1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہینڈ پریکٹس یا مشت زنی

'فقہ عام' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏نومبر 06، 2014۔

  1. ‏نومبر 06، 2014 #1
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ایک اہم غلط رویہ جو کسی بھی طور مستحسن نہیں ہے اور ہمارے نوجوان اس میں مبتلا ہو چکے ہیں
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 06، 2014 #2
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ہینڈ پریکٹس کے بارے میں قرآن مجید یا احادیث میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک قول ملتا ہے جس میں ایک شخص نے ان سے اسی موضوع پر سوال کیا تو انہوں نے اس عمل سے کراہت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ تم کسی لونڈی سے نکاح کر لو۔ عربوں میں لونڈیوں سے شادی کو برا سمجھا جاتا تھا کیونکہ ان کی اخلاقی تربیت کا مسئلہ تھا اور پھر بچوں سے متعلق بھی کئی مسائل پیدا ہو جاتے تھے۔
    اس وجہ سے علماء کے اس ضمن میں دو نقطہ ہائے نظر ہیں:
    ایک گروہ کے نزدیک یہ ایک ناجائز عمل ہے اور دوسرے کے نزدیک جائز تو ہے مگر ناپسندیدہ ہے۔
    بعض علماء کا موقف یہ بھی ہے کہ اگر انسان کی جنسی خواہش اتنی تیز ہو کہ اسے بدکاری میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ ہینڈ پریکٹس کر لے تاکہ بدکاری جیسے عظیم گناہ سے محفوظ رہے۔
    یہ تفصیل بتانے کا مقصد یہ نہیں کہ میں آپ کو ہینڈ پریکٹس کی ترغیب دے رہا ہوں بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ آگاہ ہوں اور اس عادت بد سے اجتناب کریں۔
    عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ شیطان انسان کو کسی ایسے عمل میں مبتلا کر دیتا ہے اور پھر جب وہ بہت زیادہ ندامت محسوس کرتا ہے تو شیطان اسے مایوس کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اب گناہ تو کر ہی بیٹھے ہو اور سزا تو ملنی ہی ہے تو چلو کچھ اور انجوائے کر لو۔ اس وجہ سے آپ اگر ندامت محسوس کر رہے ہیں تو پھر شیطان کو اگلی اسٹیج تک نہ جانے دیجیے گا۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 18، 2016
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 3
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 06، 2014 #3
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ہینڈ پریکٹس بہرحال بدکاری یا ہم جنس پرستی کے درجے کا گناہ نہیں ہے البتہ یہ کوئی اچھی عادت بھی نہیں ہے۔ اس کو چھوڑنے کے لیے چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔ ان پر عمل کیجیے تو امید ہے کہ بڑی حد تک اس سے نجات مل جائے گی:
    1۔ اس مسئلے کا سب سے پائیدار حل تو شادی ہے۔ اگر آپ شادی کر سکتے ہیں تو جلد سے جلد کر لیجیے۔ ہمارے ہاں شادی کو بلاوجہ مشکل بنا دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ بہت سی مشکلات داخل کر دی گئی ہیں۔ اگر ہم سادہ طرز زندگی اپنائیں تو شادی محض ایجاب و قبول کا نام ہے۔ اگر شادی ہونا مشکل ہو، تو پھر دیگر تجاویز پر عمل کرنے کی کوشش کیجیے۔
    2۔ اپنی ڈائیٹ کو کنٹرول کیجیے۔ کوشش یہ کیجیے کہ دودھ اور پھل اپنی خوراک میں زیادہ کر دیں اور ہو سکے تو کھانا صرف ایک وقت کر دیجیے۔ اگر آپ افورڈ کر سکتے ہوں تو اس ضمن میں کسی ڈائیٹ اسپیشلسٹ (Dietitian) سے مشورہ کر لیجیے تاکہ خوراک متوازن رہے اور جسم کسی کمزوری کا شکار نہ ہو۔ اس سے جنسی خواہش میں کمی ہو گی۔
    3۔ زیادہ سے زیادہ روزے رکھنے کی کوشش کیجیے تاکہ جنسی خواہش کا زور ٹوٹے۔ افطار پر بہت زیادہ کھانے کی بجائے ڈائیٹ پر کنٹرول کیجیے۔
    4۔ خود کو جسمانی ورزشوں میں مصروف کیجیے۔ کوئی اسپورٹس کلب جوائن کر کے جو کھیل بھی آپ کو پسند ہے، اس میں کچھ وقت صرف کیجیے۔ اس سے آپ انجوائے بھی کریں گے اور شام میں تھک ہار کر نیند بھی جلدی آ جائے گی۔ ٹینس، اسکواش، بیڈمنٹن اور سوئمنگ اچھے کھیل ہیں اور ان سے جسمانی ورزش بھی زیادہ ہوتی ہے۔
    5۔ اپنے کمپیوٹر وغیرہ کو ایسی جگہ رکھیے جہاں دوسروں کی نظر پڑتی ہو۔ اس سے فحش ویب سائٹس پر جانے کا امکان کم ہو جائے گا۔
    6۔ اگر آپ کی دوستی کچھ ایسے لوگوں سے ہے جو شہوانی گفتگو کرتے ہیں، تو ان سے دوستی ترک کر دیجیے اور اچھے اور دیندار لوگوں کے ساتھ دوستی بڑھائیے۔ یہی معاملہ انٹرنیٹ پر دوستیوں کا بھی ہے۔ اگر آپ بالفرض میرا شمار معقول لوگوں میں کریں تو میں دوستی کے لیے حاضر ہوں۔
    7۔ فلموں اور ٹی وی سے حتی الامکان اجتناب کیجیے تاکہ شہوت کو برانگیختہ کرنے والے عوامل کم سے کم ہوں۔ اسی طرح مخلوط محفلوں میں جانے سے ہر ممکن بچیے۔
    8۔ حس جمال (Aesthetic Sense) کو خواتین کی بجائے دیگر خوبصورت چیزوں جیسے قدرتی مناظر وغیرہ سے پورا کیجیے۔
    9۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالی کے ساتھ توبہ کا تعلق قائم رکھیے۔ ہو سکے تو صبح ذرا جلدی اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھیے اور اللہ تعالی کے حضور رو رو کر دعا کیجیے۔ جو احساس آپ کے اندر ہے، اسے ہر ممکن طریقے سے زندہ رکھیے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 18، 2016
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 06، 2014 #4
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ان سب تجاویز پر عمل کرنے کے نتیجے میں انشاء اللہ آپ بڑی حد تک اس عادت سے محفوظ ہو جائیں گے۔ تاہم پھر بھی اگر کبھی نفس بہت زیادہ تقاضا کرے اور آپ ایسا کر بیٹھیں تو اللہ تعالی سے تعلق کے اپنے احساس کو مرنے مت دیجیے اور فوراً توبہ کر لیجیے۔ اگر آپ اس احساس کو زندہ رکھیں گے تو شہوت بالکل کمزور پڑ جائے گی اور آپ اس پر قابو پا لیں گے۔ جن لوگوں کا یہ احساس مردہ ہو جاتا ہے، وہ بڑھاپے میں بھی گولیاں کھا کر بدکاری کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اگر شیطان آپ کے اس احساس ندامت کو مزید گناہوں پر اکسانے پر آمادہ کرے تو فوراً اللہ تعالی کی رحمت کا خیال کیجیے اور توبہ کے ذریعے اپنے رب کی طرف رجوع کیجیے تاکہ وہ آپ کو بڑے گناہوں کی طرف نہ لے جا سکے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 18، 2016
    • زبردست زبردست x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 06، 2014 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    عادت بد کو خود لذتی اور ہینڈ پریکٹس کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے اس سے مراد ایسا طریقہ ہے جس سے جنس مقابل یا کسی ہم جنس کی مدد کے بغیر ہاتھوں یا رانوں کی حرکات سے محض تخیل کے زور پر یعنی خیال کو کسی خوبصورت شکل کسی فحش تصویر یا فلم پر مرکوز کر کے مادہ منویہ خارج کر کے شہوانی لذت حاصل کی جائے یہ عادت مردوں کی طرح عورتوں میں بھی پائی جاتی ہے زنانہ مردانہ عضو مخصوص کی “سکنگ” یعنی منہ کے ذریعے انزال کروانا بھی جلق کے زمرے میں آتا ہے مغرب کے بعض طبی ماہرین اور پاکستان کے بعض مغرب زدہ ڈاکٹروں کے نزدیک خود لذتی بے ضرر ہے ان کی رائے میں مشت زنی جنسی جذبہ کی تسکین کا سامان ہے سیکس فری مغرب کی تقلید کرنے والوں کو یہ کون سمجھائے کہ اگر اس سے کوئی جسمانی’ روحانی یا اخلاقی برائی یا بیماری پیدا نہ ہوتی تو طبیب روحانی و جسمانی حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) یہ کیوں فرماتے-
    “کہ ہاتھ سے منی گرانے والا ملعون ہے اور خدا کی لعنت کا مستوجب-”(بشرط صحت)
    اگر یہ صحیح نہیں بھی ہے تو پھر عمومی تعلیمات اسلامی اس امر کی مخالفت کرتی ہیں جیسا کہ لا ضرر والا ضرار
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 18، 2016
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 06، 2014 #6
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    لیکن طبی لحاظ سے اس فعل بد کے نقصانات وہ بھی نہیں ہیں جو کہ فٹ پاتھئے نیم حکیم یا غیر مستند معالجین بیان کرتے ہیں اس عادت بد سے جسمانی طور پر کم اور نفسیاتی طور پر زیادہ نقصان ہوتا ہے زر پرست معالجین نے جو وہم پختہ کر دیا ہے کہ خود لذتی سے آپ تباہ و برباد ہو گئے ہیں اور آپ کا مادہ منویہ جوہر حیات کا خزانہ ختم ہو گیا ہے بالکل غلط ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ کمی مناسب علاج سے پوری ہو جاتی ہے جس طرح زخموں کے راستے خون ضائع ہو کر نیا خون بن جاتا ہے اسی طرح جوہر حیات مادہ تولید کا ضیاع بھی اپنی کمی پوری کر لیتا ہے خود لذتی انتہائی سخت گناہ ہے لیکن یہ قابل معافی بھی ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس عادت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے کیونکہ اللّہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہر گناہ بخش دیا جائے گا بشرطیکہ توبہ کر لو اور آئندہ نہ کرنے کا عہد کر لو اس عادت بد کو چھوڑنا بھی ایک مسئلہ ہ
    روزانہ مشت زني ميں مبتلا شخص رمضان المبارك ميں كيا كرے ؟
    الحمد للہ :
    اہل علم كے اقوال ميں سے صحيح قول يہي ہے كہ مشت زني حرام ہے
    اور نوجوان شخص كواپنے اللہ سے ڈرنا چاہيے جواس كا رب ہے، اور اسے ہر اس كام سے دور رہنا چاہيے جو شہوت انگيزي كا باعث بنے چاہے وہ ديكھنے سے متعلق ہو يا سننے سے، اور اسے چاہيے كہ وہ رمضان المبارك كےمہينے سے استفادہ كرتےہوئے اپني اصلاح كرے اور اسے مھذب بنائے، رمضان كا مہينہ تقوي اور قرآن كا مہينہ ہے ، اس ليے مسلمان شخص كےشايان شان نہيں كہ وہ اس مہينہ ميں اجروثواب حاصل كرنے اور اپنے رب سے خوف كرتے ہوئے حرام كام اورشھوات كو ترك كر كے اس مہينہ سے مستفيد نہ ہو .
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 18، 2016
    • شکریہ شکریہ x 3
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 06، 2014 #7
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اللہ سبحانہ وتعالي نے حديث قدسي ميں فرمايا ہے:
    ( وہ اپنا كھانا پينا اور اپني شھوت صرف ميري وجہ سے ترك كرتا ہے ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 1894 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1151 )
    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں :
    انسان كو چاہيے كہ وہ مشت زني جيسا كام كرنے سے رك جائے اور صبر كرے اس ليے كہ ايسا كرنا حرام ہے اس كي دليل فرمان باري تعالي ہے:
    ( اور وہ لوگ جو اپني شرمگاہوں كي حفاظت كرتے، مگر اپني بيويوں اور ملكيت كي لونڈيوں كےيقينا يہ ملامتيوں ميں سے نہيں ، لھذا جو كوئي بھي اس كےعلاوہ چاہيں گے وہي حد سے تجاوز كرنے والےہيں )
    اور اس ليے بھي كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
    ( اےنوجوانوں كي جماعت تم ميں سے جوكوئي بھي طاقت ركھتا ہے وہ شادي كرے، كيونكہ يہ نظروں كو نيچا كرنےوالي اور شرمگاہ كي حفاظت كرنے والي ہے، اور جوكوئي استطاعت نہ ركھے وہ روزے ركھے )
    اور اگر مشت زني جائز ہوتي تو نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم اس كي طرف راہنمائي كرتے كيونكہ مكلف كےليے يہ زيادہ آسان ہے، اور اس ليے بھي كہ انسان اس ميں نفع پاتا ہے بخلاف روزے كے كيونكہ روزہ ركھنے ميں مشقت ہے، لھذا جب رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے روزہ ركھنے كي راہنمائي فرمائي تويہ بات كي دليل ہے كہ مشت زني جائز نہيں .
    ديكھيں: مجموع فتاوي الشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ ( 19 / 189 )
    اور آپ كوچاہيےكہ شادي كرنے كي كوشش كريں اور اس ميں جھد صرف كريں تاكہ آپ اس بري اور گندي عادت سےنجات حاصل كرسكيں، اور اس كے ليے اللہ تعالي سے دعاء كرتے ہوئے اللہ تعالي كي اطاعت وفرمانبرداري كےساتھ مدد وتعاون حاصل كريں تاكہ اللہ تعالي آپ كواس عادت كےگناہ سےنجات عطا فرمائے .
    اللہ تعالي سےہماري دعاء ہےكہ وہ آپ كےدل اور اعضاء كوپاك صاف كرے اور آپ كو وہ كام كرنے كي توفيق عطا فرمائے جواسے پسند ہيں اور جن پر وہ راضي ہوتا ہے.
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 18، 2016
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 06، 2014 #8
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    مشت زنی سے متعلق قرآن مجیداور حدیث کی کیا رہنمائی ہے؟ کیا یہ زنا کے درجے میں حرام ہے؟ یا یہ ایک مباح عمل ہے یا پھر یہ ناجائز ہے البتہ مخصوص حالات میں اس کا جواز بھی ملتا ہے؟ برائے مہربانی اپنے جواب کی سپورٹ میں قرآن کی آیات اور حدیث یا آثار بھی نقل کردیں۔ شکریہ
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    مشت زنی کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے: ارشاد باری تعالی ہے:
    والذين هُم لِفُرُوجِهِمْ حافِظون. إلا على أزواجِهِم أو ما مَلَكت أيمانُهُم فإنهم غيرُ مَلومين. فمَنِ ابتَغى وراءَ ذلك فأولئك همُ العادون (4-6 المؤمنون)
    اہل ایمان اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے ،ان میں وہ ملامت نہیں کئے گئے۔ جو ان کے علاوہ کوئی رستہ تلاش کرے گا وہ زیادتی کرنے والوں میں سے ہو گا۔
    ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالی نے بیویوں اور لونڈیوں کے علاوہ تمام راستوں کو حرام کر دیا ہے۔ جن میں مشت زنی بھی شامل ہے۔
    سیدنا ابن مسعود فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے غیر شادی شدہ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
    يا معشر الشباب. من استطاع البائةَ فليتزوّج، فإنه أغضُّ للبصر وأحصَنُ للفرْج. ومن لم يستطع، فعليه بالصَّوم، فإنه لهُ وِجَاءٌ(بخاری، مسلم)
    اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرلے۔ بے شک شادی نظر کو جھکانے والی اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والی ہے۔ اور جو شادی کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے ،بے شک یہ روزےاس کو حرا م سے بچانے والی ڈھال ہیں۔
    اس حدیث مبارکہ میں نبی کریمﷺ نے روزے رکھنے کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ۔ آپ نے مشت زنی کا طریقہ نہیں بتلایا۔
    مشت زنی کی حلت کے حوالے سے وارد تمام روایات ضعیف اور ناقابل حجت ہیں۔
    مشت زنی کے متعدد طبی و نفسیاتی نقصانات ہیں اور یہ اخلاقیات سے گرا ہوا ایک عمل ہے۔
    هذا ما عندي والله اعلم بالصواب
    فتویٰ کمیٹی​
    محدث فتویٰ
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 18، 2016
  9. ‏نومبر 06، 2014 #9
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اس غیر فطری عمل کو جلق، مشت زنی، یا ہینڈ پرکٹس بھی کہتے ہیں- عورتوں کے اس فعل کو چپٹی یا مساحقہ بھی کہتے ہیں-
    جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا ہے اور اس کے جسمانی اعضا کی نشونما ہوتی ہے ویسے ویسے اس کی جنسی خواھشات بھی بڑھنے لگتی ہیں- اگر ان خواہشات کو پورا کرنے کے فطری طریقے میسّر نہ ہوں تو انسان غیر فطری طریقوں سے انہیں پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے - اس طرح وہ اپنے ہے جنسی اعضا سے لذّت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے- یہ عادت نو عمر لڑکوں اور طالب علموں میں خاص طور پر پائی جاتی ہے- یہ طریقہ مردوں عورتوں میں کثرت سے پایا جاتا ہے- ایک سروے کے مطابق ٩٢ فیصد امریکی اس فعل میں مبتلا ہیں- اور کچھ ماہرین کے مطابق دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں اس فعل کے کرنے والے نا پاے جاتے ہوں.
    جلق کا استاد افریقه کا "اونوں" سمجھا جاتا ہے جس نے اس فعل کو ایجاد کیا-
    اب آتے ہیں اس کے اسباب کی طرف ...
    1 : فطری طریقے سے جنسی خواھش پوری کرنے کے طریقے نہ ہونا..
    2 : زیادہ عمر تک غیر شادی شدہ رہنا ..
    3 : تنہائی کی زندگی ..
    4 : اس فعل کے مرتکب افراد کی صحبت اختیار کرنا ..
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 18، 2016
    • شکریہ شکریہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 06، 2014 #10
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    زیادہ تر بورڈنگ سکولوں کے بچے ، ہوسٹلز میں بچے ہی اس قسم کے فعل میں مبتلا ہوتے ہیں- تاریخ کے ہر دور میں مذہبی پیشواؤں، مبلغوں، اور راہبوں نے اس فعل کے نقصانات کو اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے کہ مجلوق (jurking کرنے والا) کو اپنے گناہ گار ہونے اور اپنی صحت کے متاثر ہونے کا اس قدر شدید احساس ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر خود کو بیمار اور جسمانی طور پر خود کو جنسی افعال کے قابل نہیں سمجھتا-
    اس سے دل و دماغ ور جسمانی اعضا یقینا متاثر ہوتے ہیں لکن اس کا زیادہ نقصان مشت زنی سے زیادہ مشت زنی کرنے والے کوان نام نہاد حکیموں سے ہوتا ہے جو نجوانون کو ورغلاتے رهتے ہیں آپ نے جگہ جگہ اس قسم کے بازاری اشتہارّات دیکھیں ہوں گے جن میں آپ کو ایک یوم میں مردانہ طاقت کی خوش خبری سنائی جاتی ہے- میرا یہی مشورہ ہے کہ ایسے لوگوں کے چنگل میں ہر گز نہ پھنسا جائے- یہ جلق کو انتہائی نقصان دے اور ناقابل علاج مرض بتا کر ایک طرف تو عوام سے پیسہ بٹورتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے نو جوانوں کو ذہنی مریض بنا دیتے ہیں ان باتوں میں آ کر بیچارہ نوجوان خود کو نامرد سمجھنے لگ جاتا ہے- حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا-
    لیکن اب اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں ہے کہ آپ بی فکر ہو کر اس فعل کو اپنی عادت بنا لیں اگر آپ نے ایسا کیا تو برے نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں.
    آپ نے یہ بھی سن رکھا ہو گا کے منی کا ایک قطرہ خون کے سو قطروں کے برابر ہوتا ہے- یہ بلکل غلط ہے اگر ایسا ہوتا تو اس فعل کے مرتکب لوگ زندہ ہے نہ رهتے- یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن ان کے نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس عادت بد سے بچا جائے
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 18، 2016
    • شکریہ شکریہ x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں