1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’’خارجیت، سبائیت اورشیعیت‘‘ بجواب ’’رافضیت ، ناصبیت اوریزیدیت‘‘ (نقد وتبصرے)۔

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏اگست 18، 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏ستمبر 21، 2016 #111
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46


    محترم
    انہوں نے بین ہی یہ الفاظ ادا نہیں کیے مگر جب ان کی پاس شکایات لے کر لوگ آتے تھے تووہ یہی کہتے کہ معاہدہ کیا ہے اس کی پاسداری ہونی چاہیے اور جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت بھی اپنی بات سے نہیں بدلے اور یزید کو نامزد ہی رکھا تو حسین رضی الله عنہ کھڑے ہو گئے
    اور رہی بات صلح کی تو صلح ایسے ہی ہوتی ہے پاکستان اور انڈیا میں اگر کسی قسم کا معاہدہ ہوتا ہے تو پوری قوم کی عوام نہیں کرتے ہیں ان کی پیش کردہ نمائدہ کرتے ہیں اور اس وقت مسلمانوں کے ان دو گروہ کے لیڈر وہی تھے .الله ہدایت دے
     
  2. ‏ستمبر 21، 2016 #112
    MD. Muqimkhan

    MD. Muqimkhan رکن
    جگہ:
    نئی دہلی
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2015
    پیغامات:
    245
    موصول شکریہ جات:
    46
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    صلح کیسے ہوتی ہے یہ سوال نہیں ہے. معاملہ مسلمانوں کی دو جماعت کا ہے
     
  3. ‏ستمبر 22، 2016 #113
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46



    میں نے کب کہا کہ یہ مسلمانوں کا معاملہ نہیں تھا اپ اس حوالے سے اپنا مقصد بیان کریں میں اپ کی بات کا مفہوم سمجھ نہیں پا رہا ہوں تاکہ بات وضاحت کی جا سکے .
     
  4. ‏ستمبر 22، 2016 #114
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46



    محترم ابھی تک اپ نے آئمہ کے اقوال پیش نہیں کیے میں اپ کے جواب کا منتظر ہوں
     
  5. ‏ستمبر 22، 2016 #115
    MD. Muqimkhan

    MD. Muqimkhan رکن
    جگہ:
    نئی دہلی
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2015
    پیغامات:
    245
    موصول شکریہ جات:
    46
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ صلح حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان محض نہیں تهی بلکہ ان دو جماعتوں کے درمیان تهی جو حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت سے پہلے موجود تهی اور ان دو صحابہ کی وفات کے بعد بهی تهی. اور حسین رضی اللہ عنہ خلافت کے دعوے دار کس بنا پر تهے؟
     
  6. ‏ستمبر 23، 2016 #116
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46


    محترم
    اس صلح کے بعد بیس سالہ دور میں کیا ہوا اس کا اندازہ ہے جو نبی صلی الله علیہ وسلم نے ملک عضوضا فرمایا تھا وہ تھی اور حسین رضی الله عنہ نے خلافت کا دعوا نہیں کیا تھا اگر ایسی کوئی بات ثابت ہوتی ہے تو اپ پیش کر دو
     
  7. ‏ستمبر 23، 2016 #117
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    yahan urdu main likha nahi ja raha hai as bare mian koi madad kr sakta hai
     
  8. ‏ستمبر 23، 2016 #118
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

  9. ‏ستمبر 26، 2016 #119
    MD. Muqimkhan

    MD. Muqimkhan رکن
    جگہ:
    نئی دہلی
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2015
    پیغامات:
    245
    موصول شکریہ جات:
    46
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    حسین رضی اللہ عنہ جب کوفہ کے لیے روانہ ہوئے تو ان کا مقصد کیا تها. اس بارے میں مستند اور صریح روایات پیش کردیں تو غور و فکر میں آسانی ہوجائے گی. براے کرم
     
  10. ‏ستمبر 28، 2016 #120
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ یہ جو حکمران ہیں اور یہ جو حکومت ہے یہ اسلام خلافت نہیں ہے اور جو یہ کر رہے ہیں وہ غلط ہے اور دین جو برباد ہو رہا ہے اگر میں بھی خاموش رہا اور اس حکومت کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا تو یہ مہر ثبت ہو جائے گی کیونکہ پھر یہی کہا جائے گا کہ اہل بیت نے بھی اس ظلم اور غاصبانہ حکومت کو تسلیم کر لیا ہے اور بعد کےآنے والوں میں یہی سمجھا جائے گا کہ یہ ایک اسلامی ریاست ہے جو خلافت کے اصولوں پر چل رہی ہے انہوں نے ایک احتجاج ریکارڈ کروایا ہے کہ یہ سب غلط ہے اس لئے آج تک اکابرین امت معاویہ رضی اللہ عنہ سے لے کر ان میں سے کسی کی حکومت کو خلافت نہیں مانتے بلکہ بادشاہت مانتے ہے جو غاصبانہ اور جبر پر قائم تھی اور اس کو وہ خلافت راشدہ نہیں کہتے تو ما حاصل یہی ہے کہ نہ وہ خلافت کے لئے گئے اور نہ جنگ کرنے گئے تھے کیوں بیس سالہ دور میں ملک عضوض میں امت بے بس کردی گئی تھی۔ باقی رہا کہ مستند احادیث سے اس کو پیش کرنا تو میری دیگر پوسٹ پر کافی مواد ہے جو اپ کو یہ سمجھنے میں مدد دےسکتا ہے کہ کس وجہ سے وہ گئے تھے کہ دین کس طرح بدلا جا رہا تھا قرآن اور سنت سے رشتہ توڑا جا رہا تھا اور بدعات نکالی جا رہی تھیں اور ظلم اور جبر سے سب کو خاموش کرایا جا رہا تھا اس کی چند مثالیں جلد پیش کر دوں گا۔ اللہ سب کو ہدایت دے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں