1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہیروں جیسے ہیرو

'تذکار ایام' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏مئی 18، 2011۔

  1. ‏مئی 18، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ہیروں جیسے ہیرو

    سمیعہ سالم​

    بہت سے دانشوروں کو یہ کہتے سنا ہے کہ امتِ مسلمہ ’قحط الرجال‘ یعنی قیادت کے بحران کا شکار ہے۔اس ٹوٹی ،ڈولتی کشتی کوکوئی ایسا ناخدانہیں ملتا جو اسے بخیر و عافیت اپنی منزل پر پہنچا دے میرے نزدیک یہ بحران ،قیادت سے زیادہ ،بصیرت اور بصارت کا ہے۔قیادت موجود ہے مگر پروپیگنڈہ اور کردار کشی کی ایسی گرد میڈیا کے ذریعے سے اڑائی جاتی ہے کہ امت کی قیادت کر سکنے والے ہیرے موتیوں میں تولنے کے لائق ،منتخبِ روزگار ’رجال‘(ہیرو) جھوٹ کی گرد و غبار میں گم ہو جاتے ہیں اور امت حیران و سرگرداں ہر بہروپئے اور دھوکے باز و غدارکے مکارانہ الفاظ کے سحرکا شکار ہو کر اس کے پیچھے بھاگنے لگتی ہے۔
    بڑی فنکاری کے ساتھ ا س امت کو ”امن پسندی“ ”پُر امن راستہ“ ”پُر امن ذرائع“ کی راہوں پر ڈال دیا گیا ہے۔جبکہ ان سازشوں کے تانے بانے بُننے والے اور اصطلاحوں کو نئے معانی دینے والے خود میزائل ،گولیاں اور بم اور لاکھوں ٹن بارود برسا کر امن بورہے ہیں۔ لاکھوں مسلمانوں کو جرمِ بے گناہی میں موت کی گھاٹ اتارنے والے کو ”امنِ عالم “ کا ایوارڈ عطا کیے جاتے ہیں۔فلسطین،عراق،لیبیا،یمن،افغانستان،پاکستان کو نسا عالمی خطہ ہے جو اس ”عالمی امن“ سے فیض یاب نہیں ہو رہا.......مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ ”عسکری قیادت“ کو پروان چڑھائیں بلکہ اگرکہیں ایسی قیادت ”خود بخود “ پروان چڑھ ہی جائے تو کم از کم اسے پہچان کر نہ دیں،اون(own)نہ کریں۔کفر کے سرداروں کو ہمارے درمیان ایسے لیڈرز اور ہیروز کاشت کرنا ،پروان چڑھانا بہت پسند ہے جو سیاسی بت خانوں کی مجاوری کریں،ہر قسم کے دسترخوانوں پر ٹوٹ پڑنے کے ماہر ہوں،جو جمہوری تماشوں پر پختہ ایمان رکھتے ہوں،جنہیں اﷲ کو راضی کرنے کی تو فکر نہ ہو مگر مغربی معیارات کے مطابق اسلام اور اسلامی معاشروں کو تشکیل دینے میں گھلے جاتے ہیں ۔ہمارے مغربی آقاؤں کو کھیل کے میدانوں میں ہمارے نوجوانوں کو آئیڈیل بنا کر پیش کرنا وارے آتا ہے۔رقص و سرود کے ہیرو تراشنا بھی بہت پسند ہیں،فنِ مصوری ،ادب اور شاعری میں فی کل وادٍ یہیمون (یعنی ہر وادی میں جا گھسنے والے ) قسم کے ”ہیروز “ کو اچھالنا بھی پوری طرح گوارا ہے ۔
    کہ اس امت کی گود ابھی خالی نہیں ہوئی۔ چاہے فلسطین کے میدان ہوں یا عراق کے معرکے ہوں یا افغانستان کی طویل گوریلا جنگ ہو اس امت نے شیخ احمد یٰسین ؒشہید ،انجینئر یحییٰ عیاش ( جن کو مغربی یہودی میڈیا ’چھلاوہ‘ اورہزار چہروں والا کہتا رہا)ابومصعب الزرقاوی شہیدؒ،عبداﷲعزام شہیدؒ ،شیخ اسامہ بن لادنؒ جیسے ہیرے اور ہیرو پیش کر دئیے جنہوں نے دنیا بھر کے کفر کی متحدہ سازشوں اور عسکری یلغار اور ان کے کبر و غرور کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا...ہاں مگر طاغوتی مغربی طاقتوں نے اتنی کامیابی ضرور حاصل کی کہ میڈیا کے ذریعے منافقانہ اور مکارانہ خیالات،تجزیوں،تبصروں اور رپورٹوں کی مدد سے وہ گرد اٹھائی کہ امت کی اکثریت نے انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا۔طوطے کی طرح انہی کی بولیاں بولتے رہے۔”سی آئی اے کا ایجنٹ“ ”دہشت گرد“ ”فتنہ“ وغیرہ وغیرہ.....دجالی میڈیا کے سحر کی شکار عوام آج تک یہ نہ جان سکی کہ یہ وہ شہزادے ہیں جنہوں نے اپنا آج امت کے کل پر قربان کر دیا،جنہوں نے اپنے خون سے کفری اتحاد کی راہ میں وہ لکیر کھینچی جسے سپر پاور اپنے 49نیٹو اور نان نیٹو اتحادیوں کی لاکھوں کی افواج اور بے پناہ قوتِ تاثیرہ اور عسکری طاقت کے باوجود 9سالوں میں عبور نہ کرسکا۔اس قوم کی بد نصیبی کا بھلا کیا ٹھکانہ ہو سکتا ہے جو اپنے محسنین کو نہ پہچانے، نہ قدر کرے بلکہ چند ڈالروں کے عوض ان کے خون اور ان کی عصمتیں اور ان کی زندگیاں دشمنوں کو بیچ ڈالے۔ سچ فرمایا میرے نبی صدق و صفاؐ نے کہ”مارے گئے عبدالدینار اور مارے گئے عبدالدرہم“( آج کل یہ کہہ لیں کہ مارے گئے عبدالڈالر)حقیر دنیا کی محبت میں گرفتار اور موت سے خوفزدہ ان بونے سیاستدانوں ،حکمرانوں اور سول و فوجی سرونٹس کی آنکھوں پر لالچ نے اتنی موٹی پٹی چڑھا رکھی ہے کہ انہیں نہ کل کے غداروں کا انجام یاد آتا ہے نہ آج کے غداروں کا حشر اپنے سامنے دیکھ پاتے ہیں۔
    ( یااﷲ !!غداروں کی فہرست کتنی لمبی ہوتی جا رہی ہے!!)
    افسوس کے یہ امت ’سِکھ‘ ہوتی جا رہی ہے۔واقعات گزرنے کے کافی عرصہ کے بعد اسے پتا چلتا ہے کہ اس کے ساتھ تو ہاتھ ہو گیا ہے۔یہ کب تک اپنے محسنین ،اپنے ہیروز کو پہچاننے میں دیر کرتی رہے گی؟اگر عینک کے شیشے گندے گدلے ہوں تو ہر منظر گندہ ہی نظر آئے گا اگر مغرب کی رنگین عینک لگا کر دیکھیں گے تو ہر چیز اسی رنگ کی نظر آئے گی جس رنگ کی عینک پہنائی گئی ہو۔قوم کو چاہیے کہ یہ گندی رنگین مغربی عینک اتار کر قرآن کی روشنی میں اﷲ کی عینک سے تمام حالات و واقعات کو دیکھے۔ اپنے اصل مفاد کو پہچانے۔قرآن فرماتا ہے کہ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ’’ یعنی تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اﷲ کو بھلا دیا تو اﷲ نے انہیں اپنا آپ بھلا دیا‘‘۔یعنی وہ خود اپنے مفاد ہی کو بھلا بیٹھے۔دنیا کے مفاد کو بھی اور آخرت کے مفاد کو بھی۔
    آج کتنے لوگ جانتے ہیں کہ عراق میں امریکہ کی ناک کس نے رگڑوائی......؟ ابو مصعب الزرقاوی شہیدؒنے .......وہاں اردن کے زر خرید غلاموں نے ان کی مخبری کی اور انہیں شہادت کا عظیم منصب اﷲ تعالیٰ نے عطا فرما دیا۔ اگر اسامہ بن لادن کو اسی طرح شہید کیا گیا ہے جس طرح کہ امریکہ کا دعویٰ ہے تو وہ کسی حال میں بھی مخبری کے بغیر نہیں ہوا۔مخبر جو بھی کوئی تھا یا تھے،سول تھے یا فوجی تھے،انہوں نے چند ڈالر جھولی میں ڈال کر قوم کے ماتھے پر ذلت و رسوائی کی وہ سیاہی مل دی جو قیامت تک نہ دھوئی جائے گی۔شہید تو کامیاب ہو گیا(فُز تُ بِرَّبِ الکَعبَةِ....ربِّ کعبہ کی قسم ! میں توکامیاب ہوگیا)مگر دل یہ سوچ سوچ کر ڈوب ڈوب جاتا ہے کہ اس قوم کے پہاڑوں جیسے ذلت آمیز جرائم میں ایک اور رسوا کن جرم کا اضافہ ہو گیا۔غداری کا ایک اور باب رقم ہو گیا،مہنگائی ،بے روزگاری، بدامنی اور برے حکمرانوں کے عذاب میں گرفتار قوم پہلے ہی پتھروں کے زمانے میں پہنچ چکی ہے اب اور کس ذلت اور کس عذاب کو دیکھے گی۔
    قُل رَّبِّ إِمَّا تُرِيَنِّي مَا يُوعَدُونَ رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِي فِي الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (المومنون) اے میرے رب!اگر وہ عذاب جس کا تو وعدہ کرتا ہے، میرے سامنے لے آئے تو اے میرے پروردگار ! مجھے ظالموں (عذاب زدہ ) میں شامل نہ کیجئے۔ آمین
    نوٹ
    یہ مضمون یہاں سے لیا گیا ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں