1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یوم عرفہ کا روزہ ، ٩/ذی الحجہ کو یا وقوف عرفات پر؟

'نفلی روزے' میں موضوعات آغاز کردہ از باذوق, ‏نومبر 02، 2011۔

  1. ‏نومبر 02، 2011 #1
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    یومِ عرفہ کا روزہ
    9۔ذی الحجہ کو یا وقوفِ عرفات پر ؟

    بشکریہ :
    روزنامہ "اردو نیوز" ، روشنی سپلیمنٹ ، مورخہ 14۔ڈسمبر 2007ء

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    دنیا بھر کے مسلمان ، یومِ عرفہ کا روزہ کس دن رکھیں ؟
    اپنے ملک کے کیلنڈر (اسلامی/قمری) کے حساب سے 9۔ذی الحجہ کو یا حج کے دوران حجاج کرام کے وقوفِ عرفات کے دن؟

    اس اختلاف کا سبب دراصل رویت ہلال کی رو سے اختلافِ مطالع اور مختلف ممالک میں قمری تاریخ کے مختلف ہونے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس اختلاف کا کوئی واضح ثبوت کم و بیش نصف قرن پہلے تک نہیں ملتا البتہ اب کچھ سالوں سے یہ اختلاف ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔

    اختلافِ مطالع کو جو لوگ معتبر مانتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ :
    جس ملک میں جب 9۔ذی الحجہ ہوگی ، وہ یومِ عرفہ ہوگا اور وہاں کے لوگوں کو اسی دن یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا ہوگا۔
    اس کی دلیل میں ان لوگوں کے پاس صحیح بخاری کی درج ذیل حدیث ہے :
    صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ - صحیح بخاری ، کتاب الصوم
    چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے 30 دن پورے کر لو۔
    اس حدیث سے چاند دیکھنے کی اور قمری تاریخ کی اہمیت کی دلیل لی جاتی ہے۔
    اگر برصغیر ، جاپان و کوریا کے مسلمان ، بغیر چاند دیکھے ، سعودی عرب کے مطابق رمضان کے روزے شروع کر دیں اور عید بھی منا لیں تو کیا یہ صحیح ہوگا؟

    دوسری طرف جو لوگ اختلافِ مطالع کو معتبر نہیں مانتے ، ان کے پاس دلیل یہ ہے کہ ۔۔۔
    موجودہ تیز تر وسائلِ نقل و حرکت اور ذرائع ابلاغ کے پیشِ نظر ، حجاجِ کرام کے میدانِ عرفات میں ہونے کی خبر لمحہ بہ لمحہ دنیا بھر میں پہنچ رہی ہوتی ہے ، لہذا یومِ عرفہ کا روزہ بھی اسی دن رکھا جائے جب حجاج کرام ، عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔
    اس عقلی دلیل پر چند اشکالات وارد ہوتے ہیں :
    بعض ممالک مثلاً : لیبیا ، تیونس اور مراکش ۔۔۔ ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ یعنی ان ممالک میں جب 10۔ذی الحج کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں یومِ عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ، ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔

    دوسری اہم بات یہ کہ :
    اختلافِ مطالع اگر معتبر نہیں ہے تو ہر چیز میں نہیں ہونا چاہئے۔
    مثلاً ، افطار و سحری کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کے اوقات ہوں۔
    نمازوں کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کی نمازوں کے اوقات ہوں۔
    اگر یہ ممکن نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ : اختلاف مطالع نمازوں اور افطار و سحر کے معاملے میں تو معتبر ہے لیکن رمضان کے روزوں اور یومِ عرفہ کے روزے میں معتبر نہیں ؟؟
    کیا یہ عجیب بات نہیں ؟؟

    صحیح مسلم میں ایک حدیث یوں ہے کہ ۔۔۔۔ (صحیح مسلم ، کتاب الصیام)
    ملک شام میں لوگوں نے روزہ رکھا اور مدینہ منورہ کے لوگوں نے اس کے اگلے دن روزہ رکھنا شروع کیا۔
    فقہائے مدینہ نے اہلِ شام کے ایک دن پہلے روزہ رکھنے کی خبر کو بنیاد بنا کر اہلِ مدینہ کو یہ فتویٰ نہیں دیا کہ : تم ایک روز قضا کرو کیونکہ شام میں چاند ہو چکا تھا۔ بلکہ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ان کی رویت ان کے لیے اور ہماری رویت ہمارے لیے ہے اور (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے)۔

    علاوہ ازیں ، جو لوگ نعرہ لگاتے ہیں کہ : پوری مسلم امت کیوں ایک دن اپنی عید نہیں مناتی ؟
    تو دراصل یہ لوگ گریگورین کلینڈر (عیسائی تقویم) کی برتری کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ عیسوی تقویم کی رو سے بعض جگہ یکم ڈسمبر تو کسی جگہ تین ڈسمبر کو عید ہوتی ہے۔
    حالانکہ اگر غور کیا جائے تو حقیقی ، فطری اور الٰہی یعنی ہجری و قمری تقویم کے مطابق ہر جگہ عید الفطر ، یکم شوال کو اور عید الاضحیٰ 10۔ذی الحجہ کو منائی جاتی ہے۔ ایک مستند فطری اور الٰہی تقویم کو انسانوں کے خودساختہ اصولوں پر مبنی تقویم (گریگورین کلینڈر) پر پرکھنا ، بھلا کہاں کا انصاف ہے ؟

    روزہ و عیدین وغیرہ کے سلسلہ میں بعض حضرات ترمذی شریف کی ایک حدیث سے دلیل دیتے ہیں :
    الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ - جامع ترمذی ، کتاب الجمعہ
    روزہ اس دن رکھا جائے جس دن لوگ روزہ رکھتے ہیں ، عید الفطر اور عید الاضحیٰ بھی اسی دن منائی جائے جب لوگ مناتے ہیں۔

    یہ حدیث واضح تو ہے لیکن اس کے مفہوم کو اپنی مرضی کے مطابق کر لیا جاتا ہے۔
    اس کے حقیقی معنی و مفہوم بیان کرتے ہوئے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے :
    "روزہ اور عید ، جماعت اور لوگوں کی اکثریت کے ساتھ معتبر ہے"۔

    اور امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ اسی مفہوم کی تائید علامہ البانی رحمۃ اللہ نے " تمام المنۃ " میں یوں کی ہے :
    آخری بات ۔۔۔۔
    یومِ عرفہ کے روزہ کا معاملہ ، علماء کرام کے درمیان کا اجتہادی معاملہ ہے۔ اس معاملے میں کوئی حتمی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
    جسے اختلافِ مطالع پر اعتبار و اطمینان ہو ، وہ اپنے ملک کی تقویم کے حساب سے 9۔ذی الحجہ کو "یومِ عرفہ" کا روزہ رکھیں۔
    اور جو موجودہ تیز ترین ذرائع ابلاغ کا اعتبار کرتے ہوئے اختلافِ مطالع کو معتبر نہیں مانتا ، وہ حجاج کو میدانِ عرفات میں دیکھ کر روزہ رکھ لے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 13، 2018 #2
    مزمل ابرار

    مزمل ابرار مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 13، 2018
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    میرے محترم آپ نے تحریر کیا ہے کہ
    اختلافِ مطالع اگر معتبر نہیں ہے تو ہر چیز میں نہیں ہونا چاہئے۔

    مثلاً ، افطار و سحری کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کے اوقات ہوں۔
    نمازوں کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کی نمازوں کے اوقات ہوں۔
    جوابا عرض ہے کہ ہمارے علم میں ہوناچاہئے کہ عبادات میں سے بعض کا تعلق سورج کے ساتھ ، بعض کا چاند کے ساتھ اور بعض کا مقامات کے ساتھ ہے۔ لہذا سحری و افطاری اور نمازیں جن کا تعلق سورج (صبح صادق ، طلوع آفتاب ، زوال اور دومثل سایہ نیز غروب آفتاب ) کےساتھ ہے انہیں قمری حساب میں لانا(رمضان ، ذوالحجہ یامحرم ) سمجھ سے بالا ہے، نیز یوم عرفہ کا تعلق اس دن سے جس روز حجاج کرام میدان عرفات میں ہوتے ہیں، حتی الوسع کوشش کرنی چاہئے اس دن کو پانے کی البتہ اگر کہیں ناممکن ہوتو اللہ تعالی کی رحمت ہر چیز پر واسع ہے۔ واللہ اعلم
     
  3. ‏اگست 15، 2018 #3
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    محترم،
    یہ آپ کی اور جو یہ سوچتے ہیں کہ وقف عرفات کا تعلق جگہ سے متعن ہیں اس وجہ سے وہ غلطی کرتے ہیں وقف عرفات کا تعین کس سے ہوتا ہے لازمی سی بات ہے اس کا تعین بھی چاند دیکھ کر کیا جاتا ہے چاند دیکھنے کے بعد ۹ دن حجاج کرام عرفات میں جمع ہوتے ہیں تو پھر ایسا کیوں ہے کہ باقی تمام ماہ میں اپنے ملک کے چاند کا اعتبار کیا جاتا ہے مگر صرف اس دن کے لئے سعودی عرب کے چاند کا اعتبار پھر تو آپ کو قربانی بھی اسی دن کرنی چاہیے جس دن حجاج قربانی کرتے ہیں کیونکہ ۱۰ ذی الحجہ کو یوم النحر ہوتا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک دن بعد ہم دوبارہ سعودی عرب کے چاند کو چھوڑ کر اپنے چاند کا اعتبار کر لیتے ہیں جبکہ اگر ۹ کو وقف عرفات کا دن کا تعلق مقام سے ہے تو پھر یوم النحر ۱۰ کا تعلق بھی مقام سے ہی ہے جب حجاج خاص مقام پر قربانی کرتے ہیں۔ اللہ ہدایت دے۔
     
  4. ‏اگست 17، 2018 #4
    مزمل ابرار

    مزمل ابرار مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 13، 2018
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    عزیزم قربانی کے لئے تو ہمارے پاس صرف یوم النحر ہی نہیں بلکہ اس کے بعد بھی ایام کی وسعت ہے ،آپ اتنی تنگ دلی کامظاہرہ کیوں کر رہے ہیں، میرے محترم آپ کے نزدیک جو لوگ دوسرے اور تیسرے دن یاچوتھے دن قربانی کرتے ہیں ان پر آپ یقینا تلوار حمائل ہوں گے، معزرت سے ، وسعت میں خیر ہے، اور جس عبادت کو شریعت نے جہاں سے موسوم و موقوف کیا ہے اسے ملحوظ رکھاجائے۔
     
  5. ‏اگست 18، 2018 #5
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    محترم،
    میں بھی یہ عرض کرنا چاہ رہا ہیں کہ یوم عرفہ کو چاند سے دیکھا جاتا ہے صحابہ کرام کے دور میں کوئی شہادت بھی ایسی نہیں کے مدینہ سے لے کر آدھی دنیا میں سب مسلمانوں نے ایک ہی دن یوم عرفہ کا روزہ رکھا ہو یا کم و بیش نے ایسا کیا ہے اور جہاں تک یوف النحر کی بات ہے تو قربانی کرنے کے لحاظ سے سب سے افضل دن یوم النحر کا ہے اور اگر کوئی یہ دن پانا چاہے تو وہ اس دن ہی قربانی کرئے جب حجاج کرتے ہیں کیونکہ یوم النحر کا دن بھی اسی دن ہے تو جب یوم النحر کا دن سعودی عرب کے حساب سے ہوگا تو باقی دو دن یا تین دن جو قربانی کی وسعت ہے وہ بھی انہی کے حساب سے ہونے چاہیے اسی لئے میں نے عرض کی تھی کہ یوم عرفہ مقام کے حساب سے نہیں چاند کے حساب سے ہے اور اس کو ہر ملک کے لحاظ سے ہی رہنے دیں کیونکہ جو سلف سے ثابت نہیں وہ چیز اپنی طرف سے نکالنا کیا بن جاتا ہے یہ آپ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں