1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہینڈ پریکٹس یا مشت زنی

'فقہ عام' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏نومبر 06، 2014۔

  1. ‏نومبر 06، 2014 #11
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جیسا کہ بیان کیا گیا کہ اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرنا حرام ہے۔ اس کے بے شمار نقصانات ہیں حدیث میں ایسے شخص کو ملعون کہا گیا ہے۔ اس بدعات میں مبتلا رہنے والا عموماً شادی کے قابل نہیں رہتا اس لعنت کے بُرے اثرات سے عضو خاص ٹیڑھا اور جڑ سے پتلا ہوجاتا ہے۔ اس میں روح،ریح اور خون کا دورہ پورے طور پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے بدلے زرد رنگ کا مواد رگوں میں بھر جاتا ہے۔ صحت بھی دچ بدن گرتی ہے۔ عام جسمانی اور عصابی کمزوری پیدا ہوکر قوت مردی تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔
    مریض،بزدل،مغموم،متفکر،بے ہمت،پریشان حال اور قوت حافظہ اور دماغ بے حد کمزور ہوجاتا ہے کام کرنے کو جی نہیں چاہتا بسا اوقات وہ زندگی سے متنفر اور پریشان ہو کر موت کو ترجیح دیتا ہے۔
    خود لذتی کی خاص علامات یہ ہیں۔ مریض کی نگاہیں عموماً لوگوں کے سامنے جھکی ہوئی ہوں گی۔ آنکھیں کے گرد سیاہ حلقے پڑ جانا، سر چکرانا اگر بیٹھ کر اٹھے تو آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانا۔ پیشاب تیز اور جلا ہوا آنا۔ پاتھ بالکل ٹھنڈے یا بہت گرم رہنا۔ گالوں پر کبھی سفیدی کبھی جھریاں ناک کی نوک خمیدہ، زیادہ چلنے سے سانس پھول جانا، بے طاقتی کا روز بروز بڑھتے جانا۔ مشت زنی کی تباہ کُن عادت سے بے چینی بڑھتی ہے۔ دماغ انتہائی کمزور ہوجاتا ہے قوت ارادی گھٹتی چلے جاتی ہیں اور ذہنی الجھنیں ایسے نوجوانوں کے لئیے ترقی اور صحت و تندرستی کی تمام راہیں بند ہوجاتی ہیں۔
    اس کا سبب عام طور پر بُری سوسائٹی اور گندے دوست ہیں جو اپنے بے تکلف عزیز،دوست یا رشتے دار وغیرہ نو عمر بھولے بھالے لڑکوں کو اس بدعات میں لگانے اور اس کی ترغیب دینے میں زیادہ حصّہ لیتے ہیں اور طرح طرح سے غلط بیانی کرکے ان کو اس گندی عادت کا غلام بنادیتے ہیں۔ اگرچہ اس کی کئی اور صورتیں بھی ممکن ہیں۔ مثلاً فحش ناول اور حیوانات کی مجامعت کے نظارے بھی اکثر نوجوانوں کو اس مرض کی طرف مائل کردیتے ہیں۔
    اس مرض سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اچھی صحبت اور اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ مصروف اور کام کاج کی طرف توجہ بڑھائی جائے۔ بیکاری،تنہائی اور اخلاق بگاڑنے والے لٹریچر اور گندے خیالات سے بچیں اور چلتے وقت نگاہوں کو نیچا رکھیں۔
    اگر بے سمجھی کے باعث خدا نخواستہ اس مرض میں مبتلا ہوں تو فوراً ترک کرکے توبہ کریں اور پھر اس پر مضبوطی سے قائم رہیں۔
    اس خوف کو ذہن سے نکال دیا جائے کہ مجھ میں کمزوری پیدا ہوگئی ہے کیونکہ بعض نوجوان گھبرا کر اُلٹے سیدھے علاج کرتے ہیں اور طرح طرح کی دواؤں میں الجھ کر اپنا جنسی نظام خراب کرلیتے ہیں زہریلی اور خطرناک قسم کی دوائیں عضو خاص پر لگا لگا کر اسے اور زیادہ بے کار بنالیتے ہیں حالانکہ عموماً ان کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی البتہ سادہ قسم کی مالش سے بھی کام چل سکتاہے۔ مثلاً دار چینی کا تیل یا انڈوں کا تیل وغیرہ کام میں لایا جا سکتا ہے۔
    بہرحال اس مرض کیوجہ سے جو کمزوری پیدا ہو جاتی ہیں اس کا علاج صفر یہ ہے کہ عام جسمانی صحت پر خاص توجہ دی جائے اس مقصد کیلئیے اچھی اور مناسب غذا استعمال کریں اس طرح رفتہ رفتہ خرابیاں دُور ہو جائیں گی۔
    اطباء اس مرض میں دوا کی بجائے غذا کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔
    اگر اس بدعات کو چھوڑنے کے بعد احتلام بار بار ہوتا ہو تو اس کا مناسب علاج کیا جاسکتا ہے۔
    کمزوری کی دوائیں شوقیہ بھی نہ کھائیں بادام سات عدد اخروٹ دو عدد چار پستے آٹھ چلغوزے ایک انگلی کے برابر ناریل (گری) تھوڑا سا شہد یا مصری ملا کر نہار منہ کھالیا کریں تو قوت مردمی کی کمی نہ ہوگی۔ اگر آپ ہر دوسرے تیسرے مہنے پندرہ بیس روز کیلئے کھاتے رہیں تو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہوگی حافظہ بھی تیز رہے گا۔
    کثرت احتلام کی مفید تدابیر
    1 ۔ تیز مصالحہ دار غذا تمباکو، چائے اور گوشت کی زیادتی سے پرہیز کیا جائے۔
    2 ۔ شام کا کھانا غروب آفتاب کے فوراً بعد کھالینا چاہیئے۔
    3 ۔ پیشاب کرکے سونا چاہئیے۔
    4 ۔ عین سوتے وقت دودھ یا پانی پینے سے پرہیز کیجئیے۔
    5 ۔ ہمیشہ داہنی کروٹ کے بل لیٹ کر سونے کی عادت بنانی چاہئیے۔
    6 ۔ نرم گدا اور بستر استعمال نہ کیا جائے بلکہ سخت بستر پر سویا جائے۔
    7 ۔ عشقیہ قصے کہانیاں اور فحش ناول وغیرہ سے توبہ کیجئیے۔
    8 ۔ صبح و شام پیدل ہوا خوری کو اپنا معمول بنائیے۔
    9۔ کھانا بھوک سے کم کھائیے خصوصاً رات کا کھانا۔
    10 ۔ ہفتہ میں دو مرتبہ چھلکا اسبغول دودھ کے ہمراہ ایک چمچ کھالینا چاہیئے۔
    نوٹ۔ عام نوجوان کو مہینہ میں دو تین بار احتلام ہو جائے تو بیماری نہیں ہے جب اس سے زیادہ ہو تو علاج کی فکر کرنی چاہیئے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 18، 2016
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 07، 2014 #12
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ خیرا بھائی جان۔ اہم اور عمدہ موضوع و تحریر ہے۔
    مشت زنی کی حرمت پر کوئی صریح دلیل مجھے نہیں ملی لیکن اس کے باوجود یہ ہر زمانے میں ناپسندیدہ رہی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 07، 2014 #13
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ‏نومبر 08، 2014 #14
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    جزاک اللہ خیرا ۔محمد فیض الابرار بھائی۔
    نوجوانوں کے لئے بہت مفید تھریڈ ہے تاکہ نوجوان بھائی اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔اور پاکیزہ زندگی گزارسکیں۔لیکن ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بعض نوجوان اس عادت میں تب مبتلا ہوتے ہیں جب وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں لیکن اُن کی شادی کا کوئی پراپر بندوبست نہیں ہوتا اور موجودہ زمانے میں شادی کو جتنا مشکل بنادیاگیا ہے۔اس بیماری میں مبتلا ہونے کے چانس زیادہ ہیں۔لہذا جہاں ان باتوں کاتدارک ضروری ہے وہاں اس مسئلے کو بھی خصوصا دینی حلقوں میں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔تاکہ ہمارے دینی بچے ایک صاف ستھری اور پاکیزہ زندگی گزار سکیں۔اور اس مسئلے کو سنجیدہ لینا چاہیے۔اور دوسری بات کہ اس مرض میں زیادہ تر وہ نوجوان شامل ہوتے ہیں جو میڈیا کاغلط استعمال کرتے ہیں۔جس میں ناجائز نیٹ گردی۔اور موبائل ۔پہلے کے نوجوان ان چیزوں کے غلط استعمال کرنے سے ڈرتے تھے۔لیکن اب کیونکہ بہت آسانی سے یہ چیزیں مہیا ہوجاتی ہیں۔تو ان معاشرتی برائیوں کو روکنا بھی کافی مشکل ہوتا جارہا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے نوجوان بھائیوں کو ان معاشرتی ۔اور جنسی بیماریوں سے محفوظ رکھے۔آمین
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 08، 2014 #15
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جزاک اللہ خیرا
     
  6. ‏نومبر 08، 2014 #16
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    دیکھیں معاشرہ میں کوئی بھی خرابی جب پیدا ہوتی ہے تو وہ پھیلنے میں وقت لیتی ہے ایک ہی دفعہ کوئی بھی کام نہیں ہوتا جب برائی کو پھیلنے میں وقت لگتا ہے تو اچھائی کو پھیلنے میں بھی وقت لگتا ہے یہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے اور مشاہدہ بھی
    ہم اس برائی کو دو طریقوں سے ختم کر سکتے ہیں
    1) اپنے اپنے دروس میں نکاح کو آسان بنانے کے امر کو واضح کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ کیا تھا کیونکہ ہمارے معاشرے میں نکاح مشکل کر دیا گیا ہے اسے آسان بنانے ککے لیے لوگوں تک یہ پیغام پہنچانے کی کوششیں کریں جیسا کہ میں کراچی میں بچیوں کے تین مدارس میں ہفتہ وار دروس دیتا ہوں یعنی میری آواز معاشرہ کے انتہائی مضبوط رکن یعنی خواتین تک پہنچ رہی ہے اور حقیقت پوچھیں تو نکاح کو مشکل بنانے میں ہماری خواتین کا ہاتھ بہت زیادہ ہے کیونکہ رسوم و رواج اور فرمائشیں ، ضد، مقابلہ کی فضا ایسے میں اس پیغام کے لیے خواتین کو ہدف بنایا جائے اور ابتدا ہم اپنے گھروں کی خواتین سے کر سکتے ہیں
    2) جس طرح میں نے ارادہ کیا ہوا ہے بشرط زندگی اور توفیق اپنے بچوں کے نکاح 18 سے 20 سال کے دوران کر دوں گا اس طرح اگر ہم اپنے بچوں کے نکاح جلد کرنے کی کوشش کریں تو بہت سی برائیوں سے بچ سکتے ہیں
    معاشرہ افراد سے مل کر ہی بنتا ہے ایک اور ایک گیارہ بن سکتے ہیں اور پھر ایک سو گیارہ پھر ۔۔۔۔یجعل لہ مخرجا ۔۔۔۔ کی عملی برکات بھی دیکھ سکتے ہیں کم از کم میں نے تو دیکھی ہیں اپنے گھر میں ، اگر اس پر عمل شروع ہو جائے تو ہینڈ پریکٹس ہی کیا اور بھی بہت سے مسائل کا حل ہمارے لیے آسان ہو جائے گا
    اگر اس کے علاوہ کوئی طریقہ ہو تو ضرور بتایے گا تاکہ میں بھی اس اپنے لایحہ عمل میں لا سکوں
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 3
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 08، 2014 #17
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اور دوسری بات ہمارے اصحاب منبر کو چاہیے کہ روایتی موضوعات کے ساتھ ساتھ عصری موضوعات کو بھی بیان کریں ایک مرتبہ میں جمعہ کے خطبہ میں آداب گفتگو کے دوران موبائل اور فون پر گفتگو کے آداب بھی بیان کیے تو لوگ حیران ہو رہے تھے اسی طرح ٹریفک سگنل پر ایک درس دیا اور انجینئیرز کے ساتھ امور تعمیرات پر رسالت کی رہنمائی کو ان کے سامنے رکھا کہ گھر کس طرح تعمیر کیے جاتے ہیں گھر کا اندر کا نقشہ کیسا ہو اور گلیاں کس طرح تعمیر کی جائیں
    میں نے کچھ عرصہ پہلے سورۃ النور مکمل جمعہ کے خطبوں میں ختم کی اور اسی دوران یہ مواد انٹر نیٹ سے اکٹھا کیا تھا اور جمعہ کے دوران ہی یہ باتیں مناسب انداز میں لوگوں کے سامنے رکھی
    میرا اپنا تجربہ تو یہ ہے کہ میں یہ عصری مسائل کو آسان لفظوں میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں مجھے ویسے بھی مشکل بولنا نہیں آتا تو جس مسجد میں جمعہ پڑھاتا ہوں وہاں احناف کثرت کے ساتھ جمعہ پڑھنے آتے ہیں اور اس کی وجہ انہوں نے یہی بتائی کہ جو باتیں آپ ہمیں بتاتے ہیں وہ کوئی اور نہیں بتاتا اب یہ باتیں میں اپنی طرف سے تو نہیں بناتا ہر بات موجود ہے کتب میں اور انٹر نیٹ نے تو مزید آسانی پیدا کر دی ہے
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 08، 2014 #18
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,096
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    ”مشت زنی “کے بارے میں مندرجہ ذیل ”مؤقف“ پائے جاتے ہیں:-
    ”امام احمد بن حنبلؒ“ اس کو” جائز“ قرار دیتے ہیں ۔
    ”امام مالکؒ“ اور” امام شافعیؒ“ اس کو ”قطعی حرام“ ٹھیراتے ہیں ۔
    ”حنفیہ“ کے نزدیک اگرچہ یہ ”حرام “ہے ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر” شدید“ غلبۂ جذبات کی حالت میں” آدمی“ سے ”احیاناً“ اس فعل کا ”صدور“ ہو جائے تو ”امید“ ہے کہ ”معاف “کر دیا جائے گا۔
    ”امام احمد بن حنبلؒ“ کا ”مؤقف“”امام مالک“ ؒ اور”امام شافعیؒ“ کے ”مؤقف“ کے ”خلاف“ ہے،چونکہ اس ”معاملے“ میں کوئی ”صریح نص“ موجود نہیں لہذا ”حنفیہ “ کی رائے کچھ ” معقول“ لگتی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 08، 2014 #19
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,096
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    چونکہ ہم سب کو اپنی”رشتہ داریاں“بہت عزیز ہیں اور وہ ہم کسی بھی ”قیمت“ پرکھونا نہیں چاہتے چاہے وہ”قیمت“ مذہب کی ”صورت “میں ہمیں ادا کیوں نہ کرنی پڑے، کیونکہ ہم سب کا ”حسنِ ظن“ اتنا ”قوی“ ہےجو ہم کو”پٹی“ پڑھاتا ہے کہ آخرت کی ”پکڑ“ سے آخر کار بچ ہی جائیں گے، کیا ہم خود اپنی” آنکھوں“ سے ”باپردہ، نمازی، روزہ دار ، متقیہ و صالحہ“خواتین کو ”نکاح“کے لیے ”اللے تللے“کا ”حکم“دیتے ہوئے نہیں دیکھتے اور ”مرد“ حضرات کو بھی؟ الا ما شاء اللہ تعالٰی ! ہم ”کہتے “ وہ ہیں جو ”کرتے“ نہیں ، اور ”کرتے “ وہ ہیں جو ”مصلحت“ کہتی ہے۔
     
  10. ‏نومبر 08، 2014 #20
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اللہ آپ کو جزائے خیر دے اس فقہی اضافے کے لیے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں