1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’’خارجیت، سبائیت اورشیعیت‘‘ بجواب ’’رافضیت ، ناصبیت اوریزیدیت‘‘ (نقد وتبصرے)۔

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏اگست 18، 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏ستمبر 19، 2016 #101
    MD. Muqimkhan

    MD. Muqimkhan رکن
    جگہ:
    نئی دہلی
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2015
    پیغامات:
    245
    موصول شکریہ جات:
    46
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    میرے خیال سے آپ نے جوش میں کئی باتوں کو ملا دیا ہے. حجاج اور ولید وغیرہ کا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید سے کوئی موازنہ نہیں. یہاں خلافت اور ملوکیت کا موضوع نہیں ہے.
     
  2. ‏ستمبر 19، 2016 #102
    MD. Muqimkhan

    MD. Muqimkhan رکن
    جگہ:
    نئی دہلی
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2015
    پیغامات:
    245
    موصول شکریہ جات:
    46
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    باقی باتیں وہی ہیں کہ آپ متن پر اپنی سوچ تهوپ رہے ہیں. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیثیں چهپاتے بهی تهے؟ آپ تو مودودی صاحب کی راہ پر نکل رہے ہیں یعنی کہ جب میں نے پہلی بار خلافت و ملوکیت کا مطالعہ کیا تو اس وقت میرے ذہن میں اللہ مجهے معاف کرے مودودی صاحب کی صفائی کے باوجود سب سے زیادہ قصور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ٹهہرا تها اس کے علاوہ دیگر صحابہ کی جو تصویر ابهری تهی وہ الگ. اللہ مجهے معاف کرے.
     
  3. ‏ستمبر 19، 2016 #103
    MD. Muqimkhan

    MD. Muqimkhan رکن
    جگہ:
    نئی دہلی
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2015
    پیغامات:
    245
    موصول شکریہ جات:
    46
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    یہ مخالفت حسن رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہی کیوں نہیں کی. امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہی کیوں نہیں کی. کیا یزید کے عہد میں گردن مارنے کا خطرہ ٹل گیا تها. کالی رات تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہی بڑی سنگین تهی بقول آپ کے اور مودودی صاحب کے نزدیک تو اس کی شروعات سیدنا امیرالمومنین ذوالنورین عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں ہو چکی تهی اور قصور بهی اسی شہید مظلوم کا تها.
    کعبہ کس منه سے جاو گے غالب
    شرم تم کو مگر نہیں آتی
     
  4. ‏ستمبر 19، 2016 #104
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم،
    میں نے جوش میں نہیں پورے اطمینان کے ساتھ یہ باتیں بیان کی ہے آپ غلط راہ پر چلے گئے میں نے کہیں بھی خلافت اور ملوکیت کی بات ہی نہیں کی آپ نے کہا کہ صرف حسین رضی اللہ عنہ کیوں اٹھے میں نے اس کا جواب دیا کہ دیگر صحابہ نے خاموشی اختیار کر لی تھی اور معاملات اللہ کے سپرد کر دیئے تھے اوریہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کی مثال دی تھی کہ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ اس میں حدیث بھی نہ بتا پا رہے تھے اور یہ بات مسلمہ ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہی ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ وفات پاگئے تھے اور وہ اسکین اپ نے غور سے نہیں پڑھا اس میں واضح موجود ہے کہ حکام اور جابر حکمرانوں کے بارے میں باتیں نہیں بتاتے تھے کیونکہ ان کو جان کا خوف تھا تو اس میں میں نے کیا مطلب تھوپا ہے اس وقت حکمران کون تھا یہ مجھے تھوپنے کی ضرورت نہیں ہےاور اس کے بعد ولید کے دور تک کا بتایا کہ اس کے دور تک حالات کس ڈگر پر چلے گئے تھے اس میں موازنہ کا کیسا۔
     
  5. ‏ستمبر 19، 2016 #105
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم
    اپ کے بقول میں متن پر اپنی سوچ تھوپ رہا ہوں ذرا اس اسکین کا دوبارہ باغور مطالعہ کریں اور اگر اب بھی تسلی نہ ہو تو خاتم المحدثین حافظ ابن حجر کا اس حدیث پر تبصرہ پیش کردیتا ہوں
    " وَحَمَلَ الْعُلَمَاءُ الْوِعَاءَ الَّذِي لَمْ يَبُثَّهُ عَلَى الْأَحَادِيثِ الَّتِي فِيهَا تَبْيِينُ أَسَامِي أُمَرَاءِ السُّوءِ وَأَحْوَالِهِمْ وَزَمَنِهِم وَحَمَلَ الْعُلَمَاءُ الْوِعَاءَ الَّذِي لَمْ يَبُثَّهُ عَلَى الْأَحَادِيثِ الَّتِي فِيهَا تَبْيِينُ أَسَامِي أُمَرَاءِ السُّوءِ وَأَحْوَالِهِمْ وَزَمَنِهِمْ وَقَدْ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَكُنِّي عَنْ بَعْضِهِ وَلَا يُصَرِّحُ بِهِ خَوْفًا عَلَى نَفْسِهِ مِنْهُم" (فتح الباری جلد 1 ص 216 تحت رقم 120)
    یہ میرا تھوپا ہوا نہیں ہے اس میں ابن حجر پھر بتا رہا ہوں ابن حجر لکھ رہے ہیں کہ اس میں برے حکمران کے احوال اور زمانے کی بات تھی جو ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ اپنے جان کے خوف سے بتاتے نہیں تھے
    یہ میں نہیں تھوپ رہا ہوں یہ ان کا قول ہے اورایسے بے شمار قول مل جائیں گے ۔
    اللہ سب کو ہدایت دے۔
     
  6. ‏ستمبر 19، 2016 #106
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم،
    اس کی وجہ صحیح بخاری میں موجود ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ" یہ میرا بیٹا سردار ہے اور یہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہ میں صلح کروائے گا"(صحیح بخاری)
    حسیں رضی اللہ عنہ اس معاہدے کی وجہ سے 20 سال خاموش رہے اور اس معاہدے کی شرائط یہ تھی۔
    (1) قرآن اور سنت کی پابندی کریں گے۔
    (2) اپنےبعد کسی کو ولی عہد مقرر نہیں کریں گے اور مسلمانوں کی شوریٰٰ پر چھوڑدیں گے۔
    (3) اگر میں (حسن رضی اللہ عنہ) زندہ رہا تو میں دوبارہ خلیفہ بنو گا(انساب الاشرف بلاذری باب صلح حسن و معاویہ رضی اللہ عنھما)
    حسین رضی اللہ عنہ اس لئے بیٹھے رہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بعد معاملہ شورٰی پر چھوڑیں گے اور جو معاملات بگاڑ کی طرف جارہے ہیں مسلمانوں اپنی پسند سے کسی کو چن لیں گے کسی کو کیا حسین رضی اللہ عنہ کو ہی چنتے اور خلافت پر سے بحال ہو جاتی مگر جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنا معاہدہ توڑا تو حسین رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے کہ یہ وہی قیصر و کسری کی بادشاہت ہے جیسے مسلمانوں نے خود گرایا تھا۔
    خود طلسم قیصر وکسرٰی شکست
    خود سر تخت ملوکیت نشست
    اس لئے حسین رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر یہ سلسلہ رکا نہیں ابن زبیر رضی اللہ عنہ اہل مدینہ جماجم کے 4 ہزار قاری وغیرہ حسین رضی اللہ عنہ کے فعل کی برکت تھی اللہ سب کو ہدایت دے اور رہی بات عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت تو وہ بھی اسلام کا دردناک واقعہ ہے اور اس میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور یہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے
    " مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ وَذَكَرَ الفِتَنَ فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ: «هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الهُدَى» ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّان" (سنن ترمذی کتاب المناقب عثمان رضی اللہ عنہ رقم3704)
    تو اگر مودودی صاحب نے یہ لکھا بھی ہے تو غلط لکھا ہے کہ ان کی غلطی تھی وہ ھدایت پر تھے اور باقی جنہوں نے ان کو شہید کیا وہ گمراہی اور غلطی پر تھے۔
    اور اپ مجھے فرما رہے ہیں کہ میں کعبہ کسے جاؤں گا یہ اپ سوچو اپ کیسے جاو گے جس سے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم محبت کرتا تھا ان علی رضی اللہ عنہ کو اسی منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی زبان دراز کرنے والوں کی اپ حمایت کرتے ہو۔ کیا منہ لے کر جاو گے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مگر جو اپ نے لکھا وہ میں نہیں کہوں گا میں سب کے لیے ہدایت کی دعا کرتا ہوں اللہ سب کو ہدایت دے۔آمین
     
  7. ‏ستمبر 20، 2016 #107
    MD. Muqimkhan

    MD. Muqimkhan رکن
    جگہ:
    نئی دہلی
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2015
    پیغامات:
    245
    موصول شکریہ جات:
    46
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    (2) اپنےبعد کسی کو ولی عہد مقرر نہیں کریں گے
    اس کا حوالہ پیش کردیں.

    جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ولی عہد مقرر کیا تو اسی وقت کیوں نہیں حق و باطل کی جنگ پر کمر بستہ ہوگئے.
    جب نبی کی پیشین گوئی کے مطابق صلح ہوگئی تھی تو پهر صلح کو توڑنے کا عمل کیوں.
     
  8. ‏ستمبر 21، 2016 #108
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    sulah hasan razi Allah anhu.png
     
  9. ‏ستمبر 21، 2016 #109
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    انساب الاشرف لبلازری

    معاہدہ معاویہ رضی
    الله
    عنہ نے توڑا تھا حسن رضی الله عنہ کا اس وقت تک انتقال ہو چکا تھا
    اور جب ولی عہد کی مہم شروع کی اس وقت تک انتظار کیا کہ آخری دم تک کیا فیصلہ کرتے ہیں مگر جب وفات ہونے تک اپنے فیصلہ پر قائم رہے تو حسین رضی الله عنہ کھڑے ہوئے . الله سب کو ہدایت دے
     
  10. ‏ستمبر 21، 2016 #110
    MD. Muqimkhan

    MD. Muqimkhan رکن
    جگہ:
    نئی دہلی
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2015
    پیغامات:
    245
    موصول شکریہ جات:
    46
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    کیا حسین رضی اللہ عنہ نے ایسا کہیں کہا ہے کہ آخری دم تک کے فیصلہ کا انتظار کیا میں نے. صلح کروانے کی پیشین گوئی دو جماعتوں کے لیے تهی دو افراد کے لیے نہیں. حسن رضی اللہ عنہ نے دو جماعتوں میں صلح کروائی تھی.
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں