1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کا دفاع کیوں؟؟؟

'شرح وفوائد' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏نومبر 20، 2013۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏نومبر 20، 2013 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کا دفاع کیوں؟؟؟

    عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ رَدَّ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ القِيَامَةِ»
    صحابی رسول ابوالدرداء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کی عزت سے اس چیز کو دور کرے گا جو اسے عیب دار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے جہنم کی آگ دور کر دے گا۔ [سنن الترمذي ت شاكر 4/ 327 والحدیث صحیح باتفاق العلما ء ، رقم 1931]۔
    اس حدیث میں اس بات کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے کہ کسی مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کیا جائے بلکہ اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدس عمل کو جہنم سے نجات کا ذریعہ بتایا گیا ۔
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کی عزت کادفاع کرنا ایک مستحب اور بے حدپسندیدہ کام ہے اس حدیث پرعمل کرتے ہوئے اگرایسی شخصیات کی عزتوں کا دفاع کیا جائے جو صاحب فضیلت ہوں تو اس عمل کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے مثلا اگر کسی صحابی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے اور ان پر غلط اورجھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں تو ایسے صحابی کی عزت کا دفاع کرنا بہت بڑی عبادت اوربہت بڑے اجرو ثواب کا باعث ہے۔
    اسی طرح صحابہ کے بعد تابعین کی جماعت امت مسلمہ کی افضل ترین جماعت ہے اگر اس جماعت کے کسی فرد کی عزت پر حملہ کیا جائے اور اس پرجھوٹے الزامات لگائے جائیں تو ان کا دفاع کرنا بھی بہت بڑے ثواب کا کام ہے اور جہنم سے نجات کا ذریعہ ۔
    یزید بن معاویہ رحمہ اللہ تابعین میں سے ہیں بلکہ صحابی رسول امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔اوران پربھی جھوٹے ، مکار اورسبائی درندوں نے بہت سارے الزامات لگائے ہیں اور ان کی عزت پر بہت حملہ کیا ہے اس لئے ان کا دفاع کرنا بھی پیش کردہ حدیث پرعمل کرنے میں شامل ہے۔ یادرہے کہ:
    اللہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یزید بن معاویہ کی بخشش کی بشارت دی ہے (بخاری رقم 2924 نیز دیکھیں رقم 1186)۔
    صحابہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں نیک اورصالح ترین شخص کہا ہے [أنساب الأشراف للبلاذري: 5/ 290 واسنادہ حسن لذاتہ]۔۔اسی طرح حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں امیرالمؤمنین کہا ہے[تاريخ الأمم والرسل والملوك- الطبري 3/ 299 واسنادہ صحیح]۔
    تابعین میں محمدبن حنفیہ رحمہ اللہ نے انہیں عبادت گذار ، خیر کا متلاشی ، سنت کا پاسداراور علم دین کا شیدائی کہا ہے [البداية والنهاية: 8/ 233 ،تاريخ الإسلام للذهبي ت تدمري 5/ 274 واسنادہ صحیح]۔
    اس کے برخلاف یزید کے مذمت میں جوباتیں کہی جاتی ہیں ان میں سے ایک بھی خیرالقرون کے حوالہ سے ثابت نہیں ہیں اورصدیوں بعد پیداہونے والے بعض اہل علم کی شاذ آراء بے دلیل ہونے کےسبب مردود اورباطل ہیں۔
    معلوم ہوا کہ یزیدبن معاویہ کی صرف خوبیاں ہی ثابت ہیں اس لئے ان پر بے دلیل لگائے گئے الزامات کا رد کرنا اور ان کی شخصیت کا دفاع کرنا مذکورہ حدیث کی روشنی میں بہت بڑے ثواب کا کام ہے اور جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ یزید کے بہانے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک پہنچنے اور ان کی کردار کشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دفاع یزید کی ذمہ داری اوربڑھ جاتی ہے۔
     
  2. ‏نومبر 20، 2013 #2
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    جزاکم اللہ خیرا۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 21، 2013 #3
    شادان

    شادان رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 01، 2012
    پیغامات:
    119
    موصول شکریہ جات:
    132
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    ﺟﺰﺍﮐﻢ ﷲ ﺧﻴﺮ
     
  4. ‏نومبر 21، 2013 #4
    انصاری نازل نعمان

    انصاری نازل نعمان رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2013
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    121
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    جزاکم اللہ خیرا۔۔۔
     
  5. ‏نومبر 21، 2013 #5
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    جزاک اللہ خیرا شیخ محترم! اللہ آپ کے علم وعمل میں برکت عطا فرمائے۔آمین​
     
  6. ‏دسمبر 12، 2013 #6
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    شیخ کفایت اللہ امام حسین نے کس جگہ پر یزید کو امیر المومنین کہا ہے مجھے تو تاریخ طبری میں ایسی بات نہیں ملی آپ ہی رہنمائی فرما دیں البتہ ابن کثیر نے انہیں امیر المومنین لکھا ہے
     
  7. ‏دسمبر 12، 2013 #7
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310)نے کہا:
    حدثنا محمد بن عمار الرازي قال حدثنا سعيد بن سليمان قال حدثنا عباد بن العوام قال حدثنا حصين ۔۔۔قال حصين فحدثني هلال بن يساف أن ابن زياد أمر بأخذ ما بين واقصة إلى طريق الشأم إلى طريق البصرة فلا يدعون أحدا يلج ولا أحدا يخرج فأقبل الحسين ولا يشعر بشيء حتى لقي الأعراب فسألهم فقالوا لا والله ما ندري غير أنا لا نستطيع أن نلج ولا نخرج قال فانطلق يسير نحو طريق الشأم نحو يزيد فلقيته الخيول بكربلاء فنزل يناشدهم الله والإسلام قال وكان بعث إليه عمر بن سعد وشمر بن ذي الجوشن وحصين بن نميم فناشدهم الحسين الله والإسلام أن يسيروه إلى أمير المؤمنين فيضع يده في يده
    ہلال بن یساف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : عبیداللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ واقصہ اورشام وبصرہ کے بیچ پہرہ لگادیا جائے اورکسی کو بھی آنے جانے سے روک دیا جائے، چنانچہ حسین رضی اللہ عنہ ان باتوں سے بے خبر آگے بڑھے یہاں تک بعض اعرابیوں سے آپ کی ملاقات ہوئی تو آپ نے سے پوچھ تاچھ کی تو انہوں نے کہا : نہیں اللہ کی قسم ہمیں کچھ نہیں معلوم سوائے اس کی کہ ہم نہ وہاں جاسکتے ہیں اورنہ وہاں سے نکل سکتے ہیں۔پھرحسین رضی اللہ عنہ شام کے راستہ پر یزیدبن معاویہ کی طرف چل پڑے ، ، پھر راستہ میں گھوڑسواروں نے انہیں کربلا کے مقام پر روک لیا اوروہ رک گئے ، اورانہیں اللہ اوراسلام کا واسطہ دینے لگے ،عبیداللہ بن زیاد نے عمربن سعدبن بی وقاص ، شمربن ذی الجوشن اورحصین بن نمیرکو ان کی جانب بھیجاتھا حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے اللہ اوراسلام کا واسطہ دے کرکہا : وہ انہیں امیرالمؤمنین یزیدبن معاویہ کے پاس لے چلیں تاکہ وہ یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں[تاريخ الأمم والرسل والملوك- الطبري 3/ 299 واسنادہ صحیح]۔

    یادرہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کا یزید بن معاویہ کو امیرالمؤمنین کہنا ایسی حقیقت ہے کہ اسے شیعہ راویوں نے بھی نقل کیا ہے لیکن ساتھ میں بہت سارے جھوٹ کی ملاوٹ کردی ہے۔
     
    • زبردست زبردست x 5
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏دسمبر 12، 2013 #8
    ضدی

    ضدی رکن
    جگہ:
    برطانیہ
    شمولیت:
    ‏اگست 23، 2013
    پیغامات:
    291
    موصول شکریہ جات:
    234
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    ابن کثیرنے اگر یزید کو امیرالمومنین لکھا ہے تو آپ حوالہ پیش کیجئے اس طرح سے کہہ دینا آپ کی بات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا بلکہ کئی شبہات پیدا ہونگے۔
     
  9. ‏دسمبر 13، 2013 #9
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91


    حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ البدایہ والنھایہ جلد 8 ترجمہ یزید بن معاویہ میں لکھتے ہیں

    وهذه ترجمة يزيد بن معاوية هو يزيد بن معاوية بن أبي سفيان بن صخر بن حرب بن أمية بن عبد شمس، أمير المؤمنين أبو خالد الأموي، ولد سنة خمس أو ست أو سبع وعشرين، وبويع له بالخلافة في حياة أبيه
    yzd.JPG
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏مئی 23، 2014 #10
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,096
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    میری نظر میں تاریخِ اسلام میں جتنا امیر یزیدؒ بن معاویہؓ اور محمد بن عبد الوہاب ؒ کو بدنام کیا گیا شائد ہی کسی اور کو کیا گیا ہو۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد علی جواد
    جوابات:
    2
    مناظر:
    236
  2. مظفر اختر
    جوابات:
    1
    مناظر:
    263
  3. عدیل سلفی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    311
  4. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    6
    مناظر:
    582
  5. محمد طلحہ سلفی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    679
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں