1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہم کس کی مانیں محدث فورم کے احادیث کے مجموعہ کی یا کفایت الله صاحب کی

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از وجاہت, ‏فروری 02، 2017۔

  1. ‏فروری 02، 2017 #21
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    بات کچھ سمجھ نہیں آئی !
    آپ کا خطاب کس سے ہے، اور کیا ہے؟
     
  2. ‏فروری 03، 2017 #22
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    22
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    انتہائی معذرت کے ساتھ کہ اس روایت کو هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِم میں انقطاع کی وجہ سے ضعیف کہا جا رہا تھا میں نے اس کی ایک اور سند نقل کی ہے جس سے اس روایت کا کم از کم حسن ہونا ثابت ہے میرا مدعا صرف یہ ہے کہ کسی بھی روایت جس میں اگر کسی صحابی رسول کا نام آجائے اس کو فورا ضعیف کہ کر رد نہ کر دیا جائے بلکہ کم از کم اس کی دیگر اسناد کی تلاش ہی کر لی جائے اور اس کی کوئی احسن تاویل کی جا سکتی ہے تو کی جائے وگرنہ اس سے صرف نظر کرلیا جائے اور واللہ اعلم کہہ دیا جائے لیکن اس کو ضعیف کہہ کر علم حدیث کو بدنام نہ کیا جائے کہ معترضین یہ نہ کہیں کہ اس فن کے ماہر(اہل حدیث) صرف وہی احادیث صحیح مانتے ہیں جو ان کے مطابق ہے باقی کو ضعیف کر دیتے ہیں میرا اشارہ اس جانب ہے دوبارہ انتہائی معذرت کے ساتھ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 03، 2017 #23
    غازی

    غازی رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 24، 2013
    پیغامات:
    113
    موصول شکریہ جات:
    170
    تمغے کے پوائنٹ:
    76



    دونوں روایت میں کوئی فرق نہیں د کھ رہا آپ کو ۔


    لَمَّا قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْكُوفَةَ أَقَامَ مُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ خُطَبَاءَ يَتَنَاوَلُونَ عَلِيًّا

    فَأَخَذَ بِيَدِي سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ: «أَلَا تَرَى هَذَا الظَّالِمَ الَّذِي يَأْمُرُ بِلَعْنِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

    ان دونوں باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ مغیرۃ رضی اللہ عنہ نے ایسے خطیب متعین کررکھے تھے

    اوران کے حکم سے علی رضی اللہ عنہ کی گالی دی جاتی تھی ۔

    کیا یہی دونوں باتیں مسند احمد والی روایت میں بھی ہیں ؟
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 03، 2017 #24
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45


    کیا آپ کا اشارہ مسند احمد کی اس حدیث کی طرف ہے


    حضرت سعید بن زید بن عمروبن نفیل رضی اللہ عنہ کی مرویات

    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَكْبَرِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ يُدْعَى سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ فَحَيَّاهُ الْمُغِيرَةُ وَأَجْلَسَهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ عَلَى السَّرِيرِ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِفَاسْتَقْبَلَ الْمُغِيرَةَ فَسَبَّ وَسَبَّ فَقَالَ مَنْ يَسُبُّ هَذَا يَا مُغِيرَةُ قَالَ يَسُبُّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ ثَلَاثًا أَلَا أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ فَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرْوِي عَنْهُ كَذِبًا يَسْأَلُنِي عَنْهُ إِذَا لَقِيتُهُ أَنَّهُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ وَتَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ لَسَمَّيْتُهُ قَالَ فَضَجَّ أَهْلُ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُونَهُ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ مَنْ التَّاسِعُ قَالَ نَاشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ وَاللَّهِ الْعَظِيمِ أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَاشِرُ ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ يَمِينًا قَالَ وَاللَّهِ لَمَشْهَدٌ شَهِدَهُ رَجُلٌ يُغَبِّرُ فِيهِ وَجْهَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَام


    ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوفہ کی جامع مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ان کے دائیں بائیں اہل کوفہ بیٹھے ہوئے تھے، اتنی دیر میں حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ آگئے، حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا اور چارپائی کی پائنتی کے پاس انہیں بٹھا لیا، کچھ دیر کے بعد ایک کوفی حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر کھڑا ہوا اور کسی کو گالیاں دینے لگا، انہوں نے پوچھا مغیرہ! یہ کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے کہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو، انہوں نے تین مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو ان کا نام لے کر پکارا اور فرمایا آپ کی موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو برا بھلا کہا جارہا ہے اور آپ لوگوں کو منع نہیں کر رہے اور نہ اپنی مجلس کو تبدیل کر رہے ہیں؟ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ میرے کانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے اور میں ان سے کوئی جھوٹی بات روایت نہیں کرتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو بکر جنت میں ہوں گے، عمر، علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن مالک رضی اللہ عنہم اور ایک نواں مسلمان بھی جنت میں ہوگا، جس کا نام اگر میں بتانا چاہتا تو بتا سکتا ہوں ۔ اہل مسجد نے بآواز بلند انہیں قسم دے کر پوچھا کہ اے صحابی رسول! وہ نواں آدمی کون ہے؟ فرمایا تم مجھے اللہ کی قسم دے رہے ہو، اللہ کا نام بہت بڑا ہے، وہ نواں آدمی میں ہی ہوں اور دسویں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اس کے بعد وہ دائیں طرف چلے گئے اور فرمایا کہ بخدا! وہ ایک غزوہ جس میں کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا اور اس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہوا، وہ تمہارے ہر عمل سے افضل ہے اگرچہ تمہیں عمر نوح ہی مل جائے۔





     
  5. ‏فروری 03، 2017 #25
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اس کا ترجمہ وجاہت صاحب نے نقل کیا ہے:
    میرے بھائی! آپ کا یوزر آئی دی مجھے بہت پسند ہے، مگر اس آئی ڈی کا لحاظ رکھا جائے!
    آپ دونوں روایت کا موقف حصہ دیکھیں! کیا وہ دونوں ایک ہی ہے، آپ کی پیش کردہ مسند احمد کی هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِم والی روایت کا مؤقوف حصہ تو والی روایت کے مؤقف حصہ کے بلکل الگ ہی نہیں بلکہ خلاف ہے!
    لہٰذا یہ مؤقوف روایت حسن نہیں ہوتی بلکہ اس کا ضعف مزید واضح ہوجاتا ہے۔
    دیکھیں سنن ابو داود اور سنن کبری نسائی کی جس روایت کے موقوف حصہ کو ہم ضعیف کہہ رہے ہیں وہ کیا ہے:
    اور سنن نسائی کبری میں:
    مسند احمد کی روایت سنن ابو داود میں بھی موجود ہے:
    حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ فُلَانٍ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ، فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَرَحَّبَ بِهِ وَحَيَّاهُ، وَأَقْعَدَهُ عِنْدَ رِجْلِهِ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ: قَيْسُ بْنُ عَلْقَمَةَ-، فَاسْتَقْبَلَهُ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ سَعِيدٌ: مَنْ يَسُبُّ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: يَسُبُّ عَلِيًّا، قَالَ: أَلَا أَرَى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ! ثُمَّ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ! أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ- وَإِنِّي لَغَنِيٌّ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ، فَيَسْأَلَنِي عَنْهُ غَدًا إِذَا لَقِيتُهُ-:- >أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ<... وَسَاقَ مَعْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ, خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ.
    ریاح بن حارث کا بیان ہے کہ میں کوفہ کی مسجد میں فلاں کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ ( اشارہ ہے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف ) اور ان کے پاس اہل کوفہ کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ تو سیدنا سعید بن زبیر بن عمرہ بن نفیل رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔ پس انہوں ( مغیرہ ) نے انکو مرحبا کہا اور خوش آمدید کہا اور پھر انہیں اپنی چارپائی کی پائنتی کی طرف بٹھا لیا ۔ پھر اہل کوفہ میں سے ایک شخص آیا جس کا نام قیس بن علقمہ تھا ۔ انہوں نے اس کا بھی استقبال کیا ۔ پھر اس نے بدگوئی کی اور بدگوئی کی ۔ سعید نے پوچھا یہ کسے گالیاں دے رہا ہے ؟ کہا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ۔ تو سعید نے کہا : ( تعجب ہے ) میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سامنے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے اور آپ ہیں کہ اسے ٹوکتے ہی نہیں اور نہ سمجھاتے ہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ، اور مجھے کوئی ایسی نہیں پڑی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی بات کہہ دوں جو آپ نے نہ کہی ہو پھر کل جب آپ سے میری ملاقات ہو اور وہ مجھ سے پوچھ لیں ” ابوبکر جنت میں ہے ، عمر جنت میں ہے ۔ “ اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا ۔ پھر کہا ان میں سے کسی ایک کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( جہاد میں ) حاضر رہنا اور اس کے چہرے کا غبار آلود ہو جانا تمہاری ساری زندگی کے اعمال سے کہیں بہتر ہے خواہ تمہیں سیدنا نوح علیہ السلام کی زندگی ہی کیوں نہ مل جائے ۔
    سنن أبي داؤد: كِتَابُ السُّنَّةِ »» بَابٌ فِي الْخُلَفَاءِ
    تو میرے بھائی! آپ کی پیش کردہ روایت سے ہمارا مؤقف ہی ثابت ہوتا ہے کہ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِم والی روایت کا موقوف حصہ ضعیف ہے۔اور اس کی صریح طور دلیل تو امام نسائی نے ہی اس روایت کو نقل کرنے بعد بیان بھی کی ہے۔ جو ہن نے پیش کردی ہے۔
    ایک نکتہ یہ بھی دیکھیں، کہ امام نسائی نے اسی روایت کو تین بار نقل کیا ہے، پہلے دو بار اس بات کی صراحت کرتے ہوئے کہ ہ''هلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم سے نہیں سنا'' لیکن مرزا جہلمی نے پہلے کی والی جگہ سے اس روایت کو نقل نہیں کیا جبکہ وہ کتاب میں دو تین صفحات پہلے ہی ہے، بلکہ تیسری جگہ سے نقل کیا ، کہ جب امام نسائی نے دو بار یہ بیان کرنے کے بعد تیسری بار اس کی حاجت نہیں سمجھی!
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 327 السنن الكبرى للنسائي - أحمد بن شعيب النسائي - مؤسسة الرسالة

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 332 السنن الكبرى للنسائي - أحمد بن شعيب النسائي - مؤسسة الرسالة
     
    Last edited: ‏فروری 04، 2017
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 03، 2017 #26
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    22
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    میں نے یہی چاہتا ہوں کے ایسا ہی ہو مگر ایسا ہے نہیں
    فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِيرَةَ
    یہ کوفہ آنے والا کون تھا یہ عبداللہ بن ظالم والی روایت سے واضح ہوتا ہے
    لَمَّا قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْكُوفَةَ
     
  7. ‏فروری 03، 2017 #27
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    بھائی! اللہ کا واسطہ ہے! اپنی اٹکل پر اتنا زور نہ دیں!
    آپ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو کوفی بنا دیا!
    کم از کم سنن ابو داود والی روایت ہی دیکھ لیتے، جو ہم نے نقل کی:
    مسند احمد کی روایت سنن ابو داود میں بھی موجود ہے:
    حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ فُلَانٍ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ، فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَرَحَّبَ بِهِ وَحَيَّاهُ، وَأَقْعَدَهُ عِنْدَ رِجْلِهِ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ: قَيْسُ بْنُ عَلْقَمَةَ-، فَاسْتَقْبَلَهُ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ سَعِيدٌ: مَنْ يَسُبُّ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: يَسُبُّ عَلِيًّا، قَالَ: أَلَا أَرَى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ! ثُمَّ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ! أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ- وَإِنِّي لَغَنِيٌّ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ، فَيَسْأَلَنِي عَنْهُ غَدًا إِذَا لَقِيتُهُ-:- >أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ<... وَسَاقَ مَعْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ, خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ.
    ریاح بن حارث کا بیان ہے کہ میں کوفہ کی مسجد میں فلاں کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ ( اشارہ ہے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف ) اور ان کے پاس اہل کوفہ کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ تو سیدنا سعید بن زبیر بن عمرہ بن نفیل رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔ پس انہوں ( مغیرہ ) نے انکو مرحبا کہا اور خوش آمدید کہا اور پھر انہیں اپنی چارپائی کی پائنتی کی طرف بٹھا لیا ۔ پھر اہل کوفہ میں سے ایک شخص آیا جس کا نام قیس بن علقمہ تھا ۔ انہوں نے اس کا بھی استقبال کیا ۔ پھر اس نے بدگوئی کی اور بدگوئی کی ۔ سعید نے پوچھا یہ کسے گالیاں دے رہا ہے ؟ کہا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ۔ تو سعید نے کہا : ( تعجب ہے ) میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سامنے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے اور آپ ہیں کہ اسے ٹوکتے ہی نہیں اور نہ سمجھاتے ہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ، اور مجھے کوئی ایسی نہیں پڑی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی بات کہہ دوں جو آپ نے نہ کہی ہو پھر کل جب آپ سے میری ملاقات ہو اور وہ مجھ سے پوچھ لیں ” ابوبکر جنت میں ہے ، عمر جنت میں ہے ۔ “ اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا ۔ پھر کہا ان میں سے کسی ایک کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( جہاد میں ) حاضر رہنا اور اس کے چہرے کا غبار آلود ہو جانا تمہاری ساری زندگی کے اعمال سے کہیں بہتر ہے خواہ تمہیں سیدنا نوح علیہ السلام کی زندگی ہی کیوں نہ مل جائے ۔
    سنن أبي داؤد: كِتَابُ السُّنَّةِ »» بَابٌ فِي الْخُلَفَاءِ
     
    Last edited: ‏فروری 03، 2017
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 03، 2017 #28
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    آپ کا مدعا باطل ہے!
    احادیث پر صحیح و ضعیف کی تحقیق اللہ کا حکم ہے اور علم الحدیث میں شامل ہے!
    معترضین کے باطل اعتراض کی بنا پر ہم ضعیف کو صحیح نہیں کہہ سکتے!
    اہل حدیث مؤقف ہی وہ اختیار کرتے ہیں جو قرآن اور صحیح و مقبول احادیث کی بناء پر ہو، اب کوئی معترض ضعیف حدیث پیش کرے، تو اسے ضعیف ہی کہا جائے گا!
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 03، 2017 #29
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    22
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    دوست
    اللہ اپ کو جزا خیر عطا کرے کہ اپ نیک نیت ہے میرا مدعا اپ سمجھ ہی گئے ہیں مگر دوست اس کی اور بھی اسناد ہیں جو اس کو قوی کرتی ہیں اور دوئم یہ کہ امام بخاری نے ان کو متصل مانا ہے اور اس کے درمیان ایک واسطہ جس کا ذکر امام دارقطنی نے علل میں کیا ہے اس کا انکار کیا ہے چنانچہ
    امام دارقطنی لکھتے ہیں" عَبد اللهِ بْنُ ظَالِمٍ.
    عَنْ سَعِيد بْنِ زَيد، عَنِ النَّبيِّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم؛ عَشرَةٌ في الجَنَّةِ.
    قَاله عُبَيد بْن سَعِيد، عَنْ سُفيان، عَنْ مَنصُور، عَنْ هِلاَل بْن يِساف، عَنْ عَبد اللهِ بْنِ ظَالِمٍ التَّمِيميّ، سَمِعَ سَعِيد بْنِ زَيد، عَنِ النَّبيِّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم.
    وَقَالَ مُسَدَّد: عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حُصَين، مِثْله، وَلَمْ يَقُلِ: التَّمِيميّ.
    وَقَالَ أَبو الأَحوَص: عَنْ مَنصُور، عَنْ هِلاَل، عَنْ سَعِيد، عَنِ النَّبيِّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم.
    وَزَادَ بعضُهم: ابْنَ حَيّان، فيهِ، وَلَمْ يَصِحَّ.
    وَلَيْسَ لَهُ حَدِيثٌ إِلا هَذَا، وبِحَسبِ أَصحابِي القَتلُ.
    امام بخاری نے اس انقطاع کا انکار کیا یہ بات ضرور ہے کہ انہوں نے اس عشرہ مبشرہ والی اس طرق کا انکار کیا ہے مگر وہ ان دونوں کے درمیان سماع مانتے ہیں
    شیخ شعیب نے بھی اسی بنیاد پر اس روایت کو صحیح کہا ہے چنانچہ صحیح ابن حبان کے حاشیہ میں یہی نقل کیا ہے
    قال البخاري في "التاريخ" 5/125 بعد أن ذكر رواية هلال بن يساف، عن عبد الله بن ظالم، عن سعيد بن زيد: وزاد بعضهم ابن حيان فيه ولم يصح
    (صحیح ابن حبان 6996)
    اس کے علاوہ شیخ احمد شاکر نے بھی اس میں اتصال ہی مانا ہے (مسند احمد رقم 1630 تحقیق احمد شاکر)
    اس کے علاوہ اس کی دیگر سند پیش ہے جس سے اس کی تائید ہوتی ہے
    أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ خَطَبَ، فَنَالَ مِنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَسُولُ اللهِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ "، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شِئْتُمِ أخْبَرْتُكُمْ بِالْعَاشِرِ، ثُمَّ ذَكَرَ نَفْسَهُ(مسند احمد رقم 1638)
    امام احمد نے اس کو ھلال بن یساف سے سعید بن زید کی سند سے مختصر نقل کیا ہے
    یہ تمام دلائل اس روایت کو ثابت کرتے ہیں۔
    میرا مدعا صرف یہ روایت ہے اور کچھ نہیں ہے
     
  10. ‏فروری 03، 2017 #30
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    امام بخاری نے اسے سند کو کہاں متصل مانا ہے؟
    یعنی کہ آپ امام بخاری سے هلال بن يساف کا عبد اللہ بن ظالم سے سماع کا حوالہ پیش کریں!
    اور جب امام بخاری نے اس طرق سے اس روایت کا انکار کیا ہے، تو امام بخاری کا ھلال بن یوسف کا عبد اللہ بن ظالم سے سماع کا قائل ہونے کا قول بھی اس موقوف راوایت کے صحت کے لئے سود مند نہ ہوگا!
    دوم یہ بھی بتلائیے کہ امام بخاری ھلال بن یساف کا عبد اللہ بن ظالم سے سماع مانتے ہیں، تو پھر کس وجہ سے اس طرق کا انکار کیا؟
    یہ کلام امام بخاری کا ہے نہ کہ امام دارقطنی کا!
    شعیب أرناوط نے کس روایت کو صحیح کہا ہے، یہ مکمل عبارت پیش کیجئے!
    کیونکہ ابھی تک تو امام بخاری سے هلال بن يساف کا عبداللہ بن ظالم سے سماع ہونے کا ثبوت نہیں ہے!
    دوسری باتیں تو خیر رہنے دیتے ہیں، یہ زبردست کام ہے کہ ایک منقطع روایت کی تقویت کے لئے اسی راوی سے جہاں انقطاع ہے، ایک مزید بڑے انقطاع کی روایت پیش کی جارہی ہے!
    میرے بھائی! آپ اپنی ''یوزر آئ ڈی '' کا ہی خیال کریں!
     
    Last edited: ‏فروری 03، 2017
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں