1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہندوستانی دجال احمد قادیانی کی موت

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ محمد عمر, ‏مئی 04، 2011۔

  1. ‏مئی 04، 2011 #1
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    ہندوستانی دجال احمد قادیانی کی موت

    مئی26 سنہ 1908 ۔ ربيع الآخر23 سنہ 1326
    ہندوستانی دجال
    انگریز سنہ 1857 کی آزادی کی کوشش دبا چکے تھے لیکن وہ مسلمانوں کی فطرت سے واقف تھے کہ جب تک اس میں صحیح دینی شعور ہوگا اس کی طرف سے مطمئن ہونا ممکن نہیں لہاذا انھوں نے لڑاؤ اور حکومت کرو کے اصول پر عمل کرتے ہوئے جیسا کہ انکی کی عادت رہی ہے ہندوستان میں فرقہ واریت کو ہوا دی تاکہ ہندو مسلم سکھ عیسائی اتحاد کو ختم کیا جائے۔دوسری طرف خود مسلمانوں میں گمراہ فرقوں کی ہمت افزائی کی جس سے ایک بڑا طبقہ صحیح اسلامی عقائد سے ہٹ گیا اور مسلمانوں کی اجتماعی قوت فرقوں میں بٹ گئی۔
    مرزا غلام احمد قادیانی کا مذہب اسی دور کی پیداوار ہے جسے اس وقت کی حاکم قوت نے ہاتھوں ہاتھ لیا کیونکہ اس مذہب نے حکومت برطانیہ کے ساتھ وفاداری اور اخلاص کو اپنے بنیادی عقائد اور مقاصد میں شامل کیا تھا۔اور اس کے لئے قرآن و حدیث میں ایسی تاویلیں کی تھیں کہ شاید خود انگریز بھی اس کی جسارت نہ کرتے۔
    سیرت کی کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ غزوہ بدر میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو ابو جہل کے مارے جانے کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا مات فرعون ھذہ الامۃ اس امت کا فرعون مارا گیا۔ آج جب مرزا غلام احمد قادیانی کی موت کا دن ہے تو یہ جملہ کہنے کو جی چاہتا ہے مات دجال ھذہ الامۃ آج اس امت کا دجال مارا گیا۔
    مرزا غلام احمد قادیانی کی دعوت کے چار دور
    مرازا غلام احمد قادیانی ایک متلون مزاج آدمی تھا جس کے قول و فعل میں تو تضاد تھا ہی اس کے اقوال میں بھی تضاد پایا جاتا تھا جس کی واضح مثال اس کی دعوت کا تدریجی ارتقاء ہے۔
    اسلامی تاریخ میں پنپنے والی شاید ہی کسی تحریک نے قادیانی تحریک کی طرح رنگ بدلے ہوں اس تحریک کو ہم چار ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے یہ دعوی پیش کیا کہ و ہ اسلامی مبلغ ہے لیکن دوسرے دور میں خود کو مسیح موعود بنا کر پیش کیا اور اس جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے صریح احادیث میں حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول سے متعلق جو وضاحتیں وارد ہیں انکی ایسی ایسی تاویلیں کیں جنھیں پڑھ کر عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اس تحریک کا تیسرا دور وہ ہے جب اپنی نبوت کا اعلان کرکے خود بھی اسلام سے نکل گیا اور نہ جانے کتنے لوگوں کو کافر بنا کر جہنم میں لیجانے کا تمغہ اپنے سر پر سجایا۔ اور پھر دنیا نے وہ دور بھی دیکھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہاں تک کہہ دیا کہ اللہ کی روح اُسکےجسم میں حلول کر گئی ہے(استغفراللہ)۔
    ظاہری امراض
    یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی باطنی کشمکش کی ایک جھلک ہے جس کا اظہار اس نے اپنی زبان سے کیا۔ اس کا ظاہری جسم بھی باطن کی طرح بیمار تھا جس کی تفصیل خود ضمیمہ اربعین میں اس طرح لکھتا ہے '' ہمیشہ سر درد ، دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے، اور دوسری بیماری جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے ، وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے، اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔
    سیرت المھدی حصہ اول صفحہ نمبر سترہ پر لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو جوانی میں ہسٹریا کی شکایت ہو گئی تھی اور کبھی کھی اس کا ایسا دورہ پڑتا تھا کہ بیہوش ہوکر گر جاتا تھا۔
    تصنیفات
    مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی دعوت کے چاروں ادوار میں کچھ نہ کچھ تصنیف کیا ہے انکی تصنیفات کی تعداد چوراسی سے کم نہیں ہے ان میں إزالۃ الأوهام، إعجاز أحمدي، براهين أحمدية، إعجاز مسيح، تبليغ، تجليات ألهية وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
    قادیانی مذہب کی بنیادی تعلیمات
    مرزا غلام احمد قادیانی کے مذہب کا نچوڑ ان نکات میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
    ملکی اور دینی معاملات میں انگریز ہی حاکم ہونگے لہاذا انکی اطاعت فرض ہے اور انکے خلاف خروج یا بغاوت حرام اور گناہ ہے۔
    حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر نبوت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ خود مرزا غلام احمد قادیانی ہی اللہ کا نبی ہے اور اللہ تعالی نے مرزا غلام احمد قادیانی پر کتاب نازل کی ہے جس کا نام الکتاب المبین ہے۔
    مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کےپیروکار ہی ہدایت پر ہیں باقی تمام لوگ کفر اور گمراہی پر ہیں۔
    اللہ تعالی انگریز ہے اور وہ انگریزی ہی بولتا ہے۔
    مسلمان مرد اور عورت کا ہندو اور سکھ سے شادی کرنا جائز ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا کہنا تھا کہ ہندؤوں کے بھگوان کرشنا کی روح ان کے جسم میں حلول کر گئی ہے تاکہ وہ ہندؤوں کا بھی محبوب بن جائے۔
    شراب، افیون اور ہر قسم کا نشہ جائز ہے،مرزا غلام احمد قادیانی خود بھی افیون کا شوقین تھا۔
    مرزا غلام احمد قادیانی کی دعوت انگریزی فکر کی پیداوار تھی اور انگریزوں نے اس دعوت کو ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں پہونچانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کا بھرپور تعاون کیا جس کا مرزا غلام احمد قادیانی پوری زندگی اپنی تصنیفات، بیانات، اور باطل مذہب کے ذریعے حق نمک ادا کرتا رہا۔
    قادیانیوں کو ابتدائی دور میں انگریز حکومت سے جو تعاوم ملا وہ تعاون آج بھی اسرائیل کی شکل میں باقی ہے اسرائیل نے قادیانیوں کے لئے کئی مدارس اور مراکز کھول رکھیں ہیں حتی کہ انکا عالمی مرکز بھی مقبوضہ فلسطین کے شہر حیفا میں ہے۔
    عبرت ناک انجام
    لیکن بعض گناہوں کی سزا کی ایک جھلک اللہ تعالی دنیا ہی میں دکھا دیتے ہیں اور آخرت میں ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔مرزا غلام احمد قادیانی کا گناہ تو بہت بڑا تھا وہ صرف خود گمراہ نہیں ہوا بلکہ نہ معلوم کتنوں کی گمراہی کا ذریعہ بنا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کےنام اعمال کو سیاہ تر کرتا جا رہا ہے۔
    اللہ تعالی بھی شاید انکے انجام کی ایک جھلک اپنے بندوں کو دکھانا چاہتا تھا۔ ہوا یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے علماء اسلام میں مولانا ثناء اللہ امرتسری سے مباہلہ کیا کہ اگر آپ حق پر ہیں تو میری موت پہلے ہوگی اور اگر میں حق پر ہوں تو آپ کی وفات مجھ سے پہلے ہوگی اور جو باطل پر ہوگا اللہ اسے کسی مہلک بیماری طاعون ہیضہ وغیرہ میں مبتلا کریگا۔مرزا غلام احمد قادیانی اس مباہلہ کے ایک سال بعد 25 مئی سنہ 1908 عیسوی کو لاہور میں بعد نماز عشاء اسہال میں مبتلا ہوااسہال کے ساتھ استفراغ بھی تھا بالآخر 26 مئی بروز منگل دن چڑھے مرزا غلام احمد قادیانیکا انتقال ہو گیا۔ نعش قادیان لے جائی گئی ، 27مئی 1908 عیسوی کو تدفین عمل میں آئی۔اور مولانا ثناء اللہ امرتسری مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات کے بعد پورے چالیس برس زندہ رہے، آپ کا انتقال 15 مارچ سنہ 1948 عیسوی میں اسی برس کی عمر میں ہوا۔
    مرزا غلام احمد قادیانی کی موت کے بعد ان کے پیروکار دو جماعتوں میں بٹ گئے ایک جماعت احمدی کہلائی جو آپ کو مبلغ اسلام مانتی ہے اور دوسری قادیانی جو آپ کو نبی مانتی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 05، 2011 #2
    عائشہ پروین

    عائشہ پروین مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 03، 2011
    پیغامات:
    101
    موصول شکریہ جات:
    660
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    سارے دجال ھندستان میں ہی پیدا ہوتے ہیں پھر وہیں پہ مر مٹ جاتے ہیں جیسے قادیانی دجال_بریلوی دجال_دیوبندی دجال وغیرہ
     
  3. ‏مئی 05، 2011 #3
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    دور حاضر کے فتنوں میں سے قادیانی حضرات کے کفر پر امت کا اجماع ہے۔ اسی طرح واضح انکار حدیث کرنے والوں کے کفر پر بھی امت کا اجماع ہے۔ لیکن ان کے علاوہ کسی دیگر مسلک و مکتب فکر کے بارے میں ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز کرنا ضروری ہے۔ واللہ اعلم۔۔!
     
    • شکریہ شکریہ x 14
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 05، 2011 #4
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    شاکر بھائ نے ٹھیک کہا، جزاک اللہ خیراً
     
  5. ‏جون 11، 2011 #5
    حراسنبل

    حراسنبل مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 04، 2011
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    105
    تمغے کے پوائنٹ:
    24

    ہندوستان میں جب ان دجالوں کی پیدائش ہوئی تھی تو کیا اس وقت پاکستان کا وجود تھا
     
  6. ‏جون 12، 2011 #6
    siddique

    siddique مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    170
    موصول شکریہ جات:
    895
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    السلام علیکم حرا سنبل صاحبہ
    یہ access کوئی اور نہیں آپ ہی کی طرح ایک خاتون ہے۔اور وہ کم عمر بھی ہے۔اور حق کی متلاثی راہ حق کی تلاش میں فورم پر آئی ہے۔اگر آپ لوگ اس طرح ہندوستان پاکستان کرتے رہے تو اس فورم پر دو گروح بنے دیر نہیں لگے گی۔پہلے ہی امت کا حال آپ سے چھاپا ہوا نہیں ہے۔ میری بات کا برا نہ مانے۔
    اللہ حافظ
     
  7. ‏جون 12، 2011 #7
    باطل شکن

    باطل شکن رکن
    جگہ:
    فی الحال اللہ کی زمین کے اوپر
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    122
    موصول شکریہ جات:
    418
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    ماشاءاللہ آپ کے پاس تو بڑا ذخیرہ ہے- یہ وغیرہ وغیرہ میں جو اور ہیں وہ نام بھی گنوا دیں
     
  8. ‏جون 19، 2011 #8
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    بھائیو!!!! دبے یا واضح الفاظ میں بہنوں کی انسلٹ کرنا بہت نازیبا حرکت ہے اگر کوئی بہن یا بھائی غلط قسم کا رویہ اپناتا بھی ہے جانے انجانے میں تو ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم ان کی اصلاح کریں،اگر ہم بھی ان جیسی حرکتیں شروع کردیں تو پھر معاملہ زیادہ بگڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔امید ہے کہ آپ سب میری بات پہ غصہ نہیں کریں گے۔اور مثبت پہلو سے دیکھیں گے۔اللہ تعالی عمل کی توفیق دے۔آمین
     
  9. ‏جون 19، 2011 #9
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بالکل صحیح ۔یہ ہندوستان اور پاکستان کی بحث نہ ہی ہو تو اچھا ہے۔میں پہلے بھی ایک فورم پر اس قسم کی بحثیں دیکھی ہیں۔غلط حرکت جو بھی کرے وہ غلط ہی ہے چاہے ہندوستان میں رہ کر کرے یا پاکستان میں۔
     
  10. ‏جنوری 07، 2012 #10
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332


    جزاک اللہ خیرا شاکر بھائ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں