1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یزید بن معاویہؒ کے بارے میں ان روایات کی تحقیق درکار ہے!

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از عدیل سلفی, ‏ستمبر 10، 2019۔

  1. ‏ستمبر 10، 2019 #1
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,552
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    شیخ @کفایت اللہ ان روایات کی تحقیق اور صحیح ترجمہ درکار ہے

    أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْآيَاتُ خَرَزَاتٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ، يُقْطَعُ السِّلْكُ فَيَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا» قَالَ خَالِدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ: كُنَّا نَادِينَ بِالصَّبَاحِ، وَهُنَاكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَكَانَ هُنَاكَ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي الْمُغِيرَةِ يُقَالُ لَهَا: فَاطِمَةُ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: «ذَاكَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ» ، فَقَالَتْ: أَكَذَاكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو تَجِدُهُ مَكْتُوبًا فِي الْكِتَابِ؟ قَالَ: «لَا أَجِدُهُ بِاسْمِهِ وَلَكِنْ أَجِدُ رَجُلًا مِنْ شَجَرَةِ مُعَاوِيَةَ يَسْفِكُ الدِّمَاءَ، وَيُسْتَحَلُّ الْأَمْوَالَ، وَيَنْقُضُ هَذَا الْبَيْتَ حَجَرًا حَجَرًا، فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ وَأَنَا حَيٌّ وَإِلَّا فَاذْكُرِينِي» ، قَالَ: " وَكَانَ مَنْزِلُهَا عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْحَجَّاجِ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ وَرَأَتِ الْبَيْتَ يُنْقَضُ، قَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَدْ كَانَ حَدَّثَنَا بِهَذَا "
    المستدرک علی الصحیحین، جلد ۴، صفحہ نمبر ۵۲۰، رقم: ۸۴۶۱

    أخبَرنَا أَبو غَالب أَحمَد بِن الحَسَن أَنَا أَبو الحسين بن الآبَنوسِي أنَا عبيد الله بِن عثمَان بِن جَنِيقَا الدَقاق أنا إسماعيل بن علي الخطبي، قال: وكان مسير الحُسَيْن بن علي بن أبي طالب ويكنى بأبي عبد الله وأمه فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة إلى العرَاق بعد أن بايع له من أهل الكوفة اثنا عشَر ألفا على يدي مسلم بن عقيل بن أبي طالب وكتبوا إليه في القدوم عليهم فخرج من مكة قاصدا إلى الكوفة وبلغ يزيد خروجه فكتب إلى عبيد الله بن زياد وهو عامله على العراق يأمره بمحاربته وحمله إليه إن ظفر به فوجه اللعين عبيد الله بن زياد الجيش إليه مع عمر بن سعد بن أبي وقاص وعدل الحسين إلى كربلاء فلقيه عمر بن سعد هناك فاقتتلوا فقتل الحسين رضوان الله عليه ورحمته وبركاته ولعنة الله على قاتله وكان قتله في اليوم العاشر من المحرم يوم عاشوراء من سنة إحدى وستين
    تاریخ دمشق لابن عساکر الدمشقی، جلد ۱۴، صفحہ نمبر ۲۱۳ واسنادہ صحیح الیٰ اسماعیل بن علی الخطبی

     
  2. ‏ستمبر 15، 2019 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    یہ روایت ضعیف ہے ۔
    خالد بن الحویرث کی معتبرتوثیق موجود نہیں ہے ۔

    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233) نے کہا:
    لا اعرفه [تاريخ ابن معين، رواية الدارمي: ص: 104]

    امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
    خالد هذا كما قال ابن معين لا يعرف وأنا لا أعرفه أيضا [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي ت عادل وعلي: 3/ 472]

    إسماعيل بن علي الخطبي کی پیدائش 269 ہجری ہے
    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    ولد في أول سنة تسع وستين ومائتين[تاريخ الإسلام ت بشار 7/ 888]
    یعنی یہ شہادت حسین کے ڈھائی صدی بعد پیدا ہوئے اس لئے سند منقطع ہے ۔لہٰذا یہ روایت بھی ثابت نہیں
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد علی جواد
    جوابات:
    2
    مناظر:
    236
  2. مظفر اختر
    جوابات:
    1
    مناظر:
    266
  3. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    6
    مناظر:
    583
  4. محمد طلحہ سلفی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    679
  5. Talha Salafi
    جوابات:
    0
    مناظر:
    576

اس صفحے کو مشتہر کریں