1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یا رسول اللہ ( صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ) مدد کہنا...

'توحید اسماء وصفات' میں موضوعات آغاز کردہ از ایک گنہگار, ‏اکتوبر 02، 2014۔

  1. ‏اکتوبر 06، 2014 #31
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ کتاب ، کتاب و سنت لائبریری میں موجود ہے درج ذیل تبصرہ کے ساتھ :
    برصغیر پاک و ہندمیں اکثریہ رواج پایا جاتا ہے کہ کئی مسلمان اپنی مسجدوں ، عمارتوں ، دفتروں، بسوں ،ٹرکوں ، ویگنوں، اور رکشوں ،کلینڈروں، اشتہارات وغیرہ پر بڑی عقیدت سے ایک طرف یا اللہ جل جلالہ اور دوسری طرف یا محمد ﷺ لکھتے ہیں اور اسے شعائر اسلام اور محبت رسول ﷺ کا نام دیتے ہیں اور جو شخص یامحمد ﷺ کہنے اور لکھنے کا انکار کرے تو اسے بے ادب اور گستاخِ رسول بلکہ بے ایمان تک قرار دے دیا جاتاہے حالانکہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے کہ رسول ﷺ کو ان کا نام لےکر (یا محمد کہہ کر) آواز دینی ،بلانا ، اورپکارنا وغیرہ نہ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں جائز تھا اور نہ آپ ﷺ کے وفات کے بعد جائز ہے ۔زیر نظر کتاب’’ندائے یا محمد ﷺ کی تحقیق‘‘ از مولانا عبد الغفور اثری میں قرآن مجید کتب احادیث و تفاسیر وغیرہ سے دلائل کی روشنی میں یہ مسئلہ واضح کیا گیا ہے کہ نبی آخر الزماں امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کا نام لے کر آواز دینی بلانا اور پکارنا وغیرہ بالکل ممنوع وحرام ہے ۔ اللہ تعالی فاضل مؤلف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتا ب کو عوام الناس کے عقید ہ کی اصلا ح کاذریعہ بنا ئے (آمین) ( م۔ا)
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 19، 2014 #32
    ایک گنہگار

    ایک گنہگار مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2014
    پیغامات:
    72
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    انتظامیہ سے گزارش ہے کہ میرے شروع کردہ اس دھاگے کو ختم کر دیں. اس سے اگر کسی بهی مسلمان بهائی بہن کو تکلیف ہوئی ہو تو میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں. اور اس شخص سے معافی مانگتا ہوں.
    اس دھاگے اور اس میں شریک کردہ سب معلومات سے عند اللہ دستبردار ہوتا ہوں.

    انتظامیہ سے گزارش ہے کہ اس دھاگے کو ختم کر دیں.

    جزاکم اللہ خیراً.
     
  3. ‏اکتوبر 20، 2014 #33
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    سیف بن عمر پر جرح یہاں دیکھیں
    http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=3737
    دائیں بائیں لکھا ہوا ہے تعریف عام شیوخ تلامیذ آخر میں تھذیب الکمال یہ آن لائن لائبریری ہے جس بٹن پر کلک کریں گے آپ کو اس کی تفصیل مل جائے گی
    شعیب بن ابراھیم الکوفی کو یہاں دیکھیں
    http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=19223
    امید ہے ان دونوں پر موجود جرح کفایت کرے گی
     
  4. ‏اکتوبر 20، 2014 #34
    ایک گنہگار

    ایک گنہگار مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2014
    پیغامات:
    72
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    بهائی یہ ویب سائٹ تو بہت زبردست ہے. ماشاءاللہ.
    بس یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ سب معلومات سچ ہیں یا ان میں غلطیاں اور کذب بیانی ہے، نعوذ باللہ.
     
  5. ‏اکتوبر 20، 2014 #35
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    اس کا حل یہ ہے کہ پی ڈی ایف کی صورت میں آپ امام النسائی کی کتاب الضعفاء و المتروکین ڈانلوڈ کر کے تصدیق کر لیجیئے مجھے یہ روایت دوران تعلیم ہی دیکھنی پڑھی تھی اور ابھی تک یاد ہے کہ سیف بن عمر کے بارے اسی کتاب کو دیکھا تھا
     
  6. ‏اکتوبر 20، 2014 #36
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,554
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    شیخ کفایت اللہ نے اسکا مدلل جواب دیا ہے



    امام ابن كثير رحمه الله (المتوفى774)نے کہا: وحمل خالد بن الوليد حتى جاوزهم وسار لجبال مسيلمة وجعل يترقب أن يصل إليه فيقتله ثم رجع ثم وقف بين الصفين ودعا البراز وقال أنا ابن الوليد العود أنا ابن عامر وزيد ثم نادى بشعار المسلمين وكان شعارهم يومئذ يا محمداه[البداية والنهاية لابن کثیر: 6/ 324]۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی ہے لیکن اس کی سند تاریخ طبری میں ہے چنانچہ: امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310)نے کہا: كتب إلي السري، عن شعيب، عن سيف، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُحَيْمٍ قَدْ شَهِدَهَا مَعَ خَالِدٍ، قَالَ: لَمَّا اشْتَدَّ الْقِتَالُ- وَكَانَتْ يَوْمَئِذٍ سِجَالا إِنَّمَا تَكُونُ مَرَّةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَمَرَّةً عَلَى الْكَافِرِينَ- فَقَالَ خَالِدٌ: أَيُّهَا النَّاسُ امْتَازُوا لِنَعْلَمَ بَلاءَ كُلِّ حَيٍّ، وَلِنَعْلَمَ مِنْ أَيْنَ نُؤْتَى! فَامْتَازَ أَهْلُ الْقُرَى وَالْبَوَادِي، وَامْتَازَتِ الْقَبَائِلُ من اهل البادية واهل الحاضر، فَوَقَفَ بَنُو كُلِّ أَبٍ عَلَى رَايَتِهِمْ، فَقَاتَلُوا جَمِيعًا، فَقَالَ أَهْلُ الْبَوَادِي يَوْمَئِذٍ: الآنَ يَسْتَحِرُّ الْقَتْلُ فِي الأَجْزَعِ الأَضْعَفِ، فَاسْتَحَرَّ الْقَتْلُ فِي أَهْلِ الْقُرَى، وَثَبَتَ مُسَيْلِمَةُ، وَدَارَتْ رَحَاهُمْ عَلَيْهِ، فَعَرَفَ خَالِدٌ أنَّهَا لا تَرْكُدُ إِلا بِقَتْلِ مُسَيْلِمَةَ، وَلَمْ تَحْفَلْ بَنُو حَنِيفَةَ بِقَتْلِ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ ثُمَّ بَرَزَ خَالِدٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ أَمَامَ الصَّفِّ دَعَا إِلَى الْبِرَازِ وَانْتَمَى، وَقَالَ: أَنَا ابْنُ الْوَلِيدِ الْعود، أَنَا ابْنُ عَامِرٍ وَزَيْدٍ! وَنَادَى بِشِعَارِهِمْ يَوْمَئِذٍ، وَكَانَ شِعَارُهُمْ يَوْمَئِذٍ: يَا مُحَمَّدَاهُ! [تاريخ الطبري: 3/ 293] یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے ۔ اس کی سند میں کئی خرابیاں ہیں۔ خالدرضی اللہ عنہ سے نقل کرنے والا شخص مجہول ہے۔ ضحاک کے والد کے حالات بھی معلوم نہیں ۔ خود ضحاک بھی ضعیف ہے۔ سیف بن عمر تو مشہور ضعیف راوی ہے۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر 20، 2014
  7. ‏اکتوبر 20، 2014 #37
    ایک گنہگار

    ایک گنہگار مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2014
    پیغامات:
    72
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    شکریہ.
    جزاک اللہ خیراً
     
  8. ‏اکتوبر 21، 2014 #38
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,554
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    وانتم فجزاکم اللہ خیرا
     
  9. ‏اگست 06، 2018 #39
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    السلام علیکم

    محترم شیوخ
    ٹھیک اس ہی طرح کی ایک روایت ابن کثیر سے بیان کی جاتی ھے کے ایک اعرابی نبی ص کی قبر پر آیا اور کہا یا رسول اللّه قرآن میں فرمان ھے کے اگر نبی چاہیں تو اللّه معاف کردیگا انہیں جنہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا

    اس پر ابن کثیر رح کا کیا موقف ھے اور روایت پر کس کس کی جرح موجود ھے

    جزاک اللّه خیرا کثیرا
     
  10. ‏اگست 06، 2018 #40
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    شاید آپ مالک الدار والی روایت کی بات کر رہے ہیں۔
    ناجائز وسیلہ سے متعلق ضعیف احادیث
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. زیشان علی
    جوابات:
    2
    مناظر:
    426
  2. محمد عامر یونس
    جوابات:
    1
    مناظر:
    607
  3. بنتِ تسنيم
    جوابات:
    0
    مناظر:
    730
  4. عامر عدنان
    جوابات:
    4
    مناظر:
    1,128
  5. Hina Rafique
    جوابات:
    2
    مناظر:
    613

اس صفحے کو مشتہر کریں