1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہم نماز میں رفع الیدین کیوں کرتے ہیں !!!

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 14، 2015۔

  1. ‏اکتوبر 27، 2019 #111
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    249
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    لفظ نفی غلط لکھا گیا اصل ترک یا ممانعت لکھنا تھا۔
    اس تصحیح کے ساتھ جواب مرحمت فرما دیں کہ کیا کسی حدیث میں مذکورہ جگہوں کی رفع الیدین کا ترک یا ممانعت ثابت ہے؟
    نہیں کرتے تھے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے نہیں کرتے تھے پھر کرنے لگے جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔
     
  2. ‏اکتوبر 27، 2019 #112
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    249
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ چاروں فقہاء میں سے کوئی بھی اس رفع الیدین کا قائل نہیں جسے خود کو اہلحدیث کہلانے والوں نے کرنا شروع کردیا۔
    کیا چاروں میں سے کسی تک وہ حدیث نا پہنچ سکی جس پر موجودہ دور کے اہلحدیث عمل کرتے ہیں یعنی تیسری رکعت کی رفع الیدین۔
     
  3. ‏اکتوبر 27، 2019 #113
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    یا الہی خیر ، اب لوگ مثال اور ضرب المثال بھی سمجھ نہیں سکتے !
    معانی سمجھے بغیر ہی الزام وارد؟
    وہ تو خیر سے اردو زبان میں لکھا ھوا ھے اگرچہ عربی ھوتا تب؟
    امید تو نہیں پھر بھی عبد الخبیر سلفی کا مراسلہ دوبارہ پڑھا جائیگا اور ھوسکتا ھے سمجھا بھی جائیگا ۔
    شاید نظر نہیں آیا ہو کہ دونوں جگہ مذکورہ مراسلہ میں "حدیث" لکھا ھوا ھے۔

    قاری
     
  4. ‏اکتوبر 27، 2019 #114
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    249
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    خبر اور ممانعت میں فرق

    خبر یہ ہے کہ کسی نے کوئی بات دیکھی اس کو بیان کر دیا۔
    ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ کسی عمل سے منع کیا گیا۔
    اگر اس سے اختلاف ہے تو بتائیں۔
     
  5. ‏اکتوبر 27، 2019 #115
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    148
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    محترم میں نے آپ سے کہا تھا آپ اصول حدیث کا مطالعہ کریں آپ کے سارے اشکال ختم ہو جائیں گے اگر شرط ملحوظ خاطر رہے
    چلئے ایک مثال سے بات کو سمجھتے ہیں آپ نے کہا
    ملون عبارت ہمارے اوپر جھوٹ ہے جو ہم نے کہی ہی نہیں ہے جبکہ آپ ہم عصر بھی ہیں اور جھوٹ گڑھ کر ہماری طرف منسوب بھی کر رہے ہیں رہی بات اس فرق کی جس سے ہمیں انجان سمجھ رہے ہیں وہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے اگر نہیں معلوم تو آپ ہی کو نہیں معلوم، ایک بات اور آپ جو مشورہ قارئین کو دے رہے ہیں اس کی ضرورت آپ زیادہ ہے
     
  6. ‏اکتوبر 27، 2019 #116
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    148
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    چلئے محترم آپ نے اپنی غلطی کا اعتراف تو کیا لیکن یہ کیسا اعتراف جو پکڑے جانے پر کیا جا رہا ہے ورنہ اب سے پہلے تک تو بڑے وثوق سے ہم پر جہالت کا الزام لگا رہے تھے؟ اور جو مطلب نہیں کرتے تھے کا آپ نکال رہے ہیں وہ کسی معتبر حنفی عالم سے ثابت کریں، یاد رکھیں ہو سکنے کو بہت کچھ ہو سکتا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے جو ترتیب آپ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں معاملہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے ہو سکنے کو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس ترک کو ابھی آپ خبر سے خارج کر رہے ہیں اگلی پوسٹ میں اس کو خبر کہنے لگیں، اس لئے بات دلیل سے کریں اٹکل نا ہانکیں ہمیں معلوم ہے آپ اہل الرأي ہیں اور اٹکل میں آپ کو ید طولیٰ حاصل ہے
     
  7. ‏اکتوبر 27، 2019 #117
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ۔۔۔ اور اسی موضوع پر اسی انداز میں اسی فورم کے اوراق بھی بھرے پڑے ہیں ۔
    اسی ، اسی کی تکرار کیلیئے معذرت لیکن میں بھی ان مواضیع کی تکرار سے خوش ھرگز نہیں۔
    یا دلائل ایسے ہوں کہ غور و فکر کی ضرورت محسوس ھو یا تو اس تکرار کی کوئی افادیت ہی سمجھا دے۔ مزید جواب دو ، جواب دو کے طلبگار کو کسطرح سمجھایا جاسکتا ہے کہ اسے سمجھ نہیں آنی ۔
    ھاں آ سکتی ھے علم حدیث کسی استاد کی نگرانی میں حاصل کرنے سے اور مستند و معتبر کتابوں کے مطالعے سے۔ خوف یہ بھی ھے کہ علم حدیث اور مستند و معتبر کتب کے مطالعے کرنے کے مطالبہ کو اہلحدیث "بنانے" کا الزام مجھ پر نہ تھوپ دیا جائے کیونکہ صحیح علم رہنمائی کرتا ھے اور حق قبول کر لینے کی جرات فراہم کرتا ھے ۔
     
  8. ‏اکتوبر 27، 2019 #118
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    148
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    یہ سب سے اہم بات آپ جیسے نرے مقلدوں کے یہاں اہم ہو تو ہو ورنہ اس کی ذرا برابر بھی اہمیت نہیں ہے، حدیث رسول کے مقابلے میں کسی کی بات کی کوئی اہمیت نہیں البتہ کچھ حوالے پیش خدمت ہیں جن سے معلوم ہوگا اہل حدیث ہی نہیں بلکہ بقول مقلدین بعض خوش نصیب مقلدین بھی ہیں جو اس سنت نبوی پر عمل کرتے رہے ہیں اور ہاں اب یہ آپس میں ہی طے کر لو ائمہ اربعہ کو یہ حدیث ملی تھی یا نہیں
    قال النووي رحمه الله :

    "المشهور من نصوص الشافعي رحمه الله تعالى في كتبه , وهو المشهور في المذهب , وبه قال أكثر الأصحاب : أنه لا يرفع إلا في تكبيرة الإحرام , وفي الركوع والرفع منه .

    وقال آخرون من أصحابنا : يستحب الرفع إذا قام من التشهد الأول , وهذا هو الصواب . وممن قال به من أصحابنا : ابن المنذر ، وأبو علي الطبري ، وأبو بكر البيهقي ، وصاحب التهذيب فيه ، وفي شرح السنة ، وغيرهم , وهو مذهب البخاري وغيره من المحدثين" انتهى.

    "المجموع" (3/425-426) .

    وقال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله :

    "يسن رفع اليدين إذا قام المصلي من التشهد الأول إلى الثالثة , وهو رواية عن الإمام أحمد , اختارها أبو البركات" انتهى .

    "الفتاوى الكبرى" (5/336) .
     
  9. ‏اکتوبر 30، 2019 #119
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    249
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    اصول حدیث کس نے بتائے؟
    کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا کہ کسی امتی نے؟


    مذکورہ روایت کا عربی متن و حوالہ درکار ہے۔
     
  10. ‏اکتوبر 30، 2019 #120
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    148
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    سؤال ہی کرتے رہو گے یا کچھ جواب بھی دو گے؟ پہلے مطالعہ کرو دوران مطالعہ یہ بھی معلوم ہو جائے گا ویسے بھی اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ آپ کے پاس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھا کچھ ہے ہی کہاں؟ جو بھی کچھ رسول کا لکھا یا کہا ہے محدثین کی محنتوں کا ثمرہ ہے
    آپ کو حنفی کتابوں کی بھی خبر نہیں، جس حدیث کی بنیاد پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو سراج امت کہتے ہو اس کی تمام اسناد اور متون پیش فرما دو پھر ہم بھی اس کی عربی عبارت اور حوالہ دے دینگے إن شاء اللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں