1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’اہل اشراق‘ کے قراء اتِ قرآنیہ پر حالیہ اِعتراضات

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏اپریل 01، 2012۔

  1. ‏اپریل 01، 2012 #1
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ’اہل اشراق‘ کے قراء اتِ قرآنیہ پر حالیہ اِعتراضات

    عمران اسلم​

    ’الاشراق‘ کے اکتوبر ۲۰۰۹ء کے شمارہ میں غامدی صاحب کے خوشہ چیں محمد رفیع مفتی صاحب نے قراء اتِ قرآنیہ سے متعلق فتویٰ دیتے ہوئے اپنی بعض نگارشات کا اِظہار کیا ہے، جس کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:
    ٭ قراء توں کے رد و قبول کا کوئی منصوص معیار موجود نہیں ہے۔
    ٭ بعض قراء توں سے معنی ومفہوم میں فرق واقع ہوجاتا ہے، بلکہ بعض جگہ شریعت کا حکم بھی بدل جاتا ہے۔
    ٭ تمام لوگ قراء تِ عامہ کے مطابق قرآن پڑھتے رہے ہیں اور یہ وہی قراء ت ہے جو عرضۂ اَخیرہ میں پڑھی گئی۔
    ان اِعتراضات کی حقیقت کیا ہے، بالترتیب ان کا جائزہ لیتے ہیں۔
     
  2. ‏اپریل 01، 2012 #2
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    موصوف مفتی صاحب رقمطراز ہیں:
    قراء توں کے ردّ وقبول کا کوئی منصوص معیار موجود نہیں ہے، بس اہل فن نے مل کر کچھ شرائط طے کر دی ہیں جن پر پورا اترنے والی قراء ت کو قبول کیا جاتا اور باقی کو رد کر دیا جاتا ہے۔ یہ شرائط درج ذیل ہیں:
    (١) قراء ت مصحف عثمانی کے رسم الخط کے مطابق ہو۔
    (٢) لغت، محاورے اور قواعد زبان کے خلاف نہ ہو۔
    (٣) اس کی سند معتبر اور مسلسل واسطے سے نبی اکرم ﷺ تک پہنچتی ہو۔
    سب سے پہلے تو ہم اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ مفتی صاحب نے اپنے پورے فتویٰ میں بارہا لفظ قراء ت کو ’قرأت‘ لکھا ہے، حالانکہ اس سے قبل محترم حافظ زبیر صاحب اپنے مضمون میں غامدی صاحب کی اس غلطی کی جانب توجہ دلا چکے ہیں۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ جس جگہ پر قراء ت کی جمع ’قراء ات‘ استعمال ہونی چاہیے تھی وہاں بھی ’قرأت‘ ہی سے کام چلایا گیا ہے۔ لیکن ذخیرۂ اَحادیث کے بعد لغت کی کتابوں کو کھنگالنے کے بعد بھی جس طرح ہم غامدی صاحب کے فرمان کہ ’امت میں یہ نقطۂ نظر بھی موجود ہے کہ قرآن کریم کی قراء ت صرف ایک ہے‘ میں حلقۂ اِشراق کے علاوہ کسی دوسرے شخص کا ایسا نقطۂ نظر تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے، یہاں بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہوا۔مفتی صاحب کے لفظ ’قرأت‘ پر اِصرار کی وجہ ہم تو یہی سمجھ پائے ہیں کہ وہ لفظ’ قراء ت‘ کا استعمال کر کے اپنے ’روحانی پیشوا‘ جاوید احمد غامدی صاحب کی شان میں گستاخی نہیں کرنا چاہ رہے تھے، جو اپنی کتاب ’میزان‘ میں اسے ’قرأت‘ درج کر چکے ہیں، اورسادہ سی بات ہے کہ جب غامدی صاحب کی اندھا دھند تقلید میں اُمت کے معتد بہ طبقے کو صرف ایک ’قراء ت‘ کا قائل قرار دیا جا سکتا ہے تو اس قدر معمولی’ غلطی‘ دہرانے میں کیا مضائقہ ہے۔
     
  3. ‏اپریل 01، 2012 #3
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    جناب مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ قراء توں کے ردّ وقبول کا کوئی منصوص معیار موجود نہیں ہے بس اہلِ فن نے مل کر کچھ شرائط طے کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ہم عرض کرتے چلیں کہ وہ تمام قراء ات جو ہم تک پہنچی ہیں وہ کسی منصوص معیار کے بجائے اہل ِ فن کے مقرر کردہ انہی قواعد کی رو سے پہنچی ہیں،جن میں غامدی صاحب کی اِختیار کر دہ ’قراء ت حفص‘جو اصل میں روایتِ حفص ہے، بھی شامل ہے۔ اگر روایتِ حفص ان قواعد سے ہٹ کر کسی منصوص معیار کے مطابق اہلِ اشراق تک پہنچی ہے تو ضرور آگاہ کریں تاکہ پوری اُمت اپنے اختیار کردہ مؤقف پر نظر ثانی کر سکے۔
    ہم ان قواعد سے متعلق کسی قسم کی بحث سے قبل اس قدر وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ان قواعد کو مقرر کرنے کی ضرورت کیونکر پیش آئی اور صرف انہی قواعد پر پورا اترنے والی قراء ت ہی کو قبولیت کیوں حاصل ہوئی۔
    حضرت عثمان﷜ کے زمانۂ خلافت میں جب مختلف قراء ات سے متعلق فتنہ و فساد رونما ہونے لگا اور ایک دوسرے کی تکفیر کی جانے لگی تو انہوں نے اُمت کو فتنہ اور اِختلاف سے بچانے کے لیے صحابہ کرام﷢ کے اِجماع سے تمام وہ قراء ات جو عرضۂ اَخیرہ میں منسوخ کر دی گئی تھیں یا وہ تفسیری کلمات جو بعض صحابہ نے اپنے اپنے مصاحف میں بطور حواشی درج کر رکھے تھے،کو ان تمام سے الگ کر دیا۔ پھر یہ مصاحف ماہرینِ قراء ات کی معیت میں مختلف علاقوں میں بھیج دئیے گئے اور باقی تمام مصاحف کو تلف کرنے کا حکم دے کر اس فتنہ کا دروازہ بند کر دیاگیا۔
     
  4. ‏اپریل 01، 2012 #4
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اس کے بعد صحابہ کرام ﷢سے تابعین﷭ کا ایک جم غفیر جب ان قراء ات کو سیکھ کر اپنے علاقوں میں پہنچا تو ان سے سیکھنے والے ظاہر ہے کہ عدل وثقاہت اور حفظ واتقان میں ایک جیسے نہیں تھے۔ بعض جو عدالت وحفظ کے اس معیار پر نہ تھے، انہوں نے بعض قراء اتِ شاذہ اور ضعیفہ کو قرآن سے ملانا شروع کر دیا، بعض نے اِجماعِ امت سے ہٹ کر اپنے اپنے معیارات مقرر کر لیے ۔چنانچہ ایک دفعہ پھر امت میں اختلافات کا خطرہ پیدا ہوا تو ائمہ عظام کی جانب سے قرآنِ کریم کو غیرِ قرآن سے الگ کرنے کے لیے گہرے غور وخوض اور دقت نظری کے بعد چنداصولی ضوابط اور معیارات مقرر کر دئیے گئے۔پوری امت انہی اصولوں پر اعتماد کا اظہار کرتی رہی ہے اور انہی کو قراء ات کے رد وقبول کا معیار قرار دیتی رہی ہے۔ امام جزریa ان تین شرائط کے متعلق فرماتے ہیں:
    ’’اس اصول کے مطابق جو بھی قراء ت ہوگی وہ قراء تِ صحیحہ اور ان حروف سبعہ میں سے ہے جن پر قرآن نازل ہوا، مسلمانوں پر اس کو قبول کرنا واجب ہے اور اگر تینوں شرائط میں سے کسی ایک شرط میں خلل آ جائے تو وہ قراء ت شاذہ، ضعیف یا باطل ہوگی۔‘‘(النشر: ۲؍۹)
    ایک جگہ پر فرماتے ہیں:
    ’’ہر وہ قراء ت جو عربی( نحوی) وجہ کے موافق ہو، رسم مصحف کے مطابق ہو( خواہ یہ مطابقت تقدیری ہو) اور اس کی سند صحیح ہو تو وہ قراء ت صحیح ہوگی۔ اس کو رد کرنا جائز نہیں ہوگا۔‘‘ (منجد المقرئین: ۱۵)
    ان تین قواعد کی مختصر وضاحت پیش خدمت ہے:
     
  5. ‏اپریل 01، 2012 #5
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    سند متواتر
    کسی قراء ت کے صحیح ہونے کے لیے اولین معیار یہ ہے کہ شروع سے لے کر آخر تک متواتر ہو۔ جو قراء ت سنداً اس معیار پر پوری نہ اترے اسے قرآن نہیں کہا جا سکتا ، ہمارے ہاں تواتر کا وہی مفہوم درست ہے جو کہ جمہور اہل الحدیث کے ہاں معروف ہے یعنی ’ما أفاد القطع فہو متواتر‘ (اس ضمن میں تفصیلی بحث کے لیے رشد قرائات نمبر حصہ اول میں مضمون ’تواتر کا مفہوم اور ثبوت قراء ات کا ضابطہ‘ کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے نیز اس شمارہ میں مکتوب بنام حافظ عبدالمنان نور پوری﷾ میں بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔)
     
  6. ‏اپریل 01، 2012 #6
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    مصحف عثمانی کے رسم کی موافقت
    وہ مصاحفِ عثمانیہ میں سے کسی ایک کے رسم کے موافق ہو۔ یہ موافقت حقیقی بھی ہوسکتی ہے اور تقدیری بھی۔ مصحفِ عثمانی کے رسم کی اس قدر اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عثمان﷜ نے مہاجرین وانصار کے مشورہ سے جب تمام اُمت کو ایک رسم پر جمع کرنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے سب سے پہلے اس بات کو ملحوظ رکھا کہ مصاحف کا رسم ان تمام حروف پر مشتمل ہو جو عرضۂ اَخیرہ کے وقت باقی رکھے گئے تھے۔ اس کو ایک مثال سے یوں سمجھئے کہ سورۃ فاتحہ کی آیت ’’ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ‘‘(الفاتحۃ:۳) میں ’’مٰلِکِ‘‘ کو’’مَلِکِ ‘‘اور ’’مٰلِکِ ‘‘دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے اور یہ دونوں قراء ات ، متواترہ ہیں، روایتِ حفص میں اسے ’’مٰلِکِ‘‘ میم پر کھڑا زبر اور روایت ورش میں ’’مَلِکِ‘‘ میم پر زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ لیکن جس مقام میں اختلاف قراء ت کے متعلق متواتر سند نہ ہو وہاں رسم الخط میں گنجائش کے باوجود دوسری قراء ت پڑھنا ناجائز اور حرام ہے مثلاً سورۃ الناس کی دوسری آیت رسم عثمانی کے مطابق اس طرح ہے،’’مَلِکِ النَّاسِ‘‘(الناس:۲) اس مقام پر تمام قراء مَلِکِ النَّاسِ ہی پڑھتے ہیں اسے کوئی بھی مٰلِکِ النَّاسِ نہیں پڑھتا، کیونکہ یہاں اختلافِ قراء ت منقول نہیں ہے۔
     
  7. ‏اپریل 01، 2012 #7
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ ابوبکر الانباری فرماتے ہیں:
    ’’اجتمع القراء علی ترک کل قراء ۃ مخالف المصحف۔‘‘ (البحر المحیط:۷؍۶۰)
    ’’تمام ائمہ قراء کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہر وہ قراء ۃ متروک(شاذ) قرار پائے گی جو رسم عثمانی کے مخالف ہوگی۔‘‘
     
  8. ‏اپریل 01، 2012 #8
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    لغتِ عرب کی کسی وجہ کی موافقت
    اس شرط کو دوسری دونوں شروط کا لوازمہ قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کا مقصود یہ ہے کہ ہر وہ قراء ت جو متواتر سند کے ساتھ منقول ہو مصحف عثمانی کے خط کے بھی موافق ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ لغتِ عرب میں بھی اس کی کوئی وجہ موجود ہو، اگرچہ وہ زیادہ معروف نہ بھی ہو۔
    یاد رہے کہ قرآن کریم کی ایسی کسی قراء ت کا وجود نہیں ہے جو متواتر ہو اور رسم عثمانی کے بھی موافق ہو لیکن لغت عرب میں اس کی کوئی وجہ موجود نہ ہو۔ اور اگر فرض کر بھی لیا جائے کہ ایک ایسی ثابت شدہ متواتر قراء ت جس میں بقیہ دونوں شروط تو پائی جا رہی ہیں لیکن لغت عرب میں اس کی کوئی وجہ نہ مل رہی ہو تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ پوری لغت عرب میں اس کا وجود نہیں ہے، یہ بات قطعی ہے کہ ہر وہ قراء ت جو تواتر کے ساتھ منقول ہو اور مصحف عثمانی کے موافق ہو وہ نازل کردہ قرآن ہے۔ یہ ایک ایسی قطعی دلیل ہے جو وجود لغت کا پتہ دے رہی ہے اور جس کے ثبوت میں کوئی بحث نہیں ہے۔
     
  9. ‏اپریل 01، 2012 #9
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ابو عمرو دانی﷫ فرماتے ہیں:
    ائمہ قراء حروف قرآن کے سلسلہ میں اس بات پر اعتماد نہیں کرتے کہ وہ لفظ لغوی لحاظ سے عام مستعمل یا عربی قاعدہ کے زیادہ مطابق ہے بلکہ اس پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ حروف نقل وروایت کے اعتبار سے صحیح ترین اور ثبوت کے اعلیٰ معیار پر ہو، کیونکہ قراء ت میں رسول اللہﷺسے ائمہ تک کے سلسلہ تواتر (قطعیت) کی اتباع کی جا ئے گی اور اس کی طرف لوٹنا اور اسے قبول کرنا ضروری ہے۔ (جامع البیان في القراء ات السبع:ق۱۷۷؍ب)
    ٭کسی بھی قراء ت کو قبول کرنے کے لیے یہ وہ معیار اور کسوٹی ہے جو ائمہ کرام نے مقرر کیا ہے۔ جس قراء ت میں ان تین ارکان میں سے کوئی ایک بھی ناپید ہوگا اسے شاذ قرار دیا جائے گا۔ ان تین شروط کی جانچ پرکھ کے ساتھ اس خیال کی شدت کے ساتھ نفی کی جاسکتی ہے کہ امت میں کوئی ایسی قراء ت عام ہو جائے جو بطور تفسیر نقل کی گئی تھی یا عرضۂ اَخیرہ میں منسوخ کر دی گئی تھی۔
     
  10. ‏اپریل 01، 2012 #10
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ مفتی صاحب مزیدلکھتے ہیں:
    ’’مختلف قراء توں کے اس تصور کو قبول کرنے کے بعد یہ خیال غلط قرار پاتا ہے کہ خدا کی طرف سے نازل ہونے والے قرآن کے الفاظ میں ایک زیر، زبر اور ایک شوشے کا بھی فرق نہیں ہے اور مزید یہ کہ بعض قراء توں میں معنی و مفہوم میں بھی فرق واقع ہوجاتا ہے، بلکہ بعض جگہ شریعت کا حکم بھی بدل جاتا ہے۔‘‘
    جناب مفتی صاحب نے بڑی شدو مد کے ساتھ یہ تو دعویٰ کردیا ہے کہ قراء ات کے بدلنے سے معنی ومفہوم اور شریعت کا حکم بدل جاتا ہے لیکن اس کے لیے کسی ایک بھی قراء ت کو بطور دلیل نقل کرنا گوارا نہیں کیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ کسی بھی ایسی متواتر، حتیٰ کہ شاذ قراء ت کا بھی وجود نہیں ہے جس سے شریعت کا حکم بدل جاتا ہو۔ امت کے ہر دور میں اَحکام فقہ اور قواعد نحو میں مختلف قراء اتِ قرآنیہ سے بھرپور مدد لی گئی ہے، قرآن کریم کی تفسیر کے سلسلہ میں تو قرائات کو ایک اَہم ماخذ کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اور اس بات پر اِجماع نقل کیا گیا ہے کہ ہر ایک قراء ت کو مستقل آیت شمار کیا جائے گا اور اگر ان کے مابین تعارض ہوتا ہے تو ان کا تعارض بالکل اسی طرح حل کیا جا ئے گا جیسا کہ دو آیات کا کیا جاتا ہے۔ اَحکام القرآن للجصاص میں ہے:
    ’’وہاتان القرائتان قد نزل بہما القرآن جمیعا ونقلتہما الأمۃ تلقیا من رسول اﷲ ﷺ۔‘‘
    ’’یہ دونوں قراء تیں ایسی ہیں کہ قرآن ان دونوں کے ساتھ نازل ہوا ہے اور امت نے ان کو رسول اللہﷺسے حاصل کیا ہے۔‘‘ (احکام القرآن للجصّاص:۲؍۳۲۵)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں