1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہمسایوں کا وائرلیس انٹرنیٹ کنکشن استعمال کرلینا؟

'جدید فقہی مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از غزنوی, ‏مارچ 19، 2013۔

  1. ‏مارچ 19، 2013 #1
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    ہمسایوں کا وائرلیس انٹرنیٹ کنکشن استعمال کرلینا؟


    فضیلت مآب عبد الکریم الخضیر
    اردو استفادہ: ابن علی​

    سوال:
    ہمسایوں کے وائرلیس کنکشن سے استفادہ کرنے اور اس کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے میرے پاس انٹرنٹ کا ذاتی کنکشن نہیں، ہمسایوں کے پاس وائی فائی ہے اور میں اُس سے کنکٹ کرکے انٹرنٹ پر چلاجاتا ہوں۔
    جواب:
    الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده. وبعد. شریعت میں کچھ ایسے امور موجود ہیں جن میں شریعت اس بات سے ممانعت نہیں کرتی کہ آدمی ان سے فائدہ لے لے بشرطیکہ اصل مالک کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر ان سے فائدہ لینا ممکن ہو۔ (فقہ میں) اس کی کئی مثالیں آتی ہیں۔ مثلاً آدمی کسی کی دیوار کے سائے سے فائدہ لےلیتا ہے، کیا یہاں مالک مکان کو یہ حق ہے کہ اُس آدمی کو وہاں سے اٹھا دے کہ بھئی یہ دیوار میری ہے؟ یا مثلاً اُس کے ہاں جلنے والے چراغ کی روشنی میں آدمی کوئی کام کرلیتا ہے، چراغ گھر کی دیوار کے اوپر نصب ہے تو دوسری جانب کوئی طالبعلم اس کی روشنی میں پڑھنے لگ گیا ہے، کیا مالک مکان کو شریعت یہ حق دیتی ہے کہ وہ اس کو وہاں سے بھگادے، الا یہ کہ مالک مکان کو اس سے کوئی ضرر لاحق ہوتا ہو؟ ہاں اگر کسی وجہ سے مالک کو اس سے ضرر لاحق ہوتا ہو پھر جائز نہیں۔ لہٰذا یہ انٹرنیٹ سروس اگر تو اس طریقے سے استعمال کی جاسکتی ہے کہ کسی بھی صورت میں مالک کو اس سے کوئی نقصان نہ ہورہا ہو، مثال کے طور پر اس کا بل نہ بڑھ جاتا ہو، یا اس اضافی استعمال سے اُس کو کوئی خلل لاحق نہ ہوتا ہو، تو ایسا استعمال اُسی ذمرے میں آئے گا جس میں دوسرے شخص کا ایک چیز استعمال کرنا اصل مالک پر اثرانداز نہیں ہوتا اور جس کی مثال (فقہ میں) ہمسائے کی دیوار کا سایہ لینا یا اُس کے چراغ سے روشنی پانا ہے۔ واللہ اعلم
     
  2. ‏مارچ 19، 2013 #2
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    پانی، ہوا ،روشنی ، اور سایہ چاہے وہ کسی مکان کا ہو یا درخت کا رفاہ عامہ میں داخل ہے ان سے انتفاع جائز ہے لیکن دوسرے کے وائی فائی سے انتفاع جائز نہیں اس لیے کہ اس میں کئی مضرت ہیں ایک تویہی کہ اصل مالک کی نیٹ اسپیڈ ڈاؤن ہوجائے گی اور اگر لمیٹیڈ کنکشن ہے تو مالی نقصان بھی ہوگا لیکن اس کے باوجود جو بات میرے نزدیک سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ ہے اگر کوئی اس کنکشن کو غلط استعمال کرے تو پکڑ میں اصل مالک ہی آئے گا کیوں کہ لوکیشن اصل مالک کی ہی ظاہر ہوگی اس لیے دوسرے کے کنکشن کو کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ فقط واللہ اعلم بالصواب
     
  3. ‏مارچ 19، 2013 #3
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    وعلیکم السلام
    برادر مفتی عابد صاحب آپ کی باتوں کا جواب پہلے سے ہی سوال کے جواب میں موجود ہے۔
     
  4. ‏مارچ 19، 2013 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,377
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    وائرلیس کنکشن

    السلام علیکم

    ہمارے یہاں وائرلیس کنکشن کے ساتھ یوزر نیم [SUP](براڈبینڈ نیم)[/SUP] اور پاسورڈ بھی دیا جاتا ھے اور ہو سکتا ھے باقی ممالک میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ جب تک کوئی دوسرا اس میں پاسورڈ نہیں ڈالے گا اس کا کنکشن ایکٹو نہیں ہو گا۔

    براڈ بینڈ سے جاری کردہ پاسورڈ کو اگر ختم کرنا ہو تو وہ خود سے نہیں بلکہ براڈبینڈ پروائڈر کو فون کے ذریعے اطلاع دینے سے بند کروانا پڑتا ھے جس سے پھر وہ اس کے بغیر سب کے لئے استعمال کے قابل بنتا ھے اور ایسے کنکشن ائرپورٹ، ٹرین، بسوں میں ہی کروائے جاتے ہیں مسافروں کی سہولت کے لئے۔

    جیسا کہ سوال میں لکھا گیا ھے اس سے لگتا ھے یہ پاسورڈ فری ھے۔ اسی سوال پر میرے ایک بھائی نے اوپر جواب دیا ھے اس پر مزید، جو انٹرنٹ کنکشن حاصل کرتا ھے تو وہ اس پر مزید سہولت کے لئے اس کی سپیڈ پر بھی زیادہ فیس ادا کرتا ھے تاکہ اس کے کام میں وقت ضائع نہ ہو۔ اس پر اگر کوئی ہمسایہ اسے استعمال میں لائے گا تو اس کی سپیڈ میں بھی فرق پڑے گا۔

    اسی طرح کچھ لوگوں نے جو کنکشن حاصل کیا ہوتا ھے وہ ان لیمیٹڈ نہیں بھی ہوتا بلکہ ١، ٥، ١٠، ٢٠ جی۔ بی لیمیٹڈ کنکشن لیا ہوتا ھے [SUP](اس پر بھی میرے ایک بھائی نے ذکر کیا ھے،)[/SUP] اس میں ہر جی۔ بی پر فیس کم سے کم ھے۔ اور ایسے کنکشن پر اگر کوئی یوٹیوب یا کوئی بھی ٹیوب استعمال کرے گا تو یہ ایک دن میں ختم ہو جائیں گے۔ اس لئے اس پر کوئی بی ٹیوب استعمال نہیں کرتا بلکہ اپنے کام کے مطابق ہی اسے استعمال میں لاتے ہیں جو ایک مہینہ تک کافی ہوتا ھے اس کے لئے جس نے ایسا کنکشن حاصل کیا ھے۔

    ان دونوں صورتوں میں سپیڈ کم ہونا اور جلدی ختم ہو جانا پر کنزیومر جب سپلائر سے رابطہ کرتا ھے تو وہ بتا دیتے ہیں کہ اس کنکشن پر کتنے کتنے لیپ ٹاپ چل رہے ہیں اور ان کی ونڈوز، لائسنس نمبر، اور کتنی رینج پر ہیں سب بتا دیتے ہیں، اگر کنزیومر چاہے تو انکوائری کروائے اور اگر چاہے تو اس میں پاسورڈ لگوا لے تاکہ اسے کوئی دوسرا استعمال میں نہ لا سکے۔

    وائرلیس کنکشن پر ہمسائیہ کو چاہئے کہ اگر وہ اسے اجازت دیتا ھے تو اسے استعمال میں لائے ورنہ سکیورٹی ریزن قانون سے اسے استمعال کرنا سنگین جرم ھے۔ اگر کیس ہونے پر انکوائری میں آتا ھے تو اس کا تمام ریکارڈ پروائڈر کورٹ میں پیش کرتا ھے۔

    والسلام
     
  5. ‏مارچ 20، 2013 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    قابل احترام مفتی عابد الرحمن اور محترم کنعان صاحب نے جتنی باتیں پیش کی ہیں ان سب کی وضاحت عبد الکریم خضیر صاحب کے فتوی میں موجود ہے
    ان کے فتوی کا خلاصہ یہ ہے کہ دوشرائط کے ساتھ وائی فائی کا استعمال جائز ہے :
    ١۔ مالک کو کوئی اضافی چارجز نہ آئیں ۔
    ٢۔ اس کے علاوہ مالک کا مزید کوئی نقصان نہ ہو ۔
    در حقیقت یہ ایک ہی شرط ہے کہ اصل مالک کا کوئی نقصان نہ ہوتا ہو ۔
    اب نقصان کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں
    اضافی چارجز
    محدود پیکیج کا جلدی ختم ہونا
    نیٹ کی سپیڈ وغیرہ میں خلل
    غلط استعمال کی وجہ سے اصل مالک کی پکڑ

    اگر اس طرح کا کوئی نقصان نہ ہو تو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔۔۔۔۔ اب دیوار وغیرہ کے سایہ کی مثال چسپاں کرکے دیکھیں ۔
    ایک اور بات ذہن میں رکھیں کہ یہ سب باتیں اس صورت میں ہیں کہ جب نیٹ بغیر کسی رکاوٹ ( پاسورڈ وغیرہ ) کے ہو ۔۔۔۔۔ کچھ لوگ سیکیورٹی توڑ کر ایسے کام کرتے ہیں ایسی صورت میں بالکل بھی جائز نہیں کیونکہ مالک نہیں چاہتا کہ اس کی چیز سے کوئی اور استعمال کرے ۔
     
  6. ‏مارچ 20، 2013 #6
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    أحسنتم بارك الله فيكم
    محترمی !
    طریق استدلال پر اعتراض ہے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کسی کا وائی فائی کنکشن رفاہ عامہ میں داخل ہے (حکومت یا کسی ادارہ کی جانب سے مراعات اس میں داخل نہیں) ملکیت غیر سے انتفاع بغیر اِذنِ مالک کے جائز ہی نہیں ۔
    کنکشن میں پا سورڈ وغیرہ کا ہونا خود اس بات پر دال ہے کہ یہ رفاہ عامہ میں داخل ہی نہیں ہے۔ اگر رفاہ عامہ میں داخل ہوتی تو پاس ورڈ وغیرہ کی ضرورت نہیں تھی۔ جواب میں اگر مگر کی ضرورت ہی نہیں ۔ اس کا سیدھا سا جواب یہ بنتا ہے
    ’’ بغیر اِذنِ مالک کے انٹر نیٹ کنکشن سے انتفاع جائز نہیں‘‘(اب چاہے وہ کنکشن سکیورڈ ہو یا اَنْ سکیورڈ)بہرحال اس طرح کی چیزیں رفاہ عامہ میں داخل نہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب
    تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہوں
     
  7. ‏مارچ 20، 2013 #7
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    جزاکم اللہ خیرا
    برادر خضر میں بھی مفتی صاحب کو پہلے اس طرف اشارہ کراچکا ہوں۔
     
  8. ‏مارچ 20، 2013 #8
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    وعلیکم السلام
    1۔ طریق استدلال میں کسی بھی طرح کے نقصان کو سامنے رکھتے ہوئے بات کی گئی ہے۔۔اعتراض کس بات پر ؟
    2۔نہیں
    برادر عابد پھر کیا خیال ہے ان باتوں پر۔۔
    آدمی کسی کی دیوار کے سائے سے فائدہ لےلیتا ہے، کیا یہاں مالک مکان کو یہ حق ہے کہ اُس آدمی کو وہاں سے اٹھا دے کہ بھئی یہ دیوار میری ہے؟ یا مثلاً اُس کے ہاں جلنے والے چراغ کی روشنی میں آدمی کوئی کام کرلیتا ہے، چراغ گھر کی دیوار کے اوپر نصب ہے تو دوسری جانب کوئی طالبعلم اس کی روشنی میں پڑھنے لگ گیا ہے، کیا مالک مکان کو شریعت یہ حق دیتی ہے کہ وہ اس کو وہاں سے بھگادے، الا یہ کہ مالک مکان کو اس سے کوئی ضرر لاحق ہوتا ہو؟ ہاں اگر کسی وجہ سے مالک کو اس سے ضرر لاحق ہوتا ہو پھر جائز نہیں۔
    اگر مطلق طور ملکیت غیر سے انتفاع بغیر کسی مالک کو نقصان کے منع کردیا جائے، تو بہت سارا خلل پیدا ہوجائے گا۔۔
    خارج از موضوع
    گھر کا سایہ، روشنی، و اس قبیل سے دیگر اشیاء رفاہ عامہ میں داخل ہیں ؟
    غیر کی چیز سے ہر صورت میں اور ہر طرح کا انتفاع جائز ہے (واللہ اعلم ) مگر ایک شرط کے ساتھ
    کسی بھی وجہ سے مالک کو اس انتفاع سے ضرر لاحق نہ ہوتا ہو۔
     
  9. ‏مارچ 20، 2013 #9
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    محترم
    دیوار ،درخت، کا سایہ پانی ،ہوا، آگ،روشنی،بیشک رفاہ عامہ میں داخل ہیں اور ان سے انتفاع جائز ہے
    لیکن ملکیت غیر میں تصرف کہاں جائز ہوسکتا ہے اور آپ کا یہ فرمانا
    میرے علم میں یہ نیا اضافہ ہے
    لیکن حضرت بغیر اجازت مالک ملکیت غیر میں کیسے تصرف کرسکتے ہیں ؟ میری سمجھ سے بالا تر ہے آپ اس کو جائز سمجھتے ہوں تو ٹھیک ہے میں تو مناسب نہیں سمجھتا۔ فقط واللہ اعلم بالصواب
     
  10. ‏مارچ 20، 2013 #10
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    وعلیکم السلام
    آپ مجھے بتائیں کہ دیوار ،درخت، کا سایہ پانی ،ہوا، آگ،روشنی،بیشک رفاہ عامہ میں داخل ہیں۔ اگر ان کے استعمال سے مالک کونقصان پہنچتا ہو۔ تب بھی یہ رفاہ عامہ میں ہی رہیں گی۔ یا ان کی ہیئت تبدیل ہوجائے گی۔؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں