1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’اسلامی تاریخ میں ٹائم ٹریول‘ والوں کو غلط فہمیاں

'دفاع حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏ستمبر 11، 2019۔

  1. ‏ستمبر 11، 2019 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اسلامی تاریخ میں ٹائم ٹریول
    چند لمحات کے لیے میری درخواست پر اُس دور میں ٹائم ٹریول کیجئے کہ جب حضرت محمدﷺ کے وصال کو صرف 80 سال گزرے تھے۔ ایک بھی صحابی زندہ نہیں ہے البتہ وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے صحابہ کو دیکھا تھا۔ اس وقت نہ ابو حنیفہ پیدا ہوئے تھے نہ امام مالک نہ امام جعفر صادق اور نہ فقہ لکھنے والا کوئی اورامام پیدا ہوا تھا۔ آپ ایک ایسے دور میں پہنچ گئے ہیں کہ حدیث کی ایک بھی کتاب موجود نہیں ہے۔ اور امام بخاری اور مسلم سمیت دیگر محدثین پیدا ہونے میں ابھی سوا سو سال سے زیادہ عرصہ ہے۔ یہ تو بڑی مشکل صورتحال ہےاب آپ کو سُنت کیسے پتہ چلے گی؟ فرائض کیسے پتہ چلیں گے؟ لوگ آخر کیسے مسلمان ہیں کہ ہمارے اماموں میں سے کوئی پیدا ہی نہیں ہواجن کے کئے ہوئے کام کےبعد ہم آج شیعہ اور سُنی، حنبلی اور شافعی وغیرہ بنے۔
    دیوبند اور بریلی مدرسہ تو ابھی سوا ہزار سال بعد بنے گا لہذا آپ دیوبندی بریلوی بھی نہیں بن سکتے، وحابی بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ وحابی فرقے کی شروعات میں ابھی سوا ہزار سال کا عرصہ ہے، اہلِ حدیث تو تب بنیں جب حدیث کی کوئی کتاب ہو۔جس دور میں آپ پُہنچ گئے ہیں اُس وقت لوگ حدیث نبویﷺ کو لکھنے کا تصوّر بھی نہیں کرتے تھے کیونکہ حضرت مُحمدﷺ نے صاف صاف کہا تھا کہ اگر کسی نے مجھ سے سُن کر قُرآن کے علاوہ کُچھ لکھ لیا ہے تو وہ مٹا دے۔ اور لوگوں کو اپنے بزرگوں سے سُنی ہوئی یہ باتیں یاد ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عُمر فاروقؓ اپنے اپنے ادوار میں لوگوں کی اپنے نبیﷺ کی مُحبت میں لکھی جانے والی احادیث کو اکٹھا کر کے آگ لگوا چُکے ہیں۔ اُنھیں جلیلُ القدر صحابہ کی یہ نصیحت یاد ہے کہ نبیﷺ نے قُرآن اور اپنی سُنت کے علاوہ کُچھ نہیں چھوڑا لہٰذا آپ اہل حدیث تو ہو ہی نہیں سکتے۔ صحابہ میں سے کوئی زندہ نہیں ۔ بڑی مشکل میں ہیں ہم اب کہاں جائیں۔
    اتنے میں مسجد میں اذان کی آواز آتی ہے، آپ مسجد پہنچتے ہیں تو کیسے نماز پڑھیں گے، ہاتھ باندھ کر یا ہاتھ چھوڑ کر؟
    آپ یقیناً ویسے ہی نماز پڑھیں گےجیسے وہاں کی مسجد میں لوگ پڑھ رہے ہوں گے۔ یعنی سُنت مسلمانوں میں رائج ہے۔ فرائض کا پتہ ویسے ہی قرآن سے چل رہا ہے اور قرآن تو تب بھی وہی تھا جو آج ہے۔ یعنی اُس دور کے مُسلمان قُرآن اور مُعاشرے میں رائج سُنّت کے سہارے ہم سے کہیں بہتر مُسلمان تھے۔
    احادیث قُرآن کے نزول کے ساتھ ساتھ اُس کی تشریح کو سُنّت کی شکل میں ابتدائی اسلامی مُعاشرے میں رائج کرنے کے لیے تھیں اور ہر سُنّت قُرآن کی تکمیل کے ساتھ ہی اسلامی مُعاشرے میں رائج ہو چُکی تھی۔ قُرآن کی تکمیل کے ساتھ ہی سُنّت کی بھی تکمیل ہو چُکی تھی۔ یعنی احادیث اپنی ضرورت پُوری کر چُکی تھی۔ تبھی ابوبکرؓ اور عُمرؓ نے احادیث کے ذخیروں کو آگ لگوائی تاکہ قُرآن و سُنّت ہی آنے والی نسلوں کے لیے اسلام کا ماخذ ہو۔ تبھی آخری حج کے موقع پر حضرت مُحمدﷺ نے دین کی تکمیل کا اعلان کرتے ہی صحابہؓ سے کہا کہ جو یہاں موجود نہیں اُن تک دین پہںچائیں جسے ایک آیت بھی سمجھ آئی ہو وہی باقیوں کو پہنچائے۔ بعض روایات میں ہے کہ اکثر صحابہ اُس حکم کے بعد حج ادھورا چھوڑ دیا اور مکّہ سے قُرآن اور آپﷺ کا عمل جو اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا (یعنی سُنّت) لے کر نکلے اور آدھی سے زیادہ دُنیا میں پھیل گئے۔
    جن صحابہ نے نبیﷺ کو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے دیکھا تھا ویسے ہی سکھایا جنہوں نے ہاتھ چھوڑ کر یا رفع یدین کرتے دیکھا تھا اُنہوں نے آگے ویسے ہی سکھایا۔ کوفے کی طرف جو صحابہ گئے وہ آپﷺ کو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا دیکھتے رہے تھے لہٰذا عراق کے سب مُسلمانوں کی اگلی نسلیں اُسی سُنت پر عمل کرنے لگیں افریقہ اور کُچھ دیگر علاقوں میں جو صحابہؓ پہنچے اُنہوں نے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کی سُنت سکھائی لہٰذا آج تک افریقہ کے کڑوروں مُسلمان ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے اور عین سُنت نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہیں۔
    رفع یدین کرنا بھی سُنّت ہے نہ کرنا بھی عین سُنّت۔ نماز تو ایک مثال ہے۔ ہر مُلک کے مُسلمانوں نے مُختلف مُعاملات اور عبادات میں الگ الگ صحابہ سے الگ الگ سُنّت سیکھی لہٰذا سبھی تھوڑے تھوڑے مُختلف ہونے کے باوجود سُنّت پر ہی عمل کرتے ہیں۔ اللہ نے صحابہؓ کے ذریعے ہر وہ طریقۂ عبادت کسی نہ کسی مُلک میں رائج کروا دیا جو نبیﷺ نے کبھی نہ کبھی اختیار کیا تھا۔ اُس وقت کے مُسلمان جب حج کے لیے مُختلف ملکوں سے اکٹھے ہوتے تو ان اختلافات کو بھی مُحبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ عراق والے کہتے کہ ہاتھ باندھ کر نماز کا طریقہ زیادہ مؤدّبانہ ہے مدینہ والوں کی دلیل ہوتی کہ حضوری کا احساس ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے سے زیادہ آتا ہے یہ علمی مذاکرے چلتے رہتے لیکن کوئی اس اختلاف کی بُنیاد پر ایک دوسرے کو غلط نہ کہتا۔
    اب اپنی آنکھیں بند کر دوبارہ کھولیں۔ ہم اس وقت120ہجری یعنی حضرت محمدﷺ کے وصال کے 110سال بعد کے مدینہ میں موجود ہیں۔ مدینہ شہر میں امام مالک موجود ہیں اور مدینے میں ہی امام جعفر صادق بھی ہیں۔ یہ دونوں امام اپنی اپنی فقہ ترتیب دے رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے نت نئے پیدا ہونے والے مسائل میں رہنمائی ہوسکے ان کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ یہ امت کو فرقوں میں بانٹیں۔ یہ ایک دوسرے کی بے پناہ عزت کرتے ہیں۔
    عین اسی وقت عراق کے شہر کوفے میں امام ابو حنیفہ بھی فقہ لکھ رہے ہیں، انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کا دور تو ہے نہیں اور نہ ہی اخبارات یا رسالے چھپتے ہی۔ ایک ملک سے دوسرے ملک کے سفر کے لئے مہینوں لگ سکتے ہیں لہذا مختلف امام اپنے اپنے لوگوں کی آسانی کے لئے مخلتف ملکوں میں فقہ لکھ رہے ہیں۔ امام شافعی اب سے کچھ سال بعد غزہ فلسطین میں اپنی فقہ لکھیں گے اور امام احمد بن حنبل بغداد میں یہی کام کریں گے۔
    آپ کو یہ حال سن کر شاک لگ سکتا ہے کہ باقی سب امام دور دراز ملکوں میں ہیں۔ اور نبی کے شہر میں پیدا ہونے اور اور مسجدِ نبوی میں اپنی زندگی کی سب نمازیں پڑھنے والے امام دو ہی ہیں یعنی مالک اور جعفر صادق، اور دونوں ہی اپنی اپنی فقہ میں ہاتھ چھوڑ کر نماز پرھنے کا طریقہ بتاتے ہیں۔
    کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ کی وفات کے سو سال بعد ہی مسجدِ نبوی میں نماز کا طریقہ بدل گیا تھا جو ان دونوں اماموں نے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کو اسلامی طریقہ بتایا۔ نہ صرف یہ بلکہ طلاق کے لیے بھی یہ الگ الگ مواقع پردی گئی طلاق کو ہی صحیح سمجھتے ہیں ان دونوں کے نزدیک ایک موقع پر بیس دفعہ دی گئی ایک طلاق ہی شُمار ہو گی۔ ایسے ہی مدینہ کے یہ دونوں امام اکثر مُعاملات میں عقلی دلیلں دیتے ہیں کہ عقل کے استعمال کا حُکم قُرآن میں سات سو چھپن بار ہے اور مدینے میں ابھی مُحمدﷺ کے قائم کردہ اثرات باقی تھے۔
    ایسے میں آپ دیکھتے ہیں کہ اسلام کا ایک عظیم طالب علم کوفے سے علمِ دین سیکھنے مدینہ آتا ہے، جی ہاں یہ نعمان بن ثابت ہے جسے آپ ابو حنیفہ کہتے ہیں، یہ امام جعفر صادق کی شاگردی اختیار کرتا ہے اور جلد ہی اسکی شہرت پورے مکے مدینے میں پھیل جاتی ہے۔ امام مالک جب بھی اسے ملتے ہیں احتراماً اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ امام بھی اپنی فقہ لکھ رہا ہے اور ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے اور رفع یدین نہ کرنے کا طریقہ بیان کرتا ہے جس پر نہ امام مالک اعتراض کرتے ہیں اور نہ امام جعفر صادق بلکہ امام مالک اب بھی جیسے ہی امام ابو حنیفہ کو دیکھتے ہیں احتراماً اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں، ان کے شاگرد پوچھتے ہیں آپ تو کسی کے لئے بھی کھڑے نہیں ہوتے پھر انکے لئے کیوں کھڑے ہوتے ہیں تو امام مالک کہتے ہیں اسلام کے ایسے عالم اور عاشقِ رسول ﷺ کا احترام مجھ پر واجب ہے۔
    واضح رہے کہ امام مالک نے ایک حج کے علاوہ کبھی مدینے سے باہر کا سفر نہیں کیا کہ کہیں محمد کے شہر سے باہر موت نہ آجائے۔ہر نماز مسجدِ نبوی میں ادا کی کبھی جوتے نہیں پہنے کہ میں کہیں ایسی جگہ جوتا نہ رکھ دوں جہاں محمدﷺ ننگے پاؤں گزرے ہوں۔ کبھی سواری پر نہ بیٹھے کہ کہیں میں کسی ایسی جگہ سوار ہو کر نہ گزر جاؤں جہاں سے محمدﷺ پیدل گزرے ہوں۔ لیکن وہی امام مالک جو رفع یدین اور ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کا طریقہ بتاتے ہیں ایک ایسے عالم کا احترام کرتے ہیں جو رفع یدین نہ کرنے اور ہاتھ باند کر نماز کا طریقہ بتاتا ہے اور وہ ابو حنیفہ امام جعفر کی شاگردی اختیار کئے ہوئے ہیں جو ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں اور جنہیں اب شیعہ امام سمجھا جاتا ہے۔
    غزہ سے ایک اور امام یعنی امام شافعی مدینہ آتے ہیں وہ خود ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ اپنی فقہ میں لکھ چکےہیں اور برملا یہ بھی کہتے ہیں کہ روئے زمین پر امام مالک سے بڑا حدیث اور فقہ کا کوئی عالم موجود نہیں۔
    مجھے یقین ہے کہ یہ دیکھ کر آپ پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے کہ آپکے دور میں تو رفع یدین، ہاتھ چھوڑ کر یا ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا اور ایسی ہی دیگر باتوں پر بیسیوں فرقے ایک دوسرے کو کافر کہتےہیں اور یہ آئمہ کرام ایک دوسرے کا اتنا احترام کرتے ہیں کہ اگر کوئی امام کسی دوسرے امام کے علاقے میں جائے دوسری فقہ کے لوگ انہیں جماعت کروانے کو کہیں تو وہ اپنے طریقے سے نہیں اسی امام کے طریقے سے نماز پڑھاتا ہے جس امام کی وہ مسجد ہے۔
    یہ دیکھتے ہی آپکو پتہ چل جائے گا کہ شرپسند آپکو مسلمان سے حیوان بنا رہے تھے۔ بھائیوں کو شیعہ، سُنی، دیوبندی، بریلوی، وہابی وغیرہ بنا کر لڑواتے تھے۔ آپکو اپنے دور کے مُلا سے نفرت اور ان آئمہ سے محبت محسوس ہو گی اور آپ مختلف طریقوں سے نماز روزہ اور دیگر عبادات کرنے والے لوگوں کو اختلاف کے باوجود محبت کی نظر سے دیکھ کر اپنے جیسا مسلمان سمجھیں گے۔
    اگر میں آپ سے کہوں کہ فرقوں میں بٹ جانا شرک ہے تو شاید آپکو یقین نہ آئے کیونکہ آپکو کبھی ان آیات کے بارے میں تو نہیں بتایا گیا ہوگا جن میں اللہ کہتا ہے کہ ’’اسی کی طرف رجوع کرتے رہو اور اس کا تقویٰ اختیار کرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہوجاؤ، اُن مشرکوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو فرقوں میں بانٹ دیا اور گروہ در گروہ ہوگئے۔ ہر گروہ اسی پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے‘‘۔
    کیا اس آیت کے اس کھلے حکم کے بعد بھی آپ دیوبندی، بریلوی، شیعہ، حنفی شافعی یا مالکی کہلوانا پسند کریں گے؟
    آپ سب چاہتے ہین کہ قیامت کے دِن حضرت ﷺ آپکی شفاعت کریں لیکن میں آپکو بتاتا چلوں کہ اللہ سورہ انعام کی آیت150میں اپنے نبی کو کیا حکم دے رہے ہیں۔
    ’’بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو فرقوں میں تقسیم کیا آپﷺ کا کسی چیز میں اسے کوئی تعلق نہیں‘‘
    کیا یہ آیت جان کر بھی آپ شیعہ، سُنی، دیوبندی، بریلوی وغیرہ بننا پسند کریں گےیا مسلمان ہونا چاہیں گے؟
    جب اسلام آیا تو لوگ قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے آپس میں نفرتیں تھیں لیکن اللہ کی رسی یعنی قرآن نے انہیں بھائی بنا دیا، سُنتِ نبوی نے انکے دِل جوڑ دئیے لیکن مسلمان پھر سے فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے دشمن اور جہنم سے قریب تر ہوگئے۔ اللہ سورہ آل عمران میں فرماتے ہیں ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹ جانا‘‘
    کیا آپ بھی وہابی، اہلِ حدیث یا اہلِ قرآن جیسے کسی فرقے سے منسوب ہونا پسند کریں گےیا مسلمان ہونا چاہتے ہیں؟
    کیوں نہ ہم صحابہ کے دور کے مسلمان بن جائیں جو قرآن کو اسلامی علم کا بنیادی ماخذ مانتے تھے۔
    ان کے سامنے جب کوئی حدیث پیش کی جاتی تو وہ یہ دیکھتے کہ کہیں وہ حدیث قرآن سے تو نہیں ٹکراتی، اگر ایسا ہوتا تو وہ فوراً کہہ دیتے نبیﷺ ایسا نہیں کہہ سکتے، یہ قرآن کے خلاف ہے۔ راوی سے سننے کی غلطی ہوئی ہو گی۔ اگر حدیث قرآن کے خلاف نہ ہو تو اسے سر آنکھوں پر رکھتے۔
    کیوں نہ ہم سب اماموں کو اپنا لیں۔ سب کی عزت کریں اور جس امام کی بھی فقہ سے جو حکم آسانیاں پیدا کرےوہ لے لیں لیکن خود کو کسی بھی امام سے منسوب نہ کریں اور بس بغیر کسی فرقہ کے پہلے دور کے مُسلمان بن جائیں۔ کیوں نہ ہم عقل سے کام لینا شروع کر دیں کہ قُرآن عقل کے استعمال کا سینکڑوں بار حکم دیتا ہے۔
    میں آپ کو فرقوں سے نکل کر مُحمدﷺ کے دین اور صحابہ او تمام آئمّہ کے اسلام میں آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ (میری زیرِ تکمیل کتاب Revisiting islamic faith and practices in 21st Century سے چند پیراگرافس)۔ ۔۔ محمد رضوان خالد چوھدری
     
  2. ‏ستمبر 11، 2019 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اسلامی تاریخ میں ٹائم ٹریول اور غلط فہمیاں

    ایک صاحب کی تحریر نظر نواز ہوئی، جس کا عنوان ہے ’اسلامی تاریخ میں ٹائم ٹریول‘ میں اگر بھول نہیں رہا تو یہ صاحب’ دین کا جنازہ‘ کے عنوان سے ایک تحریر رقم فرما چکے ہیں، جس کا چند سال پہلے راقم نے جنازہ نکالا تھا، لیکن پھر بعد میں انہیں شاید انہیں اس جنازے کو کندھا دینے کی بھی فرصت نہ مل پائی۔ جس طرح پہلی تحریر میں بے سروپا، اور متضاد باتیں تھیں، یہ تحریر بھی وہی خصوصیات اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں، کسی صاحبِ علم کے لیے اس قسم کی تحریر کو پڑھ لینا ہی اس میں موجود علم وتحقیق آشکار کرنے کو کافی ہے، لیکن یہ فتنے پھیلتے ہی کیوں؟ اگر ان معاملات میں علم اور تحقیق شرط ہوتا، لہذا عوام میں ایسے لوگ موجود ہیں، جو بلاعلم ان موضوعات پر لکھتے ہیں، اور عوام میں ایک کثیر طبقہ ایسا ہے، جو لاعلمی و معصومیت کی بنا پر ان ’جہالتوں‘ سے متاثر ہوتا ہے۔
    اس تحریر میں صرف ایک خوبی نکالی جاسکتی ہے، کہ اس میں رواداری اور صبر اور حوصلہ کی تلقین ہے، کہ جس طرح پہلے ائمہ کرام آپس میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے تھے، لیکن تکفیر و تفجیر ان کے ہاں نہ تھی، ہمیں بھی یہی اچھا رویہ اپنانا چاہیے۔ اس تحریر میں دوسری خوبی جسے شاید خود صاحبِ تحریر یا ان کے قارئین نوٹ نہیں کرسکے، وہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس میں تحقیق کی طرف دعوت دی گئی ہے، اور ائمہ کے رویہ کی طرف نشاندہی کی گئی ہے، کہ امام جعفر الصادق، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل وغیرہ یہ سب ایک دوسرے کے شاگرد یا ہمعصر تھے، آپس میں احترام کے تقاضوں کے باوجود انہوں نے مکھی پہ مکھی نہیں ماری، بلکہ کتاب وسنت کی روشنی میں جو حق سچ سمجھا، وہ اس پر عمل پیرا ہوئے ہیں۔
    تحریر کو لکھنے والے صاحب تحریر میں اپنے منہج کی پاسداری نہیں کرسکے، اور یہ صرف صاحبِ تحریر ہی نہیں، بلکہ اس موضوع کو اس سطحی انداز سے دیکھنے والا کوئی ایک بندہ بھی اپنا مزعومہ تحقیقی معیار برقرار نہیں رکھ سکتا۔ چند باتوں اور تضادات کی طرف نشاندہی کرتا ہوں۔
    1) تحریر کی ابتدا میں ہی صاحب قارئین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے 80 سال بعد لے گئے ہیں، حالانکہ ان کے مزعومہ تحقیقی معیار کے مطابق حضور اور صحابہ کے دور میں جانے کا کوئی امکان سرے سے موجود ہی نہیں ہے، بھائی اگر آپ نے تاریخ اور احادیث پر ہی اعتماد کرنا ہے، تو روایت پسند علما اور محدثین سے آپ کو کیا اختلاف ہے؟ وہ بھی تو روایاتِ حدیث کی بنیاد پر عہدِ نبوت اور عہدِ صحابہ کا نقشہ کھینچ رہے ہوتے ہیں، لیکن آپ لوگوں کو وہ ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ یا علم وتحقیق کے میدان میں یہ ثابت کریں کہ ہمارے اصول محدثین کے اصول سے بہتر ہیں، جو قیامت تک ممکن نہیں۔
    2) حضرت فرمارہے ہیں کہ جس دور میں آپ کو میں لے گیا ہوں، وہاں آپ حدیث کو لکھنے کا تصور تک نہیں کرسکتے۔۔۔میں عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ کو اللہ کا خوف ہے تو ذرا لوگوں کو یہ تو بتائیں جہاں احادیث لکھنے کا تصور تک موجود نہیں تھا، وہاں آپ کو ’کتابت حدیث‘ کی ممانعت والی احادیث کہاں سے پہنچ گئی ہیں؟ ابو بکر صدیق وعمر فاروق رضی اللہ عنہما کے متعلق آپ نے لکھا کہ انہوں نے احادیث جلوا دی تھیں، تو پھر یہ حدیث آپ کو کیسے معلوم ہوگئی؟ اور پھر اگر آپ محدثین کے قدموں میں مطلب براری کو ہی نہ جاتے، تو آپ کو معلوم ہوتا کہ یہ احادیث پایہ ثبوت کو پہنچتی ہی نہیں ہیں۔
    یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ بھئی محدثین حدیث کی تحقیق کرتے ہیں، تو ہم کیوں نہیں کرسکتے؟
    ہمارے مطابق یہ ایک مغالطہ ہے، جو منکرین حدیث کو تحقیق کے نام پر لاحق ہوا ہے، حالانکہ اس میں تحقیق نا کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔
    میں نے یہ بات ایک ویڈیو کی صورت میں بیان کی ہے:​

    3) حق بات یہ ہے کہ جسے سب ائمہ و محدثین نے لکھا ہے، کہ قرآن اور حدیث کی کتابت آپس میں خلط ملط نہ ہوجائے، اس حوالے سے احتیاطی تدابیر تو سنت نبوی اور عملِ صحابہ سے ہمیں ملتی ہیں، بیانِ حدیث میں احتیاط کے کئی ایک نمونے ہمیں ملتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف کتابت حدیث کی اجازت دی، بلکہ اس کا حکم بھی ارشاد فرمایا، بعد میں صحابہ کرام بھی اس طرزِ عمل پر گامزن رہے۔ اور کتبِ حدیث ان تمام واقعات سے بھری پڑی ہیں۔
    اس حوالے سے میری ایک مختصر ویڈیو بھی ہے، جسے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:​

    4) صاحبِ تحریر نے غلط صحیح استدلال کرکے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ فرقوں میں نہیں بٹنا چاہیے، ہم ان کی اس بات کی تائید کرتے ہیں، لیکن انہیں یاد دلاتے ہیں کہ جناب آپ بھی ذرا قرآن وسنت کو آنکھیں کھول کر مطالعہ کیا کریں، ورنہ فی الوقت آپ بھی قرآن وحدیث اور ائمہ اسلام سے مطلب براری کے جرم کے مرتکب ہو کر ایک خاص فرقے کے افراد میں اپنا نام لکھوا چکے ہیں، جس بدنام زمانہ فرقے کو لوگ ’منکرین حدیث‘ سے جانتے ہیں۔
    5) یہ بات بالکل کذب و بہتان ہے کہ صحابہ کرام صرف قرآن کریم کو اسلام کا ماخذ مانتے تھے، حق یہ ہے کہ صحابہ کرام تو عمل پیرا ہوتے تھے، اس تفصیل کا آپ کو ان کے ہاں کوئی ثبوت نہ ملے گا کہ حضور آپ نے یہ بات قرآن سے ارشاد فرمائی یا پھر اپنی طرف سے ارشاد فرما رہے ہیں؟
    ارشاد باری تعالی ہے: وما آتاكم الرسول فخذوه ومانهاكم عنه فانتهوا میں خود رب العالمین اس معاملے کو کلیئر کرچکے ہیں، ورنہ ’الرسول‘ کی جگہ ’القرآن‘ ہونا چاہیے تھا۔
    6) صاحب نے ایک حدیث پیش کی ہے کہ جو قرآن سے مطابق ہو اسے لے ہو، اور جو اس کے مخالف ہو اسے چھوڑ دو، اور ساتھ کہہ رہے ہیں کہ عقل بھی استعمال کریں۔۔۔ میں آپ سے اور آپ کے قارئین سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے یہ حدیث پیش کرتے ہوئے عقل استعمال کی ہے؟ آپ نے اس حدیث کو قرآن پر پیش کیا ہے؟ کیا قرآنِ کریم میں ایسی کوئی ایک آیت بھی ہے، جس میں حدیث کو قرآن پر پیش کرنے کی تلقین ہو؟ جو محدثین کے اصولوں کو مانتاہو، ہم اسے بتائیں کہ یہ حدیث ثابت نہیں، لیکن آپ کو تو کم ازکم عقل استعمال کرتے ہوئے ہی، اسے خلافِ قرآن سمجھ کر رد کرنا چاہیے، کیونکہ ہم قرآنِ کریم کی آیت نقل کرچکے ہیں، کہ اس میں رسول کی ہر بات ماننے کا حکم ہے، اس میں قرآن اور غیر قرآن کی سرے سے کوئی تفریق ہے ہی نہیں۔
    یہ سراسر پراپیگنڈہ ہے کہ حدیث قرآن کے خلاف یا اس سے دوری کا سبب بنتی ہے۔ اس حوالے سے میری ایک ویڈیو ملاحظہ کی جاسکتی ہے:​

    میں ایسے احباب کو خلوص نیت سے دعوت غور وفکر دیتا ہوں، اور عرض کرتا ہوں کہ یوں مستشرقین کے دیے ہوئے اصولِ تحقیق کے مطابق اپنی زندگی ضائع نہ کریں، آئیں مسلمانوں کے علمی ورثے کو ان کے اصولِ تحقیق کی نظر سے دیکھیں، یہاں آپ کو تحقیق وتدقیق کے کئی ایک میدان مہیا ہوں گے، خلقِ خدا کا فائدہ بھی ہوگا، آخرت بھی سنورے گی، اور مسلمانوں نے جو شاندار اصول وفنون مرتب کیے ہیں، خود بھی ان سے لطف اٹھائیں گے، لیکن اس ٹائم ٹریول کی لذت و راحت کو محسوس کرنے کے لیے تجربہ شرط ہے، راہنمائی کی خاطر میں ’رواۃ الحدیث‘ کے متعلق اپنی ایک تحریر کا لنک پیش کیے دیتا ہوں:​
    https://www.facebook.com/HkhizarH/posts/2639581826062732
    اللہ تعالی ہم سب کو دینِ اسلام کی صحیح سمجھ بوجھ عطا فرمائے، اور قرآن وسنت کے خدمتگاروں میں شامل فرمائے۔​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں