1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہندووں کا آپنی ماں کے ساتھ رویے ّکا تقابل

'ہندو مت' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏جنوری 25، 2015۔

  1. ‏جنوری 25، 2015 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    248
    موصول شکریہ جات:
    18
    تمغے کے پوائنٹ:
    85

    ہندووں برصغیرکی سرزمین کو آپنی ماتا(ماں)کا درجہ دیتے اور اس کی پوجا کرتے ہیں1947ءکو جب برصغیر کی تقسیم ہوئی تو ہندووں کے حصّےمیں آنے والے حصّے کا نام بھارت یا انڈیا رکھا گیا اور اس دیوتا(ہندووں کاخدا)یاد میں ہندووں نے ترانہ لکھا اس کو گاتے اور عبادت بجا لاتےہیں!
    ترانہ یہ ہے :
    میں تیرہ بندہ ہوں اے میری ماں
    میرے اچھے پانی اچھے پھلوں
    اور بھینی خنک جنوبی ہواؤں
    شاداب کیتھوں والی میری ماں
    حسین چاندنی سے روشن رات والی
    خوش دارپھلوں اور گنجان جنگلوں والی
    میٹھی ہنسی اور میٹھی زبان والی
    سکھ دینے والی برکت دینے والی میری ماں
    تو ہی ہمارے بازؤوں کی قوت ہے
    میں تیرے قدم چومتا ہوں
    تو دشمن کے لشکر کی غارت گر ہے
    اے میری ماں بندے ماترم
    تیری ہی حسین مورتی ہر مندر کی رونق ہے
    تو ہی درگا ہے دس مسلح ہاتھوں والی
    تو ہی کملا ہے کنول کے پھولوں کی بہار
    تو ہی پانی ہے علم سے بہرہ مند کرنے والی
    میں تیرا غلام ہوں غلاموں کا غلام ہوں
    غلاموں کے غلام کا غلام ہوں ۔
    اے ہندؤوں اپنی ماتا اور دیوتا(بھارت کی زمین )پوجا کرنے والوں) (ماں)کے سینے پہ ہل چلاتے‘آپنے پاؤں تلے روندتے ‘اس کے سینے پہ پیشاب اور پخانہ بھی کرتے ہوں‘اس کے سینے پہ جرائم بھی کرتے ہوں‘تمہاری جو ماں تمہارے دشمنوں کو آپنے اوپر غلاظت کرنے سے نہ روک سکے ‘اسکے پیٹ کو چاک کر کے اوپر عمارتوں کی بنیاد رکھیں‘بتلاؤں جو خودغیروں کی غلام ہو تم جس کےغلام ہو بتلاؤںوہ تمہارا دیوتا(خدا)تمہاری کیسے حاجت روائی ‘مشکل کشائی کیسے کر سکتی ہے‘یاروں ماں تو دنیا کی عظیم ہستی ہے جوبددعا کرے توساتوں آسمانوں کا جگر چیرتی عرشے معلیٰ تک پہنچ جائے ۔جس کے بارے قرآن (فلا تقل لهما اَف ولا تنهرهما) وقل لهما قول كريم) كي ترغيب دے‘ اس ماں کے ساتھ تم کیا سلوک کرتے ہو کبھی سوچا ہے ؟
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 26، 2015
  2. ‏جنوری 26، 2015 #2
    عبدالقیوم

    عبدالقیوم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2013
    پیغامات:
    825
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    142

    اس کاحوالہ بھی دیا کریں
     
  3. ‏جنوری 26، 2015 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ظفر بھائی! پوسٹ کرتے ہوئے فارمیٹنگ کا ذرا خیال رکھا کریں ، سب کچھ ایک ہی لائن میں لکھنے کی بجائے بات کو فقروں میں تقسیم کردیا کریں ۔ اور اگر اشعار ہوں تو ان کو ان کے نثر کے انداز میں پیش کرنے کی بجائے ان کے خاص انداز میں لکھا کریں ۔
    ابھی نئے نئے ہیں ، عبدالقیوم بھائی سے مشورہ لے لیا کریں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں