1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

۔ قرآن مجید میں تحریف نہیں ہوئی ہے

'قرآن وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ثمر علي چانديو, ‏جون 06، 2015۔

  1. ‏جون 06، 2015 #1
    ثمر علي چانديو

    ثمر علي چانديو مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2015
    پیغامات:
    19
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    ۔ قرآن مجید میں تحریف نہیں ہوئی ہے ۔
    شيعون کي کتاب (ہمارے عقیدے) اقتباس


    ہمارا عقیدہ ہے کہ آج دنیا کے مسلمانوںکے پاس جو قرآن مجید ہے ، وہ وہی ہے جو پیغمبر اسلام ﷺ پر نازل ہوا تھا اور اس میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہوئی ہے۔ ابتداء نزول وحی سے ہی اصحاب کا ایک بڑا گروہ ، قرآن مجید کی آیات کو نازل ہونے کے بعد لکھا کرتا تھا اور مسلمانوںکایہ فریضہ تھا کہ شب و روز اس کی تلاوت کریں اور پنج گانہ نماز میں اس کی تکرار کریں ۔ایک عظیم گروہ قرآن مجید کے حافظ اور قاری کی حیثیت رکھتا تھا جس کو اسلامی معاشرہ میں ایک خاص مقام و منزلت حاصل رہی ہے ۔
    یہ ساری باتیں اور ان کے علاوہ دوسری باتیں سبب بنیںکہ قرآن مجید چھوٹی سے چھوٹی تحریف و تغییر سے محفوظ رہا ۔
    اس کے علاوہ خدا وند عالم نے قرآن مجید کی دنیا کے ختم ہو نے تک حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ذمہ داری کے بعد قرآن مجید میں کسی بھی طرح کی تغییر و تحریف کا ہونا ممکن نہیں ہے۔ ( انّا نحن نزلنا الذکر و انّا لہ لحافظون ) ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی قطعی طور پر اس کی حفاظت کریں گے۔ بزرگ اسلامی علماء و محققین شیعہ ہوں یا سنی سب اس امر پر متفق ہیں کہ قرآن مجید میں کسی بھی طرح کی تحریف نہیں ہوئی ہے ، سوائے دونوںگروہ کے بعض افراد کے جو بعض روایات کی وجہ سے تحریف کے قائل ہیں حالانکہ دونوںگروہوں کے علماء ان کے نظریہ کو قاطعیت کے ساتھ رد کرتے ہیں اور تحریف کی روایات کو جعلی قرار دیتے ہیں۔ یا انہیں تحریف معنوی (یعنی آیات قرآن کی غلط تفسیر کرنا)یا تفسیر قرآن کو متن قرآن سے خلط کردینا، جانتے ہیں، اس بات پر دقت ہونا چاہئے۔
    ایسے کو تاہ فکر حضرات جن کا تحریف قرآن پر عقیدہ ہے حالانکہ شیعوں اور سنیوں کے بزرگ علماء صریحاً تحریف قرآن کی مخالفت کرتے ہیں ، شیعہ و غیر، گروہ کی طرف اس کی نسبت دیتے ہیںاور ناآگاہانہ طو رپر قرآن مجید کی حیثیت کونقصان پہنچاتے ہیں اور اپنے ان تعصب بھرے عمل سے ، اس مقدس آسمانی کتاب کے اعتبار کو زیر سوال لارہے ہیں اور اس کے تقدس کو مخدوش کر نے کا موقع دشمن کو فراہم کررہے ہیں
    جمع آورئی قرآن کے تاریخ سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانے ہی میں جمع آوری قرآن کے تاریخی عصر پیغمبر ﷺ میں قرآن کے جمع ہو جانے ، اس کے لئے غیر معمولی اہتمام و انتظام ، مسلمانوں کا کتابت ، حفظ و حفاظت کرنا خصوصاً گروہ کاتبان وحی کا روز اول سے وجود میں آنا ، اس حقیقت کو آشکار کردیتا ہے کہ قرآن مجید میں تحریف ہو نا غیر ممکن امر رہاہے۔
    اور اس قرآن کے علاوہ کسی دوسرے قرآن کا وجود نہیں ہے اس بات کی دلیل بالکل واضح ہے اور اس کی تحقیق کے راستے سب کے لئے کھلے ہوئے ہیں اس لئے کہ آج قرآن تمام گھروں ، مسجدوں ، کتب خانوں میں موجود ہے حتی کہ وہ خطی نسخے بھی سینکڑوں سال پہلے لکھے گئے ہیں اور میوزیم میں رکھے ہوئے ہیں سب اس بات کی علامت ہیں کہ یہ وہی قرآن ہے جو جو تمام اسلامی ممالک میں پایا جاتا ہے اور اگر گزشتہ وقتوں میں اس بات کی تحقیق کے وسائل فراہم نہیںتھے تو آج یہ امکان فراہم ہے اور سب کے لئے تحقیق کے راستے کھلے ہیں مختصر جستجو اور تحقیق سے ان باتوں کے بے بنیاد ہونے کی حقیقت آشکار ہو جائے گی۔ فبشّر عبادی الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ ۔ میرے بندوںکو بشارت دیدو کہ جب وہ باتوں کو سنتے ہیں تو ان میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں آج کے دور میں ہمارے مدرسوں میں علوم قرآنی بطور وسیع تدریس کئے جاتے ہیں مھم ترین بحث جو ان مدرسوں میں ہو تی ہے وہ قرآن مجید میں تحریف و تغیر کا نہیں پایا جانا ہے۔ (1)

    (1) ہم نے اپنی کتابوں تفسیر و اصول فقہ کے علاوہ تحریف قرآن سے متعلق مفصل بحثیںکی ہیں (کتاب انوار الاصول اور تفسیر نمونہ کی طرف رجوع کریں )

    قرآن اور انسانی زندگی کی مادی و معنوی ضروریات

    ہمارا عقیدہ ہے کہ جو کچھ انسانی زندگی کی مادی و معنوی ضروریات ہیں ان کے اصول و کلیات قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں نظام حکومت اور مسائل سیاسی دوسرے کے ساتھ معاشرتی روابط ، اصول معاشرت ، جنگ و صلح عدالتی و اقتصادی مسائل وغیرہ ان کے اصول و کلیات بیان ہوئے ہیں جن پر عمل سے ہماری زندگی کے مسائل حل اور بہتر ہو سکتے ہیں
    ترجمہ آیت : ہم نے اس کتاب کو تم پر نازل کیا جو تمام چیزوں کے بارے میں بیان کرنے والی ہے اور مسمانوں کے لئے ھدایت و بشارت ہے اور مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ اپنی حکومت کی زمام خود سنبھالیں اور بلند پایہ اسلامی اقدار کو اس کی مدد سے زندہ کریں اور اسلامی سماج کی اس طرح سے تربیت ہو کہ تمام لوگ عدل و انصاف کی راہ پر گام زن ہو جائیں اور دوست و دشمن سب کے ساتھ عدل و انصاف کرنے کا نظام قائم ہو جائے ۔یا ایھا الذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط شھداء للہ و لو علی انفسکم اووالدین و الاقربین ۔
    اے ایمان لانے والوں عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے قیام کرو اور خدا کے لئے شھادت دو اگر چہ وہ تمہارے یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں کے لئے نقصان کا باعث ہو۔ولا یجرمنکم شنئان قوم علی ان الا تعدلوا اعدلو ا ھوا اقرب للتقوی ۔
    ہر گز ایسا نہ ہو کہ کسی گروہ سے دشمنی تمہیں گناہ وبے انصافی تک لے جائے عدل و انصاف کرو کہ وہ تقوی اور پرھیزگاری سے زیادہ نزدیک ہے ۔
    اس دلیل کی وجہ سے ہمارا عقیدہ ہے کہ ہرگز اسلام حکومت و سیاست سے جدا نہیں ہے ۔

    قرآن مجید، پیغمبر اسلام(ص) کاسب سے بڑا معجزہ ۔


    ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید، پیغمبر اسلام (ص)کے مہمترین معجزوں میں ہے، صرف فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ شیرینی بیان اور معانی کے بلیغ ہونے کے لحاظ سے بھی، ان کے علاوہ دوسرے مختلف جہات کے اعتبار سے بھی قرآن مجید اعجاز ی حیثیت رکھتاہے۔ جس کی شرح و تفصیل عقاید و کلام کی کتابوں میں موجود ہے۔
    اسی دلیل کے سبب ہمارا عقیدہ ہے کہ کوئی قرآن کی مانند حتی اس کے ایک سورہ کی مثال نہیں لاسکتا ۔قرآن نے بارھا شک و تردید کرنے والوں کو دعوت مقابلہ دی مگر کسی میں اس کی نظیر لانے کی جرات پیدا نہ ہوسکی: قل لئن اجتمعت الانس والجن ولی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ و لو کان بعضھم لبعض ظھیرا۔
    اے بنی کہہ دیجئیے کہ اگر انسان و جنات مل کر اس قرآن کا جواب لانا چاہیں تو بھی اس کا جواب نہیں لاسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے شریک بن جائیں۔(1)و ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ وادعوا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین۔
    جو کچھ ہم نے اپنے بندہ (محمد) پر نازل کیاہے اگر اس میں شک و تردید ہے تو (کم از کم) اس جیسا ایک سورہ لے آؤ اور اللہ کے سوا اس کام کے لیے اپنے گواہوں کو دعوت دو اگر تم سچے ہو۔(۲)
    اور ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید، زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف یہ کہ کہنہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے اعجازی نکات اور زیادہ آشکار اور اس کی عظمت دنیا والوں پر روشن ہوتی جاتی ہے۔
    امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں: ان اللہ تبارک و تعالی لم یجعلہ لزمان دوزمان و لناس دون ناس فھو فی کل زمان جدید و عند کل قوم غض الی یوم القیامة۔
    خداوند متعال نے قرآن مجید کو ایک خاص زمانہ یا گروہ کے لیے قرار نہیں دیاہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ ہر زمانہ میں تازہ اور ہر گروہ کے نزدیک قیامت تک کے لیے با طراوت رہے گا۔ (3)

    (1) سورہ اسراء آیہ ۸۸
    (۲)سورہ بقرہ آیہ ۲۳
    (۲)سورہ بقرہ آیہ23


    ۔ تفسیر بہ رای کے خطرات

    ہمارا عقیدہ ہے کہ تفسیر بہ رای قرآن کے وجود کے لئے سب سے خطرناک چیز ہے جسے اسلامی روایات میں گناہ کبیرہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور تفسیر بہ رای کرنے والا بارگاہ قرب خداوند ی سے مردود ہو جاتا ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ خداوند نے ارشاد فرمایا کہ ما امن بی من فسّر برایہ کلامی ۔ جس نے میرے سخن کی اپنے میل اور من سے اپنے ھوای نفس کے مطابق تفسیر کی وہ ایسا ہے کہ گویا مجھ پر ایمان ہی نہیں لایا۔
    بہت سی معروف مشہور کتابوں میں (جیسے صحیح ترمذی و سنن نسائی و سنن ابی داوود )( یہ حدیث پیغمبر اسلام ﷺ سے نقل ہو ئی ہے آپ نے فرمایا : من قال فی القرآن برایہ او بما لا یعلم فلیتّبوء مقعدہ فی النار ۔ جس نے قرآن مجید کی تفسیر اپنے ھوا و ھوس اور میل کے مطابق کی یا نہ جاننے کے باوجود اس بارے میں اپنی رای کا اظہار کیا ، اس کا مقام اور ٹھکانا جہنم ہے۔
    تفسیر بہ رای سے مراد یہ ہے کہ انسان قرآن مجید کو اپنی تمایلات اور شخصی عقیدہ یا گروہی عقیدہ کے مطابق معنا و تفسیر کرے یا ان پر تطبیق کرے حالانکہ اس پر کوئی قرینہ یا شاھد موجود نہ ہو ایسا کرنے والا وقعیت میں قرآن کے حضور میں تابع اور اس کا مطیع نہیں ہے بلکہ وہ قرآن کو اپنا تابع بنانا چاہتا ہے اور اگر وہ قرآ ن مجید پر کاملا ً ایمان رکھتا تو ہر گز ایسا نہیں کرتا ۔ اگر تفسیر بہ رای قرآن کے بارے میں ہوتی رہی تو بلا شبہ پوری طرح سے اس کا اعتبار ختم ہوجائے گا اور جب ہر شخص اپنی میلان کے مطابق اس کے معنا اور تفسیر کرنے لگے گا تو ہر باطل عقیدہ قرآن کے اوپر تطبیق دیا جانے لگے گا ۔
    لہذا تفسیر بہ رای یعنی قوانین و مقررات علم لغت اور ادبیات عرب ، فھم اھل زبان کے خلاف قرآن مجید کی تفسیر اور اسے اپنے باطل گمان اور خیالات و رای اور تمایلات شخصی و گروہی کے مطابق تطبیق دینا ، قرآن مجید میں معنوی تحریف کا سبب ہو جائے گا ۔ تفسیر بہ رای کی کئی شاخیں ہیں ان میںسے ایک آیات قرآن کے ساتھ جدا جد نا برتاؤ کرنا ہے ، اس معنا میں کہ انسان مثلاً شفاعت و توحید و امامت وغیرہ کی بحث میں صرف ان آیات کا انتخاب کرے جو اس کے نظریہ کے موافق ہو ں اور ان آیات کو جو اس کے مزاق سے موافقت نہ رکھتی ہوں اور دوسری آیات کی تفسیر کر سکتی ہوں انھیں نظر انداز کرے یا ان کی بحث سے سرسری اور بے توجھی سے گزرجائے ۔
    خلاصہ کلام یہ کہ : جس طرح سے الفاظ قران کریم کے بارے میںجمود اختیار کرنا اور معتبر وعقلی و نقلی قرینوں پر توجہ نہ کرنا ایک طرح سے انحراف ہے تفسیر بہ را ی بھی اسی طرح کا انحراف شمار کی جائے گی جبکہ دونوں ہی قرآن کی اعلی و مقدس تعلیمات سے دوری کا سبب بنتا ہے یہ نکتہ غور طلب ہے ۔



    ۔ تلاوت تدبر و تفکر اور عمل

    ہمارا عقیدہ ہے کہ تلاوت قرآن افضل ترین عبادتوں میں سے ہے کم عبادتیں ہیں کہ جو اس کے پائیہ منزلت تک پہونچ سکتی ہیں اس لئے کہ یہ تلاوت فکر کو الھام بخشنے والا ، قرآن میں تدبر اور تفکر کرنے اور نیک و صالح اعمال کا سرچشمہ ہے ۔
    قرآن پیغمبر اسلام کو خطاب کرکے فرماتا ہے :قم اللیل الا قلیلاً ،نصفہ او انقص منہ قلیلاً او زد علیہ و رتّل القرآن ترتیلاً ۔
    شب میںکم عبادتیںکریں آدھی رات (بیدار ہوں) یا اس سے پہلے کی بیداری کو کم کریں یا بڑھائیں اور تلاوت قرآن مجید کو دقت اور فکر کے ساتھ تلاوت کریں قرآن تمام مسلمانوں کو خطاب کر کے فرماتا ہے : جہاں تک ممکن ہو سکے قرآن کی تلاوت کیا کرو ۔قرآن کی تلاوت تا حد امکان کرو ۔

    ہاں لیکن جیسا کہ بیان کیا گیا قرآن کی تلاوت اس میں اور اس کے معنی میں تفکر و رتدبر کا سبب ہونا چاہئے اور یہ تفکر و تدبر اس پر عمل کرنے کے لئے مقدم ہونا چاہئے افلا یتدبرون القرآن ام علی قلو بھم اقفالھا۔ کیا وہ قرآن میں تفکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ہے۔
    و لقد یسرنا القرآن للذکر فہل من مذکر ۔ ہم نے قرآن مجید کو یاد آوری کے لئے آسان کر دیا ہے آیا کوئی ہے جو اس پر عمل کرے۔ (۱)
    ہذا کتاب انزلناہ مبارک فاتبعوہ یہ پر برکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ نازل کیا ہے لہذا اس کی پیروی کریں لہذا وہ لوگ جو قرآن کی تلاوت اور حفظ پر قناعت کر تے ہیں اور اس کی آیات میں غورو فکر نہیں اور اس کے معنا پر عمل نہیں کرتے ، اگر چہ انہوں نے تین میں سے ایک رکن پر عمل کیا ہے لیکن دو زیادہ اہم رکن سے محروم رہے ہیں اور عظیم خسارہ اٹھایا ہے ۔

    (۱) بدیہی اور واضح ہے اگر تفسیر بہ رای کرنے والا شخص صحیح و سالم ایمان کا مالک ہو تا تو کلام خداکو اسی معانی و مفاھیم کے ساتھ قبول کرلیتا اور اسے اپنے میل اور ھوا وھوس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کرتا ۔




     
    Last edited: ‏جون 06، 2015
  2. ‏جون 09، 2015 #2
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    383
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    تو پھر شیعہ ک مایہ ناز بزرگوں نوری الطبرسی، مجلسی اور ان کے ہمنوا لوگوں کو کس کھاتے میں رکھیں۔ جنہوں نے وہ آیات بھی اپنی کتابوں میں لکھیں ہیں جو ان کے مطابق خلفاء ثلاثہ رضوان اللہ علہم نے قرآن سے نکالیں یا پھر ڈالین ۔۔۔یاد رہےقرآن کریم پر ایمان نہ لانہ کفر ہے اور اس میں تحریف کا قائل ہونا بھی کفر ہی ہے۔
     
  3. ‏جون 10، 2015 #3
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محمد باقر المجلسی کے بارے میں کیا خیال ہے؟
    اصول کافی کے باب النوارد کی روایت:
    ہشام بن سالم نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ جو قرآن جبرئیل امین حضرت رسول خدا پر لے کر آئے تھے اس میں سترہ ہزار آیتیں تھیں۔
    کی تشریج و تحقیق کرتے ہوئے محمد باقر المجلسی اصول کافی کی شرح "مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول " میں رقم طراز ہیں:

    مرآة العقول »» ملا باقر المجلسي (1111 ھ)
    (الحديث الثامن و العشرون)

    موثق. و في بعض النسخ عن هشام بن سالم موضع هارون بن مسلم، فالخبر صحيح و لا يخفى أن هذا الخبر و كثير من الأخبار الصحيحة صريحة في نقص القرآن و تغييره، و عندي أن الأخبار في هذا الباب متواترة معنى، و طرح جميعها يوجب رفع الاعتماد عن الأخبار رأسا بل ظني أن الأخبار في هذا الباب لا يقصر عن أخبار الإمامة فكيف يثبتونها بالخبر.

    مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول - العلامة محمد باقر المجلسي –مجلد 12 صفحه525


    قابل اعتماد ہے اصول کافی کے بعض نسخوں میں ہشام بن سالم کی جگہ ہارون بن مسلم کا نام ہے۔ پس یہ حدیث صحیح ہے اور بات واضح رہے کہ بلا شبہ یہ حدیث اور بہت سی دوسری احادیث جو صراحتا قرآن میں کمی اور تبدیلی پر دلالت کرتی ہیں میرے نزدیک یہ تحریف کے باب میں معنا متواتر ہیں ۔ اور ان سب کا انکار کرنے سے ذخیرہ احادیث سے اعتماد ختم ہوگا۔ بلا شبہ اس باب (یعنی تحریف القرآن) کی روایات امامت کی روایات سے کم نہیں ہیں (ان روایات تحریف القرآن کا انکار کردیا جائے ) تو عقیدہ امامت حدیث سے کس طرح ثابت ہوگا۔
    فإن قيل: إنه يوجب رفع الاعتماد على القرآن لأنه إذا ثبت تحريفه ففي كل آية يحتمل ذلك و تجويزهم عليهم السلام على قراءة هذا القرآن و العمل به متواتر معلوم إذ لم ينقل من أحد من الأصحاب أن أحدا من أئمتنا أعطاه قرانا أو علمه قراءة، و هذا ظاهر لمن تتبع الأخبار،
    اگر یہ کہا جائے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ قرآن سے اعتماد ختم ہو جائے، کیونکہ جب قرآن میں تحریف ثابت ہے تو اس کی ہر ہر آیت میں تحریف کا احتمال ہے، اور ائمہ علیہ السلام نے اس قرآن کی قراءت کو تجويز کیا ہے، اور اسی قرآن پر متواتر عمل ہے معلوم ہے، ہمارے کسی ایک امام کے بھی کسی بھی صاحب نے یہ نقل نہیں کیا کہ انہیں امام نے قران دیا ہو ، یا قراءت سکھلائی ہو، اور ہم اسی ظاہر اخبار کی اتباع کرتے ہیں۔

    http://gadir.free.fr/Ar/Ehlibeyt/kutub2/Mirat_ul_Ukul/012.htm

    یہ تو ایک ہے، قمی و کلینی سے لے کر مقبول وخمینی تک کا تحریف القرآن کا عقیدہ ہے، جس کے ثبوت پیش کئے جا سکتے ہیں۔
     
  4. ‏جون 11، 2015 #4
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    پھر حضرت عمر اور امی عائشہ کے اقوال کیا ہوگا جن میں کہا گیا ہے آیت رجم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تلاوت کی جاتی تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال والے دن ان آیت کو بکری کھا گئی اور تو اور حضرت عمر کا تو یہ کہتے تھے کہ اگر مجھے لوگوں کا ڈر نہیں ہوتا تو میں آیت رجم اپنے ہاتھ سے مٍحصف میں لکھ دیا اورلوگوں کے آگے اس آیت رجم کی تلاوت بھی فرمایا کرتے تھے

    اب ان مایہ ناز بزرگوں کو کس کھاتے میں رکھا جائے گا
     
  5. ‏جون 12، 2015 #5
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکات!
    ان تمام اقوال سے جو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، ہوگا یہ کہ:
    اہل سنت والجماعت کا ناسخ و منسوخ کا عقیدہ ثابت ہوگا اور روافضہ کا نظریہ تنسیخ کے بطلان کا ثبوت ہو گا!!
     
  6. ‏جون 13، 2015 #6
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    جہاں تک اس حدیث کی سند کا تعلق ہے یہ ابن ماجہ میں سند حسن کے ساتھ موجود ہے [ابن ماجہ مع احکام البانی] اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعہ کی محض خبر دی گئی ہے.اس سے جو مطلب وساوس پیدا کرنے والوں نے نکالا وہ انکا خودساختہ ہے کہ یہ آیت معاذ اللہ قرآن کا حصہ تھی لیکن بکری کے کھا جانے کی وجہ سے موجودہ قرآن میں نہیں اور قرآن نامکمل ہے۔۔۔
    پہلی بات اس دور میں بھی قرآن مختلف لوگوں کے پاس لکھا ہوا تھا اور اسکے سینکڑوں حفاظ بھی موجود تھے، یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ بکری قرآن کی آیت کھا گئ تھی اور وہ آیت صحابہ کے سینوں سے بھی نکل گئ ؟ بکری کے کسی ایک کاغذ یا پتے کو کھا جانے سے قرآن کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔۔ ۔ یہ ایک غیر معقول بات ہے۔

    یہ آیت قرآن میں موجود کیوں نہیں ؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ان آیات میں سے ہے جن کا تعلق ناسخ منسوخ سے ہے ۔ کسی آیت کے ناسخ یا منسوخ ہونے کا حکم دلیل شرعی سے معلوم ہوتا ہے قرآن میں ہے ۔
    { مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَا اَوْ مِثْلِہَا۔۔۔} (البقرہ: ۱۰۶) ہم کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لاتے ہیں۔
    نسخ کی کئی قسمیں ہیں مثلا (۱)تلاوت منسوخ ہوجائے؛ لیکن حکم باقی رہے (۲)حکم منسوخ ہوجائے؛ لیکن تلاوت باقی رہے (۳)تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوجائے۔۔ رجم کی آیت کا تعلق پہلی قسم سے ہے ، اسکی تلاوت منسوخ ہوگئی حکم باقی رہا۔
    تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ زنا کی سزا ابتداءً موت تک عورت کوقید رکھنا تھی۔
    تمہاری عورتوں میں سے جوبھی بے حیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو ، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کوگھروں میں قید رکھو ، یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کردے ، یا پھر اللہ تعالی ان کے لیے کوئي اور راہ نکال دے } النساء ( 15 ) ۔
    اللہ تعالی نے ان کے لیے جوراستہ بنایا وہ اس حکم کی منسوخی ہے ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ : حکم اسی طرح تھا حتی کہ اللہ تعالی نے سورۃ النور میں کوڑے یا پھر رجم کا حکم نازل کرکے اسے منسوخ کردیا ۔ اوراسی طرح عکرمہ اورسعید بن جبیر ، حسن اورعطاء خراسانی اورابو صالح ، قتادہ اورزيد بن اسلم اورضحاک سے مروی ہے کہ یہ منسوخ ہے جوکہ ایک متفقہ مسئلہ ہے ۔ رجم کی جو آیت آئی اسکا حکم باقی رہا تلاوت منسوخ کی گئی ۔اس آیت کے منسوخ ہونے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی گواہی مختلف کتب مع صحیح بخاری میں موجود ہے۔ ذیل میں ابوداود سے حدیث پیش خدمت ہے۔

    حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا هشيم، حدثنا الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عبد الله بن عباس، أن عمر، - يعني ابن الخطاب - رضى الله عنه خطب فقال إن الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وأنزل عليه الكتاب فكان فيما أنزل عليه آية الرجم فقرأناها ووعيناها ورجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا من بعده وإني خشيت - إن طال بالناس الزمان - أن يقول قائل ما نجد آية الرجم في كتاب الله فيضلوا بترك فريضة أنزلها الله تعالى فالرجم حق على من زنى من الرجال والنساء إذا كان محصنا إذا قامت البينة أو كان حمل أو اعتراف وايم الله لولا أن يقول الناس زاد عمر في كتاب الله عز وجل لكتبتها .
    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: تحقیق اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل کی۔ اس نازل کردہ (کتاب) میں رجم کی آیت بھی تھی۔ ہم نے اسے پڑھا اور یاد کیا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ہے اور ان کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ رجم والی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے ہیں ‘ اس طرح وہ اللہ کے نازل کردہ فریضہ کو ترک کر کے گمراہ نہ ہو جائیں۔ پس جس کسی مرد یا عورت نے زنا کیا ہو اور وہ شادی شدہ ہو اور گواہی ثابت ہو جائے یا حمل ہو یا اعتراف ہو ‘ تو اس پر رجم حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے تو میں اس آیت کو کتاب اللہ میں درج کر دیتا۔
    (سنن ابوداود ،كتاب الحدود، حدود اور تعزیرات کا بیان، باب في الرجم، باب: زانی کو سنگسار کرنے کا بیان، حدیث نمبر 4418)

    پہلے آیت رجم نازل ہوئی تھی اللہ کے رسول اور صحابہ نے اس کو پڑھا بھی اور اس پر عمل بھی کیا بعد میں اللہ نے اس آیت کی تلاوت منسوخ کردی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ بیان کررہے کہ آیت رجم قرآن میں تھی اور اسکی تلاوت منسوخ ہوگئی اور حکم باقی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خواہش ظاہر کی میں اسے قرآن کے مصحف میں بطور حاشیہ شامل کردوں لیکن انہیں خطرہ تھا کہ لوگ مابعد اس کو قرآن کا حصہ نہ سمجھیں اور جو لوگ یہ جانتے ہو ں کہ یہ آیت کی تلاوت منسوخ ہوچکی ہے وہ غلط فہمی میں یہ نہ کہے کہ حضرت عمر نے قرآن میں تحریف کی اور مصحف میں ایک منسوخ آیت حاشیے میں جمع کردی۔
    اس طرح ایک حاشیے کو قرآن سمجھے جانے کا گمان اس لئے تھا کیونکہ اس وقت ایک ہی مصحف قرآن کا موجود تھا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں مرتب کیا گیا اور یہ حضرت عثمان کے دور تک ایک ہی مصحف رہا لہذا یہی قرآن کی آیات کو جانچنے کا واحد ذریعہ تھا لہذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے احتیاط سے کام لیا اس کو مصحف میں بطور حاشیہ بھی شامل نہیں کیا تاکہ غلط فہمی سے یہ قرآن کا حصہ نہ سمجھا جائے

    ایک ذیلی اعتراض جو نسخ کے متعلق کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کو پہلے سے پتا تھا تو پھر یہ تبدیلی کیوں لائی ۔؟ ایک ذیلی اعتراض جو نسخ کے متعلق کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کو پہلے سے پتا تھا تو پھر یہ تبدیلی کیوں لائی ۔؟
    اس کامختصر جواب یہ ہے کہ نسخ کا مطلب رائے کی تبدیلی نہیں ہوتا بلکہ ہر زمانے میں اس دور کے مناسب احکام دینا ہوتا ہے۔ناسخ کا کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ منسوخ کو غلط قرار دےبلکہ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے حکم کی مدت نفاذ متعین کردے اور یہ بتادے کہ پہلا حکم جتنے زمانے تک نافذ رہا اس زمانے کے لحاظ تووہی مناسب تھا لیکن اب حالات کی تبدیلی کی بنا پر ایک نئے حکم کی ضرورت ہے۔ شراب بھی اسی طرح بتدریج حرام کی گئی ۔۔جو شخص بھی سلامتِ فکر کے ساتھ غور کرے گا وہ اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ تبدیلی حکمت الہٰیہ کے عین مطابق ہے ،حکیم وہ نہیں جو ہر قسم کے حالات میں ایک ہی نسخہ پلائے بلکہ حکیم وہ ہے جو مریض اور مرض کے بدلتے ہوئے حالات پر بالغ نظری کے ساتھ غور کرکے نسخہ میں ان کے مطابق تبدیلی کردے۔ ۔
    تحریر سائیٹ سے ملاحظہ کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں
    http://ilhaad.com/2015/06/quranahtiraz/
     
  7. ‏جون 13، 2015 #7
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    ویسے @ابو حمزہ دیوبند کا بھی تو یہی مسلہ ہے ۔ کےان کے مایہ ناز بزرگوں کے وعقائد کفریا وشر کیہ ہیں ۔اور قران مین تحریف کے بھی قائل تھے
     
  8. ‏جون 14، 2015 #8
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    یعنی لینے اور دینے کے بانٹ الگ الگ ؟؟؟؟
     
  9. ‏جون 14، 2015 #9
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکات!

    اب یہاں ایک سوال پیدا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد آیت رجم کو منسوخ کرنے والی آیت کن صحابی پر نازل ہوئی ؟؟؟
     
  10. ‏جون 14، 2015 #10
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    اب مسئلہ یہ ہے کہ اہل سنت کا مؤقف ناسخ و منسوخ کے متعلق الگ ہے اور اہل تشیع کا الگ، جب مؤقف الگ تو حکم بھی الگ!! اس میں بانٹ الگ الگ نہیں، مال الگ الگ ہے!!!
    یہ کس نے کہا کہ آیت رجم وفات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منسوخ ہوئی؟؟ یہ تو ایک تخیلاتی سوال ہے!!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں