• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہم نماز میں رفع الیدین کیوں کرتے ہیں !!!

شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
تعصب اور غصہ کی حالت میں بات سمجھ نہیں آیا کرتی۔
اس کا ثبوت خود تمہاری ہی تحریر سے؛

احادیث کا انکار کرنا اور اس کی دور از کار تاویلیں کرنا امام کرخی کا سکھایا ہوا گر ہے جس کو آپ جیسے مقلد بخوبی ادا کر رہے ہیں اب آپ کی پیش کی گئی ان دونوں حدیثوں کو ہی دیکھ لو حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی وضاحت آپ کو ترمذی میں تو نظر آ گئی لیکن مسلم شریف میں نظر نہیں آئی جو اسی حدیث کے فوراً بعد انہیں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا : بِأَيْدِينَا السَّلَامُ عَلَيْكُمُ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ، وَلَا يُومِئْ بِيَدِهِ ".
میں نے جو روعایت لکھی اس کو بغور دیکھ لیں؛
صحيح مسلم:
جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ»

اور آپ نے جو روایت لکھی اس کو بھی بغور دیکھ لیں؛​
جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا : بِأَيْدِينَا السَّلَامُ عَلَيْكُمُ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ، وَلَا يُومِئْ بِيَدِهِ ".
محترم یہ دونوں احادیث دو مختلف مواقع اور عمل کی ہیں جس کا ثبوت خود احادیث کے الفاظ میں موجود ہے۔
ایک انفرادی نماز ہے جس میں صحابہ کرام کو رفع الیدین کرتے دیکھ کر اس سے منع کیا۔
دوسری میں سلام کے وقت سلام کے ساتھ ہاتھ کے اشارہ سے منع کیا گیا۔
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
محترم یقیناً وہ وتر اور عیدین کی نماز نہیں تھی لیکن وہ فرض اور جمعہ کی نماز بھی نہیں تھی تو کیا آپ اپنی اس بودی دلیل کی بنیاد پر فرض اور جمعہ کی نماز میں رفع یدین کروگے؟ اگر نہیں کروگے تو اپنی اس دور از کار تاویلات پر نظرثانی کر لیجیے!
انفرادی نماز اسی طریقہ پر ادا کی جاتی ہے جس طریقہ پر فرض نماز یا جمعہ۔
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
احادیث سے روگردانی کے لئے کتنے جتن کیئے جارہے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو (جو انفردی نماز پڑھ رہے تھے) رفع الیدین سے منع کیا۔
کبھی کہتے ہو اس میں رکوع کا ذکر نہیں، کبھی کہتے ہو کہ فلاں نماز کو اس سے کیوں استثناء فلاں کو کیوں؟
تأویلات کون کر رہا ہے؟
کبھی اصول کرخی کا رونا روتے ہو کبھی دو مختلف احادیث کو بلا دلیل ایک ثابت کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہو۔
یہ سب کیا ہے؟
 
شمولیت
مئی 27، 2016
پیغامات
256
ری ایکشن اسکور
75
پوائنٹ
85
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
حدیث کی سمجھ فقہاء ہی کی معتبر ہے؛
سنن أبي داود: حدیث صحیح
زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا، فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ»

صحيح ابن حبان :
وأما زيادة الألفاظ في الروايات فإنا لا نقبل شيئا منها إلا عن من كان الغالب عليه الفقه حتى يعلم أنه كان يروي الشيء ويعلمه حتى لا يشك فيه أنه أزاله عن سننه أو غيّره عن معناه أم لا لأن أصحاب الحديث الغالب عليهم حفظ الأسامي والأسانيد دون المتون والفقهاء الغالب عليهم حفظ المتون وأحكامها وأداؤها بالمعنى دون حفظ الأسانيد وأسماء المحدثين فإذا رفع محدث خبرا وكان الغالب عليه الفقه لم أقبل رفعه إلا من كتابه لأنه لا يعلم المسند من المرسل ولا الموقوف من المنقطع وإنما همته إحكام المتن فقط وكذلك لا أقبل عن صاحب حديث حافظ متقن أتى بزيادة لفظة في الخبر لأن الغالب عليه إحكام إحكام الإسناد وحفظ الأسامي والإغضاء عن المتون وما فيها من الألفاظ إلا من كتابه هذا هو الاحتياط في قبول الزيادات في الألفاظ
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
سنن الترمذي :
وَكَذَلِكَ قَالَ الفُقَهَاءُ وَهُمْ أَعْلَمُ بِمَعَانِي الحَدِيثِ
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
کونسے فقہاء کی معتبر ہے سمجھ؟ اہل رائے یا اہل حدیث؟
ایک اہلحدیث نے کہا؛
سنن الترمذي :
وَكَذَلِكَ قَالَ الفُقَهَاءُ وَهُمْ أَعْلَمُ بِمَعَانِي الحَدِيثِ
اب آپ اگر سمجھدار ہیں تو سمجھ جانا چاہیئے کہ جو اہل ہوگا رائے کا اسی کا فہم معتبر ہوگا نا کہ اہلحدیث کا۔
ہاں اگر کوئی اہلحدیث (جیسے احمد بن حنبل رحمہ اللہ) اہل الرائے بھی ہے تو الگ بات ہے۔

ہاں اہلحدیث قابل احترام ہے کہ اس نے وہ حدیث (بفرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم) فقہاء تک پہنچائی۔
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نا اہل کو دین میں رائے دینے سے منع کیا ہے۔
 
شمولیت
اگست 28، 2018
پیغامات
200
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
90
تعصب اور غصہ کی حالت میں بات سمجھ نہیں آیا کرتی۔
اس کا ثبوت خود تمہاری ہی تحریر سے۔
یقیناً محترم تعصب اور غصہ کی حالت میں بات سمجھ میں نہیں آیا کرتی ، جس کا ثبوت آپ کی یہ پوسٹ ہے آپ نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے جو دور از کار تاویل کی ہے کاش اس کا عشر عشیر حدیث کا معنی سمجھنے میں لگا دیتے تو بات سمجھ میں آ جاتی! لیکن آپ ٹھہرے مقلد آپ کو سمجھ سے کیا مطلب؟ پہلے تو میں بقول آپ کے آپ کے مقلد بھائی کا قول پیش کردوں جو میری بات کی تائید اور آپ کی تاویل کی پول کھول رہا ہے،
امام نووی رحمہ اللہ اسی حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں جس کو آپ نے پیش کیا ہے والمراد بالرفع المنهي عنه هنا: رفعهم أيديهم عند السلام مشيرين إلى السلام من الجانبين كما صرح به في الرواية الثانية. اس شرح کی روشنی میں آپ کی تاویل باطل ٹھہرتی ہے، اس کے بعد بھی میں اس حنفی مجتہد کا نام ضرور جاننا چاہوں گا جس نے مسلم شریف میں موجود ان دونوں احادیث کو دو الگ الگ واقعات پر محمول کیا ہے؟
محترم جن کو باطل تاویلات کی لت لگ جاتی ہے ان کو محدثین کی فہم سمجھ نہیں آتی اگر آپ امام مسلم رحمہ اللہ کے حدیث کے بیان کرنے کے انداز پر غور کر لیتے تو بھی بات سمجھ میں آ جاتی لیکن وہ مقلد ہی کیا جو سمجھ جائے؟ امام مسلم کا عام طریقہ یہی ہے کہ وہ پہلے مختصر روایت بیان کرتے ہیں پھر اس کے اجمال کو ختم کرنے کے لئے مفصّل روایات بیان کرتے ہیں اور یہی طریقہ انہوں نے یہاں اپنایا ہے جس کو آپ دو واقعہ بتا کر اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ آپ نے دونوں حدیثوں میں سے کسی بھی حدیث کو نہیں سمجھا ہے اس کو سمجھانے کے لئے آپ سے کچھ سوالات ہیں ان کے جواب ملنے کی امید تو نہیں پھر بھی ہو سکتا ہے آپ کے ہم نواؤں میں سے کوئی غور کرکے سمجھ جائے!
آپ نے جو حدیث پیش کی ہے اس پر سوال ہے کہ حدیث میں (خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ) کی وضاحت حدیث کی روشنی میں فرما دیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں سے نکلے تھے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ حدیث میں ایک خاص رفع الیدین سے منع کیا گیا ہے اور وہ ہے كأنها أذناب خيل شمس کیا آپ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین ایسے ہی کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو رفع الیدین عند مواضع ثلاثہ اس حدیث سے ممنوع کیوں کر ہو گیا؟ جبکہ تحریمہ اور دیگر رفع الیدین کی کیفیت میں کوئی فرق نہیں؟ اگر آپ کا رفع الیدین أذناب خیل شمس کی مانند ہے تو پھر اس حدیث کی بنیاد پر تحریمہ والا ممنوع کیوں نہیں دلیل سے واضح کریں؟ اور رہی دوسری حدیث کی تو آپ کی بات سے بظاہر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ آپ اس کو جماعت کا واقعہ مان رہے ہیں اگر بات ایسے ہی ہے تو اس پر سوال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ اٹھانے کا علم کیسے ہوا؟ جبکہ امام ہونے کی حیثیت سے آپ تو آگے ہی ہوں گے؟ جو بھی بات کہیں دلیل سے واضح کریں
 
Top