1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’روشنی گھر ‘میں حیض مظاہرہ ، شکریہ ہماری بچیو !

'زنا و فحاشی' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اپریل 22، 2016۔

  1. ‏اپریل 22، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    "حیض مظاہرہ "


    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
    (قارئین کے علم میں ہوگا کچھ دن پہلے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات نے ایک شرمناک مظاہرہ کیا تها جو بعد میں سوشل میڈیا میں "حیض مظاہرہ " کے نام سے مشہور ہوا ، اس شرمناک مظاہرے پر مجهہ سمیت بہت سارے دوستوں نے صدائے احتجاج بلند کیا ،حسب توفیق لکها ، تاہم اس مظاہرے پر روزنامہ نئ بات کے کالم نگار اور ہمارے دیرینہ دوست حافظ یوسف سراج صاحب کی تحریر اب تک کی سب سے موثر ، مدلل ، معتدل اور توانا آواز ہے ، سوشل میڈیا پر یہ تحریر خوب شئیر ہورہی ہے اور وطن عزیز میں فحاشی و عریانی ،لبرل ازم و سیکولر ازم کے علمبرداروں کے منہ کا ذائقہ کرارا کر رہی ہے آپ بهی اسے پڑهیے آگے شئیر کیجیے .) - فردوس جمال

    ’روشنی گھر ‘میں حیض مظاہرہ ، شکریہ ہماری بچیو !


    حافظ یوسف سراج

    مس پیٹریشیا فاسٹر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ عیسائی خاتون تھیں۔ وہ نائیجیریا کی وفاقی وزارت میں ایک اہم عہدے پر فائز تھیں ۔ شادی نہ کی تھی سو بوڑھی ہوکر بھی مس کہلاتی تھیں ۔مس پیٹریشا کی اسی وزارت میں ایک پاکستانی پروفیسر بھی کام کرتے تھے ۔ پروفیسریحیٰ صاحب، جوپنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ٔ اسلامیات کے جید سکالر تھے اور ان دنوں ایک معاہدے کے تحت نائجیرین حکومت کے مہمان تھے۔ بعد ازاں آپ نائجیرین یونیورسٹی میں اسلامی شعبہ کے چئیرمین بھی رہے۔ بہرحال وزارت کے انھی دنوں کی بات ہے۔ ایک دن مس پیڑیشیا پروفیسرصاحب سے کہنے لگیں ، مسٹر پروفیسر! کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اسلام ایک متشدد اور خواتین کے بارے میں سخت رویہ رکھنے والا مذہب ہے؟ دراصل مس پیٹریشیا کی اسلام کے بارے میں معلومات ویسی ہی تھیں، جیسی مستشرقین کی بدولت غیر مسلموں کی ہوا کرتی ہیں۔ سو آج موقع پاکر مس پیٹریشیا اپنے ایک ساتھی مسلمان پروفیسر سے اس کی وضاحت چاہ رہی تھیں۔ پروفیسر صاحب نے مس پیٹریشیا کا الزام تحمل سے سنا اور بات کو دلائل سے واضح کرنے کا فیصلہ کیا۔

    کہنے لگے،مس!میں جواب ضرور دوں گا مگرکیا میں آپ سے بھی کچھ پوچھ سکتاہوں ؟ کیوں نہیں ؟ پیٹریشیا فاسٹر نے دلچسپی سے ہمہ تن گوش ہوتے ہوئے کہا۔ پروفیسر صاحب نے کہنا شروع کیا۔جیسا کہ سبھی جانتے ہیں ،خواتین پر مہینے میں طبعی اعتبار سے کچھ خاص ایام آتے ہیں۔آپ یہ بتائیے کہ ان ایام میں خواتین طبی اور سائنسی اعتبار سے کیسا محسوس کرتی ہیں؟خاتون نے فی الفور جواب دیا Uneasyness!(بے آرامی اوراذیت) ۔ درست !پروفیسر صاحب نے مزید کہا۔

    اب آپ صرف اتنا بتا دیجئے کہ عیسائیت نے عورت کی ا س اذیت کو محسوس کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں صنفِ نازک کیلئے کیا ریلیف پیکج آفر کیا ہے ؟

    اس سوال پر وہ محترمہ سوچنے لگیں ۔ سوچتی رہیں اور بالآخر سر جھکاتے ہوئے مضمحل لہجے میں بولیں ’’کچھ نہیں !‘‘

    اس پر پروفیسر صاحب گویا ہوئے ۔اب آپ اس سلسلے میں اسلام کی سنئے ، پہلی بات تو یہ کہ اسلام نے عورت کے اس درد کو محسوس کرتے ہوئے اس کا اعتراف قرآن مجید میں کیا۔ پھر عین وہی لفظ بولے جو آج کی اس صدی میں ایک غیرمسلم عورت خود اپنے لئے پسند کر رہی ہے ، قرآن مجید نے مرد کو بتایا کہ اس حالت میں عورت کو’اذیٰ‘ یعنی ایک اذیت و تکلیف اور uneasyness کی کیفیت درپیش ہوتی ہے سو ایسے میں یہ عورت عمومی نہیں تمھارے خصوصی سلوک کی مستحق ہوجاتی ہے ۔یہی نہیں، خود شریعت بھی عورت کی اس تکلیف کے لئے ایک قدم پیچھے ہٹ گئی ۔ وہی نماز کہ جس کا ترک شریعت میں کفر تھا، وہ اس عورت کی اذیت کے احترام میں ان دنوں اسے معاف کردی گئی ۔ روزے بعد میں کسی وقت رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ پھریہ بھی خیال فرمایا کہ اس معاملے کی بنا پر کوئی اسے ہرٹ بھی نہ کرے ۔چنانچہ جب پتا چلا کہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ رضی اللہ عنہ نے ان ایام میں اپنی بیوی کا بستر کمرے سے باہر لگادیا ہے تورسولِ رحمتؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلا کے سمجھایا کہ بیوی سے یہ بے رخی کیوں ؟ ایسے میں تو یہ قدرے اور محبت و سلوک کی مستحق ہونی چاہئے ۔ اس سلسلے میں مزید فرمایا، ان حالات میں سوائے خصوصی تعلقات کی استواری کے عورت سے کسی قسم کی دوری اختیار نہ کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب سن کر اس خاتون کی آنکھیں کھل گئیں۔ اب مس پیٹریشیا فاسٹر ششدر تھی اور ایک مسلم سکالر کے سامنے عیسائیت کی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون گنگ تھی۔ گویا اسلام کے سامنے آج پوری عیسائیت چپ تھی۔

    کیاکوئی ہے جو ہماری ان بچیوں کو مخاطب کرکے کہے کہ اے گل ِبرگ کے روشنی گھرمفہوم کے تعلیمی ادارے میں ایک خاص قسم کے مظاہرے کرتی ہماری بچیو! تم نے یہ کہانی نہیں سنی ہوگی۔ تم نے اس باب میں اسلام کی روشنی بھی نہیں جانی ہوگی۔ عین انھی ایام میں اپنی پیاری بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی دلجوئی کے لئے روارکھے گئے رسولِ رحمت ؐکے تعلیمی مظاہر بھی تم نے ہر گز نہ جانے ہوں گے۔

    مثلاًسیدہ نے بتایا۔ عین انھی ایام میں ،میں مشروب پی کے برتن رسول اللہ ؐ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی ۔ آپ اسی مشروب کو،اس برتن کی ٹھیک اسی جگہ سے نوش فرماتے جہاں سے میرے لبوں نے چھوا ہوتا۔ اور بھی بہت سی باتیں سیدہ بتاتی ہیں ۔ ساری باتیں کالم میں بھلا کہاں سما سکتی ہیں۔ تم نے بہرحال نادانی میں یہ مظاہرہ کیا ۔ جو تمھیں بتایا یا سمجھایا گیا اسی کے تناظر میں تم نے جو کیا سو کیا۔ تمھیں اعتراض ہوا کہ دکاندار تمھارے خاص ایام کاسامان خاکی لفافے میں ڈال کے کیوں دیتا ہے۔ تم نے کپڑوں پ خون ملاکہا کہ تمھیں اس حالت کے کھلے بیان کی چھٹی کیوں نہیں ملتی؟ یا جو بھی تم نے اس جگہ لکھا، جہاں لکھنے کی تربیت تمھیں کوئی دوسرا تعلیمی ادارہ نہ دیتا۔ دراصل مجھے قصور تمھاراکم لگتا ہے۔ میں نے تمھارے پیارے نام دیکھے ہیں۔ یہ سارے اسلام سے محبت کے عکاس ہیں ۔تمھیں تو یہ بھی نہیں بتایا گیا ہو گا کہ جس وقت اسلام تمھاری نزاکتوں کے لئے سہولت و محبت کے ایسے پھول چن رہا تھا،ا س لمحے ساری دنیا کس طرح تمھیں چھوت سمجھتی تھی۔جیساکہ ایک لکھنے والی نے ’ہم سب ‘کے استفادے کے لئے کسی میڈیکل کی معتبر کتاب سے ایسی ساری تاریخی روداد لکھ دی ہے۔ اس لکھے میں سب لکھا گیا مگر افسوس اسلام کی مہربانی نہیں لکھی گئی۔ بھلا ایسی بھی کیا تاریخ دشمنی اورایسی بھی حقائق سے کیا بے اعتنائی۔ خلاصہ اس ساری روداد کا یہ کہ دنیا تب تمھیں بس یوں سمجھو کوڑھی سمجھتی تھی ۔ وہ سمجھتے تھے ،اس حال میں جس چیز کوتم چھولو وہ برباد اور جسے تم نظر بھرکے دیکھ لو وہ زہرناک ہو جائے گی۔ ایسی حالت میں تمھارا سایہ ذائقے کو تلخ اور زمیں کو بنجر کر دے گا۔ارسطو جیساعقلمند بھی کہتا تھا اگر اسی حالت میں تم آئینہ دیکھ لو تو آئینہ شکنوں سے بھر جائے اور جو کوئی دوسرا تمھارا دیکھا آئینہ دیکھ لے تو اس پر جادو ہو جائے ۔ یہودی ایسی حالت میں تمھیں کوڑھی کی طرح فالتو چیزوں میں پھینک مارتے تھے ۔ پھر تم ایسی قسمت کی ماری کی قسمت کو کس نے سنوار؟ اسلام نے! اس نے تمھیں زمیں سے اٹھایا انسان سمجھا اور سینے سے لگایا ۔تو احسان کا بدلہ یوں تو نہیں دیا جاتا نا!

    دیکھو کچھ چیزیں خاص ہوتی ہیں ۔ اس کا یہ مطلب بھلاکیسے کہ وہ باعثِ اذیت یا کمتر بھی ہوتی ہیں؟ وہ بس عام نہیں ہوتیں ۔ہم اپنا جسم ڈھانپ کے رکھتے ہیں تو کیااس لئے کہ یہ ہمارے نزدیک اہمیت نہیں رکھتایا منفی مقام رکھتا ہے۔ کیا آپ کو علم نہیں چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے ،اتنی ہی وہ پردوںمیں اور packed ہوتی ہے ۔ہماری کتنی ہی فطری ضرورتیں ہیں ۔ جو عین فطرت ہیں مگرہم ان کے لیے بازار کے بیچ نہیں بیٹھ جاتے ،واش روم جاتے ہیں۔ ہم ان کی سیلفیاں بھی نہیں بناتے۔ یہ چیزیں اہم شخصیات کو بھی لاحق ہوتی ہیں ۔ مگر وہ بھی ان کی بریکنگ نیوز جاری نہیں کرواتے ۔ دیکھو! کچھ چیزیں بہت خاص ہوتی ہیں ۔ ہم انھیں ذاتیات کہتے ہیں ۔ یہ بری نہیں ہوتیں بس ہماری ذاتی ہوتی ہیں۔ ایک بات آپ کو بتاؤں آج کی کوئی بھی عورت عرب عورت جتنی بے باک اور خودی کی پیکر نہیں ہو سکتی ۔ اس نے اپنی ضرورت کی ہر چیز کو بیان بھی کیا اورسنا اور سمجھا بھی اور پھر آگے ہمارے فائدے کے لئے بھی بیان کر دیا۔ مگر دیکھئے ایک چیز ہوتی ہے، جسے خواجہ آصف نے کہا۔ کچھ شرم ہوتی ہے اورکچھ حیاہوتی ہے۔ شاید آپ کو علم نہ ہو کہ ایک بھارتی وزیرِ اعظم مرار جی ڈیسائی ہوتے تھے ۔یہ کوئی انسانی فریش جوس پیا کرتے تھے ۔کسی سے پوچھنا وہ کیا تھا۔ آپ کو گھن آئے گی ۔ بات یہ ہے کہ شرم کا دامن جب ہاتھ سے چھوٹ جائے تو انسان کی پستی کاکوئی ٹھکانا نہیں رہتا۔ اور دیکھو زندگی ساری نظم کی طرح عیاں نہیں ہوتی ۔یہ کبھی غزل ہوتی ہیں۔ تب یہ تلمیح اور استعارے میں لطف دیتی ہیں۔ وہاں یہ ننگی ہو جائے تو حسن کھو دیتی ہیں۔یہ جو لفافے کی آپ نے بات کی ۔یہ تو آپ کو تکریم دی جاتی ہے ۔ورنہ انسان ہونے کے ناتے کیا خیال ہے دکاندار میں شیطان نہیں آ سکتا ؟ مغرب میں اب کسی خاتون کو بس میں سیٹ بھی پیش نہیں کی جاتی ۔ وہاں عورت دل کی رانی اور گھرکی مہارانی نہیں رہی ۔ سوچو،وہ مرد بننے نکلی تھی تو کیا بن سکی؟ کتنے بوجھ اس نے خود پر لاد لیے تو کیا وہاں بچے اب مرد جنتا ہے؟

    بہرحال تمھارا شکریہ تم نے ہمیں بتایا کہ ہمارے تعلیمی ادارے ، ہمارے نصاب یا ہماری تربیت میں کہیں نہ کہیں کچھ ایسا ضرور ہے جو تمھیں کاغذ پر لکھنے کی باتیں کہیں اور لکھنا سکھا رہا ہے۔ یاد آیا ساتویں کی ایک طالبہ نے ایک دن سکول سے گھر آکے اپنی ماں سے پوچھا : مما ابارشن کیا ہوتا ہے؟ اور ماں نے اگلے دن بیٹی کا سکول بدل دیا۔ شکریہ کہ تم نے ہمیں بتایا کہ جہاں ہمارے پچھتر سالہ پروفیسر یحی ٰصاحبان مس پیٹریشیا فاسٹر کو اسلام کی روشنی سے نہلا رہے ہیں وہیں کچھ لوگ ہماری مریم و جمیلہ کو اسلام سے بہکا بھی رہے ہیں۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 22، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کچھ شرم ہوتی ہے ، کچھ حیا ہوتی ہے !


    تحریر : فردوس جمال

    (مدینہ یونیورسٹی - مدینہ منورہ )

    مولوی صاحب نہیں سمجهیں گے ،ان کی تو عادت ہے کہ ہر کام کے پیچهے یہود و نصاریٰ کی سازش اور تقلید اغیار کی تھیوری تلاش کرنا ، اب دیکھیے نا پاکستان میں خواتین کے حقوق کا اتنا بڑا اور سنگین مسئلہ کہ بچاریوں کو ماہواری اور حیض جب آتا ہے ، تب مولوی صاحب سمیت پورا محلہ اور ملک بے خبر اور غافل ہوتا ہے، جان بوجھ کر ان "سانحات "کو قوم سے مخفی رکها جاتا ہے ،کسی چینل پر بریکنگ نیوز تک نہیں چلتی کہ گذشتہ تین روز سے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم کئ طالبات ماہواری کا شکار ہیں ، اس پر مستزاد یہ ستم کہ میڈیکل سٹورز سے مخصوص پیڈز خاکی لفافوں میں چهپا کر لینے پڑتے ہیں ، سو مولوی ، معاشره اور میڈیا کی اس غفلت اور کراہت پر احتجاج تو بنتا تها ، شاباش ہو بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کی خوش رنگ تتلیوں اور طالبات کو کہ اس ظلم کے خلاف سراپا احتجاج ہوئیں ، اپنی سفید قمیصوں پر سرخ دهبے لگا کر پوری یونیورسٹی میں مٹر گشت مارا کہ زمانہ دیکهے " ہم حیض سے ہیں " ، یوں بهی پاکستانی قوم فارغ بیٹهی ہوئی ہے دیکهنے اور کرنے کو اور کچھ تو ہے نہیں سو یہی دیکهتے رہو کہ کس کو کب حیض آتا ہے ،ان خواتین نے مخصوص ایام میں استعمال ہونے والے ڈائپرز بهی بڑی تعداد میں یونیورسٹی کی دیواروں پر آویزاں کر دئیے اور ان کے اوپر "حیا "سے بهرپور فقرے بهی لکهہ ڈالے کہ
    " ہمارے ایام مخصوص ہماری جنسی خواہش کو کم نہیں کرتے، بڑھاتے ہیں " ادهر مولوی صاحب اور تنگ نظر معاشره اس احتجاج کی وجہ سے انگاروں پر لوٹ رہا ہے ، مولوی صاحب کے بقول اس احتجاج کی لہر یورپ اور انڈیا کے غیر مسلم معاشروں سے شروع ہوئی ہے ، کہ جہاں عورتوں کی ماہواری کو لیکر شدید افراط و تفریط پایا جاتا ہے یہودیوں کے نزدیک عورت ایام حیض میں ناپاک ، پلید اور نجس ہوتی ہے اس لیے یہودی ان دنوں عورت سے ایک طرح کا سوشل بائیکاٹ کرتے ہیں اس کے برتن اس کی رہائش وغیره سب الگ کرتے ہیں ، جب کہ نصاریٰ ان دنوں کا کچھ فرق ہی ملحوظ نظر نہیں رکهتے ہیں اور عورتوں سے ان دنوں میں مجامعت وغیره بهی کرتے ہیں اسی طرح ہندو مذهب میں بهی عورت کو ایام حیض میں اچھوت سمجها جاتا ہے مخصوص دنوں میں عورت سے شدید نفرت کی جاتی ہے وه ان دنوں غسل تک نہیں کرسکتی ہے ، مگر اسلام نے تو اس مسئلے کو انسانیت کا ایک مسئلہ سمجھ کر ہینڈل کیا عورت کو ان دنوں نماز اور روزوں میں ریلیف دیا ، نماز معاف کی جب کہ روزوں کی بعد میں قضا کی سہولت دی ، خاوند کو ان دنوں مجامعت سے روکا کہ طبی اعتبار سے ان دنوں مجامعت دونوں کے لیے مضر ہے ، عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ، نہ تو ان کی رہائش الگ کی نہ ہی ان کے برتن الگ کیے ،میاں بیوی کے درمیان بوس و کنار کی بهی گنجائش رکهی ،یوں سمجهیں کہ مجامعت کے علاوه باقی سب معاملات جائز رکهے ، اب یورپ میں اس مسئلے کو لیکر احتجاج ہوا ، ہندوستان میں اس مسئلے پر آواز بلند ہوئی سو ہمارے ہاں کی مغرب زده خواتین کیسے پیچهے ره سکتی تهیں آؤ دیکها نہ تاو بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں بے حیائی پر مبنی ایک عدد احتجاج کر ڈالا ، مشرقی حیا اور اقدار کی دھجیاں بکهیر کر رکهہ دیں ، یہ دیکهے اور سمجهے بغیر کہ ہمارے معاشرے میں ایام مخصوص میں نہ تو عورت کو اچھوت سمجها جاتا ہے اور نہ ہی اس سے قطع تعلق کیا جاتا ہے عورت ان دنوں روٹین کا اور نارمل وقت گزارتی ہے ، مولوی صاحب تو اس خدشے کا بهی اظہار کرتے ہیں کہ یورپ میں کل کو خواتین سڑکوں پر نکلیں گی کہ حیض صرف خواتین ہی کو کیوں آئے مردوں کو بهی آنا چاہیے ، بچے صرف عورتیں ہی کیوں پیدا کریں مرد بهی بچے جنے کہ مساوات کا تقاضا ہے ، بچے عورتیں ہی کیوں پالیں نعره لگاکر بچوں کی پرورش سے وه دستبردار پہلے ہی ہوچکی ہیں ، ایسے میں کیا ہمارا اسلامی اور مشرقی معاشره بهی آنکهیں بند کرکے یورپ کی تقلید کرے گا ؟! کون جا سنائے بیکن ہاؤس کی مغرب زده تتلیوں کو کہ
    کچھ شرم ہوتی ہے ، کچھ حیا ہوتی ہے
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 30، 2016 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    لبرل پاکستان کا بھیانک انجام

    پاکستان کو لبرل سٹیٹ بنانے کے کیا خطرناک نتائج سامنے آرہے ہیں۔۔۔۔۔

    دیکھئے اس خصوصی رپورٹ میں ۔۔۔

     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 30، 2016 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بکن ہاؤس سکول ۔۔۔۔ قصور وار سکول یا ان بچوں کے والدین ؟



    تصویر
     
  5. ‏اپریل 30، 2016 #5
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ہمارا مسئلہ ایک معمولی سے واقعہ سے شروع ہوا ۔ ہوا یہ کہ ہماری خواتین کے دوپٹے (حجاب) چہوٹے ہوتے گئے اور وقت ایسا بهی آیا کہ رسیاں محسوس ہونے لگے ۔ اب تو ہمارے گهروں کے اندر بهی عورتیں نماز کے لئیے علیحدہ دوپٹا رکہتی ہیں، کہیں آپ اسے پاکی پر محمول نا کریں اس لیئے بتا دوں کہ نماز کے علاوہ جو دوپٹے ہوتے ہیں ان میں ہماری خواتین کو بهی احساس ہیکہ نماز قبول نہیں ہوگی ۔ بهلا یہ کسطرح ممکن ہیکہ وہ کام جو ہماری خواتین کرتی ہیں ان سے نقصان اور فائدے کا پتہ انہیں ہی نا ہو ۔ اب تو ڈوپٹے ہی غائب ہوگئے ۔ صرف نماز کے لئیے اسے استعمال کرنا ہوتا ہے ورنہ گہر کے کسی کونے میں یا کسی کیل پر لٹکتا ہوتا ہے اور اپنی کم مائیگی پر ماتم کناں ہوتا ہے ۔
    ایک معمولی واقعہ کا حادثہ بننا اور پر ایک بڑے سانحہ میں تبدیل ہوجانا یکدم تو نہیں ہوجانا تہا وقت لگنا تہا اور لگا ۔ تو شیطان رفتہ رفتہ اور قدم بہ قدم حاوی ہوتا ہے انسان پر۔
    قصور نا ہماری بہنوں کا ہے ، نا بیویوں کا اور نا ہی بیٹیوں کا ہے ۔ سچ تو یہ ہیکہ ہم یہ سراسر ہم مردوں کا ہے ۔ کیونکہ یہ مسئولیت ہماری ہی ہے ۔ مرد کی رعیت میں ہی عورتیں ہیں خواہ انکے جو بهی رشتے ہوں ہم سے ۔
    ہم ہر واقعے پر خاموش رہتے ہیں (خاموشی ہی موافقت ہے) ۔ حادثات سے چونکتے تک نہیں ، کسی افیون زدہ کی طرح جو بحالت نشہ میں تمام احساسات سے عاری ہو جاتا ہے ۔ ہاں آہ و بکا شدید کرتے ہیں بلکہ صف ماتم تک بچہا دیتے ہیں المیوں پر سانحوں پر ۔ اب ہمیں قصور وار کی تلاش محسوس ہوتی ہے ۔ یہ فطری امر ہے کہ ہم انسان ہیں تو حساس بهی ہیں خصوصا جب اپنا ہی معاملہ ہو ۔ ظاہر سی بات ہے تنکہ ڈہونڈہنا ہے اپنی آنکہوں کا شہتیر نہیں ، تو لا محالہ نظریں دور دور تک جاتی ہیں اور کیا کیا تنکے نہیں اکٹها کر لیتیں۔
    نا ہم نے معاملے پر تلوار اٹہائی ، نا ہی با آواز بلند احتجاج کیا اور نا ہی اپنے دل میں دعاء ہی کی بالعکس ہم نے خاموش رہ کر موافقت کی ۔
    اب کیا بچ گیا جو ہم کر سکتے ہیں آخر قلیل سہی لیکن ہو تو :
    ماتم
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 01، 2016 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    خوب ۔
    لیکن جو نماز ہی نہیں پڑہتیں ، انہیں کیسے احساس دلایا جائے ؟ خیر فضول سے فضول عورت کے روز و شب میں کچھ ایسے لمحات آتے ہیں ، جہاں نماز والی کیفیت ہوتی ہے ، اور یہ عورتیں وہاں واقعتا صحیح سر ڈھانپنے کا اہتمام کرتی ہیں ۔
    چلیں جی جہاں مردوں کی مانی جاتی ہے ، وہاں قصور بھی مردوں کو ماننا پڑے گا ، لیکن جہاں مرد کو کوئی پوچھتا نہیں ، وہاں مرد بیچارہ کیا کرے ، بلکہ الٹا دخل اندازی کرکے جیل میں جائے ؟!
    معاشرے کو لبرل اور بے حیا بنانے کے لیے دیگر انتظامات کے ساتھ ساتھ مرد کو بھی نکیل ڈال دی گئی ہے ۔
    لہذا خاموشی مرد کی موافقت ہی نہ سمجھیں ، وہ مجبوری اور منافقت بھی ہوسکتی ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 01، 2016 #7
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ﻟﮩﺬﺍ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻣﻮﺍﻓﻘﺖ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ، ﻭﮦ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ - "

    کامل اتفاق ۔
     
  8. ‏مئی 01، 2016 #8
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    متفق اور جو عورتیں مرد کے تحت رہتی ہیں وہ ابھی اسقدر پستی کا شکار نہی ہوئیں بلکہ یہ وہی خواتین ہیں جو مغرب کی حقوق نسواں پر یقین رکھتی ہیں.

    Sent from my SM-G360H using Tapatalk
     
  9. ‏مئی 01، 2016 #9
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    پہلے پہ والدین اور بھائی
    دوسرے پہ خود بچیاں
    بالکل صحیح ہے ، یہ موافقت ہے ۔۔۔بے حسی والی موافقت
    مجبوری تو ظاہر ہے کوئی نہیں ۔۔۔
    اگر ہے بھی تو یہ مجبوری(عذرگناہ) کہ ’’۔۔زندگی میں نے اپنی بھی نہیں بدلنی ۔۔۔ان کو کیا منع کروں ‘‘
    یا واقعی دل پتھر ہی ہوگیا ہے ۔۔۔بُرائی ۔۔۔بُرائی ہی نہیں لگتی
    یہاں پہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے والا محاورہ صادق آتا ہے ۔
     
  10. ‏مئی 01، 2016 #10
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    دیکہیں اور سمجہیں

    ہر جملہ صرف لفظی معانی نہیں رکہتا ۔ بلکہ وہ مختلف نقطہ نظر اور مختلف واقعات پر حامل ہوتا ہے ، جو ہو سکتا ہے ہمارے مشاہدہ میں نہ آسکے ہوں ۔
    کئی طرح سے اثر بهی پڑتے ہیں ، مثلا حجاب کے خلاف ہونیوالی انٹرنیشنل جنگ کا اثر یوں بهی ہوا کہ بمبئی میں برقعوں کی ڈیمانڈ دگنی ہو گئی ۔ وہ خواتین جو بابرقعہ نہیں تہیں وہ بهی برقعہ میں نظر آنے لگیں اور برقعہ پہننا گویا حق ہو گیا اور احساس اتنا قوی تہا کہ گویا کوئی انکے برقعے چہیننا چاہتا ہے ۔ بعث واقعات اسکولی طالبات ، ہسپتالوں میں وزٹ کرنیوالی خواتین سے دانستہ بهی ہوئے ۔
    ہر معمولی سی غلطی کو پوری طاقت سے روک دینا چاہیئے اور صرف اسی طرح ہر سانحہ (فتنہ) سے بچا جا سکتا ہے ۔
    میرا ، محترم خضر بهائی کا اور محترم ابن عثمان بهائی کا کہنا ایک ہی ہے ، مقاصد بهی ایک ہی ہیں ۔ نقطہ نظر مختلف ہیں اور وجہ مشاہدات کا مختلف ہونا بهی ہے ۔
    والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں