گے؟ نوری کا یا بشری کا؟

    میں نے اپنی ہوش سے لیکر آج تک یہی دیکھا ہے کہ تم لوگوں نے اپنے نبی کو اختلافات کا محور ہی بناۓ رکھا ہے۔ نوری یا بشری کا اختلاف، زندہ یا فوت کا اختلاف، غیب جاننے یا نہ جاننے کا اختلاف۔ تم لوگ جب کسی ایک بات پہ متفق ہو کے آجاؤ تو پڑھ لونگی کلمہ۔

    لیکن پھر ایک مسئلہ ہوگا، کلمہ پڑھنے کے بعد آدھا گاؤں کہے گا سنی ہو جا آدھا کہے گا وھابی ہو جا، پھر میں کدھر جاؤں گی؟ تم لوگوں نے تو دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ اور جس کے پاس جتنا ٹکڑا آیا وہ پہلے تو اسے باپ دادا کا فرقہ، پھر انا کا مسئلہ بنا کر اتنے سے دین کی ہی پرستش کرتا چلا گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    خواتین و حضرات یہ تو تھے فرقہ واریت کے معاشرتی بگاڑ، اور آخرت میں خواری علیحدہ ہوگی۔

    کیونکہ آج ہم اتنا دفاع اپنے مذہب کا نہیں کر رہے جتنا اپنے اپنے فرقے کا کر رہے ہیں۔

    اللہ پاک سے ہمیشہ صراط مستقیم پہ چلنے کی توفیق مانگتے رہیۓ۔
    وہ سننے والا ہے مہربان ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 30، 2013 #2
    حق کی طرف رجوع

    حق کی طرف رجوع رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2013
    پیغامات:
    143
    موصول شکریہ جات:
    218
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    بہت عمدہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں