1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’’تفسیر المعوّذتین‘‘ کا اردو ترجمہ

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏نومبر 28، 2016۔

  1. ‏نومبر 28، 2016 #21
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    فصل دوم
    شر کی دوسری قسم!
    استعاذہ من شر غاسق : اس سورۃ کی دوسری آیت :
    مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ
    ـ ’’اور میں پناہ مانگتا ہوں شب تاریک کے شر سے، جب کہ وہ چھا جاتی ہے‘‘۔ تخصیصص بعد تعمیم ہے۔
    غاسق کے معانی :
    اکثر مفسرین کا قول ہے کہ غاسق کے معنی شب تاریک ہے اور بقول ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کا اشتقاق غَسَقٌ سے ہے جس کے معنی ہیں رات کی تاریکی، جیسے کہ اس آیت میں ہے کہ :
    اَقِمِ الصَّلاَةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ
    ـ ’’نماز کو قائم رکھ سورج کے ڈھلنے کے وقت سے رات کی تاریکی تک‘‘۔
    حسن اور مجاہد مقاتل رحمہم اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی اپنی عبادتوں میں لفظ مذکور کی تقریباً یہی تشریح کی ہے لیکن بعض کے نزدیک غسق کے معنی ٹھنڈک اور خنکی کے ہیں اور چونکہ رات کو عموماً خنکی ہوتی ہے اس لئے اس کو غاسق کہتے ہیں۔ اس کا شاہد غساق کا لفظ ہے جو بقول ابن عباس و مجاہد و مقاتل رحمہم اللہ تعالیٰ زمہریر (۱) کو کہتے ہیں لیکن ان دونوں اقوال میں کوئی منافات نہیں کیونکہ رات کے وقت تاریکی اور خنکی دونوں پائی جاتی ہیں اور دونوں اقوال کے بموجب وجہ تسمیہ مختلف ہونے کے باوجد مسمیٰ ا یک ہے یعنی یہ کہ غاسق سے مراد رات ہے لیکن آیت کے مناسب تاریکی کے معنی ہیں کیونکہ اکثر فسادات رات میں تاریکی کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں نہ کہ اس کی خنکی کی وجہ سے اس لئے استعاذہ کے مناسب حال غاسق کے معنی شب تاریک کے ہیں نیز مستعاذبہ کو رب الفلق (روشنئ صبح کا مالک اللہ) کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس لحاظ سے بھی غاسق کے معنی شب تاریک ہو تو اس سے مستعاذبہ اور مستعاذ منہ میں کامل مناسبت پیدا ہو جاتی ہے۔
    ۱۔ زمہریر یعنی سخت سردی۔ ۱۲
    غاسق سے مراد چاند:
    ترمذی میں ایک حسن صحیح روایت ہے کہ ’’نبی ﷺ نے اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چاند کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا کہ اس کے شر سے پناہ مانگو کیونکہ یہی غاسق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چونکہ یہ ایک مرفوع روایت ہے اس لئے تمام دوسرے اقوال پر اس کو ترجیح دینا لازم ہو کا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تفسیر بیشک درست ہے لیکن یہ پہلی تفسیر کے مخالف نیہں بلکہ اس کے موافق اور اس کی مؤید ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ :
    وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا اَيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْناَ آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً
    ـ
    ’’ہم نے دن اور رات کو اپنی قدرت کی دو نشانیاں بنایا۔ پھر رات کی نشانی کو ہم نے مٹا دیا اور دن کی نشانی کو ہم نے روشن بنا دیا۔
    اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ چاند رات کی نشانی ہے اس لئے رات اور چاند کے مفہوم میں تلازم ہے۔ (دونوں کا مفہوم آپس میں لازم و ملزوم ہے اس لئے دونوں پر غاسق کا اطلاق ہو سکتا ہے اور نبی ﷺ کا کسی ایک معنی کی تخصیص کرنا اس بات سے مانع نہیں کہ دوسرے معنی بھی مراد ہوں۔ چنانچہ نبی ﷺ سے کسی صحابی نے یہ دریافت کیا کہ: لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى
    ـ ’’وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی (اور جس کا سورئہ توبہ میں ذکر ہے) سے کونسی مسجد مراد ہے؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ میری مسجد ہے۔ اب اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آیتِ کریمہ میں اس سے مسجد قبا مراد نہ ہو بلکہ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى اپنے عمومیت مفہوم کے لحاظ سے دونوں مسجدوں کو شامل ہے یا جیسے کہ نبی ﷺ نے سیدناعلی، سیدہ فاطمہ اور حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔ اب اس کے یہ معنی نہیں کہ نبی ﷺ کی ازواج اس کے مفہوم سے خارج ہیں بلکہ دراصل آیت کا نزول ازواجِ مطہرات ہی کے لئے تھا جیسے کہ سیاق سے واضح ہے۔ اس کی توضیح ایک اور مثال سے ہو سکتی ہے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ : ليس الشديد بالصرعة انما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب ـ ’’پہلوان وہ شخص نہیں جو لوگوں کو پچھاڑتا پھرے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو ضبط میں رکھے‘‘۔ اب اس کے معنی یہ نہیں کہ جو شخص دوسروں کوپچھاڑتا ہے وہ پہلوان نہیں بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ جوشخص غصہ کے وقت اپنے آپ کو ضبط میں رکھ سکتا ہے وہ بطریقِ اولیٰ پہلوان ہے۔ اسی طرح نبی ﷺ کا چاند کی طرف اشارہ کر کے یہ فرمانا کہ هذا هو الغاسق یہ معنی نہیں رکھتا کہ شبِ تاریک غاسق کا مفہوم نہیں بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ چاند بھی غاسق کے مفہوم میں داخل ہے۔
    اذا وقب کے معنی :
    یہ قول ضعیف ہے کہ غاسق سے مراد چاند بحالتِ خسوف ہے اور اِذَا وَقَبَ کے یہ معنی ہیں کہ جب اس کو گرہن لگ جائے۔ یہ سلف میں سے کسی کا قول نہیں۔ ترمذی کی حدیث میں اس بات کا کچھ ذکر نہیں کہ جب نبی ﷺ نے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا هذا هو الغاسق
    ـ تو اس وقت وہ خسوف زدہ تھا لیکن اگر وہ خسوف زدہ تھا تو راوی پر لازم تھا کہ وہ اس حالت کی تصریح کرتا۔ علاوہ ازیں لغت سے اس کی تائید نہیں ہوتی کیونکہ وقوب کہیں بھی خسوف کے معنوں میںاستعمال نہیں ہوا بلکہ وقوب کے معنی دخول کے ہیں وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ یعنی من شر الليل اذا دخل بعض مفسرین کا قول ہے کہ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کے معنی ہیں ثریاکے ستارے جب کہ وہ غروب ہونے لگیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ثریا (پروین) یا خوشہـ ٔ آسمان کا جب طلوع ہوتا ہے تو بیماریاں اور آفتیں کم ہو جاتی ہیں لیکن اس کے غروب ہونے کے زمانہ میں بیماریوں اور آفتوں کا نزول ہوتا ہے اگر ان لوگوں کی مراداپنے قول سے یہ ہے کہ غاسق کا لفظ اپنے عموم کے لحاظ سے پروین کی اس حالتِ خاص کو بھی شامل ہے تب تو اس میں کچھ حرج نہیں اور ممکن ہے کہ ایسا ہو لیکن اگر ان کا خیال یہ ہے کہ غاسق کا مفہوم انہی کے بیان کردہ معنوں تک محدود ہے تو یہ قطعًا باطل ہے۔
     
  2. ‏نومبر 28، 2016 #22
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    فصل سوم
    رات اور چاند سے استعاذہ کی حقیقت
    رات کی تاریکی:
    شبِ تاریک اور چاند کے شر سے ا ستعاذہ کا حکم اس لئے ہوا ہے کہ رات کے آغاز پر شریر اور خبیث روحیں پھیل جاتی ہیں اورشیطان جا بجا پھرنے لگتے ہیں۔ چنانچہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ ’’سورج کے غروب ہونے کے بعد اپنے بچوں کو باہر نہ جانے دو اور چوپایوں کو گھرمیں باندھ رکھو جب تک کہ عشاء نہ ٹل جائے‘‘۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ کے موافق اپنی مخلوق کو پھیلاتا ہے‘‘۔ رات تاریکی کا وقت ہے اور اس میں شیاطین الانس والجن کو وہ غلبہ حاصل ہو سکتا ہے جو دن کے وقت سورج کی روشنی میں حاصل نہیں ہو سکتا۔ دن، روشنی کا وقت ہے اور شیطان کو اس سے نفرت ہے۔ وہ تاریکی کو زیادہ پسند کرتا ہے اور سیاہ کار تاریک عمل لوگوں پر اس کو تسلط حاصل ہوتا ہے۔
    دن کی روشنی:
    کہتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب (مدعی نبوت) سے کسی نے دریافت کیا کہ تم پر کس طرح اور کن اوقات میں القاء ہوتا ہے؟
    اس نے جواب میں کہا کہ جب گھپ اندھیرا ہوتا ہے تو مجھ پر القاء ہوتا ہے۔ پھر اس نے نبی ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دن کی روشنی میں مجھ پر وحی آتی ہے اس سے اس نے نبی ﷺ کی سچائی اور اوّل الذکر کے جھوٹا ہونے پر استدلال کیا۔ اسی طرح جادو کا اثر بھی رات کو زیادہ ہوتا ہے اور جادو کے جو اعمال رات کے وقت عمل میں لائے جاتے ہیں، عام طور پر مشہور ہے کہ ان کا اثر قوی تر ہوتا ہے اور جس طرح تاریک گھر اور تاریک جگہیں شیطان کا مسکن اور اس کی جولان گاہ بنی رہتی ہیں اسی طرح جو دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے منور نہیں ہوئے وہ بھی شیطان کے اثر کو زیادہ قبول کرتے ہیں اور وہ ان کے اندر آسانی سے گھس جاتا ہے۔
     
  3. ‏نومبر 28، 2016 #23
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    فصل چہارم
    استعاذہ برب الفلق کے اسرار
    نور اور ظلمت :
    اس سے تم کویہ بھی معلوم ہو گیا ہو گا کہ رَبِّ الْفَلَقِ (صبح کامالک اللہ) کا لفظ یہاں پر استعمال کرنا کہاں تک موزوں اور مناسب ہے۔ صبح کی روشنی سے نور کی بادشاہت کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کے ظہور پر تاریکی کا لشکر شکست کھا جاتا ہے اور رات کی تاریکی میں شرور پھیلانے والوں کی جمعیت تتر بتر ہو جاتی ہے۔ ایک خبیث الطبع شریر، تمام چور اور رہزن، مفسدہ پردار جن اور شیطان کسی نہ کسی جگہ چھپ جاتے ہیں اور زہردار خزندے اپنے بلوں میں گھس کر نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کومامور فرمایا ہے کہ روشنی کے مالک خدا کے ساتھ پناہ مانگیں جو ظلمات کی شکست کا موجب ہے۔
    تقال ایمان و کفر:
    اللہ تعالیٰ نے جا بجا اپنے کلامِ پاک میں اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور کافروں کو تاریکی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔
    اَللهُ وَلِيُّ الَّذِيْن اَمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا اَوْلِيَآئُهُمُ الطَّاغُوْتِ يُخْرِجُوْنُهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمَاتِ
    ـ
    ’’اللہ تعالیٰ مومنوں کا دوست ہے ان کو تاریکیوںسے نکال کر روشنی میں لاتا ہے لیکن کافروں کے دوست شیطان ہیں جو ان کو روشنی سے نکال کر تاریکی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں‘‘۔
    دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ:
    اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنَهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهِ فِيْ النَّاسِ كَمَنْ مِّثْلِهِ فِيْ الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا
    ـ
    ’’کیاوہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لئے روشنی بنائی جو تاریکیوں میں اس کے لئے مشعلِ راہ کا کام دیتی ہے اس شخص کے برابر ہے جو تاریکیوں میں مبتلا ہے جس سے نکلنے کی راہ اس کو نہیں سوجھتی‘‘۔
    اسی طرح کافروں کے لئے مثال بیان فرمائی ہے:
    اَوْ كَظُلُمَاتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَّغْشَاهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ
    ـ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ ـ اِذَا اَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا ـ وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللهُ لَهُ نُوْرًا فَمَا لَهُ مِنْ نُّوْرٍ
    ’’ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی سمندر کی لہروں میں تاریکوں کے اندر محصور ہو تہہ بہ تہہ لہروں کے اوپر بادلوں کی بھی ایک تہہ ہو جس سے اندھیرے کی بھی تہیں بن گئی ہوں۔ اپناہاتھ نکالنے بر اس کو وہ ہاتھ تک دکھائی نہیں دیتا اور جس کو اللہ تعالیٰ نے نور نہیں دیا وہ نور سے بالکلیہ محروم رہے گا‘‘۔
    اس آیت سے پہلے کی آیت میں مومنوں کی مثال حسب ذیل بیان فرمائی ہے:
    مَثَلُ نُوْرِهِ كَمِشْكَوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ
    ـ الَمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍ ـ الزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا دُرِّيٌّ يُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُوْنَةٍ لاَ شَرْقِيَّةٍ وَّلاَ غَرْبِيَّةٍ يَّكَادُ زَيْتُهَا يُضِيئُ وَلَوْ لَمْ يَمْسَسْهُ نَارٌ ـ نُوْرٌ عَلَى نُوْرً ـ يَهْدِى اللهُ لِنُوْرِ مَنْ يَّشَآئُ ـ
    ’’اس کی نور کی مثال ایک طاقچے کی ہے جس میں ایک چراغ دھرا ہو، وہ چراغ ایک شیشے کے اندر ہے جو ایک ستارئہ درخشاں کی طرح مجلّٰی ہے وہ چراغ ایک مبارک درخت سے (زیتون کی عمدہ ترین قسم ک ے تیل سے جلایا جاتا ہے جو قریب ہے کہ آگ کے ساتھ چھو جانے سے بھی پیشتر بھڑک اٹھے اوپر تلے روشنی ہی روشنی ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت فرماتا ہے‘‘۔
    الغرض ایمان ایک نور ہے جس کا مآل نور کی طرف ہے۔ اس کا مستقر مومن کا دل ہے جو چراغ کی طرح روشن ہے اور ایمان والوں کا ربط ضبط، ارواحِ طیبہ اور ملاکہ علیہم السلام کے نورانی وجودوں کے ساتھ رہتا ہے۔ برخلاف اس کے کفر اور شرک ایک تاریکی ہے جس کا مآل تاریکی کی طرف ہے اور اس کی کارگاہ کافروں کے پر ظلمت دل ہیں اوراہلِ کفر کامیل جول ارواح خبیثہ اور شیاطین کی تاریک مستیوں کے ساتھ ہے۔ اس لئے سورئہ فلق میں روشنئ صبح کے مالک اللہ کے ساتھ شب تاریک کے شہر پناہ مانگی گئی ہے۔ (فتامل) اور اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ کلام نبی ﷺ کے صدقِ رسالت کی ایک بیّن دلیل ہے اور وہ شیاطین کے آوردہ کلام کے عین متضاد ہے۔
    وَمَا تَتَنَزَّلْتَ بِهِ الشَّيْطَانَ وَمَا يَنْبَغِيْ لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيْعُوْنَ
    ـ
    ’’اس کلام پاک کو شیاطین نے نہیں اتارا اور نہ ہی ایسے پاکیزہ کلام کا اتارناان کے حسبِ حال اورنہ ان کے لئے ممکن ہے‘‘۔
     
  4. ‏نومبر 28، 2016 #24
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    فصل پنجم
    تفسیر الفلق
    فلق بمعنی پھوٹنا :
    لفظ فلق روشنئ صبح کا مادہ پھوٹنے پر یا اگر متعدی فعل ہو تو چیرنے پھاڑنے پر دلالت کرتا ہے اور یہ صفت کم و بیش تمام مخلوقات میں پائی جاتی ہے۔ چنانچہ صبح کی پو پھوٹنا ، اناج کے دانوں اور گٹھلیوں کا پھوٹنا اور اس کے انواع واقسام نباتات کا پھوٹ کر نکلنا، پہاڑوں سے چشموں کا پھوٹنا، زمین کا پھوٹنا، بادلوں کاپھوٹ پڑنا اور ان سے بارش کا نازل ہونا، رحمِ مادر کا پھوٹنا اور اس سے بچہ کا پیدا ہونا غیرہ وغیرہ۔
    فلق بمعنی لزوم علیحدگی:
    پھوٹنے کے ساتھ دونوں چیزوں میں فرق ہونا اور علیحدگی نمودار ہونا لازم ہے۔ اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ جسمانی اشیاء میں یہ صفت پائی جاتی ہے اسی طرح ا للہ جل شانہ حق اور باطل کو بھی جدا کرتا اور ان میں علیحدگی پیدا کرتا ہے اور اسی لئے اس نے اپنی کتابِ مقدس کا نام فرقان رکھا ہے یعنی حق اور باطل میں جدائی کرنے والی کتاب۔ علیٰ ہٰذالقیاس جب اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی حمایت فرماتا اور ان کے دشمنوں پر عذاب اور ہلاکت نازل فرماتا ہے جس سے دینِ حق اور باطل میں علیحدگی نمودار ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس فعل کو بھی فرقان کہا جاتا ہے۔
    وَاَتَيْنَا مُوْسَى الْكِتَابَ وَالْفُرْقَانَ
    ـ ’’جب ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو ایک کتاب دی اور اس کے دینِ حق کا بول بالا کرنے کے لئے اس کو فرقان دیا‘‘۔
    (اس کے دوستوں اور دشمنوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ ایک فریق کو نجات دی اور دوسرے کو غرق کر دیا)۔
    اس سے بھی تم کو رب الفلق اور من شر غاسق اذا وقب کے درمیان معنوی مناسبت واضح ہو گی۔ (فتامل)۔
     
  5. ‏نومبر 28، 2016 #25
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    فصل ششم
    شر کی تیسری قسم!
    استعاذہ من شرّ النّفّثات :
    وَمِنْ شَرِّ النَّفَّثَاتِ فِيْ الْعُقَدِ
    ـ ’’اور گانٹھوں پر پھونکنے والی جماعتوں کے شر سے میں پناہ مانگتا ہوں‘‘ ۔
    اس آیت میں شر کی تیسری قسم کا ذکر ہے۔ گانٹھوں پر پھونکنے والی جماعتوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو کسی دھاگے میں گرہیں لگا کر ہر ایک گرہ پر جادو کرنے کی غرض سے کچھ منتر جنتر پھونکتے ہیں اور چونکہ ساحر (جادوگر) کا نفس کیفیتِ خبیثہ کے ساتھ آوارہ ہوتا ہے اور مناسبت کی وجہ سے شیاطین کے نفوسِ خبیثہ اس کی اعانت کے لئے آمادہ ہوتے ہیں۔ قانون قدرت کی مقررہ دفعات (جس کی حقیقت اور تفصیل کاعلم صرف اللہ عالم الغیب کو ہے) کے بموجب اس کا اثر مسحور پر ہوتا ہے۔ النَّفَّثَاتِ کا لفظ جمع مونث ہے اور اس لئے یہاں بر ایک سوال وارد ہوتا ہے کہ:
    سوال: سحر کاعمل تو مذکر اور مونث دونوں سے صادر ہوتا ہے، پھر مونث کی تخصیص کیا معنی رکھتی ہے؟
    جواب: اس کا جواب ابوعبیدہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ دیا ہے کہ اس صیغہ کا استعمال تخصیص کے لئے نہیں بلکہ ایک امرِ واقع کی بناء پر ہے۔ کیوں کہ لبید بن اعصم یہودی کی بیٹیوں نے نبی ﷺ پر سحر کاعمل کا تھا اور اس کااثر زائل کرنے کے لئے یہ دونوں سورتیں پہلے پہل نازل ہوئی تھیں، لیکن یہ جواب چنداں تحقیق پر مبنی نہیں کیونکہ صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ سحر کرنے والا خود لبید بن اعصم تھا۔ اس لئے حقیقی جواب یہ ہے کہ چونکہ سحر کے مؤثر ہونے میں نفوس اور ارواحِ خبیثہ کو بڑا دخل ہے اور یہ دونوں لفظ کلامِ عرب میں مونث استعمال ہوتے ہیں اس لئے النَّفَّثَاتِ مونث کا صیغہ استعمال کیا گیا۔
    واقعہ صحر النبی ﷺ :
    صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پر جادو کیا گیا ا ور اس کا یہاں تک اثر ہوا کہ بعض اوقات آپ ﷺ کو خیال پیدا ہوتا تھا کہ میں نے فلاں کام کر لیا ہے لیکن حقیقت میں نہیں کیا ہوتا تھا۔ جب یہ حالت پیدا ہوئی تو آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اورپھر مجھ (سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) سے اس طرح مخاطب ہوئے کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ جس بات کے لئے میں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی اس بارے میں مجھ کو قطعی علم عنایت ہوا ہے؟ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ کیسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس (خواب یا مکاشفہ کی حالت میں) دو آدمی آئے، ایک ان میں سے میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا پاؤںکے پاس، جس کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا، اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہاکہ اس پر جادوکیاگیا ہے۔ پہلے نے پھر کہا کہ کس نے اس پر جادوکیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے دریافت کیا کہ کس چیز کے ذریعہ سے؟ اس نے کہا کہ کنگھی کے گرائے ہوئے بالوںاور نر کے کھجور کے گابھے کے غلاف کے ذریعہ سے۔ پہلے نے سوال کیاکہ وہ جادو کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ ذردان کے کنوئیں میں جو بنی زریق کے قبیلہ میں ہے۔ اس واقعہ کے دکھائی دینے کے بعد آپ اس کنوئیں پر تشریف لے گئے اور واپس آکر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس طرح بیان فرمایا کہ اس کا پانی اس قدر سرخ تھا کہ گویا اس میں مہندی کے پتے بھگوئے گئے ہیں اور اس کے ارد گرد کھجور کے درخت شیطانوں کے سر معلوم ہوتے تھے۔ (بدصورت اور بدنما ہونے کی وجہ سے) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! تو آپ نے اس کو نکالا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا، مجھ کو اللہ تعالیٰ نے شفا بخشی تو میں نے مناسب خیال نہیں کیا کہ لوگوں میں فتنہ و فساد پیدا کروں اس کے بعد اس کنوئیں کو بندکیا گیا۔
    هَلْ يُسْتَخْرِجُ السِّحْرَ :
    صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت سے بظاہر اس کانکالنا ثابت ہوتا ہے۔ اس دوسری روایت کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی ﷺ پر جادو کیا گیااور اس کایہاں تک اثر ہوا کہ بعض اوقات آپ خیال کرتے تھے کہ آپ ہمبستر ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ سفیان جو اس حدیث کا راوی ہے اس کا قول ہے کہ یہ سحر کی شدید ترین قسم ہے۔ ایک دن نبی ﷺ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ جس بات کے لئے میں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی اس بارے میں مجھے قطعی علم بخش دیا گیا ہے۔ دو آدمی میرے پاس آئے، ایک میرے سرہانے اور دوسرا میری پائنتی بیٹھ گیا۔ جو میرے سرہانے تھا اس نے دوسرے سے کہا کہ اس شخص کو کیا ہواہے؟ اس نے کہا اس پر جادو کیا گیا ہے۔ پہلے نے کہا کس نے اس پر جادو کیا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ لبید بن اعصم نے۔ یہ بنی زریق کا ایک شخص تھا جو یہودیوں کا حلیف تھا اور منافق تھا۔ پھر پہلے نے کہا کہ اس نے کس چیز کے ذریعہ جادو کیا ہے؟ اس نے کہا کہ نر کھجور کے گابھے کے غلاف میں جو زرہ ان کے کنوئیں میں ایک چکی کے پاٹ کے نیچے رکھا ہوا ہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ اس کنوئیں پر تشریف لے گئے اور اس کو باہر نکال لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ کنواں ہے جو مجھے (خواب یا مکاشفہ کی حالت میں) دکھایا گیا۔ اس کا پانی مہندی کے خیساندہ کی طرح سرخ تھا اور اس کے ارد گرد کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر معلوم ہوتے تھے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ پھر اس کو کھولا کیوں نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے شفا بخش دی ہے اور میں یہ نہیں چاہتا کہ لوگوں میں فتنہ وفساد پیدا کروں‘‘۔
    اس حدیث کا امام بخاری نے عنوان بھی یہ قائم کیا ہے کہ هل يستخرج السحر ’’کیا جادو نکالا جائے؟‘‘ ۔ قتادہ رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ایک شخص پر جادو کیا گیاہے اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستر ہونے سے روکا گیا ہے، کیا اس کو کھولا جائے؟ اس نے جواب دیا کہ کچھ حرج نہیں اس کی غرض تو اصلاح ہے اور ایسی باتوں سے شریعت نے منع نہیں فرمایا جس میں لوگوں کا فائدہ ہو‘‘۔
    تنافض روایات:
    الغرض دونوں مندرجہ بالا روایتوں میں تنافض معلوم ہوتا ہے، اس سے نکالنا اور اس سے نہ نکالناثابت ہوتا ہے لیکن درحقیقت ان میں کچھ تعارض نہیں۔ نکالنے سے یہ مراد ہے کہ آپ نے خود اس کو نکال کر دیکھا اور پھر دفن کر دیا۔ لیکن نہ نکالنے سے مراد یہ ہے کہ نکال پر منظرِ عام پر اس کو نہیں لائے اور لوگوں کو نہیں دکھایا جس کامانع بھی آپ نے بیان فرمایا اور وہ یہ ہے کہ اگر آپ ایسا کرتے تو مسلمانوں میں ایک جوش پیدا ہو جاتا اور ان کا خاموش رہناممکن نہ تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ساحر کی قوم بھی اس کی حمایت کے لئے کھڑی ہو جاتی اور فریقین میں فتنہ و فساد کی آگ مشتعل ہو کرا س کی چنگاریاں دور تک پھیل جائیں اور پھر اس کا فرو کرنا دشوار ہو جاتا اور چونکہ مقصود حاصل ہو چکا تھا اور نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے شفا بخش دی تھی اس لئے جادو کو نکال کر منظرِ عام پر لانا اور خواہ مخواہ لوگوں کے جذبات کو تحریک دینا نبی ﷺ نے مناسب خیال نہیں فرمایا جو آپ کے کریم النفس ہونے کی ایک روشن دلیل ہے۔
    متکلمین کا قول: یہ حدیث اہلِ علم کے نزدیک ثابت ہے اور سب نے اس کو مقبول قرار دیا ہے، کسی کو بھی اس کی صحت میں اختلاف ہیں لیکن اکثر اہلِ کلام نے اس حدیث کی صحت سے انکار کیا ہے اور اس کی تکذیب کی ہے۔ چنانچہ بعض متکلمین نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور جودلائل انہوں نے اس حدیث کے ردّ میں لکھے ہیں ان کا ملخص یہ ہے کہ اس حدیث کے راوی کو غلطی ہوئی ہے اور حقیقت میں کوئی اس قسم کاواقعہ پیش نہیں آیا۔ نبی ﷺ کی شان سے یہ بعید ہے کہ آپ ﷺ پر صحر کا اثر ہو، کیونکہ اگر ہم مان لیں کہ آپ پر جادو کا اثر ہواتھا تو اسسے کافروں کے قولکی تصدیق ہو جائے گی جو نبی ﷺ کو مسحور کہاکرتے تھے بلکہ انبیائے سابقین علیہم الصلوٰۃ والسلام کے حق میں بھی کافر لوگ ایسا ہی بکواس کیاکرتے تھے چنانچہ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا:
    وَاِنِّيْ لَاَظُنُّكَ يَامُوْسَى مَسْحُوْرًا
    ـ ’’اور اے موسیٰ! میرا تو خیال ہے کہ تم پر کسی نے جادو کیا ہے‘‘۔
    اور صالح اور شعیب علیہما السلام کی قوم نے انہی لفظوں سے مخاطب کیاتھا کہ :
    اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ
    ـ ’’بیشک تم ان میں سے ہو جن پر جادو کیا گیاہو‘‘۔
    لیکن یہ کفار کا قول ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے سحر کے اثر سے محفوظ رہنا لازم ہے، کیونکہ اگر ہم اس کو جائز تصور کریں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ شیطان کے اثر میں آ سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں حمایت اور عصمت کا جو وعدہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا نہیں کیا وغیرہ وغیرہ۔
    اہلِ علم کی رائے:
    متکلمین کے یہ دلائل علمائے حدیث کے نزدیک کچھ وزن نہیں رکھتے کیونکہ ہشام جواس حدیث کا راوی ہے نہایت ثقہ اور بہت بڑا عالم ہے ا ور ائمہ حدیث میںسے کسی نے بھی اس کی روایت کو قابلِ اعتراض خیال نہیں کیا۔ اس لئے متکلمین کی جرح قدح سے وہ مطعون قرار نہیں دیا جاسکتا۔ علاوہ ازیں ہشام سے قطع نظر کر کے دوسرے متعدد راویوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور مام بخاری اور امام مسلم کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اہل حدیث میں سے کسی نے بھی ان کے اس فیصلہ پر نکتہ چینی نہیں کی۔
    مفسرین، اہل حدیث فقہاء اور مؤرخین سب کے نزدیک یہ ایک مشہور ا ور تسلیم شدہ واقعہ ہے او رمتکلمین کی نسبت یہ لوگ نبی ﷺ کی سیرت (حالاتِ زندگی) کو زیادہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک یہدی نے نبی ﷺ پر جادو کیاتھا جس کے اثر سے کئی روز تک نبی ﷺ کو شکایت رہی اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور کہاکہ ایک یہودی نے آپ ﷺ پر جادو کیا ہے اورگرہیں لگائی ہیں چنانچہ نبی ﷺ نے آدمی بھیج کر وہ گرہیں (کنوئیں سے) نکلوا لیں اور ان کوکھولنا شروع کیا۔ جب بھی آپ ﷺ کوئی گرہ کھولتے تھے اس سے آپ کو تحفیف محسوس ہوتی تھییہاں تک کہ جب تمام گرہیں کھول دیں تو آپ کی طبیعت بالکل ہلکی پھلکی ہو گئی۔ آپ نے یہودی سے اس کاذکر تک نہیں کیا اور نہ کبھی آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر اس کی علامت دیکھی گئی۔
    ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ا یک یہودی غلام نبی ﷺ کی خدمت کیاکرتاتھا، یہودیوں نے اسے بہ
    ـکانا شروع کیااور اس کو مجبور کیا کہ وہ ان کو نبیﷺ کی کنگھی سے گرے ہوئے بال اور آپ کی کنگھی کے چند ایک دندانے دے، چنانچہ یہودیوں نے ان دونوں چیزوں کے ذریعہ آپ پر جادو کیااور اس کام کو لبید بن اعصم نے ا نجام دیا۔
    سورئہ فلق اور سورئہ ناس اس بارے میں نازل ہوئیں۔ ان سورتوں کی گیارہ آیتیں ہیں۔ سورئہ فلق کی پانچ اور سورئہ ناس کی چھ۔ نبی ﷺ نے ا ن کو پڑھنا شروع کیا تو ہر ایک آیت کے ختم ہونے بر ایک گرہ کھل جاتی تھی یہاں تک کہ تمام گرہیں کھل گئیں اور نبی ﷺ بیماری کے اثر سے بالکل آزاد ہو گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ چھ مہینے تک اس کے اثر میں مبتلا رہے تین دن تک اس کی شدت رہی اور بالآخر معوّذتین نازل ہوئیں۔
    جادوایک عارضہ ہے!
    متکلمین کے جواب میں اہلحدیث کہتے ہیں کہ جادوکا اثر بھی دوسری بیماریوں کی طرح ایک عارضہ ہے جس میں نبی ﷺ کچھ مدت تک مبتلا رہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے نجات دیی اور شفا بخشی۔ بیماری کا عارض ہونا انبیاء علیہم السلام کے لئے کوئی عیب کی بات نہیں (بلکہ ان کی بشریت کا اقتضاء ہے) یہاں تک کہ بعض حالات مرض میں ان پر بیہوشی بھی طاری ہو سکتی ہے چنانچہ نبی ﷺ پر مرض الموت میں چند مرتبہ ان کا طاری ہونا صحیح روایت سے ثابت ہے۔
    ایک مرتبہ نبی ﷺ بالا خانے سے گرے تو آپ ﷺ کا قدم اکھڑ گیا (آپ ﷺ کے قدم کی ہڈی اتر گئی) اور ایک دفعہ گھوڑے سے گرنے کااتفاق ہوا تو آ پﷺ کئی دن تک باہر نہیں نکل سکے کیونکہ آپ کا پہلوئے مبارک چھل گیا تھا۔ اس قسم کے عوارض کا پیش آنا کمالِ نبوت کے منافی نہیں، مرض اور مصیبت سے درجات میں زیادتی ہوتی ہے۔ (۱)
    ایک حدیث کا مضمون ہے کہ سب سے زائد انبیاء علیہم السلام کو مصیبتیں پیش آتی ہیں۔ تم نے انبیاء اکرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے حالات میں پڑھا ہوگا کہ دینِ حق کی دعوت اور تبلیغ میں ان کو کیا کیا تکالیف برداشت کرنی پڑیں۔ اس لئے اس میں کونسی تعجب کی بات ہے۔ اگر آپ کو اپنے دشمنوں سے ان کے جادو کا عمل کرنے کی وجہ سے کسی قدر تکلیف سہنی پڑی ہو جیسے کہ یہ ایک امرِ ممکن بلکہ واقع ہے کہ اعدائے ملت نے آپ کو تیر و شمشیر سے زخمی کیا اور ایک مرتبہ انہوں نے نبی ﷺ کی پشت مبارک پر نماز کی حالت میں
    ۱۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اگرچہ وہ اعلیٰ مراتب تک پہنچ چکے ہیں لیکن پھر بھی بشریت کے اوصاف سے وہ مبرا نہیں قل انما انا بشر مثلكم اور اس لئے ان کو اللہ کا شریک مت ٹھہراؤ۔ مترجم
    اوجھڑی رکھ دی تھی۔ یہ تمام واقعات ابتلاء کی قسم سے ہیں اور وہ نبی ﷺ کے لئے ہرگز کسرِ شان اور عیب و تنقیص کے موجب نیہں یہ علو درجات کا باعث ہے۔
    صحیحین میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ اے محمد (ﷺ)! کیا تمہیں بیماری کی شکایت ہے؟ نبی ﷺ نے اثبات میں جواب دیا۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا : بِسْمِ اللهِ اَرْقِيْكَ مِنْ كُلِّ شَيْئٍ يُّؤْذِيْكَ مِنْ كُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنٍ حَاسِدٍ اَللهُ يَشْفِيْكَ بِسْمِ اللهِ اَرْقِيْكَ
    ـ ’’میں اللہ تعالیٰ کے نام سے تمہارے لئے دم کرتا ہوں، ہر ایک ایسی چیز سے جو تم کو تکلیف دے، ہر ایک نفس کے شر سے اور حاسد کی آنکھ سے اللہ تعالیٰ ہی تم کو شفا عنایت کرے گا اللہ تعالیٰ ہی کے نام سے میں تمہارے لئے منتر کرتا ہوں‘‘۔
    اس سے معلوم ہوتاہے کہ آپ ﷺ کی شکایت کسی نفسِ شریر یا حاسد کے شر سے ت ھی جس کے زائل کرنے کے لئے جبرئیل علیہ السلام نے مندرجہ بالا الفاظ میں آپ ﷺ پر دم پڑھا۔
    منکرین سحر کا ردّ:
    رہامتکلمین کا یہ استدلال کہ کافر لوگ نبی ﷺ کو مسحور کہا کرتے تھے اور فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو مسحور کے لفظ سے اور صالح اور شعیب علیہما السلام کو ان کی قوم نے مسحر کے لفظ سے مخاطب کیا۔ الى اخر ما قال ت اس کا جواب بعض اہلحدیث نے ہ دیا ہے کہ مسحور اور مسحر کا اشتقاق سحر بمعنی پھیپھڑے سے ہے مسحور کے معنی پھیپھڑے والا یعنی انسان۔ اس سے کافروں کی مرادیہ تھی کہ پیغمبر بھی ہماری طرح انسان ہے لیکنی ہ جواب بہت ہی ناپسندیدہ اور دُور از صواب ہے کیونکہ بشر کو مسحور کے لفظ سے تعبیر کرنا لغت کے کسی استعمال سے ثابت نہیں اور کلام مجید کو بغور پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کافروں کو یہ کہنا منظور ہوتا تھا کہ تم بھی ہماری طرح انسان ہو وہاں صریح بشر کا لفظ ا ستعمال کرتے تھے: لَقَالُوْا اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُنَا الخ
    ـ (14: 01) اَبَعَثَ اللهُ بَشَرًا رَّسُوْلاً ـ وغیرہ ۔
     
  6. ‏نومبر 28، 2016 #26
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    سحر و مسحور کی تحقیق:
    علاوہ ازیں اگر مسحور کے معنی پھیپھڑے رکھنے والا ہوتا تو فرعون کا یہ کہنا کہ وَاِنِّيْ لاُظُنَّكَ يَمُوْسَى مَسْحُوْرًا
    ـ نہایت بیہودہ معلوم ہوتا ہے کیا اس کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ موسیٰ علیہ السلام ایک پھیپھڑا رکھنے والا ا نسان ہے اور موسیٰ کا یہ جواب دینا کہ :
    اِنِّيْ لاَظُنُّكَ يَفِرْعَوْنَ مَثْبُوْرًا
    ـ ’’اے فرعون میں تم کو ہلاک ہوتا ہوا خیال کرتا ہوں‘‘ ناموزوں ہو گا بلکہ اگر مسحور سے مراد انسان تھاتو موسیٰ علیہ السلام کو یہ جواب دینا مناسب تھا کہ بیشک میں انسان ہوں لیکن بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے جیسے کہ سورئہ ابراہیم میں کافروں اور انبیاء علیہم السلام کا آپس کا خطاب اس طرح منقول ہے کہ جب کافروں نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے یہ کہا کہ تم بھی تو ہم جیسے بشر ہو تو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نے اس کے جواب میں یہ فرمایا کہ:
    اِنْ نَّحْنُ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلَكِنَّ اللهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَّشَآئُ مِنْ عِبَادِهِ
    ـ ’’بیشک ہم تم جیسے انسان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنی عنایت سے مخصوص کرتا ہے‘‘۔
    الغرض بعض اہل حدیث کا یہ جواب نہایت ہی کمزور ہے۔ بعض دوسرے اہلحدیث اورمفسرین نے جن میں سے ایک ابن جریر طبریؒ ہیں یہ جواب دیا ہے کہ مسحور کے معنی ہیں وہ شخص جس کو جادو سکھلایا گیاہو، گویا ساحر اورمسحور کے ان کے نزدیک ایک ہی معنی ہیں لیکن ساحر پر مسحور کااطلاق لغت سے ثابت نہیں بلکہ مسحور اس شخص کو کہتے ہیں جس پر دوسرے نے جادو کیا ہو اور ساحر اس کو کہتے ہیں جو سحر کا علم جانتا ہو جیسے کہ فرعون کی قوم نے موسیٰ علیہ السلام کے حق میں کہاتھا کہ : اِنْ هَذَا لَسَاحِرٌ عَلِيْمٌ
    ـ الغرض فرعون نے اس کو مسحور اور اس کی قوم نے اس کو سا حر کہا۔
    سحر بمعنی جُنّ :
    سب سے بہتر ایک تیسرا جواب ہے جس کو علامہ زمخشری مصنف کشاف اور دوسرے مفسرین نے اختیار کیا ہے کہ مسحور کا لفظ قیاس لغوی کے مطابق اسم مفعول کے معنی رکھتا ہے لیکن اس کا مادہ سحر بمعنی جُنّ (مجنون) ہوا۔ مسحور کے معنی بے سمجھ، دیوانہ جس کی عقل زائل ہو چکی ہو، جیسا کہ کافروں کا قول تھا کہ : اِنْ تَتَبِعُوْنَ اِلاَّ رَجُلاً مَسْحُوْراً
    ـ ’’(جس کے معنی اس تفسیر کے مطابق یہ ہیں) کہ تم تو دیوانے مسلوب العقل کے پیچھے جا رہے ہو‘‘ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قابلِ اتباع و تقلید وہ شخص نہیں ہوتا جو عقل سے خالی ہے۔ وہ جسمانی امراض اور تکالیف کسی ذی عقل و ہوش کے نزدیک اتباع سے مانع نہیں۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے دشمنوں نے ان کو امراض اور جسمانی تکالیف کا کبھی طعنہ نہیں دیا اور نہ ہی ان کا ایسا کہنا دوسروں کے لئے اتباع سے مانع ہو سکتاتھا۔ اسی لئے کبھی تو ہ آپ کو شاعر، کبھی ساحر اور کبھی مجنون کہتے تھے۔ قال اللہ تعالیٰ : اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلاَ يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلاً ـ ’’دیکھو یہ لوگ تمہارے لئے کیسی کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ گمراہ ہو گئے اور اپنی گمراہی میں اس قدر سرگردان ہیں کہ ان کو راستہ ہی نہیں ملتا‘‘۔
    راستہ نہ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا مقصد نبی ﷺ کے اتباع سے لوگوں کو روکنا ہے جس کے حصول کے لئے وہ آپ کو مختلف ناموںسے پکارتے ہیں لیکن ایک صاحبِ بصیرت انسان آپ کی سیرت اور آپ کے احوال کا بنظرِ امعان مطالعہ کر کے یقین کر لیتا ہے کہ جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں وہ سراسر کذب اور بہتان ہے اور نبی ﷺ ان کی ان افتراء پردازیوں سے بعید ترین انسان ہیں۔
    متکلمین کے قول کا ردّ:
    متکلمین کا یہ کہنا کہ اگر نبی ﷺ پر جادو کااثر ہوا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی حمایت اور حافظت ناقص ہوتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی حمایت اور نصرت فرماتا ہے اسی طرح اپنی حکمتِ بالغہ سے بعض مصلحت ہائے خاصہ کے لئے ان کو بعض تکالیف میں مبتلا کرتا ہے جس سے ان کو عزّ و کرامت کے مراتب میں رفعت حاصل ہوتی ہے اور ان واقعات میں ان کے خلفاء اور افرادِ امت کے لئے درسِ عبرت ہوتا ہے۔ جب ان کو راہِ حق میں کوئی مصیبت اور تکلیف پیش آتی ہے اور وہ دیکھتے ہیں کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی ا س قسم کی تکلیفیں پیش آئی تھیں جن کو انہوں نے نہایت ثابت قدمی اور پامردی کے ساتھ برداشت کیا تو ان کے حوصلے بڑھ جاتے ہیںاور وہ مشکلیں ان کے لئے آسان ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے افعال میں متعدد حکمتیں ہوتی ہیں جن کے ادراک سے اکثر اوقات انسان کی عقل قاصر رہتی ہے۔ وهو العزيز الحكيم
    ـ
     
  7. ‏نومبر 28، 2016 #27
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    فصل ہفتم
    جادو کااثر مسلم ہے!
    قال الله وقال الرسول
    ـ
    اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّثَاتِ فِيْ الْعُقَدِ اور نیز وہ حدیثیں جن کا بیان گزشتہ فصل میں ہوا ہے، اس بات کی دلیل ہیں کہ جادو کی تاثیر حق ہے اور یہ حقیقت ہے محض تخیل نہیں، لیکن معتزلہ اور بعض دوسرے اہل کلام اس کے منکر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جادو کے ذریعہ سے کسی کو بیمار یا قتل نہیں کیا جا سکتااور نہ ہی حقیقی طور پر کوئی دوسرا اثر از قسم حبّ و بغض اس کے ذریعہ پیدا کر سکتے ہیں، جادو کی حقیقت یہیں تک محدود ہے کہ اس کے ذریعہ سے قوتِ متخیلہ پر اثر ڈال سکتے ہیں اور اس میں حسبِ ارادہ تغیر پیدا کر سکتے ہیں۔
    صحابہؓ اور سلفؒ کا مذہب :
    لیکن ان کا یہ قول صحابہؓ اور سلف کی متواتر روایات کے خلاف ہے۔ مفسرین و اہلحدیث فقہاء و اہل تصوف اور عام عقلاء کا قول بھی ان کے خلاف ہے۔ سحر کے ذریعہ سے کسی کو بیمار بنا دینا، اس کو ہلاک کرنا یا اس کے ذریعہ سے حبّ و بغض پیدا کرنااور اس کے علاوہ دوسرے اثرات کا ظہور میں آناایک حقیقت واقعہ ہے جس کو عام لوگوں نے مشاہدہ کیاہے۔ اور بہت سے اشخاص کو اس کا وجدانی علم ہے کیونکہ ان پر جادو کااثر ہوا ہے جسکو انہوں نے یقینی طور پر محسوس کیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّثَاتِ فِيْ الْعُقَدِ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ساحروں کا عمل غائبانہ بھی مضر اثر ڈالنے کا باعث ہوتا ہے اور اگرمنکرین کے قول کے مطابق اس کا اثر اس حد تک محدود ہوتا جبکہ مسحور حاضر ہو تو اس صورت میں نَفَّثَاتِ کے لئے کوئی شر نہ ہوتا جس سے پناہ مانگنے کی ضرورت پیش آتی۔ نیز جبکہ وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ ساحر تمام حاضرین کی، باوجود ان کی کثرت کے چشم بندی کر سکتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک چیز کو اس کی اصلی صورت کے برخلاف مظاہرہ کرا سکتا ہے تو کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ حاضرین یا غائبین کے بعض عوارض اور قویٰ وطبائع میں کوئی مطلوبہ تغیر پیدا کر دے؟ ا ور کیا قوتِ باصرہ اور دوسرے حواس اور قویٰ میں کوئی ایسا فرق موجود ہے جس کی وجہ سے ساحر کو یہ قدرت تو حاصل ہے کہ وہ اوّل الذکر میں حسب الارادہ تغیر پیدا کرے لیکن دوسرے حواس اور قویٰ میں تصرف کرنے سے وہ عاجز ہے؟ اور جب اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ ساحر اپنے جادو کے زور سے آنکھوں کے فعل میں اس قدر تصرف کر سکتا ہے کہ وہ ساکن کو متحرک اور متصل کو منفصل اور مردہ کو زندہ یا زندہ کو مُردہ دیکھ لے تو بھلا اس سے کیا مانع ہے کہ وہ کسی دوسرے کے صفاتِ نفسانی میں کوئی مطلوبہ تغیر پیدا کرے؟ مثلاً جو اس کے نزدیک محبوب تھا اس کومبغوض اور جومبغوض تھا اس کو محبوب بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساحروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:
    سَحَرُوْا اَعْيُنَ النَّاسَ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ وَجَائُوْا بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ
    ـ ’’انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کیااور ان کے دلوں میں سخت خوف پیدا کیا اور بہت بڑا جادو کاعمل کیا‘‘۔ ایک تو اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنکھوں کے فعل میں تغیر پیدا ہونے کے علاوہ ان کے دلوں کی بھی حالت بدل گئی تھی۔ دوسرے یہ کہ یہ تغیر یا تو اشیاء مرئیہ میں پیدا ہو گا۔ مثلاً ساحروں نے ارواحٍ خبیثہ یعنی شیاطین سے اس بارے میں استعانت کی جنہوں نے رسیوں اور لاٹھیوں کو متحرک کر دیا اور ناظرین نے یہ خیال کیا کہ یہ چیزیں بذاتِ خود حرکت کر رہی ہیں جیسے کہ بازیگر غیر مرئی تاروں کے ذریعہ سے کسی چیز کو حرکت میں لاتے ہیں اورناظرین خیال کرتے ہیں کہ وہ چیز خود بخود حرکت کررہی ہے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی کہ دیکھنے والوں کی آنکھوں میں یہ تغیر پیدا ہوگیا ہو۔ چنانچہ انہوں نے رسیوں اور لاٹھیوں کو حرکت کرتا ہوا دیکھا لیکن درحقیقت وہ متحرک نہیں تھیں اور اس میں شک نہیں کہ ساحر دونوں طرح کا تصرف کر سکتا ہے۔ کبھی تو خود دیکھنے والے کے صفحات میں تصرف کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو چیزیں غیر اصلی حالت میں نظر آتی ہیں اور کبھی وہ ارواحِ خبیثہ سے استعانت کر کے نفسِ اشیاء میں تغیر پیدا کرتا ہے۔
    منکرین تاثیر سحر کا ردّ:
    منکرین کا قول ہے کہ ساحرانِ فرعون نے رسیوں اور لاٹھیوں پر ایسا عمل کیا جس سے ان میں حرکت پیدا ہوئی چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے اس میں پارہ بھر دیا تھا جس پر دھوپ کا اثر ہوا تو وہ حرکت کرنے لگیں لیکن منکرین کا یہ قول باطل ہے کیونکہ اگر ایساہوتا تو ان کی اشیاء کی حرکت خیال اور چشم بندی کا نتیجہ نہ ہوتا جیسے آیتِ بالا میں اس کی تصریح ہے بلکہ ان کی حرکت حقیقی ہوتی اور ان کے اس عمل کو سحر کہنا درست نہ ہوتا بلکہ یہ ایک دستکاری ہوتی جو اکثر لوگ عمل میں لا سکتے ہیں اور ان کے اس عمل کی حقیقت ناظرین سے پوشیدہ نہیں رہتی۔ خصوصًا جبکہ سینکڑوں عقلائے روزگار اس مجلس میں موجود تھے۔ علاوہ ازیں اگر ساحرانِ فرعون کا کارنامہ ان کی دستکاری اور عیاری کا نتیجہ ہوتا تو بجائے اس کے کہ اس کے ابطال کے لئے عصا کا معجزہ ظہور میں لایا جائے بہتر ہوتا کہ لوگوں کو اس کی حقیقت سے آگاہ کیا جاتا اور ان کا پارہ وارا نکال کر ان ڈینگ مارنے والے ساحروں کے ڈھول کا پول کھول دیا جاتا۔ نیز فرعون کو اطرافِ ملک سے ماہرین فن سحر کو بلانے اور ان کے ساتھ غیر معمولی انعام و اکرام کا وعدہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس عمل کو معمولی مداری نہایت آسانی کے ساتھ انجام دے سکتے تھے۔ الغرض یہ ایسا باطل قول ہے جس پر مزید بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔
     
  8. ‏نومبر 28، 2016 #28
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    فصل ہشتم
    شر کی چوتھی قسم!
    استعاذہ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ
    ـ
    وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ
    ـ ’’اور میں حاسد کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جب کہ وہ حسد کرتا ہے‘‘۔
    اس آیت کریمہ میں چوتھے شر کا ذکر ہے۔ یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ حاسد کا نفس حسد محسود شخص کے لئے شر وتکلیف کا باعث ہے اور اگر اپنے ہاتھ اور زبان سے محسود کو ضرر پہنچانے کی کوشش نہ بھی کرے تب بھی اس کا خبثِ باطن ایک ایسا شر ہے جس سے پناہ مانگنا لازم ہے۔
    حسد کااثر مسلمہ ہے:
    قرآن کریم میں کوئی لفظ مہمل نہیںاور ہر ایک لفظ کے ذکر کرنے سے مخاطب کے ذہن میں کسی خاص حقیقت کامنقوش کرناہوتا ہے۔ اسی طرح آیتِ مذکورہ میں اِذَا حَسَدَ کا لفظ بڑھانے میں ایک نکتہ ہے ا ور وہ یہ ہے کہ حاسد اس شخص کو کہتے ہیں جس کی ذات میں حسد موجود ہو لیکن بعض اوقات وہ اپنی اس صفت سے غافل ہوتا ہے مگر جب ہی اس کے دل میں حسد کا خیال آیا اور اس کے دل میں آگ کاایک شعلہ بھڑک اٹھا جس کی چنگاریوں کا محسود تک پہنچنا بہت اغلب ہوتا ہے اس لئے اگر محسود اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور حمایت میں پناہ نہ لے اور اس کی طرف متوجہ ہو کر اَوراد اور دعواتِ ماثورہ میں مشغول نہ ہو تو یقینا حاسد کی آتشِ حسد کے شعلے اس کو جھلسا دینے میں کوتاہی نہیں کریںگے۔ اب تم نے سمجھ لیا ہو گا کہ اِذَا حَسَدَ کا لفظ بڑھانے میں یہی نکتہ ہے کہ اس کا شر اس وقت متعدی ہوتاہے جب کہ اس کے دل میں بالفعل حسد کی آگ بھڑک اٹھے۔
     
  9. ‏نومبر 28، 2016 #29
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    نظرِ بد کا اثر:
    سیدناا بو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جبرئیل علیہ السلام کی دعا کے یہ الفاظ تم کو یاد ہوں گے کہ : من شرّ كل نفس اور عين حاسد الخ
    ـ اس حدیث میں حاسد کی آنکھ سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے لیکن یہ ایک معلوم بات ہے کہ حاسد کی آنکھ کے مجرد دیکھنے سے کچھ اثر نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر وہ کسی چیز کو یااپنے محسود کو اس نظر سے دیکھے جیسے کہ وہ پہاڑ اور دریا وغیرہ کو دیکھتا ہے اور اس کے دل میں حسد کا جذبہ بالفعل موجزن نہ ہو تو محسود کو اس کے شر کا کچھ خطرہ نہیں لیکن اگر وہ حسد کی کیفیت سے رنگین ہو کر اپنے محسود پر نظر ڈالے جب کہ اس کے دل میں غضب اور انتقامِ بے جا کے خبیث جذبات موجزن ہوں تو کچھ شک نہیں کہ اس کی یہ نظر نفس حاسد کی قوت اور ضعف کی حالت کے مطابق محسود پر اپنا اثر ڈالے گی۔ اگر اس کے جذباتِ خبیثہ طاقتور ہوں گے تو یہ ممکن ہے کہ وہ محسود کو اپنی نظر سے ہلاک کر دے یا بیمار بنادے ا ور بہت سے لوگ اپنے تجربہ سے اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ اس نظرِ بد کا اثر نفسِ خبیثہ کے ذریعہ ہوتا ہے جو اس کی سمیّت کا اثر ہوتا ہے جیسے کہ سانپ جب کہ اس میں قوتِ غضبیہ جوش زن ہوتی ہے اور وہ اس حالت میں کسی کو کاٹ لے تو اس کی سمیّت کااثر مہلک ہوتا ہے۔ سانپوں کے بعض اقسام میں یہ کیفیت بہت قوی ہوتی ہے یہاں تک کہ صرف گھورنے سے کسی شخص کو اندھا کر دیتے ہیں اور عورت کا اس سے ا سقاطِ حمل ہو جاتا ہے جیسے کہ ایک حدیث میں نبی ﷺ نے بھی لنڈورے سانپ اور ذوالطفیتین (۱) کا یہی اثر بیان فرمایا ہے جب کہ سانپ میں ایسی کیفیت کا پیدا ہونا ممکن ہے جس کے اثر سے ایک انسان اندھا ہو سکتا ہے اور کسی عورت کاحمل ساقط ہو سکتا ہے اس لئے اگر کسی شریر اور خبیث نفس میں قوتِ غضبیہ کی آگ اور آتشِ انتقام مشتعل ہو کر جب وہ محسود کی طرف متوجہ ہو تو کیایہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی زہریلی شعاعوں سے جو اس کے پرغضب اور پُر
    ۱۔ ذوالفیتین وہ سانپ جس کی آنکھوں کے نیچے دو سیاہ نقطے ہوتے ہیں ۔
    حسد آنکھوں سے نکلتی ہیں، اپنے محسود کو ہلاک کر ڈالے یا کسی مرض میں مبتلا کر دے یا کسی اور طرح پر اس کو تکلیف پہنچائے؟ نظرِ بد کے اثر سے جو شخص بیمار ہوتا ہے بسا اوقات اس کو حکیم اور ڈاکٹر لا علاج بتلاتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی بیماری کا تعلق عالمِ طبیعت سے نہیں بلکہ عالمِ ارواح سے ہے اور اس کی حقیقت قوتِ روحانی کا اجسام اور طبائع میں اثر کرتا ہے۔ اس کاعلم خاص خاص وگوں تک محدو ہے اور جو لوگ اس کوچہ سے نابلد ہیں وہ اپنی جہالت کے باعث اس سے منکر ہیں۔
     
  10. ‏نومبر 28، 2016 #30
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    عالمِ اجسام اور عالم ارواح:
    اربابِ بصیرت جانتے ہیں کہ اجسام بذاتِ خود لکڑی اورپتھر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ ان سے جو عجیب و غریب افعال صادر ہوتی ہیں اور ان میں جو حیرت انگیز اثرات پیدا ہوتے یہں ان کے ظہور کا راز قوائے روحانیہ میںمضمر ہے۔ تمام اجسام درحقیقت روحانی قوتوں کے لئے بمنزلہ آلات اور اوزار کے ہیں جس صاحبِ عقل نے عجائبات ِ عالم پر نظر غائر ڈالی ہے اور اس نے ارواح اور اجسام کے تعلق پر محققانہ غور کیا ہے وہ جانتا ہے کہ اس عالمِ اسلام اور عالمِ شہوت کو چھوڑ کر ایک اور عالم ہے جس کو عالمِ ارواج یا عالمِ غیب کہتے ہیں جس کی قوائے عاملہ نہ صرف نظروں سے بلکہ جملہ حواس کے ادراک سے بالاتر ہیںاور اس عالم میں جو کچھ بھی تصرفات ہوتے ہیں وہ تمام تر حواسِ خمسہ کے دائرے سے باہر اور عالمِ ظاہر میں نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ اس عالمِ اجسام میں صرف ان کے آثار مشاہدہ کئے جا سکتے ہیں اور اس لئے اکثر ظاہر پرست اس وجود کے قائل نہیں۔
    عالمِ ارواح کا مشاہدہ :
    عالمِ ارواح کو عالمِ اجسام پر قیاس مت کرو، وہ عالم اس عالم سے بہت بڑا وسیع ہے اور اس کے عجائبات عام عجائبات سے بہت بڑھ کر ہیں۔ کیا تمہاری نظر عالمِ ارواح کے عجائبات کا مشاہدہ کرنے سے قاصر ہے یا تمہیں اس کے وجود میں تامل ہے۔
    پہلی مثال:
    اپنی ہستی پر غور کرو اور دیکھو کہ ایک روح کے چلے جانے سے بدن کی کیا کیفیت ہو جاتی ہے؟ وہی انسان جو علوم و فنون کا ماہر، صنعت ہائے عجیب و غریب کا مظہر ہر سائنس کے دقائق پر حاوی، فلسفہ کا استاد اور ملکداری اورسیاست کی عقدہ کشائی کرنے والا تھا۔ کس طرح ایک لمحہ میں روح کی مفارقت کر جانے کی وجہ سے ایکتعفن پذیر نعش بن جاتی ہے، جس میں حس و حرکت تک باقی نہیں رہتی۔ وَفِيْ اَنْفُسِكُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ
    ـ ’’تمہارے اپنے نفسوں میں قدرت کی نشانیاں موجود ہیں، کیا تم نہیں دیکھتے ہو (اندھے ہو)؟‘‘۔ کیا انسان کی قوتِ گویائی، اشیاء کو دیکھنے کی عجیب و غریب قوت، سماعت اور دیگر صفات اس کے دلی جذبات از قسمِ محبت و عداوت، اس کی قوتِ متفکرہ اور دیگر فتویٰ اور احساسات اسی جسمِ ظاہر کے آثار و مظاہر ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں، موت کے بعد بھی جس تو بعینہ موجود ہوتا ہے ا ور اس کے تمام اعضاء بھی بظاہر اسی طرح صحیح و سالم نظر آتے ہیں، لیکن اس وقت وہ چیز اس میں نہیں جس کو رُوح کہتے ہیں اور جواس کے ادراک سے بالاتر ہے۔
    دوسری مثال:
    ایک شخص نہایت قوی ہیکل اور بظاہر خوبصورت بھی ہوتا ہے لیکن اس کو تم پسند نہیں کرتے ہو اور تمہارے دل میں اس کی پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں۔ اس کے مقابل میں ایک دوسرا شخص ہے جو نہایت نحیف اور لاغر اندام ہے، چنداں خوبصورت بھی نہیں، اس کی تمہارے دل میں عزت ہے اور بعض اوقات تم اس کو جان سے بھی عزیز تر سمجھتے ہو۔ اس فرق کی فلاسفی پر بھی تم نے کبھی غور کیا؟ سوائے اس کے اس کی اور کوئی وجہ نہیں کہ اوّل الذکر سے تم کو روحانی منافرت ہے اور مؤخر الذکر نے اپنی روحانی قوت سے تم کو اپنی محبت پر مجبور کر رکھا ہے : ذَالِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ
    ـ خلاصہ یہ ہے کہ اسباب اور مسببات اور علت اور معلول کا وجود اسی عالمِ اجسام اور طبائع تک محدود نہیں۔ بعض اسبابِ خفیہ عالمِ ارواح میں ایسے ہیں جن تک تمہاری کوتاہ میں نظر کی رسائی نہیں، البتہ ان کے آثار و نتائج کو تم اس عالم میں مشاہدہ کر سکتے ہو۔ الغرض ہر ایک اثر یا واقعہ کے لئے طبعی اسباب ڈھونڈھنے پر اکتفا نہ کرو۔ بہت سے امور کاسبب اور اس کی علت فاعلہ عالمِ غیب یا عالمِ ارواح میں ہوتی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں