1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یکم جولائی سے 100 روپے کے بیلنس پر صرف 64 روپے ملا کریں گے

'ٹیکس' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جون 18، 2016۔

  1. ‏جون 18، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    یکم جولائی سے 100 روپے کے بیلنس پر صرف 64 روپے ملا کریں گے، 36 روپے ٹیکس کے نام پر حکومت ڈکارے گی۔

    تمام موبائل کے شیدائی اس تحریر کو پڑھ کر شیئر کریں

    ایک بادشاہ کی رعایا تھی جن پر کوئی بھی قیامت ٹوٹ پڑے مگر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا ... مگر بادشاہ چاہتا تھا کہ لوگ بولیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں .اس نے اپنے وزیروں سے مشوره کیا جنہوں نے مشوره دیا کہ عوام کے لئے اچھی موٹر وے بنا دی جائے تو یقینا خوش ہو کر داد دیں گے . بادشاہ نے فورا موٹر وے بنا ڈالی . مہینوں انتظار کیا مگر عوام چپ رہی اب بادشاہ تلملا گیا پھر وزیروں کو بلایا اور یہ طے پایا کہ موٹر وے پر ٹول ٹیکس لگا دیا جائے عوام چیخ کر ضرور بولے گی . اور ٹیکس لگا دیا گیا مگر عوام کی طرف سے بد ستور خاموشی رہی . اب کہ بادشاہ کا غصہ بھی آپے سے باہر ہو گیا پھر وزیروں کو بلایا گیا کہ موٹر وے بھی بنا دی اور ٹیکس بھی لگا دیا مگر عوام کی خاموشی نہیں ٹوٹی اب کوئی ایسا کام کیا جائے کہ عوام ضرور بولے . اور یہ طے پایا گیا کہ موٹر وے پر جہاں ٹیکس وصول کیا جاتا ہے وہاں ایک آدمی کھڑا کر دیا جائے جو ہر آنے جانے والے پر ٹیکس لینے کے بعد ایک جوتا بھی رسید کر دے . ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ عوامی نمائندے دربار میں حاضر ہو گئے . بادشاہ نے دل ہی دل میں اپنی کامیابی پر خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوے آنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا .. ہم یہ درخواست لے کر آئے ہیں کہ موٹر وے پر جہاں ٹیکس وصول کرنے کے بعد جوتے لگانے والا آدمی کھڑا کر رکھا ہے اس کے اکیلا ہونے کی وجہ سے پیچھے لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں آپ کے پاس یہ درخواست لے کر حاضر ہوے ہیں کہ براہ کرم جوتے لگانے والے آدمیوں کی تعداد بڑھا دی جائے .

    یہ ہے ہم لوگو کا پاکستانی قوم کا حال.. ...اور پھر ہم الله سے کہتے ہیں یا الله تو ہی سن لے کچھ مدد کر ہماری ...کوئی نیک حکمران دے جو عوام کا بھلا سوچے ... جب ہم خود بے حس ہیں سب کو اپنی پڑی ہے تو الله بھی ایسےلوگو کی نہیں سنتا ...

    اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے

    سورة الرعد:آیت 11

    بسم الله الرحمن الرحيم

    إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ

    الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے

    آج ہم لوگ اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ کسی کا گھر جل رہا ہو تو ہم دیکھتے رہتے ہیں . خدا نہ خواستہ کل کو اپنا گھر بھی جل سکتا ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں