1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یہ شرک ہی ہے‘ عقیدت نہیں

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏مارچ 04، 2015۔

  1. ‏مارچ 04، 2015 #1
    محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 25، 2014
    پیغامات:
    167
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    اہل علم زیادہ تر تکبر میں اور جاہل شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔
    اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی رحمت سے جسے دین کی تھوڑی بہت علم دے دیتے ہیں‘ شیطان اسکے دل میں تکبر کی آگ بھڑکا نے کی پوری کوشش کرتا ہے اور اگر وہ اپنی اصلاح نہ کرتا رہے اور دوسروں کی بات نہ مانے صرف اپنی چلاتا و چِلاتا رہے تو تکبر کی آگ میں وہ شیطان کی طرح اپنے آپ کو بھی آگ کا بنا ہوا سمجھنے لگتا ہے یعنی اپنے آپ کو علامہ اور سب کو جاہل سمجھ بیٹھتا ہے ۔
    حالانکہ یہ خود جہلِ مرکب میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔اپنی تمام تر علم کے باوجود اسے اتنی بھی سمجھ نہیں آتی کہ توحید کیا ہے اور شرک کیا ہے؟
    اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ آج امتِ مسلمہ کی اکثریت قبروں پہ سجدہ کرتی ہے‘ قبر وں کا طواف کرتی ہے‘ قبر وں پہ نذر و نیاز اور قربانی کرتی ہے‘ قبر والوں سے مانگتی ہے ‘ اللہ کے سوا کسی مشکل کشا ء تو کسی کو داتا وغیرۃ سمجھ کر پکارتی ہے‘ لیکن پھر بھی یہ اپنی ہٹ دھرمی اور تکبر میں کہتا ہے : ’’ یہ شرک نہیں‘ یہ تو عقیدت ہے‘‘

    حالانکہ اس کا دل خود بھی گوہی دیتا ہوگا کہ یہ شرک ہی ہے‘ عقیدت نہیں لیکن تکبر کی آگ میں اپنے آپ کو بڑا اور اپنے فرقے کو حق پر ثابت کرنے کیلئے جہلِ مرکب کا سہارا لیتے ہوئے اپنی دل کی بات کو وہ زبان تک نہیں لاتا۔
    تکبر کے نشے میں پڑ کر وہ کسی کی بات نہیں مانتا‘ قر آن و حدیث کیا کہتی ہے اور کیا حق ہے ‘ وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔
    وہ قرآن و حدیث کو پڑھکر بھی حق کو غلط ثابت کرنے کی ہر وقت سوچتا رہتا ہے‘ اسکی کچھ اپنی ہی سمجھ ہوتی ہے جس سے وہ سمجھتا ہے اور لوگوں کو سمجھا تا ہے ۔ اُسکے ہاں میں ہاں ملانے والے بھی بے شمار ہوتے ہیں‘ جو اُسے کچھ سے کچھ بناتے رہتے ہیں اور وہ بڑے سے بڑا بنتا رہتا ہے۔
    اُمت مسلمہ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ۔نہ ماضی میں ایسے لوگوں کی کمی تھی‘ نہ آج ہے۔
    لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے والا‘ شرک و بدعات کو رواج دینے والا‘ شیطان کا ساتھی بن کر اللہ کے زیادہ سے زیادہ بندوں کو جہنم کی طرف لے جانے کی سعی کرنے والا سمجھتا ہے کہ دین کی بڑی خدمت کر رہا ہے۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں