1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

ہیروں اور نقدی پر زکوۃ

'زکوۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جون 16، 2016۔

  1. ‏جون 16، 2016 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,585
    موصول شکریہ جات:
    6,511
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    ہیروں اور نقدی پر زکوۃ

    دوست نے سوال کیا ہے کہ مالکن کے پاس چار کروڑ کے ہیرے (diamonds) ہیں اور اس کے گھر میں کام کرنے والی خادمہ کے پاس چالیس ہزار روپے ہیں جو اس نے دو ہزار کی کمیٹی ڈال کر جمع کیے تھے، دونوں پر ایک سال گزر چکا، تو مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ مالکن پر زکوۃ نہیں ہے کہ فقہاء کے نزدیک ہیروں اور قیمتی پتھروں پر کوئی زکوۃ نہیں ہے اور خادمہ پر زکوۃ فرض ہے کہ خادمہ صاحب نصاب ہے کہ اس کے پاس اتنی رقم ہے جو 52.5 تولے چاندی کے برابر ہے۔ اس بارے آپ کیرائے درکار ہے کہ کیا خادمہ اپنی زکوۃ اپنی مالکن کو دے سکتی ہے؟
    جواب: فتاوی کے نام پر عجب تماشے لگے ہوئے ہیں۔ مدرسوں میں اصول فقہ کے نام پر اصول اجتہاد کی بجائے، اصول تقلید پڑھائے جا رہے ہیں۔ ہمارے مفتی صاحب کو اصول فقہ کی کتابوں کے متون زبانی یاد ہوں گے لیکن مجال ہے کہ ایک اصول کی تطبیق بھی بیس جلدوں کے فتاوی میں نظر آ جائے۔ مفتی صاحبان اپنے فتاوی میں شرعی مقاصد کو بری طرح پامال کر رہے ہیں کہ جس سے احکام شریعت مذاق بنتے چلے جا رہے ہیں لیکن کسی کو احساس ہی نہیں ہے۔ تیس تیس جلدوں کے فتاوی میں سے دو چار فتاوی ایک ساتھ سامنے رکھ کر دیکھ لیں تو کسی صاحب عقل کے لیے ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو جائے۔
    بھائی، ہمارے فقہاء نے ایک دور میں کہا تھا کہ ہیروں اور قیمتی پتھروں پر زکوۃ نہیں ہے جبکہ اس دور میں ان کی کوئی مارکیٹ ویلیو نہیں ہوتی تھی۔ آج ہیروں اور قیمتی پتھروں کی باقاعدہ عالمی مارکیٹ اور ری سیل ویلیو ہوتی ہے۔ وہ سونے اور چاندی جیسی دھاتوں سے بھی بیسیوں گنا مہنگے ہوتے ہیں لہذا ان پر زکوۃ فرض نہ کرنا تقلیدی جمود اور مقاصد شریعت کے خلاف ہے کہ زکوۃ ایسے مال پر ہی فرض ہوتی ہے کہ جس کے بدولت ایک شخص معاشرے میں امیر اور غنی شمار ہو۔
    اور دوسری بات یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں 7.5 تولے سونے کی قیمت اور 52.5 تولے چاندی کی قیمت تقریبا برابر تھی لہذا نقدی کے لیے کسی کو بھی نصاب بنا لیا جاتا تو کوئی حرج نہیں تھا۔ آج دونوں دھاتوں کی قیمتوں میں بہت نمایاں فرق ہے۔ ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت (35,000) جتنی کرنسی رکھنے والا ہمارے معاشرے میں ہر گز امیر نہیں ہو سکتا البتہ ساڑھے سات تولے سونے کی قیمت (370,000) کے برابر نقدی رکھنے والا امیر کہلانے کا مستحق ہے لہذا نقدی کا نصاب 7.5 تولے سونے کی قیمت کو بنایا جائے گا نہ کہ 52.5 تولے چاندی کی قیمت کو۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دینار سونے کا سکہ تھا اور درہم چاندی کا سکہ اور یہ دھاتیں کرنسی اور زیور کے طور مستعمل تھیں۔ آج چاندی کا استعمال بطور کرنسی اور زیور کے نہ ہونے کے برابر ہے لہذا چاندی کسی طور بھی کرنسی کا نصاب بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔ اور 52.5 تولے چاندی والے مالک کو آج ہمارے معاشرے اور عرف میں کوئی شخص بھی امیر نہیں سمجھتا ہے۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ زکوۃ تمہارے اغنیاء سے لی جائے گی اور فقراء میں تقسیم کی جائے گی [سنن الترمذی]، یہ زکوۃ کا مقصد عظیم ہے۔ اب تو ایسے فتاوی سامنے آ رہے ہیں کہ غریب زکوۃ دے رہے ہیں اور امیر وصول فرما رہے ہیں، انا للہ وانا الیہ رجعون۔ یہ اللہ کے دین کے ساتھ مذاق اور کھلواڑ ہے، اور کچھ نہیں۔ اور دین کے ہر شعبہ میں اس قسم کے فتاوی کی ایک ہی وجہ ہے کہ مقاصد شریعت اور اصول فقہ صرف کتابوں میں پڑھنے اور مقالات علمیہ میں بحث کے لیے رہ گئے ہیں، علماء ان کی ایپلیکیشن سے کوسوں دور ہیں۔

    بشکریہ محترم شیخ @ابوالحسن علوی
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں