1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’محدث‘ کے ایک مضمون پر عمار خاں ناصر کا تبصرہ!

'اہل حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عمران اسلم, ‏اکتوبر 16، 2014۔

  1. ‏اکتوبر 16، 2014 #1
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    ’ماہنامہ محدث‘ کے اگست کے شمارہ میں حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کا ایک مضمون ’حلالہ ملعونہ مروجہ کا قرآن کریم سے جواز‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس پر عمار خاں ناصر صاحب نے فیس بک پر یہ تبصرہ کیا ہے:
    ’’
    یادش بخیر! محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب گذشتہ کچھ عرصے سے بڑے پرجلال اور غضب ناک لہجے میں ’’تردید حنفیت‘‘ کا فریضہ انجام دے رہے ہیں اور ان کے یہ مناظرانہ مضامین، مسلکی اعتدال کا دعویٰ رکھنے والے ماہنامہ ’’محدث‘‘ میں شائع ہو رہے ہیں۔ چند ماہ قبل تفویض طلاق کے مسئلے پر انھوں نے حنفی موقف کو اللہ کے دین کے مقابلے میں شریعت سازی قرار دیا۔ ان دنوں حلالہ کی نیت سے نکاح کرنے والے جوڑے کے نکاح کے منعقد ہو جانے کے ضمن میں احناف کے موقف پر تیز وتند تبصرہ ’’محدث‘‘ کے صفحات کی زینت بن رہا ہے۔ ایک نمونہ ملاحظہ ہو:
    "یہ باتیں منکرین حدیث کی ہیں جو حدیث کو حجت نہیں مانتے۔ اگر آپ بھی صرف انہی حدیثوں کو مانتے ہیں جو خود ساختہ فقہ کے مطابق ہیں اور جو فقہ میں بیان کردہ مسائل کے خلاف ہیں، وہ (نعوذ بالله) قرآن پر زیادتی ہیں اور مردود ہیں، تو منکرین حدیث بھی تو ان حدیثوں کو مانتے ہیں جو ان کی عقولِ حیلہ ساز کے مطابق ہیں (بالکلیہ حدیث کے منکر تو وہ بھی نہیں)، تاہم ان حدیثوں کو وہ بھی قرآن پر زیادتی قرار دے کرردّ کردیتے ہیں جو اُن کے خود ساختہ نظریات کے خلاف ہوتی ہیں اور دلیل اُن کی بھی یہی ہوتی ہےکہ قرآن کے عموم کی تخصیص حدیثِ رسول سے نہیں ہوسکتی۔ ....... بتلائیے! منکرین حدیث (قدیم و جدید) میں اور فقہ نوازوں میں فرق کیا ہے؟ قرآن کریم کی تفسیر اور حدیث کی حجیت میں دونوں کا طرزِ استدلال اور طرزِ عمل ایک ہے، فرق کہاں ہے؟"
    مزید فرماتے ہیں:
    "یہ سات 'دلیلیں' تھیں جو مولانا تقی عثمانی صاحب نے ایک صریح حرام کو حلال کرنے اور زنا کاری کو نکاح ثابت کرنےکے لئے پیش فرمائی ہیں اوریہ ان کی مطبوعہ کتاب 'درسِ ترمذی' میں موجود ہیں۔ الحمدللہ ہم نے اِن کی حقیقت واضح کردی ہے جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ احناف کا 'نکاحِ حلالہ'اور شیعوں کا 'نکاحِ متعہ'اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک ہی ہیں اور مذہب کے نام پر زنا کاری کے مترادف ہیں۔"
    ان کے انداز تحریر سے میرا یہ تاثر پختہ ہوا ہے کہ ’’مسلکی رگ‘‘ جب پھڑک اٹھے تو علم اور وسعت مطالعہ کچھ نہیں کر سکتے اور فقہی اختلاف کے ادب آداب سب طاق نسیاں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ بہرحال کیا ہو سکتا ہے! وخلق الانسان ضعیفا!۔‘‘​
    ’اہل محدث‘ کیا کہیں گے؟​
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر 16، 2014
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 16، 2014 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میں نے حافظ صاحب کا وہ مضمون پڑھا ہے جس کا عمار ناصر صاحب نے تذکرہ کیا ہے ۔ حافظ صاحب کا تقریبا دو ماہ پہلے مضمون پڑھتے ہوئے میں نے بھی حافظ صاحب کے اسلوب میں ضرورت سے زائد سختی محسوس کی تھی ۔ واللہ اعلم و أحکم ۔
    ویسے عمار خاں ناصر صاحب بھی ان مضامین سے لگتا ہے کچھ زیادہ ہی رنجیدہ ہوئے ہیں کہ انہوں نے حافظ صاحب کے ساتھ ساتھ رسالہ محدث پر بھی غصہ نکالنے کی کوشش کی ہے ۔
     
  3. ‏اکتوبر 16، 2014 #3
    ندیم محمدی

    ندیم محمدی مشہور رکن
    جگہ:
    Wah, Pakistan, Pakistan
    شمولیت:
    ‏جولائی 29، 2011
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,274
    تمغے کے پوائنٹ:
    140

    مذکورہ مضمون کی د ونوں اقساط الحمد اللہ میں بھی پڑھ چکا ہوں اور اب اُس مضمون پر ایسا تبصرہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ تبصرہ نگار ثابت کیا کرنا چاہتا ہے۔خاص طور یہ لائنز تو مجھے بے بسی سے لبریز نظر آرہی ہیں۔
    ان کے انداز تحریر سے میرا یہ تاثر پختہ ہوا ہے کہ ’’مسلکی رگ‘‘ جب پھڑک اٹھے تو علم اور وسعت مطالعہ کچھ نہیں کر سکتے اور فقہی اختلاف کے ادب آداب سب طاق نسیاں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ بہرحال کیا ہو سکتا ہے! وخلق الانسان ضعیفا!۔‘‘
    دلائل کاجواب ایسے الفاظ سے دینا اہلِ علم کا خاصہ نہیں۔
    وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ‌ (الانفال 74)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 16، 2014 #4
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    جب مذہبی تعصب انسانی ذہن وفکر پر غالب ہوجاتا ہے تو خواہ عالم ہو یا عوام اسکو حقیقت سمجھ میں نہیں آتی مذھبی تعصب حقیقت فھمی کی راہ میں بڑارکاوٹ ہوتا ہے اسوقت اسکی مثال ایسے ہوتی ہے جیسے قرآن نے بیان کیا ہے ۔۔ لھم قلوب لایفقھون بھا انکے دل ہیں لیکن سمجھتے نہیں انکے پاس آنکھیں ہیں لیکن دیکھتے نہیں انکے پاس کان ہیں لیکن سنتے نہیں۔حقیقت فھم وہ ہوتا ہے جو خالی الزھن ہوکرحقیقت سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور حقیقت وہاں تلاش کرتا ہے جھاں مل سکے جیسے قرآن مجید اور احادیث صحیحہ نہ کہ فقھی کتابیں۔
     
  5. ‏اکتوبر 16، 2014 #5
    حبیب الرحمن غازی سمون

    حبیب الرحمن غازی سمون رکن
    جگہ:
    نوکوٹ تھرپارکرسندھ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2014
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    29
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    بھائی جب اپنے مسلک کے خلاف بات آئی توآپ نے اسے مسلکی رگ کہہ دیاحدیث کونہیں دیکھا
    یہاں پرتوآپ کی بھی مسلکی رگ پھڑک اٹھی ہے
     
  6. ‏اکتوبر 17، 2014 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    میرے ہ خیال میں تو اصل غصہ حدیث : : « أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَلَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ».
    پر ہے ،جس کی وجہ سے> حلالہ ملعونہ <کےعنوان سے مضمون چھپا،
    اب کوئی مخلص کتنا ہی اعتدال اپنائے ، حدیث کا ترجمہ تو نہیں بدل سکتا ،
    بالخصوص جبکہ سامنے والا فریق ۔ لعنت ۔ کو ۔رحمت ۔بنانے پر تلا ہو !​
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 17، 2014 #7
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    ’’غیرت ‘‘ ’’فقہی اختلاف کے ادب آداب‘‘ پر غالب آگئی ۔ اور آ بھی جانا چاہیے ۔ ایمان کا تقاضہ ہے۔ جس نے اپنی آنکھوں سے یہ گناہ ہوتا دیکھا ہواور اسے ایک مسلمان عورت کی عزت لٹتی دیکھ غیرت نہ آئے وہ دیوث کہلائے جانے کا مستحق ہے ۔
    أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم
     
    Last edited: ‏اکتوبر 17، 2014
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏اکتوبر 17، 2014 #8
    BlueJayWay

    BlueJayWay مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2014
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    عمار خان ناصر صاحب کا تعلق جاوید غامدی صاھب کے گروہ سے ہے اور یہ گروہ اپنے مخصوص انداز میں جمہور اہلسنت سے دور ہے۔
    جہاں تک حلالہ کا معاملہ ہے تو یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ لیکن یہ بھی حق ہے کہ غامدی صاحب اور ان کے تلامذہ اس کے شدید مخالف ہیں۔
    عمار صاحب نے جو بات لکھی ہے، وہ میری رائے میں درست ہے۔ حافظ صاحب کا اسلوب بہت
    impolite ہوتا ہے۔ میں حلالہ کے فتنے پر اور بعض دوسرے حیلوں پر جو بعض حضرات اختیار کرتے ہیں، ان سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں اور جب ان مسائل کی زد میں مسلم معاشرہ بھی آ جاتا ہے تو کسی بھی انصاف پسند کو یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ یہ دین کو متوازی شریعت سازی ہے۔ لیکن یہ تمام باتیں اچھے آداب سے بھی کی جا سکتی ہیں نہ کہ روایتی برصغیری اسلوب میں۔ عام طور پر ہمارے علماء رائی کا پہاڑ بنانے کی سعی کرتے ہیں مگر پہاڑ کی رائی ہی بنا پاتے ہیں۔

    Disclaimer: I am a no scholar.. just a common, simple Muslim
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏اکتوبر 17، 2014 #9
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَلَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ».
    میرے خیال میں حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کا رویہ اس معاملے پر بالکل درست ہے۔کیونکہ جس حلالے پر ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤقف اتنا سخت ہے تو اسی نبی اکرم
    صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے علماء کا مؤقف اس معاملے پر کیسے نرم ہوسکتا ہےیہ تو دین کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔حلالہ جیسے معلون عمل کو اگر ’’میاں مٹھو چوری کھاسیں‘‘ کے طریقے سے سمجھایا جائے تو یہ طریقہ دعوت نہیں بلکہ خوشامد کہلاتا ہے۔قرآن وسنت میں اتنی زبردست دلائل کے باوجود دین کے نام لیوا اس پر ا تنے ہٹ دھرم۔اور ضدی ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے دعا کی جاسکتی ہے۔اللہ ہمارے ان بھائیوں کو ہدایت عطا فرما۔آمین
     
  10. ‏اکتوبر 17، 2014 #10
    BlueJayWay

    BlueJayWay مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2014
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    معذرت کے ساتھ مگر حلالہ کے ساتھ "غیر نرم" ہونا اور اچھا اخلاق ایک دوسرے سے متصادم نہیں۔
    اگر اتنے بڑے فتنے پر بحث ہو اوراس کا رخ اصل مسلے سے ہٹ کر اخلاقیات پر آ جائے، تو تمیز سے بات کر لینے میں کوئی مصائقہ نہیں۔
    نہ جانے کیوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سمجھایا ہے کہ اعلیٰ اخلاق کے ساتھ تھوڑی عبادت بھی جنت تک لے جاتی ہے؟
    اور کیوں موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے بھی نرمی سے بات کرنے کا حکم ہوا تھا؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں